نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک ایسی عظیم حقیقت ہے جو قرآن و سنت سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔آپ  کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت،رضا اور قرب کے لیے وقف تھا۔اس محبت کا اظہار آپ کے اقوال،افعال اور دعاؤں سے کثرت سے ہوتا ہے۔

نبیِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،خشیت،اطاعت اور رضا کے حصول میں گزری۔آپ کا ہر قول،فعل،عبادت اور اخلاق اسی بندگی اور محبتِ الٰہی کا مظہر تھا۔ اللہ پاک نے آپ کو قرآنِ مجید میں اپنا محبوب قرار دیا اور آپ نے عملاً دکھایا کہ حقیقی محبت صرف اللہ پاک سے ہوتی ہے۔

نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت حدیث کی روشنی میں

حدیثِ مبارک:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ،وَ قَالَ: يَا مُعَاذُ،وَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ،وَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ،فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ:اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ،وَ شُكْرِكَ،وَ حُسْنِ عِبَادَتِك(ابو داود،2/123،حدیث: 1522)

یہ حدیث نہ صرف نبی کے صحابہ سے محبت ظاہر کرتی ہے بلکہ دعاؤں کے ذریعے اللہ پاک سے محبت اور تعلق کا گہرا انداز بھی واضح ہوتا ہے۔آپ خود اللہ پاک کی یاد،شکر اور بہترین عبادت کی دعا مانگتے تھے،جو اللہ پاک سے محبت کی علامت ہے۔

حدیثِ مبارک:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًارسول اللہ ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔سیدہ عائشہ نے عرض کی:اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اورپچھلوں کےگناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

آپ کی عبادت صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ اللہ پاک کی محبت اور شکر گزاری کا عملی مظہر تھی۔آپ کا رات بھر قیام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اللہ پاک سے بے حد محبت تھی۔

حدیثِ مبارک:نبیِ کریم کی ایک دعا:

اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا واضح کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺخود اللہ پاک کی محبت کو مانگتے،طلب کرتے اور اس کی فکر رکھتے تھے۔

قرآنِ مجید میں اللہ پاک کا فرمان ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ نبیِ کریم ﷺکی ذاتِ مبارک خود اللہ پاک کی محبت کا کامل نمونہ ہے۔ان کی پیروی،اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

حدیثِ قدسی:

وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أُحِبَّهُ(بخاری ،4/248،حدیث:6502)

نبیِ کریم ﷺاس حدیثِ قدسی کو بیان کر رہے ہیں،جو اللہ پاک اور بندے کے درمیان محبت کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہےاور خود نبی ﷺ اس محبت کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے ۔ یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ پاک سے محبت اور اس کی رضا میں ہے اور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب ﷺ کے وسیلے سے اپنی محبت نصیب فرمائے۔ آمین


سرورِ کائنات،حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی کامل بندگی، اطاعت اور بے مثال محبت کا روشن مینار ہے۔آپ  کا ہر قول،ہر فعل اور ہر سانس اللہ پاک کے ذکر اور رضا کے لیے وقف تھا۔

اللہ پاک نے خود قرآنِ کریم میں آپ کی محبتِ الٰہی کی گواہی دی:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ پاک کی محبت تک پہنچنے کا واحد راستہ حضور ﷺ کی اطاعت ہے۔

عبادت میں محبت کا کمال:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًارسول اللہ ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔سیدہ عائشہ نے عرض کی:اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اورپچھلوں کےگناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ الفاظ محض زاہد کے نہیں بلکہ عاشقِ الٰہی کے ہیں۔

ذکرِ الٰہی میں محبت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159، حدیث: 826)

سفر ہو یا گھر،خوشی ہو یا غم آپ کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر رہتی تھی۔

دعا میں محبت کا رنگ:

نبیِ کریم کی دعاؤں میں اللہ پاک سے ایسی محبت جھلکتی ہے جو صرف ایک بندہ نہیں بلکہ عاشق کی کیفیت ظاہر کرتی ہے۔ایک دعا میں ارشاد فرمایا:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّي لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِي وَ اَنَا عَبْدُك(ابوداود،4/412، حدیث: 5070)یہ دعاصرف مانگنا نہیں بلکہ ایک عاشق کی اپنے محبوب سے مناجات ہے۔

محبتِ الٰہی کا عملی ثبوت جہاد اور قربانی:

اللہ پاک نے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

اگرچہ یہ حکم تمام امت کے لیے ہے مگر سب سے پہلے اس پر عمل کرنے والے خود حضور تھے۔آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔جب طائف کے لوگوں نے آپ کو پتھروں سے زخمی کیا تو آپ نے بددعا نہ دی بلکہ فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

ایسا طرزِ عمل صرف وہی اختیار کرتا ہے جو اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنے غصے اور جذبات پر قابو رکھے۔

اللہ پاک کی محبت میں آنسو:

حضرت عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَ فِي صَدْرِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّممیں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں دیکھا تو آپ کے سینے سے شدتِ گریہ کے سبب ہنڈیا کے کھولنے جیسی آواز آ رہی تھی۔(ابوداود،1/342،حدیث:904)یہ آنسو بندگی کے نہیں بلکہ عشق کے گواہ تھے۔

محبتِ الٰہی کا درس اُمت کے لیے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی حَلَاوَت پا لے گا:

( 1) تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو ۔

(2)اللہ پاک ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔

(3) کفر کی طرف لوٹنے کو ایسابرا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

( مسلم ، ص47 ، حدیث:165)

یہ اس لیے فرمایا کہ جو معیار آپ کی اپنی زندگی کا تھا،وہی معیار آپ نے امت کے لیے مقرر کیا۔

