حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی اصل بنیاد آپ کے قول و فعل میں اللہ پاک کی اطاعت اور پیروی میں ہے۔حضور ﷺ کی ساری زندگی اللہ پاک کی اطاعت میں گزری۔ آپ  اللہ پاک کی یاد میں رات تک جاگتے رہتے ۔

حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ الم تَنْزِيلُ اور تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ نہ پڑھ لیتے۔(یعنی رات کو سونے سے پہلے یہ دونوں سورتیں پڑھنے کا حضور کا معمول تھا) (ترمذی،4/408،حدیث:2901)

محبت کے تقاضے:

حضور ﷺ کی اصل محبت کا تقاضا یہ ہی ہے کہ زندگی کے ہر قدم پر آپ کی سنتوں پر عمل کیا جائے اور آپ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور یہی بات حضور ﷺ نے آخری خطبے میں فرمائی کہ جو لوگ موجود ہیں وہ (یہ احکامات) اُن لوگوں تک پہنچادیں جو موجود نہیں ۔(بخاری، 3/141، حدیث :4406)

اس لئے آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کر کے ان پر سنت کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔

حضور کی پیروی:

اگر اللہ پاک کو ماننے کا دعوی ہے تو اس کے پیارے محبوب،احمد مصطفےٰ ﷺ کے طریقوں پر چلنا ہو گا۔جس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک کو راضی کرنے کا راستہ حضور پاک ﷺ کی محبت اور اطاعت و پیروی سے جُڑا ہوا ہے۔اللہ پاک نے خود قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-(پ3،ال عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گا۔

حُبِّ رسول اللہ:

آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک سے محبت كرو اس نے تمھیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے

اور اللہ پاک کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)

کتنی خُوب صورت ترتیب بنتی ہے محبت کی کہ اللہ پاک سے محبت کرو کیوں کہ ہر نعمت ہر سانس ہر لمحہ اس کا فضل و کرم ہے۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کرو کیوں کہ وہی تو رحمت بن کر آئے ہیں ،ہمیں اپنے رب سے جوڑنے کے لئے۔اہلِ بیت سے محبت کرو کیوں کہ وہ نبیِ کریم ﷺ کے دل کا ٹکڑا ہیں اور ان کے نور کا تسلسل ہیں۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی شدت اِس حدیث مبارک واضع اور شان دار طریقے سے اجاگر ہوتی ہے کہ پیارے رسولﷺ نے فرمایا:جس نے مجھ سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ پاک نے محبت کی اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس سے اللہ پاک بغض رکھے گا اور جس سے اللہ پاک نے بغض رکھا اللہ پاک اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک، 4/155، حدیث:4829ملتقطاً)

اس فرمانِ الٰہی کے مطابق اللہ پاک سے محبت در اصل حضور ﷺ محبت کرنا ہے اور حضور ﷺ سے بغض و دشمنی رکھنا اللہ پاک سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔گویا اللہ پاک کی محبت و رضا حاصل کرنے کے لئے پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی برابر طور پر حاصل کرنی ہو گی۔اللہ پاک اور حضور ﷺ کی محبت لازم و ملزم ہے۔بغیر اسوهٔ حسنہ پر عمل کئے کوئی اللہ پاک کی محبت نہیں پا سکتی اور حضور ﷺ کی سنتوں اور تعلیمات پر عمل کیے بغیر کوئی بھی آپ کی محبت نہیں پا سکتی۔

دونوں عالم کے لئے رحمت:

پیارے نبیِ کریم ﷺ ساری دنیا کے تمام لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ارشادِ باری ہے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(پ17،الانبیآء:107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔

ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔

تاجدارِ رسالت ﷺ نبیوں،رسولوں اور فرشتوں کے لئے رحمت ہیں،دین و دنیا میں رحمت ہیں،جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں،مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں، حیوانات،نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں۔الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں، سیّدُ المرسَلین ﷺان سب کے لئے رحمت ہیں۔(تفسیر صراط الجنان،6/386)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺکا رحمت ہونا عام ہے،ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا۔مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت اس کے دُنْیَوی عذاب کو مُؤخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب،شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا۔(تفسیر خازن،3 /297)

ایمان کی لذت:

سچی محبت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایمان کی لذت حاصل ہو اور اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی رضا کے لئے بڑی سے بڑی تکلیفیں بھی گوارا ہوں۔یہ ایمان کی لذت ہے جو اللہ پاک اور حضور ﷺ کو سب سے بڑھ کر ترجیح دیتی ہے۔اگر مسلمان میں ایمان کی چاشنی ہو تو پھر وہ اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت کی لذت حاصل کرے گا کیوں کہ اللہ پاک کی محبت اور رضا کے لئے ایمان کا درجہ بہت قیمتی ہےاور ایمان کی مٹھاس تین چیزوں میں ہے:(1)سب سے بڑھ کر اللہ پاک اور آقا ﷺ سے محبت کرنا۔(2)جس سے بھی محبت کرو وہ اللہ پاک اور آقا ﷺ کی رضا کے لیے ہو۔(3) ایمان کے بعد کفر کو ایسے ناپسند کرو جیسے آگ کو ناپسند کرتے ہو۔

