کسی کو سب کے سامنے سمجھانا بظاہر اصلاح کا طریقہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے کئی نقصانات ہیں۔ اسلام بھی انسان کی عزت نفس کے تحفظ اور نرم رویّے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کسی کو مجمع میں ڈانٹا جائے تو اس کی خودداری مجروح ہوتی ہے اور وہ شرمندگی محسوس کرتا ہے۔

سب سے پہلے قرآن مجید میں نرمی اور حکمت کے ساتھ نصیحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (پ 14، النحل: 125) ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نصیحت نرم اور اچھے انداز میں ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ سب کے سامنے سمجھانے سے انسان کے دل میں ضد اور نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے سمجھانے والے سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ اسلام میں دلوں کو جوڑنے کی تعلیم دی گئی ہے، نہ کہ توڑنے کی۔

نبی کریم ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا کہ آپ کسی فرد کو براہ راست مجمع میں شرمندہ نہیں کرتے تھے بلکہ عمومی انداز میں بات فرماتے تھے۔

مزید یہ کہ دوسروں کے سامنے ڈانٹنے سے اعتماد کم ہو جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کا۔ وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور آئندہ غلطی چھپانے لگتے ہیں۔ اس طرح اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

قرآن میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے: وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ- (پ 26، الحجرات: 11) ترجمہ: ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور برے القاب سے نہ پکارو۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوسروں کی تذلیل یا تحقیر کرنا درست نہیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا اصلاح کے نام پر۔

سب کے سامنے سمجھانے سے تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ والدین، اساتذہ یا دوست اگر تنہائی میں محبت سے سمجھائیں تو بات زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور عزت بھی برقرار رہتی ہے۔

عوامی سرزنش دلوں میں دوری پیدا کر دیتی ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی یہ عمل نقصان دہ ہے۔ بار بار سب کے سامنے شرمندہ کیے جانے سے انسان احساس کمتری، مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض افراد سماجی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتے۔

آخر میں میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اسلام ہمیں عزت، نرمی اور حکمت کے ساتھ اصلاح کا درس دیتا ہے۔ کسی کو تنہائی میں محبت اور احترام سے سمجھانا زیادہ مؤثر اور بہتر طریقہ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف غلطی کی اصلاح ہوتی ہے بلکہ دل بھی جیتے جا سکتے ہیں۔

پیار ی اسلامی بہنو! گھروں، مدرسۃ المدینہ یا دینی ماحول میں کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ کسی بہن کی اصلاح یا سمجھانے کے لیے اسے سب کے سامنے ٹوک دیا جاتا ہے۔ اگرچہ مقصد اصلاح ہوتا ہے، مگر اس انداز میں بعض نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ آئیے چند اہم باتیں ملاحظہ کیجیے:

1) دل آزاری اور شرمندگی: سب کے سامنے سمجھانے سے دل کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ شرمندگی کی وجہ سے سامنے والی بہن دل برداشتہ ہو سکتی ہے اور اصلاح قبول کرنے میں دقت محسوس کرے گی۔

2) عزت نفس مجروح ہونا: ہر مسلمان بہن کی عزت محترم ہے۔ مجمع میں تنبیہ کرنے سے اس کی عزت نفس متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنے کا درس دیا گیا ہے۔

3) ضد اور غلط فہمی: عوام کے سامنے ٹوکنے سے بعض اوقات انا مجروح ہوتی ہے، جس سے بہن اپنی بات پر اڑ سکتی ہے یا دل میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

4) تعلقات میں کشیدگی: اس انداز سے باہمی محبت، اخوت اور دینی ماحول کی خوشگواری متاثر ہو سکتی ہے۔

5) اصلاح کے بجائے دوری: بعض اوقات سب کے سامنے سمجھانا اصلاح کے بجائے مزید دوری اور دل شکنی کا سبب بن جاتا ہے۔

بہتر انداز کیا ہو؟ پیار ی اسلامی بہنو! اصلاح کا خوبصورت طریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں، نرمی اور محبت بھرے انداز میں خیرخواہی کے ساتھ سمجھایا جائے۔ آہستگی، مسکراہٹ اور حکمت سے کی گئی بات دل میں جلد اثر کرتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں نرمی، حکمت اور حسن اخلاق کے ساتھ ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