خلاصہ:

حضور نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کوئی دعویٰ یا محض جذباتی احساس نہ تھا، بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں عملی طور پر نمایاں تھا۔چاہے وہ راتوں کی طویل عبادتیں ہوں، ہر حال میں ذکرِ الٰہی ہو،دعاؤں میں محبت بھری مناجات ہو،تکلیفوں میں صبر اور بدلے میں دعا ہو یا امت کے لیے رحمت و شفقت ہو ۔ہر مقام پر آپ نے یہ ثابت کیا کہ سچا عاشق وہ ہے جو محبوب کی رضا کے سوا کچھ نہ چاہے۔اللہ پاک نے آپ کی اس سچی محبت کا انعام خود قرآن میں بیان فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

جب بندہ اللہ پاک کی محبت میں جیتا ہے تو اللہ پاک خود اس کی عزت کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔


حضور ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت اور رضا کے گرد گھومتی ہے۔آپ عبادات،دعائیں،جہاد،معاملات،اخلاق اور شب و روز سب اسی محبتِ الٰہی کا عملی مظہر ہیں۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا تعلق گہرا اور لازوال تھا جس کی عکاسی آپ کی تمام زندگی میں ملتی ہے ،خاص طور پر اللہ پاک کی ذات کے لیے اپنی محبت کی خاطر آپ نے خود کو قربان کیا ۔آپ کے ہر فعل وقول سے اللہ پاک کی محبت اور اطاعت کا اظہار ہوتا تھا اور آپ کا وجود اللہ پاک کی رحمت اور محبت کا ذریعہ بن گیا ۔آپ کی زندگی مومنین کے لیے اللہ پاک کی محبت کا سب سے بہترین نمونہ ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی اللہ پاک کے لیے وقف :

اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8، الانعام: 162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیتِ کریمہ محبتِ الٰہی کا اظہار ہے کہ زندگی کا ہر پہلو صرف اللہ پاک ہی کے لیے تھا۔

اللہ پاک کی رضا میں سکون:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ رات کو اس قدر نماز پڑھتے کہ پاؤں مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟حالانکہ اللہ پاک نے آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دیئے ہیں؟آپ نے فرمایا: أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ اللہ پاک کی محبت اور شکر گزاری کا اعلیٰ مقام ہے۔

قرآنِ کریم سے دلیل/ محبتِ الٰہی کا اعلیٰ مقام:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

احادیثِ مبارکہ سے دلیل :

أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ:سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر ترجمہ: سب سے زیادہ محبوب کلمات اللہ پاک کے نزدیک 4 ہیں:سُبْحَانَ اللهِ،اَلْحَمْدُ لِلَّهِ،لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اور اَللهُ أَكْبَر۔(مسلم،ص910، حدیث:5601)

بس نبیِ کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

بس کلام یہ ہوا کہ نبیِ کریم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت سے لبریز تھی اور آپ نے زندگی کے ہر پہلو کو اللہ پاک کی رضا کے لیے وقف کیا۔عبادات میں سب سے آگے،دعائیں مانگنے میں آپ سب سے آگے اور آپ کی حیاتِ طیبہ کامل محبتِ الٰہی کا اعلیٰ نمونہ تھی۔


اللہ پاک سے محبت اسلام کی روح ہے۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو ایمان کو زندہ رکھتی ہے،بندے کو گناہوں سے دور رکھتی ہے اور اسے اللہ پاک کی رضا کے لیے قربانیاں دینے پر آمادہ کرتی ہے۔قرآن و حدیث میں بار بار اس محبت کا ذکر آیا ہے اور اللہ پاک نے خود اپنے محبوب بندوں کی صفات بھی بیان فرمائی ہیں۔اس تحریر میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ پاک سے محبت کے مفہوم،علامات اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالیں گی۔

محبتِ الٰہی کا مفہوم

اللہ پاک سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دل سے اللہ پاک کو سب سے زیادہ چاہے،اس کی رضا کو دنیا کی ہر چیز پر مقدم سمجھے اور اس کی عبادت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے۔

قرآنِ مجید سے محبتِ الٰہی کے دلائل

1: اللہ پاک کا محبت رکھنے والوں سے محبت فرمانا:اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹) (پ4،الِ عمرٰن: 159)ترجمہ:بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ2، البقرۃ: 222)

ترجمہ: بےشک اللہ پسندر کھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔

محبت کا معیار:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اس آیت سے واضح ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کی اتباع ہی اصل میں محبتِ الٰہی کا معیار ہے۔

احادیثِ مبارکہ سے محبتِ الٰہی کا بیان

1:اللہ پاک کے محبوب بندے:

رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے فرماتا ہے:میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں،تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبریل بھی اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے بھی،پھر زمین میں بھی اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔(مسلم، ص1086 ، حدیث:6705)

2 محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں:

نبیﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان،اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

(بخاری،1/17،حدیث: 15)

محبتِ الٰہی کی علامات

1: فرائض اور نوافل میں اہتمام:

بندہ فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نفل عبادات سے بھی قرب حاصل کرتا ہے۔

2: گناہوں سے نفرت:

جب دل میں محبتِ الٰہی ہو تو وہ دل گناہوں سے کراہت محسوس کرتا ہے۔

3: تنہائی میں ذکرِ الٰہی:

اللہ پاک کا محبوب بندہ خلوت میں اللہ پاک کو یاد کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔

4:قرآن سے تعلق:

اللہ پاک سے محبت کرنے والا قرآنِ کریم کو اللہ پاک کا پیغام سمجھ کر دل سے پڑھتا ہے اور عمل کرتا ہے۔

5 رسول اللہﷺ سے محبت اور اتباع:

قرآنِ کریم نے اسی کو محبتِ الٰہی کی شرط قرار دیا ہے۔

نتیجہ:

محبتِ الٰہی ایک ایسی نعمت ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔جو بندہ اللہ پاک سے سچی محبت کرتا ہے،اللہ پاک اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے،اس کے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے اور اسے دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرماتا ہے۔

دعا:

اللہ پاک ہمیں اپنی سچی محبت عطا فرمائےاور اپنی رضا کے لیے زندگی گزارنے کی توفیق دے۔آمین 


 حضور اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت بہت گہری اور لازوال تھی۔آپ کی محبت کا اظہار آپ کے قول و فعل،آپ کے بلند اخلاق اور آپ کی اپنی زندگی میں اللہ پاک کی اطاعت اور اس کی رضا کو ترجیح دینے سے ہوتا تھا۔آپ اللہ پاک سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ اللہ پاک نے بھی قرآنِ کریم میں آپ سے محبت کا اظہار فرمایا،جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۳۲)(پ3،ال عمرٰن:32)ترجمہ:تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

محبت کی چند مثالیں:

عبادت اور اطاعت:حضور اللہ پاک کی عبادت اور اطاعت میں سب سے آگے تھے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النسآء:80)

نرمی اور شفقت:آپ کی شخصیت میں اللہ پاک کی محبت اور شفقت کا عکس نظر آتا تھا۔ آپ نے نرمی کو پسند کیا اور اس کے ذریعے بہت کچھ حاصل فرمایا۔

اللہ پاک کی رضا کو ترجیح:آپ ہر کام میں اللہ پاک کی رضا کو سب سے پہلے رکھتے تھے۔

محبت کا اظہار:آپ نے اپنے اہلِ بیت سے محبت کا اظہار کیا،جیسا کہ حضرت واثلہ بن اسقَع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ پاک کے رسول صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم تشریف لائے،آپ کے ساتھ حضرت علی بھی تھے اور آپ حضرت حسن اور حضرت حسین کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔یہاں تک کہ آپ نے امیرالمومنین حضرت علی اور حضرت فاطمہ کو اپنے سامنے بالکل قریب کر لیا اور حسنین کریمین میں سے ہر ایک کو اپنی ران مبارک پر بٹھا لیا اور پھر ان سب پر اپنی چادر مبارک تان لی پھر یہ آیت ِ مبارکہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) (پ22، الاحزاب:33)تلاوت فرما کریہ دُعا فرمائی:اے اللہ پاک!یہ میرے اہلِ بیت ہیں اور میرے اہلِ بیت ہی(اس فضیلت کے)زیادہ حق دار ہیں۔(مسند امام احمد،6/45، حدیث: 16985)

آپ نے امام حسن سے متعلق فرمایا:الٰہی!میں اس سے محبت کرتا ہوں،تو بھی اس سے محبت فرما۔( مسلم،ص 1206، حدیث:2421)

اللہ پاک کی محبت میں اس کی صفات(جمال،کمال اور نوال)اور اطاعتِ رسول کو بنیادی سمجھا جاتا ہے اور رسول ﷺکی اطاعت اللہ پاک کی اطاعت ہے۔یہ محبت ایک گہرا جذبہ ہے جو انسان کو اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کی طرف لے جاتا ہے نیز اسے عبادت اور نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔

اللہ پاک کی محبت کے اہم پہلو

اللہ پاک کی ذات سے محبت:اللہ پاک کی محبت اس کی ذات کے لیے ہے،اس کی صفاتِ جمیلہ اور کمالات کے لیے ہے۔اس محبت کی بنیاد اللہ پاک کے جمال،کمال اور احسان پر ہے،جو اسے دنیا کی ہر شے سے بالاتر سمجھتی ہے۔

اطاعتِ رسول:اللہ پاک کی محبت کی ایک اہم نشانی اللہ پاک کے رسول کی اطاعت ہے،کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا ہے کہ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ5،النسآء:80)ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

یہ اطاعت اللہ پاک کی اطاعت کا ایک حصہ ہے اور اللہ پاک کی محبت کا اظہار ہے۔

اللہ پاک کی رضا کی طلب:اللہ پاک کی محبت کا مقصد اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے نیک اعمال اور عبادات بجالانا ضروری ہے۔

دعا اور مناجات:اللہ پاک سے محبت کرنے والے بندے اس کی بارگاہ میں دعا اور مناجات کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔اللہ پاک کی ذات سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ تمام چیزوں سے بڑھ کر اللہ پاک کی رضا کو عزیز رکھنا اور اس کی رضا کو ترجیح دینا۔یہ محبت مکمل ایمان کی شرط ہے اور اس کا اظہار عمل سے ہوتا ہے،مثلاً: رسول اللہ ﷺکی سنت پر عمل کرنا اور اللہ پاک کی رضا کی خاطر دیگر تمام خواہشات اور لوگوں کو ترجیح دینا یہ صرف زبانی دعوے سے حاصل نہیں ہوتی،بلکہ اس کے لیے اللہ پاک کے احکامات کی اطاعت اور اس کی ذات پر بھروسا ضروری ہے۔

اللہ پاک کی ذات سے محبت کے تقاضے:

اللہ پاک کو سب سے زیادہ عزیز رکھنا:ایمان کو مکمل کرنے کے لیے اپنی جان،مال اور دیگر ہر چیز سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنا ضروری ہے۔