اگر ایمان مکمل ہو گیا تو سمجھو اللہ پاک کی محبت حاصل ہوگئی۔

اللہ پاک نے اپنے محبوب،سید المرسلین،حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیائے کرام میں سب سے اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔آپ کی ذات سراپا محبتِ الٰہی تھی۔آپ کی زندگی کا مقصد ہی اللہ پاک کی رضا اور اُس کی بندگی تھا۔حضور بچپن ہی سے تنہائی میں عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔غارِ حرا میں گھنٹوں بلکہ دنوں تک بیٹھ کر اللہ پاک کی قدرتوں پر غور فرماتے،دنیوی چیزوں سے بے نیاز ہو جاتے۔جب وحی نازل ہوئی تو آپ کے دل کی روشنی اور بڑھ گئی اور ہر سانس میں اللہ کی یاد رچ بس گئی۔آپ کا فرمانِ عالی شان ہے: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

یہ الفاظ اس محبت کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ نماز آپ کے لیے صرف عبادت نہیں بلکہ سکونِ دل تھی،کیونکہ نماز میں بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔

نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کا یہ حال تھا کہ راتوں کو دیر تک قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ: کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ جواب آپ کے قلبِ مبارک میں موجزن محبت اور شکر کے جذبے کا مظہر ہے۔ حضور کی زندگی میں ہر فیصلہ،ہر قدم صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا تھا۔جنگ ہو یا امن،خوشی ہو یا غم،آپ ہمیشہ فرماتے:میں اللہ پر بھروسا کرتا ہوں،وہی میرا کارساز ہے۔

آپ اللہ کی رضا کے لیے دکھ،بھوک،تکلیف سب برداشت کر لیتے،مگر اس کی نافرمانی گوارا نہ کرتے۔آپ کے دل میں دنیا کی محبت نہیں تھی،بلکہ ہر وقت اللہ کی یاد اور اُسی کی رضا کی تلاش رہتی۔اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں آپ کی شان میں فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷)(پ30،الضحیٰ: 7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی طلب اور محبت صرف اور صرف اللہ کے لیے تھی۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔آپ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ سے محبت کرو،اس کی عبادت میں لذت تلاش کرو اور دنیا کی فانی محبتوں کو چھوڑ کر رب کی رضا میں دل لگاؤ۔


حضور نبیِ اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت سب سے اعلیٰ،کامل اور بے مثال تھی۔ آپ کی محبت ایسی تھی جو مکمل اخلاص،مکمل وفا،مكمل فنا فی اللہ اور مکمل بندگی پر مبنی تھی۔ اس محبت کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

کامل اطاعت اور بندگی:

رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کے احکامات کی مکمل پیروی اور اطاعت میں گزری۔آپ نے کبھی اپنی خواہش کو اللہ کی رضا پر مقدم نہیں رکھا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴)( پ27،النجم: 4،3)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے۔

ذکر و عبادت میں محبت:

حضور راتوں کو قیام کرتے،طویل نمازیں پڑھتے،یہاں تک کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ صرف شکر نہیں،بلکہ ایک عاشقِ حقیقی کی معراج تھی ۔

دعا میں محبت:

حضور کی دعائیں اللہ سے انتہائی عاجزی،محبت اور لگن سے بھرپور ہوتیں۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا اس شدتِ محبت کی گواہ ہے جو رسول اللہ ﷺکو اپنے رب سے تھی۔

اللہ نے بھی آپ سے محبت فرمائی:

اللہ پاک نے قرآن میں بارہا اپنی محبت کا اظہار فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) (پ30،الم نشرح:4)ایک اور جگہ ارشادِ باری ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ29،القلم:4)ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی:

چاہے طائف کا پتھراؤ ہو یا احد کی چوٹی،رسول اللہﷺ نے کبھی شکوہ نہ کیا،بلکہ صرف اللہ کی رضا کی طلب کی۔

حضور اکرمﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے متعدد احادیث موجود ہیں،جو یہ بتاتی ہیں کہ آپ کی محبت نہ صرف عبادات اور ذکر میں تھی بلکہ اخلاق،دعا اور تعلقات انسانوں میں بھی جلوہ گر تھی۔ذیل میں کچھ اہم احادیث درج ہیں جن سے اس عظیم محبت کی جھلک ملتی ہے:

اگر اللہ کسی کو محبوب رکھے :

روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ:إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ:إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ،ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي أَهْلِ الأَرْضِ۔(بخاری،4/110، حديث:6140)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ پاک جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے،تو جبرائیل علیہ السلام کو اس کی محبت کا حکم دیتا ہے،وہ اس سے محبت کرتا ہے،آسمان والوں سے اس کی محبت جاری ہوتی ہےاور اس کے بعد وہ زمین والوں میں بھی مقبول ہو جاتا ہے۔