انسان خطا کا پتلا ہے، اس سے غلطی ہو جانا فطری بات ہے۔ لیکن کسی کی اصلاح کرنے کا طریقہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر کسی کو سب کے سامنے ڈانٹا یا سمجھایا جائے تو اکثر فائدے کے بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔ اسلام بھی ہمیں نرمی اور حکمت کے ساتھ نصیحت کرنے کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکمت اور اچھے انداز سے بات کرنے کی تعلیم دی ہے۔

سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ جب کسی کو لوگوں کے سامنے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اسے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے ضد پر آ سکتا ہے یا دل میں کینہ رکھ سکتا ہے۔ اس طرح اصلاح کے بجائے دلوں میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اگر استاد شاگرد کو یا والدین بچے کو سب کے سامنے ڈانٹیں تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ آئندہ سوال پوچھنے یا رائے دینے سے گھبراتا ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی کمزور ہو جاتی ہے اور وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔

تیسرا نقصان تعلقات میں خرابی ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا ساتھیوں کے درمیان اگر کسی کو مجمع میں برا بھلا کہا جائے تو تعلقات میں تلخی آ جاتی ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات مستقل ناراضی کا سبب بن جاتی ہے۔ عزت دینا محبت کو بڑھاتا ہے جبکہ سب کے سامنے سرزنش کرنا دلوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے۔

چوتھا نقصان یہ ہے کہ اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ جب انسان شرمندہ ہو جاتا ہے تو وہ دفاعی انداز اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنی صفائی پیش کرنے میں لگ جاتا ہے اور اصل غلطی پر غور نہیں کر پاتا۔ اس طرح اصلاح کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

بہترین طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کی اصلاح کرنی ہو تو تنہائی میں، نرم لہجے اور خیرخواہی کے جذبے سے کی جائے۔ پیار بھرے انداز میں کی گئی نصیحت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ عزت نفس کا خیال رکھ کر سمجھانا نہ صرف مؤثر ہوتا ہے بلکہ تعلقات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں اور اصلاح کے لیے حکمت و محبت کا راستہ اختیار کریں۔

اسلام دین فطرت اور دین اخلاق ہے، جو انسان کی عزت، وقار اور دل کی اصلاح کو مقدم رکھتا ہے۔ اسلام میں نصیحت کو بہت اہم مقام حاصل ہے، مگر نصیحت کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خود نصیحت کا مقصد۔ کسی شخص کو سب کے سامنے سمجھانا، ٹوکنا یا اس کی غلطی بیان کرنا بظاہر اصلاح لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے کئی سنگین نقصانات ہوتے ہیں۔

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ اسلام انسان کی عزت کو بہت قیمتی سمجھتا ہے۔ جب کسی کو سب کے سامنے سمجھایا جاتا ہے تو وہ خود کو شرمندہ، ذلیل اور کمتر محسوس کرتا ہے۔ اس سے اس کے دل میں نصیحت کرنے والے کے لیے احترام کم ہو جاتا ہے اور وہ بات ماننے کے بجائے ضد پر اتر آتا ہے۔ یوں اصلاح کے بجائے دلوں میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔

دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ سب کے سامنے سمجھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر اپنی غلطی ماننے میں مشکل محسوس کرتا ہے، اور جب اسے مجمع میں ٹوکا جائے تو وہ اپنی عزت بچانے کے لیے بات قبول کرنے کے بجائے انکار کر دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ گناہ یا غلطی چھوڑنے کے بجائے اس پر ڈٹ جاتا ہے۔

تیسرا نقصان یہ ہے کہ اس عمل سے ریا اور تکبر جنم لے سکتا ہے۔ نصیحت کرنے والے کے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے، اور سامنے والا خود کو حقیر محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسلام تکبر کو سخت ناپسند کرتا ہے اور عاجزی کو پسند فرماتا ہے۔ جو نصیحت عاجزی کے بغیر ہو، وہ اثر نہیں رکھتی۔

