اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمدﷺ  کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17سورۃ الأنبیاء،آیت 107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

آپ نہ صرف اللہ کے سچے رسول تھے بلکہ اللہ کے سب سے محبوب بندے بھی تھے۔

آپ کی پوری زندگی کا خلاصہ صرف ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے:حضور کی زندگی،اللہ کی محبت میں فنا ہونے کی داستان ہے۔ اللہ کی محبت فطرتِ نبوی کا حصہ تھی۔

نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کوئی وقتی کیفیت نہیں تھی بلکہ آپ کی فطرت میں رچی بسی تھی۔بچپن سے ہی آپ کو اللہ کی یاد سے سکون ملتا۔بت پرستی کے ماحول میں بھی آپ کا دل ہمیشہ ایک ہی خدا کے سامنے جھکنے کو چاہتا تھا۔ آپ کی محبت کسی مصلحت یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کے نور سے پیدا ہونے والی تھی۔

غارِ حرا کی خلوتیں اور محبتِ الٰہی :

بعثت سے پہلے آپ اکثر غارِ حرا میں جا کر تنہائی اختیار کرتے،جہاں آپ کئی کئی دن تک اللہ کی یاد اور غور و فکر میں مصروف رہتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:وحی سے پہلے آپ کو تنہائی پسند کر دی گئی تھی،آپ غارِ حرا میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے۔پھر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو پہلا کلمہ ہی اقرأ تھا۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)(پ30،العلق:1) (بخاری،1/7،حدیث:3)

محبت کا عروج:عبادت اور مناجات :

اللہ سے محبت کا سب سے بڑا مظہر عبادت ہے اور حضور کی عبادت اپنی مثال آپ تھی۔آپ راتوں کو جاگ کر قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتےاور دل اللہ کی یاد میں پگھل جاتا۔اللہ پاک نے فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱)قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲)(پ29، المزمل: 1–2)

محبت کے اظہار میں عاجزی :

حضور کا یہ انداز بھی قابلِ غور ہے کہ جتنی محبت بڑھتی،اتنی ہی عاجزی بھی بڑھتی۔

آپ ہمیشہ دعا فرماتے: اےاللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں ،تو مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے سارے کام درست فرما دے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔( مسند ابو داود طیالسی،ص117،حدیث: 869)

یہ دعا بتاتی ہے کہ آپ اللہ پر کتنا مکمل اعتماد اور انحصار رکھتے تھے۔آپ کے نزدیک خودی اور اپنی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں تھی،بس اللہ کی رضا سب کچھ تھی۔

محبت میں وفاداری اور قربانی :

نبی ﷺکی محبت صرف جذباتی نہیں بلکہ عملی بھی تھی۔آپ نے اللہ کی راہ میں تکالیف برداشت کیں، طائف میں پتھر کھائے،شعبِ ابی طالب میں بھوک کا سامنا کیا مگر کبھی شکوہ نہیں کیا۔بلکہ فرمایا:اگر تُو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی مصیبت کی پروا نہیں۔

(سیرۃ نبویۃ لابن ہشام، 1/ 420)

یہ وہ کلمات ہیں جو محبتِ الٰہی کے سب سے اعلیٰ درجہ کو ظاہر کرتے ہیں جہاں بندہ اپنے رب کی رضا کے سامنے ہر درد بھلا دیتا ہے۔

دعاؤں میں عشق کا رنگ :

رسول اللہ ﷺکی دعاؤں میں بھی اللہ سے قربت کا انوکھا رنگ نظر آتا ہے۔

ایک دعا میں آپ فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا عشقِ حقیقی کا درس دیتی ہے کہ محبت کا مقصد محض لفظی اظہار نہیں بلکہ ایسے اعمال ہیں جو اللہ کے قرب کو بڑھائیں۔

نتیجہ:

حضور کی زندگی اللہ کی محبت کا آئینہ ہے۔آپ نے دکھ،تکلیف،بھوک،دشمنیاں اور ہجرت سب برداشت کیں مگر اللہ کی رضا سے کبھی غافل نہ ہوئے۔اگر ہم حضور کی سچی امتی بننا چاہتی ہیں تو ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں اللہ کی محبت کو اول درجہ دینا ہوگا چاہے عبادت میں ہو،اخلاق میں یا قربانی میں۔کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ بندہ اپنے رب سے محبت کرے،جیسے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے رب سے کی۔