اللہ کا ذکر ہر لمحہ:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159، حدیث: 826)

محبت کی مثال:

جس سے محبت ہو،اس کا ذکر دل سے نکلتا ہے اور نبی ﷺکا دل ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے آباد رہتا تھا۔

سجدے میں رونا عبدیت کا کمال:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھی۔ آپ ﷺ سجدے میں گئے تو اس قدر روئے اور ہچکیاں لیں کہ صحابہ نے اسے محسوس کیا، آپ ﷺ سجدے میں فرما رہے تھے:رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَترجمہ:اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں موجود ہوں؟اے میرے رب! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟

(ابو داود،1/439،حدیث:1194)

اللہ پاک سے محبت کی مثال:

سجدہ ایک عاشق کا اظہار عاجزی ہے۔نبی ﷺکا رونا اس عشق ِحقیقی کا ثبوت تھا۔

تمام فیصلے اللہ کی وحی سے:

رسول اللہﷺ کا ہر قول و فعل اللہ کی وحی کے تابع تھا۔ارشادِ باری ہے:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴) (پ27،النجم: 3-4)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے کچھ نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔

ایک محب اپنے محبوب کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔

حضور نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت اتنی گہری خالص اور بے مثال تھی کہ اُس کا کوئی دنیاوی معیار سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔یہ محبت اطاعت،خشیت،قربانی اور مکمل بندگی پر مبنی تھی۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا کے لیے وقف تھا۔ذیل میں ایک مشہور اور دل کو چھو لینے والا واقعہ پیشِ خدمت ہے جو اس محبت کی حقیقی جھلک دکھاتا ہے:

مکہ والوں کے عناد اور سرکشی کو دیکھتے ہوئے جب حضور رَحمت عالم ﷺ کو ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوسی نظر آئی تو آپ نے تبلیغِ اسلام کے لئے مکہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے طائف کا بھی سفر فرمایا۔ اس سفر میں حضور ﷺ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمراء اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان رئیسوں میں عمرو کا خاندان تمام قبائل کا سردار شمار کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل۔مسعود۔ حبیب۔ حضور ﷺ ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھار دیا کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ برا سلوک کریں ۔چنانچہ لچوں لفنگوں کا یہ شریر گروہ ہر طرف سے آپ پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اٹھاتے اورجب آپ چلنے لگتے تو پھر آپ پر پتھروں کی بارش کرتے اور ساتھ ساتھ طعنہ زنی کرتے۔گالیاں دیتے۔ تالیاں بجاتے۔ ہنسی اڑاتے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور ﷺ پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے تھے اور حضور ﷺ کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے اور زخموں سے نڈھال ہو کر بے قابو ہو گئے۔ یہاں تک کہ آخر آپ نے انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ حضور ﷺ کا یہ حال دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ بن ربیعہ کو آپ پر رحم آگیا اور کافر ہونے کے باوجود خاندانی حمیت نے جوش مارا۔ چنانچہ ان دونوں کافروں نے حضور ﷺ کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور ﷺنے بسم اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عداس تعجب سے کہنے لگا کہ اس اطراف کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے حضور ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارا وطن کہاں ہے؟ عداس نے کہا کہ میں شہر نینویٰ کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عزوجل کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر عداس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔(مواہب لدنیہ،1/ 136،137)

محبت کی جھلک:

آپ پر جسمانی،ذہنی،جذباتی تکلیف کا پہاڑ ٹوٹ پڑا،مگر اس سب میں اللہ سے کوئی شکایت نہیں کی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ کی محبت اللہ کے لیے ہے غرض خالص اور انتہا درجے کی وفاداری پر مبنی تھی۔

حضرت جبریل اور پہاڑ کے فرشتہ کا آنا:

ایک مرتبہ امُّ المومنین حضرت عائشہ نے حضورِاقدس ﷺسے دریافت کیا:یا رسولَ اللہ! کیا جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ ارشاد فرمایا ہاں ، اے عائشہ! وہ دن میرے لئے جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار ابنِ عبد یالیل بن عبد کلال کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوتِ اسلام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا (اور اہلِ طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا) میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام قَرنُ الثّعالب میں پہنچ کر میرے ہوش و حواس بجا ہوئے ۔وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے، اس بادل میں سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ نے آپ کی قوم کا قول اور ان کا جواب سن لیا اور اب آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے ۔ تاکہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ حضورِ اکرم ﷺ کا بیان ہے کہ پہاڑوں کا فرشتہ مجھے سلام کرکے عرض کرنے لگا : یا رسولَ اللہ! اللہ نے آپ کی قوم کا قول اور انہوں نے آپ کو جو جواب دیا ہے وہ سب کچھ سن لیا ہے اور مجھ کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اور میں آپ کا حکم بجا لاؤں ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اَخْشَبَیْن (ابو قُبَیس اورقُعَیْقِعان نام کے) دونوں پہاڑوں کو ان کفار پر اُلٹ دوں تو میں اُلٹ دیتاہوں ۔ یہ سن کر حضور رحمت ِعالَم ﷺنے جواب دیا: (نہیں ) بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔(بخاری،2/386، حدیث: 3231)