چوتھا نقصان یہ ہے کہ سب کے سامنے سمجھانے سے بدگمانی اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص کو جان بوجھ کر ذلیل کیا گیا ہے۔ اس سے معاشرے میں خیر خواہی کے بجائے دل آزاری عام ہو جاتی ہے، اور اسلامی بھائی چارہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نصیحت تنہائی میں، نرمی اور محبت کے ساتھ کی جائے۔ نرم لہجہ، خلوص اور خیر خواہی دلوں کو بدل دیتی ہے۔ تنہائی میں کی گئی نصیحت انسان کے دل پر اثر کرتی ہے اور وہ اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

اگر واقعی اصلاح مقصود ہو تو سب کے سامنے سمجھانے سے بچنا چاہیے۔ اسلام ہمیں عیب چھپانے، عزت بچانے اور حکمت کے ساتھ بات کرنے کا درس دیتا ہے۔ جو نصیحت عزت کے ساتھ ہو، وہی دلوں میں اترتی ہے اور معاشرے کو سنوارتی ہے۔

دین کی دعوت دینا ایک بہت بڑی نیکی ہے، لیکن ہر کام کا ایک درست طریقہ اور ماحول ہوتا ہے۔ اگر کسی کو سب کے سامنے سمجھایا جائے تو بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اسلام ہمیں حکمت، نرمی اور حالات کی رعایت کے ساتھ نصیحت کرنے کا حکم دیتا ہے دین کی بات کرنا بہت بڑی نیکی ہے لیکن اس کا طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے بعض اوقات عزت نفس کو ٹھیس، ضد، ریاکاری اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اسلام ہمیں حکمت، نرمی اور مناسب موقع کے ساتھ نصیحت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

خاص طور پر خواتین کو چاہیے کہ وہ پردہ، حیا اور مناسب ماحول کا خیال رکھتے ہوئے دین کا کام کریں تاکہ ان کی دعوت مؤثر اور بابرکت ہو۔ اگر کسی سے غلطی ہوجائے اور اس کی اصلاح کرنا ممکن ہو تو اس کی اصلاح کرنی چاہئے، لیکن اصلاح کرنے کا انداز ایسا ہو کہ سامنے والا اسے قبول بھی کرلے، بعض لوگوں کا اصلاح کرنے کا انداز بڑا عجیب ہوتا ہے، مثلاً جس کی اصلاح کرنی ہے اس سے پرسنل رابطہ کرکے اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کی غلطیوں کو سر عام بیان کریں گے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں گے، الگ سےاس کے ساتھ ملاقات کرکے بات کریں آپ چاہتے کیا ہیں؟ اصلاح کرنا یا صرف کسی کو ذلیل و رسوا کرنا اور اس کی عزت خراب کرنا؟

یقیناً ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ بلا اجازت شرعی اپنے مسلمان بھائی کو رسوا کرے اور اس کی عزّت خراب کرے۔ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل و رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتاہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

تبع تابعی بزرگ حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے مال سے کچھ لے لے پھر اس کی موت کے بعد اس سے دامن چھڑانا چاہے تو اس کے وارثوں کو وہ چیز دے دے ہمارے خیال میں یہ اس کا کفّارہ ہو جائے گا اور اگر تم میں سے کوئی کسی کی عزت خراب کر دے پھر اس کی موت کے بعد اس کا بدلہ دینا چاہے تو اس کے وارثوں اور تمام زمین والوں کے پاس جائے اور سب اسے معاف کر دیں تو پھر بھی معاف نہیں ہوگا، پس مؤمن کی عزت اس کے مال سے بڑھ کر ہے۔ جو تم سے کہا جاتاہے اسے سمجھو۔ (حلیۃ الاولیاء، 7/328، رقم: 10720)

ہمارے معاشرے میں کم وبیش سبھی کو اصلاح کی حاجت رہتی ہے جس طرح غلطیاں کرنے والوں میں کمی نہیں اسی طرح اصلاح کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، اگرچہ انداز ہر ایک کا جداگانہ ہوتا ہے کچھ افراد تو ایسے بھی ہیں جو غلطیوں کے مرتکب (غلطیاں کرنے والے) کو سمجھانا بے فائدہ سمجھتے ہیں اور یوں کہتےہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بھائی! اسے سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں،جبکہ یہ قول واضح طور پر قرآن پاک کےخلاف ہے اللہ پاک کا پیار کلام تو یوں فرماتا ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

اللہ پاک ہمىں درست طرىقے سے امت محبوب ﷺ کى اصلاح کرنے کى توفىق مرحمت فرمائىں۔ آمین

اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں مسلمان کو اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں دوسروں کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے، سورۃ الذٰریٰت میں ارشاد ہوا: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

اسی طرح سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 104 میں بھی ارشاد ہوا:

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) ترجمہ کنز العرفان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

بیان کی گئی آیات سے واضح ہوا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دوسروں کو سمجھانا چاہیے،ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور انہیں برائی سے منع کرنا چاہیے۔ لیکن دوسروں کو سمجھانے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ان اصولوں میں سے ایک اصول ملاحظہ کیجیے:

ایک اصول یہ بھی ہے کہ وعظ و نصیحت (ناصح) یعنی نصیحت کرنے والے اور (منصوح) یعنی جسے نصیحت کی جائے کے درمیان راز رہے، تنہائی میں نصیحت کرنا نرمی کی ایک قسم ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو علیحدگی میں نصیحت کی اس نے اس کی اصلاح کی اور اسے مزین کیا اور جس نے اسے سب کے سامنے نصیحت کی اس نے ذلیل ورسوا کیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)

دوسروں کے سامنے سمجھانا،اصلاح کرنا منصوح کے لیے ذلت ورسوائی کا سبب بنتا ہے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے مسلمان بھائی کے عیب ظاہر ہوتے ہیں۔ سب کے سامنے سمجھانے کا مقصد مسلمان بھائی کے عیب کو ظاہر کرنا جبکہ تنہائی میں مسلمان بھائی کو سمجھانے کا مقصد اس کی اصلاح کرنا ہے۔

جو دوسروں کے عیبوں کو چھپاتا ہے اللہ پاک اس کے عیبوں کو چھپائے گا۔

ہم سب کی بھی تو یہی خواہش ہے کہ بروز قیامت اللہ پاک ہمارے عیبوں کو چھپائے۔اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ دوسروں کے عیبوں کو، دوسروں کی غلطیوں کو سب کے سامنے ظاہر نہ کریں بلکہ اصلاح کی نیت سے تنہائی میں سمجھائیں۔

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464) سب کے سامنے سمجھانے سے (منصوح) یعنی جسے سمجھایا جائے اس کی دل آزاری ہوتی ہے۔ جبکہ ہمارے پیارے مذہب میں کسی مسلمان کی دل آزاری کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے فتنہ فساد پیدا ہوتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فتنہ سویا ہوا ہوتا ہے اس پر اللہ پاک کی لعنت جو اس کو بیدار کرے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے لوگوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے نااتفاقی پیدا ہوگی۔

سب کے سامنے سمجھانے سے دلوں میں محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے جس کو سمجھایا جارہا ہوگا اس کی اصلاح تو نہیں ہوگی بلکہ اس کی رسوائی ہوگی۔

سب کے سامنے سمجھانے سے مسلمان کی عزت خراب ہوتی ہے جبکہ حدیث مبارکہ میں واضح الفاظ میں موجود ہیں کہ مسلمان کی مسلمان پر حرام ہے؛ اس کی جان، اس کا مال اور اس کی عزت۔

دوسروں کے سامنے سمجھانے سے مسلمان ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔

اس طرح ابو داؤد کی حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا: بے شک سب سے بڑا سود یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کی عزت نفس کو بغیر کسی وجہ کے مجروح کرے۔

لہذا بحیثیت مسلمان یہ درست نہیں کہ ہم کسی مسلمان کی عزت خراب کریں۔سمجھاتے ہوئے مسلمان کی عزت کا لازمی طور پر خیال رکھا جائے۔

اگر آپ کی نیت کسی کی اصلاح کرنے کی ہے تو اکیلے میں کریں اور اگر آپ کی نیت اسے رسوا کرنے کی ہے تو آپ شور مچائیں گے۔

سب کے سامنے سمجھانے سے مسلمان اپنی غلطی پر شرمندہ نہیں بلکہ دلیر ہوگا۔

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ ان احادیث مبارکہ سے یہ مدنی پھول چن کر اپنے دل کے گلدستے میں سجا لیں اور سمجھانے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ہمارے سمجھانے کے انداز سے کسی مسلمان بھائی کی دل آزاری ہوگی یا اصلاح۔ میرے سمجھانے سے کسی مسلمان کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔

اللہ پاک ہمیں دوسروں کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سب کے سامنے سمجھانا ایک ایسا عمل ہے جو اکثر لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ یہ نہ صرف انسان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس کے دل میں نفرت اور غصہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سمجھانے کا عمل تنہائی میں کیا جائے تاکہ انسان کی عزت نفس محفوظ رہے اور مقصد بھی حاصل ہو جائے۔

سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات: سب کے سامنے سمجھانے سے انسان شرمندہ ہو سکتا ہے اور اس کا اعتماد کم ہو سکتا ہے۔ اس سے انسان کے دل میں نفرت یا غصہ پیدا ہو سکتا ہے۔ سمجھانے والے کو بدگمان سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے سمجھانے والے کی عزت بھی کم ہو سکتی ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس سے الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ انسان سمجھنے کے بجائے مزید ضد پر آ سکتا ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور انسان ایک دوسرے سے دور ہو سکتے ہیں۔

نصیحت کیا ہے؟ جس شخص کو نصیحت کی جارہی ہو اس کو مکمل بھلائی اور خیر خواہی کے ارادے کو لفظ نصیحت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو نہ انبیاء علیہم السلام ہیں نہ شہدا لیکن بروز قیامت انبیاء وشہدا ان کے مقام کو دیکھ کر رشک کریں گے، وہ لوگ نور کے منبروں پر بلند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پاک کے بندوں کو اللہ کا محبوب بناتے بنا دیتے ہیں اور وہ زمین پر لوگوں کو نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔ عرض کی گئی: وہ کس طرح لوگوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگوں کو اللہ کی محبوب باتوں کا حکم دیتے ہیں اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں تو اللہ پاک انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (شعب الایمان، 1/367، حدیث: 409)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے نصیحت کی اور زینت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا کیا۔ (احیاء العلوم،2/225)

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دوست کا حق یہ بھی ہے کہ اسے اچھی بات بتائی جائے اور نصیحت کی جائے۔

قرآن و حدیث سے دلائل:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ (پ 21، العنکبوت: 46) ترجمہ: اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اچھے طریقے سے۔

اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کا بھلا کرتا ہے اور جو اسے علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ اس کا بھلا نہیں کرتا۔

ایک حدیث پاک میں ہے: نرمی سے کام لو، کیونکہ نرمی کسی چیز میں نہیں ہوتی مگر اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1073، حدیث:6602)

تنہائی میں سمجھانے کے فوائد: تنہائی میں سمجھانے سے انسان کی عزت نفس محفوظ رہتی ہے۔ تنہائی میں سمجھانے سے مقصد حاصل ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اس لیے بہتر ہے کہ سمجھانا ہو تو تنہائی میں سمجھایا جائے تاکہ انسان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہو جائے۔

سب کے سامنے اصلاح کرنے سے انسان شرمندہ، ذلیل، بدگمان، خوفزدہ اور تعلقات میں دوری پیدا ہونے لگتی ہے، جبکہ اکیلے میں محبت اور نرمی سے اصلاح کرنے کا اثر زیادہ مثبت اور دیرپا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

افراد کی نشان دہی کئے بغیر تذکرہ فرمانے کا انداز قرآن کریم میں بھی جابجا موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىٕمًاؕ- (پ3، اٰل عمران: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے۔

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)

سب کے سامنے کسی کو اس کا عیب بتانا اس انسان کو ذلیل محسوس کراتا ہے، اس کو ناگوار محسوس ہوتا ہے اور وہ اصلاح کرنے والے کے بارے میں بدگمان ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے میری عیب جوئی کی اگرچہ اس کی اصلاح کی نیت ہو۔

یہ عمل دلوں میں بد گمانی کی وجہ سے نفرت اور دوری پیدا کرتا ہے اور انسان دوبارہ اس اصلاح کرنے والے پاس بیٹھنا اپنی عزت نفس کی توہین سمجھتا ہے کہ یہ سب کے سامنے مجھے ذلیل کرے گا۔

سب کے سامنے کسی کی غلطی یا کمی پر سمجھانے سے وہ شخص شرمندہ ہو سکتا ہے اور وہ خود کو کمتر محسوس کر سکتا ہے۔