رسول اللہﷺ کی اتباع:اللہ پاک سے محبت کا سب سے اہم مظہر رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا ہے۔یہ محبت کا عملی ثبوت ہے اور زبانی دعوے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ عمل میں نہ لایا جائے۔

اللہ پاک کی رضا کو ترجیح دینا:اپنی تمام خواہشات اور لوگوں کی خوشنودی سے بڑھ کر اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کو مقدم رکھنا چاہیے۔

اللہ پاک سے تعلق قائم کرنا:اللہ پاک سے محبت کرنے والوں سے محبت کرنا اور ان سے نفرت کرنا جو اللہ پاک کو ناپسند ہیں،محبت کا ایک لازمی حصہ ہے۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے کامل، با کمال اور محبوب بنایا۔آپ  کی ذاتِ مبارکہ اخلاق و کردار،عبادت و بندگی اور محبتِ الٰہی کا روشن مینار ہے۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،رضا اور قرب کے حصول کے لیے وقف تھی۔

محبتِ الٰہی وہ نعمت ہے جو صرف خاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے،مگر حضور کی محبت سب سے اعلیٰ و کامل تھی۔آپ کا دل،روح اور وجود سراپا عشقِ الٰہی کا مظہر تھا۔آپ نے نہ صرف خود اللہ پاک سے بے پناہ محبت کی بلکہ امت کو بھی یہی سبق دیا کہ حقیقی زندگی اللہ پاک کی رضا میں ہے۔

قرآنِ پاک سے محبتِ رسول کی گواہی:

قرآنِ کریم میں اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کی محبت حضور کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ خود حضور اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں جن کی اطاعت محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

عبادت میں محبت کا اظہار:

رسولِ اکرمﷺ کی عبادتیں آپ کے عشقِ الٰہی کی روشن دلیل ہیں۔آپ راتوں کو طویل قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!

(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ جملہ محبت،شکر اور بندگی کا حسین امتزاج ہے۔آپ کی عبادتیں محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ عشقِ الٰہی کی زبان تھیں جو شکر اور قربِ الٰہی کی تڑپ سے لبریز تھیں۔

ذکر و دعا میں محبتِ الٰہی:

حضور کے ذکر میں بھی محبت جھلکتی تھی۔آپ ہر حالت میں اپنے رب کو یاد کرتے۔ کھانا،سونا،جاگنا،سفر یا جنگ ہر لمحہ زبان پرالحمد للہ،سبحان اللہ اور اللہ اكبر کے کلمات جاری رہتے۔آپ کی دعائیں بھی محبتِ الٰہی کا مظہر تھیں۔اکثر دعاؤں میں آپ اللہ پاک کی رضا اور قرب طلب فرماتے۔چنانچہ مشکاۃ شریف میں ہے کہ نبیِ کریم ﷺ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ پاک سے اس کی رضا اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے آگ(جہنم)سے معافی(پناہ)مانگتے تھے۔(مشکاۃ المصابیح،1/474،حدیث: 2552)

مشکلات میں صبر و محبت:

حضور کی محبت صرف خوشی تک محدود نہ تھی بلکہ آزمائش کے وقت بھی نمایاں رہی۔ مکے میں ظلم برداشت کیا،طائف میں پتھروں سے زخمی کیے گئے،مگر زبانِ مبارک پر شکوہ نہ آیا۔آپ نے فرمایا: اللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِیْ فَإِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَاے اللہ!میری قوم کو ہدایت دے،وہ نہیں جانتے۔(الشفا،1/ 105)

یہ کلمات اس کامل محبت کا ثبوت ہیں جو نفرت کے جواب میں بھی خیر خواہی بن جاتی ہے۔

توکل و رضا کی شان

رسول اللہﷺ ہمیشہ اللہ پاک پر بھروسا کرتے۔جب ہجرت کے وقت غارِ ثور میں دشمن قریب پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے۔آپ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ یقین اور توکل بھی محبتِ الٰہی کی ہی ایک صورت ہے۔

نتیجہ:

نبیِ کریمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت اور رضا کا آئینہ ہے۔آپ نے امت کو سکھایا کہ سچی محبت صرف زبانی نہیں،بلکہ اطاعت،عبادت،صبر اور شکر میں ظاہر ہوتی ہے۔

حضور کی محبتِ الٰہی نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ زندگی کی اصل کامیابی اللہ پاک کی رضا میں ہے اور محبوبِ الٰہی وہی بندہ ہے جو اپنے رب کی اطاعت میں خوش رہتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی حضور کی سیرت کو اپنائیں اور اللہ پاک کی سچی محبت حاصل کریں، کیونکہ حضور ہی وہ در ہیں جہاں سے محبتِ الٰہی کا نور نصیب ہوتا ہے۔اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا مَحَبَّتَكَ وَ مَحَبَّةَ حَبِیبِكَ مُحَمَّدٍ،وَ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِینَ لَهُ۔آمین


حضور اکرم ﷺ کی عبادات آپ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی زندہ دلیل ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو قیام فرماتے،طویل نوافل پڑھتے،یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک میں ورم آ جاتا۔جب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:یا رسول اللہ! اللہ  پاک نے تو آپ کے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی محنت کیوں؟ تو آپ نے فرمایا: أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

پیغامِ الٰہی کی رسائی:

آپ نے اللہ پاک کا پیغام دنیا تک پہنچایا اور اللہ پاک کے احکام و فرامین کو امانت داری سے بیان کیا۔یہ عمل اللہ پاک کی محبت کا واضح ثبوت ہے۔

رحمۃ للعلمین:

اللہ پاک نے حضور ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی شخصیت میں یہ رحمت اللہ پاک کی محبت کی ہی عکاسی کرتی ہے۔