سبق:

یہ واقعہ صرف صبر کی علامت نہیں بلکہ یہ اللہ سے محبت عاجزی اور کامل بندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔حضور نے نہ بددعا کی،نہ انتقام لیا،نہ مایوس ہوئےصرف اللہ کی رضا کی پروا کی۔اللہ پاک ہم سب کو اپنے پیارے محبوب ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بِجَاهِ النبی الامين ﷺ


اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمدﷺ  کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17سورۃ الأنبیاء،آیت 107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

آپ نہ صرف اللہ کے سچے رسول تھے بلکہ اللہ کے سب سے محبوب بندے بھی تھے۔

آپ کی پوری زندگی کا خلاصہ صرف ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے:حضور کی زندگی،اللہ کی محبت میں فنا ہونے کی داستان ہے۔ اللہ کی محبت فطرتِ نبوی کا حصہ تھی۔

نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کوئی وقتی کیفیت نہیں تھی بلکہ آپ کی فطرت میں رچی بسی تھی۔بچپن سے ہی آپ کو اللہ کی یاد سے سکون ملتا۔بت پرستی کے ماحول میں بھی آپ کا دل ہمیشہ ایک ہی خدا کے سامنے جھکنے کو چاہتا تھا۔ آپ کی محبت کسی مصلحت یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کے نور سے پیدا ہونے والی تھی۔

غارِ حرا کی خلوتیں اور محبتِ الٰہی :

بعثت سے پہلے آپ اکثر غارِ حرا میں جا کر تنہائی اختیار کرتے،جہاں آپ کئی کئی دن تک اللہ کی یاد اور غور و فکر میں مصروف رہتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:وحی سے پہلے آپ کو تنہائی پسند کر دی گئی تھی،آپ غارِ حرا میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے۔پھر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو پہلا کلمہ ہی اقرأ تھا۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)(پ30،العلق:1) (بخاری،1/7،حدیث:3)

محبت کا عروج:عبادت اور مناجات :

اللہ سے محبت کا سب سے بڑا مظہر عبادت ہے اور حضور کی عبادت اپنی مثال آپ تھی۔آپ راتوں کو جاگ کر قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتےاور دل اللہ کی یاد میں پگھل جاتا۔اللہ پاک نے فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱)قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲)(پ29، المزمل: 1–2)

محبت کے اظہار میں عاجزی :

حضور کا یہ انداز بھی قابلِ غور ہے کہ جتنی محبت بڑھتی،اتنی ہی عاجزی بھی بڑھتی۔

آپ ہمیشہ دعا فرماتے: اےاللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں ،تو مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے سارے کام درست فرما دے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔( مسند ابو داود طیالسی،ص117،حدیث: 869)

یہ دعا بتاتی ہے کہ آپ اللہ پر کتنا مکمل اعتماد اور انحصار رکھتے تھے۔آپ کے نزدیک خودی اور اپنی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں تھی،بس اللہ کی رضا سب کچھ تھی۔

محبت میں وفاداری اور قربانی :

نبی ﷺکی محبت صرف جذباتی نہیں بلکہ عملی بھی تھی۔آپ نے اللہ کی راہ میں تکالیف برداشت کیں، طائف میں پتھر کھائے،شعبِ ابی طالب میں بھوک کا سامنا کیا مگر کبھی شکوہ نہیں کیا۔بلکہ فرمایا:اگر تُو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی مصیبت کی پروا نہیں۔

(سیرۃ نبویۃ لابن ہشام، 1/ 420)

یہ وہ کلمات ہیں جو محبتِ الٰہی کے سب سے اعلیٰ درجہ کو ظاہر کرتے ہیں جہاں بندہ اپنے رب کی رضا کے سامنے ہر درد بھلا دیتا ہے۔

دعاؤں میں عشق کا رنگ :

رسول اللہ ﷺکی دعاؤں میں بھی اللہ سے قربت کا انوکھا رنگ نظر آتا ہے۔

ایک دعا میں آپ فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا عشقِ حقیقی کا درس دیتی ہے کہ محبت کا مقصد محض لفظی اظہار نہیں بلکہ ایسے اعمال ہیں جو اللہ کے قرب کو بڑھائیں۔

نتیجہ:

حضور کی زندگی اللہ کی محبت کا آئینہ ہے۔آپ نے دکھ،تکلیف،بھوک،دشمنیاں اور ہجرت سب برداشت کیں مگر اللہ کی رضا سے کبھی غافل نہ ہوئے۔اگر ہم حضور کی سچی امتی بننا چاہتی ہیں تو ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں اللہ کی محبت کو اول درجہ دینا ہوگا چاہے عبادت میں ہو،اخلاق میں یا قربانی میں۔کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ بندہ اپنے رب سے محبت کرے،جیسے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے رب سے کی۔