سب کے سامنے سخت تنقید کرنے سے اکثر تعلقات خراب ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ اصلاح کرنے والے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔

کچھ لوگ سب کے سامنے سمجھائی جانے والی بات پر دھیان نہیں دے پاتے کیونکہ وہ خوفزدہ یا مضطرب ہوتے ہیں۔

بار بار عوامی اصلاح سے انسان کو یہ لگنے لگتا ہے کہ ہر غلطی پر شرمندہ ہونا پڑے گا، یہ احساس مستقل خوف اور ذہنی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔

اصلاح کا مقصد صرف سبق دینا ہوتا ہے، لیکن سب کے سامنے اصلاح کرنے سے وہ مقصد ضائع ہو جاتا ہے۔

کچھ لوگ سب کے سامنے بات سنتے ہیں مگر دل سے قبول نہیں کرتے، جب کوئی سب کے سامنے اصلاح کرتا ہے تو انسان اندر سے برا محسوس کرتا ہے اور بات قبول نہیں کرتا۔

جب سب کے سامنے غلطی بتائی جائے تو انسان بعض اوقات جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

چاہے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، عوامی طور پر سمجھانا دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔

بار بار عوامی تنقید انسان کو احساس دلاتی ہے کہ وہ دوسروں سے کم تر ہے، جو ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

مجمع میں سمجھانے سے دوسرے لوگ بھی غلط انداز میں بات لے سکتے ہیں، جس سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اکثر لوگ مجمع میں بات ماننے کے بجائے ضد پر آ جاتے ہیں، چاہے وہ دل ہی دل میں غلطی مان بھی رہے ہوں۔

جب کسی کو سب کے سامنے سمجھایا جائے تو وہ دل میں بات رکھ لیتا ہے، اور آہستہ آہستہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کیا غلط کیا تھا، مگر یہ یاد رہتا ہے کہ اسے کیسے کہا گیا اس لئے وہ بد گمانی کا شکار رہتا ہے کہ سمجھانے والا میرا دشمن ہے کیونکہ سب کے سامنے مجھے سمجھایا گویا اس کا ارادہ مجھے ذلیل کرنا تھا۔

انسان زبان سے تو کچھ نہیں کہتا، مگر دل میں مخالفت اور دوری پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کی عزت اس کے دل کا دروازہ ہے، جو دروازہ توڑ کر داخل ہو، وہ بات منوا تو سکتا ہے، دل نہیں جیت سکتا۔

سب کے سامنے سمجھائے جانے کے بعد اسے لگتا ہے کہ اب ہر جگہ اس پر انگلی اٹھ سکتی ہے۔

اصلاح کا اصل مقصد انسان کو سنوارنا ہوتا ہے اور سنوارنے کے لیے تنہائی، نرمی اور عزت سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔ سب کے سامنے سمجھانا اکثر انسان کو بدلنے کے بجائے توڑ دیتا ہے۔

سمجھانا ایک اہم عمل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب سے آگاہ کرے، لیکن سب کے سامنے سمجھانے سے اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

شرمندگی: سب کے سامنے سمجھانے سے انسان شرمندہ ہو سکتا ہے جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہو سکتی ہے اور اس کا اعتماد کم ہو سکتا ہے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہو سکتی ہے۔

مقصد میں ناکامی: سب کے سامنے سمجھانے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان سمجھنے کی بجائے ضد پر اڑ سکتا ہے۔

نصیحت کیا ہے؟ حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور نامناسب باتوں سے روکنے کا فائدہ دے۔ (تفسیر کبیر،3/370)

امام اجل حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی کی کوئی ناپسندیدہ حرکت دیکھتے تو اسے تنہائی میں سمجھاتے یا اس کے حوالے سے اسے مکتوب لکھتے۔

نصیحت اورفضیحت(رسوائی) میں فرق: ناپسندیدہ بات پر تنہائی میں سمجھانا نصیحت اور سب کے سامنے سمجھانا فضیحت (رسوائی)کہلاتا ہے۔

کسی کے سامنے نصیحت کرنا: کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا سب کے سامنے سمجھانے سے بھی نصیحت پرتاثیر نہیں رہتی جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا۔ (تنبیہ الغافلین، ص 48)