اطاعت کا عمل:

آپ نے اپنی زندگی کے احکام کو ترجیح دی اور ہر لمحہ اللہ پاک سے جڑے رہے۔

خالق کی طرف کشش:

خدا جس کی مختلف مذاہب،مطلب،تعبیریں اور تصورات ہیں اس کی طرف انسانی روح کی شدید کشش یہ عشقِ حقیقی کہلاتی ہے۔مختصر یہ کہ آقا ﷺ کی محبتِ الٰہی خدا سے سچی گہری اور مکمل محبت ہے۔جو انسان کو اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ کرتی ہے اور وہ اپنی ذات کو خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے ۔

آپ ﷺ سے محبت کمالِ ایمان:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی حَلَاوَت پا لے گا:

( 1) تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو ۔

(2)اللہ پاک ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔

(3) کفر کی طرف لوٹنے کو ایسابرا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

( مسلم ، ص47 ، حدیث:165)

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں آقا ﷺ کی محبت عطا فرمائے،ان کی یاد میں تڑپنا نصیب فرمائے،ہم سب کو عشق ِرسول نصیب فرمائے اور ہمارے دلوں میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ کے علاوہ دنیا کی تمام تر محبتوں کو نکال دے ۔آمین 


محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا،بلکہ یہ دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔جب ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتی ہیں تو ہمیں آپ  کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت سے لبریز نظر آتا ہے۔اللہ پاک نے خود قرآنِ مجید میں فرمایا:وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-(پ4،ال عمرٰن:144)ترجمہ:اور محمد تو ایک رسول ہیں۔

یہی نسبت آپ کی سب سے بڑی پہچان تھی کہ آپ محبوبِ خدا ہیں۔

اللہ پاک سے محبت کا آغاز بچپن سے:

حضور کی زندگی کے ابتدائی ایام ہی سے توحید اور اللہ پاک کی محبت کا نور آپ کے قلبِ مبارک میں جگمگا رہا تھا۔مکے کی بت پرستی اور جاہلیت کے ماحول میں بھی آپ کا دل اللہ پاک کی طرف متوجہ رہا۔بچپن میں ہی آپ غارِ حرا کا رخ کرتے،تنہائی میں ربّ کی یاد کرتے،غور و فکر کرتے اور اپنے رب کے قرب کے طلبگار رہتے۔

وحی کا آغاز اور عشقِ الٰہی کا اظہار:

جب پہلی وحی نازل ہوئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام غارِ حرا میں اللہ پاک کا پیغام لائے تو آپ پر ربّ کی محبت کا دروازہ ایک نئے انداز سے کھلا۔اب آپ صرف اللہ پاک کے عاشق نہ تھے،بلکہ اللہ پاک کے منتخب پیغمبر بھی تھے۔اللہ پاک کی طرف سے جو حکم آتا،آپ بلا چوں و چرا اسے قبول کرتے اور ہر ممکن کوشش کرتے کہ اللہ پاک کا ہر فرمان زمین پر نافذ ہو جائے۔آپ نے فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ (نسائی،ص 644،حدیث:3946)نماز جو کہ بندے اور رب کے درمیان راز و نیاز کا ذریعہ ہے،وہی آپ کے لیے سکون و راحت کا سبب تھی۔یہ الفاظ آپ کے رب سے تعلق کی گہرائی کو بیان کرتے ہیں۔

اللہ پاک کی راہ میں قربانیاں:

حضور اکرم ﷺکی زندگی محبتِ الٰہی کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔آپ نے اللہ پاک کی رضا کے لیے وطن چھوڑا(ہجرت کی)،طائف میں پتھر مارے گئے،بھوک و پیاس برداشت کی،اہلِ مکہ کے طعن و تشنیع کو سہا،مگر کبھی رب کی رضا پر حرف نہ آنے دیا۔ غزوۂ احد میں جب آپ زخمی ہوئے تو خون بہتا رہا مگر آپ کی زبان پر تھا:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ!میری قوم کو بخش دے،کیونکہ وہ نہیں جانتے۔(بخاری،2/ 468، حدیث:3477)یہ الفاظ رب کی محبت کے ساتھ بندوں کے لیے رحمت کا حسین امتزاج ہیں۔

اللہ پاک کا جواب:

جب محبوب ﷺنے اللہ پاک کی محبت میں سب کچھ قربان کیا تو رب نے بھی فرمایا: وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے اپنے ذکر کے ساتھ رسول ﷺ کے ذکر کو جوڑ دیا۔اذان ہو یا نماز، قرآن ہو یا درود ،اللہ پاک اور اُس کے محبوب ﷺکا نام ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے۔

معراج:محبت کی انتہا:

محبت کی انتہا کا ایک عظیم مظہر معراج النبی ہے۔جب اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو آسمانوں سے بھی اوپر بلا کر وہ قرب عطا فرمایا جو کسی بشر کو نصیب نہ ہوا۔اللہ پاک نے فرمایا:فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)(پ27،النجم:9)ترجمہ: پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب محبوبﷺ اور محبوبِ حقیقی کے درمیان فاصلہ مٹ گیا اور عشق کی معراج مکمل ہوئی۔

آخری وقت تک رب کا ذکر:

حضور ﷺ کی زبانِ مبارک پر زندگی کے آخری لمحے تک ربّ کا ذکر جاری رہا۔آپ کی آخری سانسوں میں بھی جو کلمات جاری تھے،وہ یہی تھے:اَللّٰهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلٰىاے اللہ!اعلیٰ ترین رفیق(کی رفاقت پسند ہے)۔ (بخاری،3/ 160،حدیث:4463)