اللہ پاک نے انسان کو اپنی عبادت اور محبت کے لیے پیدا فرمایا ہے،جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)(پ27، الذریت: 56)ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

عبادت در اصل محبتِ الٰہی کا ہی ایک مظہر ہے اور اگر اس محبت کا سب سے اعلیٰ اور کامل نمونہ دیکھنا ہو تو وہ اللہ کے حبیب،حضرت محمد ﷺکی ذاتِ اقدس ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر عمل،ہر دعا اور ہر آنسو اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔

حضور کی محبتِ الٰہی کا مظہر :

حضور بچپن ہی سے ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے۔مکہ کے پہاڑوں پر غارِ حرا کی تنہائیوں میں آپ گھنٹوں اور دنوں اللہ کی یاد میں بسر کرتے۔جب وحیِ الٰہی نازل ہوئی تو آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا،مگر اس کے باوجود آپ کی عبادت میں کمی نہیں آئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی راتوں کو اتنی دیر تک قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔میں عرض کرتی:یا رسول اللہ! آپ اتنی مشقت کیوں فرماتے ہیں جبکہ آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ معاف ہو چکے ہیں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ، حدیث:4837)

یہ جملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت کسی خوف یا مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ محبتِ الٰہی کے جذبے سے تھی۔

محبت میں فنا ہونے کا عالم :

حضور اللہ پاک کی یاد میں اس قدر محو رہتے کہ آپ کے آنسو مبارک رخساروں کو تر کر دیتے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) (پ29،المزمل:6)ترجمہ:بے شک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہےاور بات خوب سیدھی نکلتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ آپ راتوں کو عبادت میں گزار دیتے اور دن کو امت کے لیے جد و جہد کرتے۔

آپ نے فرمایا:اللہ سے محبت کرنے والا ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے۔ (ترغیب و ترہیب، 4/ 298)

محبت کا مظاہرہ اطاعت سے :

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اصل محبتِ الٰہی حضور کی اتباع میں ہے۔ خود حضور سب سے بڑھ کر مطیع و فرمانبردار تھے،نیز آپ نے ہر حکمِ الٰہی کو نہایت شوق اور محبت سے بجا لایا۔

دعاؤں میں محبت کا رنگ :

رسولِ اکرم ﷺکی دعائیں عشق و محبت سے بھرپور تھیں۔

آپ اکثر فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے۔الٰہی!اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

محبتِ الٰہی کی روشنی میں امت کی محبت :

حضورﷺ کی محبت صرف اللہ کے لیے تھی،اسی لیے آپ کی امت سے محبت بھی در اصل اللہ کی رضا کے لیے تھی۔

آپ نے فرمایا:میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(مسلم،ص1400،حديث:2599)

یہ رحمت در اصل اللہ کی محبت سے پیدا ہونے والا وہ نور تھا جو ہر مخلوق پر مہربان ہو گیا۔

حضور کی حضرت علی سے محبت :

حضورﷺ کی محبت کا مظہر ان کے اہلِ بیت علیہم الرضوان تھے،خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔

آپ نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں،علی بھی اس کے مولا ہیں۔(ترمذی،5/398، حدیث:3733)اسی طرح ایک بار مولا علی سے فرمایا:تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (بخاری،2/212،حدیث:2699)

یہ محبت خالص اللہ کے لیے تھی،نہ کسی رشتے یا دنیاوی وابستگی کی بنا پر،بلکہ روحانی تعلق اور دین کے رشتے سے۔

نتیجہ :

حضور کی پوری زندگی اللہ کی محبت کی عملی تفسیر تھی۔آپ نے اپنی خواہشات،آرام اور دنیاوی لذتوں کو قربِ الٰہی کے بدلے قربان کر دیا اور اسی محبت کا مظہر آپ کی اپنے اہلِ بیت خصوصاً حضرت علی سے محبت تھی،جو محبتِ الٰہی کا ہی تسلسل تھی۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں،سنتِ نبوی کو اپنائیں اور ہر عمل میں اس کی رضا کو مقدم رکھیں۔

دعا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)


نبیِ کریم ﷺ کی نماز سے محبت:

اللہ کریم کے آخری نبی ﷺ کو نماز سے بہت محبت تھی۔آپ نے نماز کو اپنی انکھوں کی ٹھنڈک فرمایا۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)جب نماز کا وقت ہوتا تو آقا کریم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے:اے بلال!اٹھو اور ہمیں نماز سےراحت پہنچاؤں۔( ابو داود 4/385،حدیث:4986)

ذکرِ الٰہی میں مشغولیت:

اللہ پاک کی آخری نبی ﷺ گناہوں سے معصوم اور رب کے محبوب ہونے کے باوجود ہمہ وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے ،سفر و حضر ،خلوت و جلوت،صحت و بیماری الغرض کیسے ہی حالات ہوتے آپ اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رہتے۔چنا نچہ بخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ نبیِ کریم ﷺ ہر وقت اللہ پاک کا ذکر کرتے رہتے تھے۔(بخاری،1/124)

اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،کھاتے پیتے،سوتے جاگتے،وضو کرتے،نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے،سواری سے اترتے،سفر میں جاتے،سفر سے واپس ہوتے،بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے، مسجد میں آتے جاتے، جنگ کے وقت،آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت،ہر وقت ہر حال میں دعائیں وردِ زبان رہتی تھیں۔( سیرتِ مصطفیٰ،ص598)

دعا:

اللہ پاک ہمیں بھی اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے اللہ پاک کی سچی محبت عطا فرمائے۔


اللہ پاک نے اپنے حبیب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ  کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ عزت،مقام اور قرب عطا فرمایا۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور اس کے دین کی سر بلندی کے لیے وقف تھی۔آپ کا دل اللہ کے ذکر سے معمور اور زبان اس کی حمد و ثنا سے تر رہتی تھی۔

در حقیقت،رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک زندہ تفسیر ہے کہ ایک بندہ اپنے رب سے کس طرح محبت کرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کا سرچشمہ:

اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

یہ آیت رسولِ اکرم ﷺپر پوری طرح صادق آتی ہے۔آپ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں محبتِ الٰہی اپنے عروج پر پہنچی۔

آپ کے دل میں دنیا کی کوئی چاہت نہ تھی،صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔اسی محبت کی بنا پر آپ نے مصائب برداشت کیے،تبلیغ کا فریضہ ادا کیا اور اپنے رب کی بندگی میں سراپا فنا ہو گئے۔

عبادت میں عشقِ الٰہی کی جھلک:

حضور کی عبادتیں صرف فرض کی حد تک نہ تھیں بلکہ عشق و محبت کی گہرائیوں سے معمور تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں، پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی شکر،یہی محبت،یہی عشق وہ قوت تھی جس نے حضور ﷺکو سب سے بلند درجہ عطا کیا۔

زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی یاد:

آپ کا ہر عمل،ہر فیصلہ اور ہر گفتگو اللہ کی یاد سے وابستہ تھی۔کھانے سے پہلےبِسْمِ اللہ،کام کے بعدالحمد للہ اور ہر حال میں اِن شَاءَ اللہ یہ سب آپ کی عادتیں تھیں،جو محبتِ الٰہی کی علامت ہیں۔اللہ کے ذکر سے آپ کو روحانی راحت ملتی تھی۔جیسا کہ آپ نے فرمایا:اپنےربِّ کریم کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنےوالےکی مثال زندہ اورمُردہ کی طرح ہے۔(بخاری،4/220،حدیث:6407)یہ بات بتاتی ہے کہ آپ کے نزدیک زندگی کی اصل روح اللہ کی یاد میں پوشیدہ ہے۔

دعاؤں میں محبت کی جھلک:

حضور کی دعائیں اللہ پاک سے گہری محبت کا مظہر تھیں۔آپ اکثر یوں دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔ (ترمذی، 5/296،حدیث:3501)

یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت حاصل کرنا تھااور وہ چاہتے تھے کہ امت بھی اسی راہ پر چلے۔

دنیاوی راحتوں سے بے نیازی:

آپ نے دنیا کو محبتِ الٰہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس اس سوار کی طرح ہے جس نے گرمی کے دن میں کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کیا، پھر وہ (وہاں سے) چل دیا اور اسے (وہیں) چھوڑ دیا۔(مسند امام احمد،7/259،حدیث 4208)

یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ کے دل میں دنیا کی کوئی جگہ نہیں تھی صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔آپ نے کبھی مال و دولت کی تمنا نہیں کی،بلکہ دل کی دولت کو سب سے بڑی نعمت سمجھا۔

امت کو محبتِ الٰہی کی دعوت:

حضور ﷺنے اپنی امت کو بھی اللہ سے سچی محبت کا درس دیا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ حضور ﷺکی اتباع ہی محبتِ الٰہی کا راستہ ہے۔جو حضور کی سنتوں پر عمل کرے گی وہ اللہ کی پسندیدہ بندی بنے گی۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔یہ محبت آپ کے ظاہر و باطن،گفتار و کردار اور عبادت و دعا کے ہر گوشے میں نمایاں تھی۔آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل کامیابی دنیاوی لذتوں میں نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا میں ہے۔اگر ہم حضور کی پیروی کریں،آپ کے اخلاق اپنائیں اور آپ کی سنتوں پر عمل کریں تو ہم بھی اللہ پاک کی محبوب بندیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ  کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،اطاعت،قربت اور رضا میں بسر ہوئی۔آپ کی ذات اقدس اللہ کے عشق و محبت کا مظہر تھی۔آپ کا ہر قول،فعل اور عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت صرف اور صرف اللہ پاک کے لیے تھی۔

قرآنِ مجید میں اشارہ:

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی زندگی اللہ کی محبت کا عملی نمونہ ہےاور جو واقعی اللہ سے محبت چاہتی ہے،اسے حضور ﷺکی اتباع کرنی ہوگی۔

حضور کی محبتِ الٰہی کا اظہار:

حضور کا دل ہمہ وقت اپنے ربّ کے ذکر میں مصروف رہتا تھا۔جب بھی کوئی خوشی یا غم آتا آپ سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع فرماتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159، حدیث: 826)

راتوں کو آپ طویل قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ جملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ محبت اور شکرگزاری کا اظہار تھی۔

دعا اور مناجات میں محبت:

حضور کی دعائیں اللہ سے گہری محبت کی عکاس تھیں۔ایک دعا میں فرمایا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔(ترمذی،5/296،حدیث: 3501)

یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ حضور کے نزدیک دنیا کی تمام لذتوں سے بڑھ کر اللہ کی محبت عزیز تھی۔

محبتِ الٰہی میں خشیت و عاجزی:

حضور کا دل اللہ کے خوف اور محبت سے لبریز تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور فرمایا کرتے:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ خشیت در اصل محبت کی انتہا ہے،کیونکہ سچی محبت انسان کو اپنے محبوب کے غضب سے ڈرنے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ کی رضا ہی مقصدِ زندگی:

آپ کی پوری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا تھا۔جنگ ہو یا صلح،غم ہو یا خوشی ہر موقع پر آپ نے اللہ کی مرضی کو مقدم رکھا۔اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-(پ28، الحشر: 7)ترجمہ:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

یہ آیت حضور ﷺکی مکمل اطاعت کا حکم دیتی ہے،جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ خود سراپا محبتِ الٰہی تھے۔

محبوبِ الٰہی کا مقام:

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت سے سرفراز فرمایا۔قرآن میں فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یہ درجہ کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔آپ کوحبیب اللہ یعنی اللہ کا محبوب کہا گیا،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوخلیل اللہ کہا گیا۔اس سے واضح ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی سب سے اعلیٰ اور کامل ہے۔

حضور کی اللہ پاک سے محبت بے مثال تھی۔یہ محبت آپ کے اخلاق، عبادات، معاملات اور دعاؤں کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے۔آپ نے امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ کی محبت کو سب چیزوں پر مقدم رکھو۔

قرآن میں فرمایا گیا:وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہم بھی محبوب ﷺکے نقشِ قدم پر چل کر اللہ کی محبت حاصل کریں،کیونکہ اللہ کی محبت ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰﷺ  کو تمام انسانوں کے لیے ہدایت و رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔آپ کا سونا، جاگنا،چلنا،بولنا،عبادت کرنا،تبلیغ کرنا،سب کچھ صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے تھا۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷)(پ30، الضحیٰ:7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

آپ کی سیرت میں اللہ سے تعلق کی اعلیٰ ترین مثالیں موجود ہیں۔میدانِ طائف میں جب لوگوں نے پتھر مارے تو بھی آپ نے اللہ پاک سے شکوہ نہ کیا،بلکہ یوں عرض کی: اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

آپ کی دعا تھی:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ محبت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا بھی اللہ پاک سے تعلق مضبوط ہو۔ہم نماز، دعا، قرآن اور نیکیوں کے ذریعے اپنے دل میں اللہ کی محبت کو جگہ دیں،جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!

(بخاری،3/329، حدیث: 4837)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺکو کسی گناہ سے ڈر نہیں تھا کیونکہ آپ معصوم تھے لیکن اللہ سے محبت اتنی شدید تھی کہ وہ راتوں کو قیام کرتے،سجدے میں گر جاتے صرف شکر ادا کرنے کے لیے۔

غارِ ثور میں اعتماد ومحبت:

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں خوف زدہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ مکمل بھروسا اور محبت کا اظہار ہے کہ سب کچھ چھن جائے،پر اللہ کافی ہے۔

حدیث:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔(بخاری،3/421،حدیث: 5063)

رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت علم،معرفت اور خشیت(دل کا خوف /احترام) کے ساتھ تھی۔جو اللہ کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے،وہ اس سے اتنی ہی زیادہ محبت کرتا ہے اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔

مفہوم :

رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت کامل،خالص اور ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا،عبادت اور اطاعت میں گزارا۔مشکل،راحت،تنہائی یا مجمع ہر حال میں آپ کا دل صرف اللہ سے وابستہ تھا۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،سیدالانبیا،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ  کو وہ مقامِ قرب عطا فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت،خشیت اور عبادت سے روشن ہے۔آپ کا ہر عمل،ہر ارادہ،ہر سانس صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔

بچپن ہی سے نبیِ اکرم ﷺکا دل دنیاوی کھیل کود سے ہٹا ہوا اور خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ تھا۔مکہ کے شور و غل میں جب لوگ بتوں کے آگے سر جھکاتے،آپ غارِ حرا کی تنہائیوں میں اللہ کی یاد میں ڈوب جاتے۔وہ راتیں جب آپ کا دل اللہ کی طرف جھکتا اور نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں اس کے نور کو تلاش کرتیں در اصل یہی وہ لمحے تھے جب محبتِ الٰہی کا چراغ آپ کے دل میں روشن ہوا۔

