موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو بدامنی، ناانصافی، اخلاقی زوال اور بے سکونی کے مختلف مظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل دراصل "فساد فی الارض" کی صورتیں ہیں جو معاشرے کے امن و سکون کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر انسانیت کو امن اور بھلائی کا درس دیتا ہے اور زمین میں ہر قسم کے فساد سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ اسی تناظر میں قرآنِ مجید نے "فساد فی الارض" کی شدید مذمت بیان فرمائی ہے۔ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ ( پ 1 ، البقرۃ:11،12 )

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ ( صراط الجنان،1/ 83 )

انبیاء کرام علیہم الصلاة والسلام اپنی اپنی قوموں کو فساد فی الارض سے روکا کرتے تھے، اور زمین میں اصلاح پیدا کرنے اور فساد سے بچتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا کہ حضرت شعیب علیہ السلام جہاں اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور دھوکہ دہی سے منع کیا کرتے تھے وہیں پر زمین میں فساد پھیلانے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۸۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آگئی تو ناپ اور تول پورا پورا کرو اور لوگوں کوان کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان لاؤ۔ ( پ8، الاعراف:85 )

صراط الجنان میں ہے:حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں شرک کے علاوہ بھی جو گناہ عام تھے ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا اور دوسرا لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا اور تیسرا لوگوں کو حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دور کرنے کی کوششیں کرنا تھا۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی اشیاء گھٹا کر دینے سے منع کیا اور زمین میں فساد کرنے سے روکا کیونکہ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے نبی تشریف لے آئے اور انہوں نے نبوت کے احکام بیان فرما دئیے تو یہ بستی کی اصلاح کا سب سے قوی ذریعہ ہے لہٰذا اب تم کفر و گناہ کر کے فساد برپا نہ کرو۔( صراط الجنان،3/ 371 )

"فساد فی الارض" کی مختلف صورتیں:

(1) بد عقیدگی و گمراہی:قرآن و حدیث کی من مانی تشریحات کر کے لوگوں میں پھیلانا۔ بد عقیدگی اور گمراہی پھیلانا۔

(2)ظلم و ناانصافی:جب طاقتور افراد کمزوروں کے حقوق غصب کرتے ہیں، اور انصاف نہیں ملتا تو یہ فساد کی ایک بڑی شکل ہے۔

(3)دہشت گردی اور قتل و غارت:بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا یا معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا فساد کی سب سے خطرناک صورتوں میں سے ہے۔

(4) جھوٹ اور دھوکہ:جھوٹ بولنا، ملاوٹ کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا اور لوگوں کو دھوکہ دینا بھی فساد میں شامل ہے۔

(5) اخلاقی برائیاں:بے حیائی، بدتمیزی، والدین کی نافرمانی اور خاندانی نظام کا ٹوٹنا معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنا۔

(6) ماحولیاتی آلودگی:پانی اور ہوا کو آلودہ کرنا، درختوں کو کاٹنا اور ماحول کو نقصان پہنچانا بھی فساد کی ایک جدید شکل ہے۔

(7) سوشل میڈیا کا غلط استعمال:جھوٹی خبریں پھیلانا، افواہیں بنانا، دوسروں کی عزت کو نقصان پہنچانا اور نفرت انگیز باتیں کرنا بھی فساد فی الارض میں شامل ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآنِ مجید نے زمین میں ہر قسم کے فساد، خواہ وہ ظلم و ناانصافی ہو، بدعنوانی، دھوکہ دہی یا معاشرتی بگاڑ، سب کی سختی سے مذمت کی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، خصوصاً حضرت شعیب علیہ السلام، نے بھی اپنی قوم کو ان برائیوں سے بچنے کی تلقین کی۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم قرآنِ مجید کی تعلیمات پر عمل کرے اور ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کوشش کریں جو امن، عدل اور دیانت پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