یہ وہی ربّ تھا جس سے آپ بچپن سے محبت کرتے آئے اور آخر کار اسی کے حضور پہنچنے کی آرزو دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

نتیجہ/ہمارے لیے سبق:

حضور کی اللہ پاک سے محبت صرف ایک ذاتی تعلق نہ تھا،بلکہ وہ ایک ایسی روشنی تھی جس میں پوری امت کے لیے راستہ تھا۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے رب سے محبت کریں، اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اس کے محبوب ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔اللہ پاک ہمیں سچی محبت عطا فرمائے،ویسی محبت جیسی اُس کے محبوبﷺ نے کی۔آمین


حضورِ اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا محور آپ کا اپنے رب کی اطاعت، فرمانبرداری اور قُربت کا حصول تھا۔یہ محبت آپ  کی زندگی کے ہر شعبے میں عیاں تھی اور اسی محبت کا مظہر ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔

اللہ پاک سے محبت کا اظہار:

اطاعتِ الٰہی:حضور کی اللہ پاک سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کی اور اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔

عبادت و ریاضت:آپ نے راتوں کو جاگ کر عبادت کی،روزے رکھے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رہے۔یہ آپ کی اللہ پاک سے گہری محبت کا ثبوت ہے۔

اذکار اور دعائیں:آپ کی دعائیں اور ذکرِ الٰہی آپ کی اللہ پاک سے گہری وابستگی اور محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔

صبر و رضا:آپ نے اللہ پاک کی رضا اور تقدیر پر صبر کیا،یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: بے شک تم اللہ پاک کے لیے جو چیز بھی چھوڑو گے،اللہ پاک تمہیں اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔(مسند امام احمد،35/170،حدیث:23074)

محبت کی بنیاد:

الٰہی پیغام رسانی:آپ نے اللہ پاک کا پیغام دنیا تک پہنچایا اور اس کے احکام و فرامین کو امانت داری سے بیان کیا۔یہ عمل اللہ پاک کی محبت کا واضح ثبوت ہے۔

رحمت للعالمین:

اللہ پاک نے حضور کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا اور آپ کی شخصیت میں یہ رحمت اللہ پاک کی محبت کا ہی عکاس ہے۔

حضور کی اللہ پاک سے محبت صرف زبانی دعووں تک محدود نہیں تھی،بلکہ آپ کی پوری زندگی،اعمال،اقوال اور طرزِ عمل سب میں اللہ پاک کی محبت کا اظہار ہوتا تھا۔ حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور تمام تر مصائب و مشکلات کے باوجود اللہ پاک پر مکمل یقین اور توکل رکھا،جو آپ کی سیرتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں سے عیاں ہوتا ہے۔ آپ نے اللہ پاک کی وحدانیت اور توحید کا پیغام پھیلانے کے لیے رات دن جدوجہد کی اور اللہ پاک سے مکمل وابستگی کا اظہار کیا۔

اللہ پاک سے محبت کے مظاہر:

عاجزی و انکساری:آپ اللہ پاک کے حضور کمال درجے کی عاجزی اور انکساری کا اظہار فرماتے تھے،جس کی مثالیں آپ کی نمازوں اور دعاؤں میں ملتی ہیں۔

ذکر و عبادات:آپ کو کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کرنے اور عبادات میں مشغول رہنے سے خاص شغف تھا۔

توکل علی اللہ:آپ نے ہر مشکل اور آزمائش میں اللہ پاک پر مکمل بھروسا رکھا اور اس کے فیصلے پر راضی رہے۔

دین کا پیغام:آپ کا ہر عمل اور قول اللہ پاک کی رضا کے حصول کے لیے تھا اور آپ نے اللہ پاک کے احکامات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔

احکامِ الٰہی کی تعمیل:آپ اللہ پاک کے ہر حکم کو بخوشی قبول فرماتے تھے اور اس کی مکمل تعمیل کرتے تھے،جو آپ کی اللہ پاک سے گہری محبت کا ثبوت ہے۔یہ محبت صرف زبانی کلامی نہیں تھی،بلکہ آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کے لیے وقف تھی۔

اللہ پاک سے محبت کے واقعات کا مطلب وہ واقعات یا حکایات ہیں جن میں بزرگانِ دین،صحابہ کرام اور عام لوگوں کی اللہ پاک سے گہری محبت اور تعلق کا ذکر ہوتا ہے،جو ان کی زندگی کے اقوال اور افعال سے ظاہر ہوتی ہے۔یہ واقعات مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہو سکتے ہیں جیسا کہ اللہ پاک کی رضا کے لیے قربانیاں دینا،مصائب میں صبر کرنا،اطاعت و بندگی میں استقامت دکھانا اور اللہ پاک کی ذات سے انس و الفت کا اظہار کرنا۔

کچھ مثالیں:

حضور کا اللہ پاک سے تعلق:آپ کی زندگی کے اللہ پاک سے محبت کے واقعات بے شمار ہیں،جن میں آپ کا رات بھر جاگ کر نمازیں پڑھنا،اللہ پاک سے مانگنا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے ہر قربانی پیش کرنا شامل ہے۔

صحابہ کرام کا اللہ پاک سے تعلق:حضرت ابوبکر صدیق کا اللہ پاک کی رضا کے لیے ہجرت کرنا،حضرت عمر فاروق کا عدل و انصاف میں اللہ پاک کا خوف اور حضرت عثمانِ غنی کا سخاوت و ایثار کا جذبہ اللہ پاک سے محبت کی ہی عکاسی کرتا ہے۔