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ نبی ﷺ اللہ کے محبوب ہیں اور آپ کی پیروی ہی اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔

نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث: 4837)

یہ جملہ عشقِ الٰہی کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے مکمل فنا ہو جاتا ہے۔آپ کی زبان ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی۔ہر بات بسم اللہ سے شروع،ہر مصیبت پرالحمد للہ،ہر کامیابی پراللہ اکبر۔آپ کے دل میں اللہ کی محبت آپ کو کسی سے غافل نہ کرتی۔ایک حدیث میں نبی نے فرمایا:أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي اللہ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو وہ تمہیں کھلاتا (عطا کرتا) ہے، اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)

اللہ پاک نے آپ کے لیے فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4) ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یہ اللہ پاک کی اپنے محبوب ﷺسے محبت کا سب سے واضح اعلان ہے کہ جہاں رب کا نام لیا جاتا ہے،وہاں اس کے محبوب کا ذکر بھی بلند کیا جاتا ہے۔

آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور ﷺکی زندگی اللہ پاک کی محبت اور قرب کی سب سے روشن مثال ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زندگی کو ذکر،شکر اور محبتِ الٰہی سے منور کریں۔یہی کامیابی کا راز ہے،یہی ایمان کی حقیقت ہے۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ بلند مقام عطا فرمایااور آپ کی ہر ادا کو معیارِ ہدایت بنایا۔آپ کی اللہ پاک سے محبت سب سے کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت نہ صرف قول سے بلکہ عمل، اطاعت، عبادت،توکل اور تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین شکلوں میں ظاہر ہوئی۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں

1 :سورۃ النجم:وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ(۲)(پ27، النجم:1-2)ترجمہ:اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی راہ اور دین اللہ پاک کی طرف سے ہے،جس میں آپ کی محبتِ الٰہی شامل ہے۔

2 :سورۃ الِ عمرٰن:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات،اللہ سے محبت کا مجسم نمونہ ہے۔

3:سورۃ الضحیٰ:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یہ آیت اللہ پاک کی خاص ہدایت اور نگہبانی کی طرف اشارہ کرتی ہے،جو آپ کو اللہ پاک سے خاص تعلق کی بنیاد پر عطا ہوئی۔

احادیث کی روشنی میں

1: نماز میں محبتِ الٰہی:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ عبادت،شکر اور محبت کا اعلیٰ ترین اظہار تھا۔

2: دعا میں محبت:

آپ ﷺ اکثر دعا فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)یہ دعا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کا دل محبتِ الٰہی سے لبریز تھا۔

3 :توکل اور رضا:

جب طائف کے میدان میں پتھروں سے زخمی کیا گیااور جبریل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کو پیش کیا کہ اگر چاہیں تو طائف والوں کو تباہ کر دیا جائے،تو آپ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

یہی وہ دل ہے جو اللہ کی رضا میں راضی ہے اور اس کی مخلوق سے بھی محبت رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت صرف الفاظ یا جذبات کی حد تک نہ تھی،بلکہ مکمل اطاعت، بندگی،عبادت،شکر،صبر، توکل اور رضا کی عملی شکل میں تھی۔اگر ہم بھی اللہ پاک سے سچی محبت کی طلبگار ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنانا ہوگا،کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا:فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک ہمیں پیارے حبیب ﷺ کے صدقے سچی محبت عطا فرمائے ۔آمین


رسولِ اکرم،حضرت محمدﷺ  کی حیاتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت اور تعلق ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر سانس اور ہر عمل صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا اور محبت کے حصول کے لیے وقف تھا۔

قرآنِ مجید میں اظہارِ محبت:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکے بارے میں فرمایا:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4) ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

یہ عظیم اخلاق در اصل اللہ پاک کی محبت اور قرب کی وجہ سے ہی تھے۔مزید فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کی گواہی ہے کہ حضور خود اللہ کے محبوب ہیں اور آپ کی اتباع ہی اصل محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

سیرتِ مبارکہ سے شواہد:

1 :عبادت میں محبت کا اظہار:

حضور راتوں کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ اللہ کی محبت ہی تھی کہ آرام چھوڑ کر راتوں کو رب کے حضور کھڑے رہتے۔

2 :دعاؤں میں محبت کا انداز:

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501) یہ دعا حضور کے دل کی گہرائی میں اللہ سے محبت کی جھلک پیش کرتی ہے۔

3:دعا طائف کے موقع پر:

اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

4:اللہ کی محبت کا انعام:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکی اس محبت کے بدلے میں بے مثال قرب عطا فرمایا۔قرآن میں ارشاد ہے:مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷)(پ27،النجم:17)ترجمہ: آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔

یعنی معراج کی رات جب آپ نے اپنے رب کا قرب پایا تو نہ نگاہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔یہ قربِ خاص اس محبت کا ثبوت ہے جو اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺکو عطا فرمایا۔

حضورﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے۔یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ سے محبت اور اس کی رضا میں ہےاور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