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مومن پردہ پوشی کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس فاسق و فاجر بدنام کرتا ہے اور شرم و عار دلاتا ہے۔ (جامع العلوم والحکم، 1/225)

قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: دین نصیحت ہے اور نصیحت ہمیشہ نرمی اور حکمت کے ساتھ ہی ہونی چاہیئے۔

اصلاح کا حسین انداز: آخری نبی محمد عربی ﷺ کو جب کسی کی کوئی ناگوار بات معلوم ہوتی تو آپ اس کا بھی پردہ رکھتے اور اصلاح کے لیے یوں ارشاد فرمایا کرتے: یعنی لوگوں کو کیا ہوگیا جو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص 758)

درست انداز میں کی گئی نصیحت: حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب قوت القلوب میں نصیحت کے متعلق جو کچھ نقل فرمایا ہے کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہے آپ فرماتے ہیں: نصیحت کا درست طریقہ یہ ہے کہ جس کی خیر خواہی مقصود ہو اسے تنہائی میں نصیحت کیجیے لوگوں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کیجئے نہ کسی کو اس کا عیب بتائیے جیسا کہ منقول ہے: مومنوں کی نصیحتیں ان کے کانوں میں ہوتی ہیں۔ حضرت مسعر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی گئی:کیا آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو آپ کو آپ کے عیوب سے آگاہ کرے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ تنہائی میں مجھے نصیحت کرے تو ٹھیک ہے اور اگر لوگوں کے سامنے سمجھائے تو نہیں۔ (قوت القلوب، 2/370)

اس لیے بہتر ہے کہ سمجھانا ہو تو تنہائی میں سمجھائے تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہو جائے بروز قیامت وہی لوگ قابل رشک مقام پر فائز ہوں گے جو دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں یعنی ان کی خیر خواہی کے پیش نظر اللہ کی پسندیدہ باتوں کا حکم

دیتے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی تکمیل و تعمیر کے لیے اصلاح کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اگرچہ اصلاح ایک وسیع مفہوم لفظ کا حامل ہے مگر عمومًاصلاح کے معنی سمجھانے کے ہی لیے جاتے ہیں لفظ اصلاح اگرچہ بذات خود ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے مگر سمجھانے کے لیے اصلاح کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: انفرادی اصلاح اور اجتماعی اصلاح۔

انفرادی اصلاح: انفرادی اصلاح کے معنی ہیں اکیلے میں سمجھانا بہتر یہ ہے کہ جس کی غلطی ہو اس کو الگ سے سمجھایا جائے یوں اس کو اچھا بھی لگے گا اور ندامت بھی نہیں ہوگی اور بات بھی جلدی سمجھ آئے گی اگر علی الاعلان اصلاح کی کوشش کریں گے تو شیطان اس کو ضد میں مبتلا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے مزید دس غلطیاں کرے گا۔ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھاردیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

اجتماعی اصلاح: اجتماعی اصلاح کے معنی ہیں سب کے سامنے سمجھانا اجتماعی طور پر سمجھانے کا انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے والا یہ محسوس نہ کرے کہ اس کو سب کے سامنے ذلیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔

کسی غلطی کی اصلاح میں بھی ہمیں رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اپنانا چاہیے آپ جہاں ضرورت سمجھتے ہیں عام مجلس میں بھی غلطی کی اصلاح فرماتے لیکن اس کے لیے عمومًا غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کے عمومی وضاحت پر اکتفا کرتےایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کی اصلاح کرتے ہوئے جو نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کچھ لوگ نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھاتے ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں سختی سے تنبیہ فرمائی حتی کہ ارشاد فرمایا: وہ ضرور بضرور اس حرکت سے باز آ جائے ورنہ ان کی آنکھیں چھین لی جائیں گی۔ (بخارى، 1/265، حديث:750)

سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات: اگرچہ سب کے سامنے سمجھانا بھی ٹھیک ہے جبکہ سامنے والی کی دل شکنی نہ ہو لیکن بعض اوقات سب کے سامنے سمجھانا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور سمجھانے کا سب سے افضل طریقہ یہ ہی ہے کہ اکیلے میں سمجھایا جائے حضرت سیدنا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)

سب کے سامنے سمجھانے کے چند نقصانات درج ذیل ہیں:

خود اعتمادی کی کمی: سب کے سامنے سمجھانے سے اس کی خود اعتمادی کم ہوسکتی ہے جس سے وہ اپنے کام میں دلچسپی نہیں لے پائے گا۔

شرمندگی اور بے عزتی: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ شرمندہ اور بےعزت ہو سکتا ہے جس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور تعلقات خراب ہوتے ہیں۔

مقابلہ اور ضد: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ اپنی ضد پر اڑ سکتا ہے اور مقابلہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس سے نہ صرف اپنا نقصان کرے گا بلکہ دوسروں کا بھی نقصان کر بیٹھے گا۔

بےاحترامی: سب کے سامنے سمجھانے سے اس کا احترام جاتا رہے گا جسے تعلق میں خرابی آسکتی ہے اور دوبارہ آپس میں بات کرنے سے شرم محسوس کرے گا۔

غصہ اور ناراضگی: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ غصہ وناراض ہو سکتا ہے جس سے تعلقات میں تنگی آسکتی ہے۔

اسی لیے کسی کو سمجھانے کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی عزت نفس کو نقصان نہ پہنچے۔ مقولہ ہے: اصلاح کرنے والوں سے کبھی تعلق مت توڑیں زندگی میں وہ لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں جو آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں جو آپ کی اصلاح کرتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اچھی صحبت نصیب کرے۔ آمین

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور نامناسب باتوں سے روکے۔ (تفسیر کبیر،3/370)

وعظ و نصیحت کی اہمیت اور افادیت کی حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ وعظ و نصیحت حضرات انبیائے کرام کی عظیم سنت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۲۵) (پ 14، النحل: 125) ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔

پیارے آقا ﷺ نے نصیحت کرنے والوں کو قابل رشک لوگوں سے تعبیر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو انبیا نہ شہدا لیکن بروز قیامت انبیا و شہدا ان کے مقام کو دیکھ کر رشک کریں گے، وہ لوگ نور کے منبروں پر بلند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتے ہیں اور زمین پر لوگوں کو نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔ عرض کی گئی: وہ کس طرح لوگوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبوب باتوں کا حکم دیتے ہیں اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں، لہٰذا جب لوگ انکی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (صحابیات اور نصیحتوں کے مدنی پھول، ص 11)

امیر اہلسنّت فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت پر مبنی بیان کرنا مستحب ہے اگر نہیں کیا تو کچھ گناہ نہیں لیکن کسی کو گناہ کرتے دیکھا اور روکنے پر قادر ہو تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر (یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا) فرض ہے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کئی آداب ہیں جن میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے ہرگز نہ ٹوکا (سمجھایا) جائے کہ جیسا کہ سابقہ آیت میں بیان ہوا کہ اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور اس طریقے پر جو سب سے بہتر ہو۔

سب سے سامنے سمجھانے کے کئی نقصانات ہوتے ہیں، مثلاً سب نے سامنے سمجھانے سے بات بےاثر ہو جاتی ہے۔ جس کو سمجھایا جائے اس کی دل آزاری کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے جس سے وہ گناہ پر ضدی ہو جاتا ہے اور اپنی غلطی پر مزید اڑ جاتا ہے۔ اسکو ایذا پہنچتی ہے۔ اس کے دل میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ اسکی کی تذلیل ہوتی ہے۔ سمجھانے والے کا لوگوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے سمجھانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے کہ اس شخص کی توجہ اپنی اصلاح کی طرف سے اپنی شرمندگی کی جانب ہو جاتی ہے۔ اسکی عیب جوئی ہوتی ہے۔

حضرت بی بی ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب لگایا۔ (سمجھانے کا طریقہ، ص 1)

حضرت مسعر بن کدام سے پوچھا گیا کہ آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں کہ جو آپ کو آپ کے عیبوں پر خبردار کرے؟ فرمایا: اگر تنہائی میں نصیحت کرے تو پسند ہے اور اگر سر عام سمجھائے تو نہیں۔ (مسلمان کی پردہ پوشی کے فضائل، ص 11)

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والے کو چاہئے کہ ایسے اچھے انداز سے سمجھائے کہ جس سے برائی کرنے والے کی تذلیل بھی نہ ہو، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ اس برائی (گناہ) سے باز آ جائے۔