اولیائے کرام کے واقعات:مختلف اولیائے کرام کے واقعات میں اللہ پاک سے محبت، اس کی رضا کے لیے زندگی وقف کرنے اور اس کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی مثالیں ملتی ہیں۔

عام لوگوں کے واقعات:اللہ پاک سے محبت عام لوگوں کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے، جو اللہ پاک کی یاد میں روتے ہیں،اس کی اطاعت میں خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں اور اللہ پاک کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔


حضور  کی اللہ پاک سے محبت کے پہلو

ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر:

حضور کا معمول یہ تھا کہ کھانا کھاتے،سفر کرتے،بستر پر جاتے،جاگتے،بارش برستے، ہوا چلتے ہر موقع پر اللہ پاک کا ذکر فرماتے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا:الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ(پ4،ال عمرٰن:191)ترجمہ:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کا اولین مصداق حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے یعنی وہ بندۂ خدا جس کا کوئی سانس اللہ پاک کے ذکر سے خالی نہ ہو۔

شکر گزاری میں سب سے آگے:

اگر دنیا میں کسی نے شکر کی حقیقت کو سمجھا ہے تو وہ حضور ﷺہیں۔کھجور اور پانی پر بھی الحمد للہ کہتے اور اگر روٹی اور گوشت مل جائے تو مزید عاجزی اختیار کرتے۔

آپ کی سادہ زندگی اللہ پاک کی محبت اور شکر کے اعلیٰ ترین معیار کی علامت تھی۔

اللہ پاک کی محبت میں رحمۃ للعالمین بن جانا:

اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)(پ17،الانبياء: 107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

اللہ پاک سے جتنی محبت حضور ﷺ کو تھی،اتنا ہی اللہ پاک کی مخلوق سے بھی پیار کرتے،کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مخلوق سے محبت کرنا خالق کو راضی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میدانِ طائف کے ظالموں کے لیے بھی بددعا نہیں فرمائی بلکہ دعا کی:اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

اللہ پاک کے لیے محبت اور دشمنی:

آپ نے پوری امت کو یہ اصول دیا:مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ،وَأَبْغَضَ لِلَّهِ،وَأَعْطَى لِلَّهِ،وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَجو اللہ پاک کے لیے محبت کرے،اللہ پاک کے لیے دشمنی رکھے، اللہ پاک کے لیے دے اور اللہ پاک کے لیے روکے،اُس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔

(ابو داود،4/290،حدیث:4681)

یہ اصول حضور ﷺکی اپنی زندگی کا خلاصہ بھی ہے۔

محبت کا انعام:مقامِ محمود

اللہ پاک نے حضور کی اس بے مثال محبت اور اطاعت کا بدلہ یہ دیا کہ انہیں مقامِ محمود عطا فرمایا:عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹)(پ15،بنی اسرائیل:79) ترجمہ: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں قیامت کے دن ہر نبی،ہر ولی،ہر فرشتہ بھی حضور کے قدموں میں ہوگا اور اللہ پاک خود فرمائے گا:مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(معجم صغیر،1/40،حدیث:103)

محبتِ رسول سے محبتِ الٰہی کا راستہ:

حضور نے فرمایا:لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)یعنی اللہ پاک تک پہنچنے کا راستہ محبتِ رسول سے ہو کر گزرتا ہے۔


حضور پاک  کی اللہ پاک سے محبت کی انتہا تھی،جیسا کہ آپ نے اپنی زندگی اللہ پاک کی اطاعت اور رضا میں گزاری۔آپ اللہ پاک کے سب سے مقرب بندے تھے اور آپ کی ہر ادا،قول اور فعل اللہ پاک کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا۔آپ کی دعاؤں اور مناجات سے اللہ پاک سے آپ کی گہری عقیدت اور محبت ظاہر ہوتی ہے۔

محبت کا اظہار:عبادت و اطاعت:

آپ نے اپنی ساری زندگی اللہ پاک کی عبادت اور اطاعت میں گزاری۔آپ اللہ پاک کو سب سے زیادہ یاد کرتے تھے اور اس کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے تھے۔

قرآن کی اتباع:

آپ کی ذات قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے قرآنِ کریم کو خود پر لاگو کیا اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اللہ پاک سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

کثرت سے دعائیں مانگنا:

آپ کی دعاؤں اور مناجات سے اللہ پاک سے آپ کی گہری عقیدت اور محبت واضح ہوتی ہے۔آپ نے اللہ پاک سے بہت مانگا اور ہمیشہ دعا کی کہ اللہ پاک آپ کو اپنی رضا نصیب کرے۔

اللہ پاک کی یاد:

آپ ہر وقت اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔آپ نے فرمایا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)یہ بھی آپ کی اللہ پاک سے محبت کا واضح ثبوت ہے۔

عقیدت کا سبب:

اللہ پاک کی طرف سے آپ کو خصوصی مقام و مرتبہ عطا ہوا تھا۔آپ کو اللہ پاک نے دنیا اور آخرت میں بلند مقام دیا ہے۔

آپ کی ذات میں اخلاق و کردار کی ایسی اعلیٰ مثالیں ہیں کہ آپ کو بحیثیت انسان اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔

آپ اللہ پاک کے سب سے محبوب اور مقرب بندے تھے۔لہٰذاحضور پاک کی اللہ پاک سے محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں تھی،بلکہ یہ آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تھی۔

رسولِ اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا اظہار،آپ کی اطاعت و اتباع،آپ کی سیرت پر عمل اور اللہ پاک کے احکام کو سب پر ترجیح دینے میں جھلکتا ہے،جسے اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں بھی واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ پاک کی رضا کے لیے وقف کر دی اور آپ کی زندگی اللہ پاک سے سچی محبت کا عملی نمونہ ہے،جو مسلمانوں کے لیے ایمان کی بنیاد اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اللہ پاک کا حکم اور آپ کی اطاعت:

اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں واضح کیا ہے کہ جو اللہ پاک سے محبت رکھتا ہے،اسے رسولِ خدا ﷺ کی پیروی کرنی ہوگی۔یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک حکم ہے کہ اگر آپ اللہ پاک کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنی ہوگی۔

سچی محبت کا اظہار:

آپ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہیں تھی،بلکہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو اللہ پاک کی اطاعت اور رضا کے لیے وقف تھا۔

اطاعت کا عمل:

آپ نے اپنی زندگی کے ہر قدم پر اللہ پاک کے احکام کو ترجیح دی اور ہر لمحہ اللہ پاک سے جڑے رہے۔

سیرتِ مبارکہ پر عمل:

آپ کی زندگی اللہ پاک سے سچی محبت کا عملی نمونہ ہے اور اس محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ کی پاکیزہ زندگی کو سیکھیں اور اس پر عمل کریں۔

مسلمانوں کے لیے پیغام:

ایمان کی بنیاد:رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا جوہر ہے اور آپ کی محبت ہی مومن کے لیے ایمان و یقین کا سر چشمہ ہے۔

دنیا و آخرت میں کامیابی:اللہ پاک اور رسولﷺ سے سچی محبت کا دعویٰ کرنے والوں کو آپ ﷺ کی سیرت پر عمل کر کے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنی ہو گی۔

محمدی بننا:سچی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے عمل سے محمدی نظر آئیں اور زندگی کے ہر قدم پر آپ کی پیروی کریں۔

آقا ﷺ کی اللہ پاک سے محبت،اطاعت اور مکمل طور پر اللہ پاک کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں نظر آتی ہے۔

عشقِ حقیقی:آقاﷺ کی محبتِ الٰہی در اصل عشقِ حقیقی کا ہی ایک پہلو ہے۔عشق ِحقیقی ایک ایسا لا محدود جذباتی اور روحانی رشتہ ہے جو انسان کی روح کو اس کی ذاتِ اوّل(خدا) کی طرف کھینچتا ہے۔

شدتِ جذبہ:یہ کسی حسین چیز کی طرف فطری میلان ہے جو شدت اختیار کر جائے تو عشق کہلاتا ہے۔جب یہ شدت خدا کی طرف ہوتی ہے تو اسےآقا ﷺکی محبتِ الٰہی کہا جاتا ہے ۔

دنیاوی قربانی:اس محبت میں انسان اپنی ذات،مال و دولت اور تمام وابستگیوں کو خدا کی رضا پر قربان کر دیتا ہے۔

خالق کی طرف کشش:خدا جس کی مختلف مذاہب میں مختلف تعبیریں اور تصورات ہیں،کی طرف انسانی روح کی شدید کشش ہی عشقِ حقیقی کہلاتی ہے۔

مختصر یہ کہ آقا ﷺکی محبتِ الٰہی خدا سے سچی،گہری اور مکمل محبت ہے جو انسان کو اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ کرتی ہے اور وہ اپنی ذات کو خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی اپنی سچی پکی محبت عطا فرمائے ۔آمین 


اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی ذاتِ اقدس میں ہر خلقِ عظیم اور ہر صفتِ کمال اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے مگر ان تمام اوصاف میں سب سے بلند اور کامل صفت اللہ پاک سے محبت ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ اس عشقِ الٰہی کا آئینہ ہے۔رسول اللہ ﷺکی محبت اللہ پاک کے ساتھ خالص،پاکیزہ اور بے مثال ہے۔آپ کا دل ہر وقت اپنے رب کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔آپ  نے فرمایا :میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644، حدیث:3946)

یہ فرمان ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو عبادت میں وہ لذت حاصل ہوتی تھی جو کسی اور چیز سے ممکن نہ تھی۔آپ راتوں کو طویل قیام فرماتے یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ !آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

محبت اور شکر کی انتہا :

حضور کے دل میں اللہ پاک کی محبت اس درجہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی اپنی خواہشات اور اپنے تمام فیصلے اللہ پاک کی رضا کے تابع کر دیئے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے آپ کے ذریعے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد صرف اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔

ذکر و دعا میں بھی حضور کی محبت نمایاں ہے۔آپ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے۔ آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ قرب و محبت کا رنگ جھلکتا۔ایک دعا فرمائی: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا آپ کے قلبی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے ۔

آپ کی اللہ پاک سے محبت کا ایک پہلو صبر و توکل بھی ہے۔طائف کے سفر میں جب لوگوں نے آپ کو سنگ بازی سے زخمی کیا تو آپ نے عرض کی:اے اللہ پاک!میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری،اپنی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں۔(معجم کبیر،13/52،حدیث:181)یہ الفاظ عشق و رضا کے سب سے اعلیٰ درجےکی نشانی ہیں ۔

اللہ پاک نے بھی اپنے محبوب ﷺ کو اس محبت کا جواب دیا۔چنانچہ معراج کی رات جب آپ کو اپنے حضور بلایا تو فرمایا:سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا(پ15،بنی اسرائیل:1)یہاں عبد کہنا سب سے بڑا اعزاز ہے کیونکہ بندگی ہی محبت کی معراج ہے ۔

حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسی روشنی ہے جو قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی محبت وہی ہے جو بندگی،شکر اور اطاعت میں ڈھل جائے۔