سب کے سامنے اصلاح کرنے سے انسان شرمندہ، ذلیل، بدگمان، خوفزدہ اور تعلقات میں دوری پیدا ہونے لگتی ہے، جبکہ اکیلے میں محبت اور نرمی سے اصلاح کرنے کا اثر زیادہ مثبت اور دیرپا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

افراد کی نشان دہی کئے بغیر تذکرہ فرمانے کا انداز قرآن کریم میں بھی جابجا موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىٕمًاؕ- (پ3، اٰل عمران: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے۔

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)

سب کے سامنے کسی کو اس کا عیب بتانا اس انسان کو ذلیل محسوس کراتا ہے، اس کو ناگوار محسوس ہوتا ہے اور وہ اصلاح کرنے والے کے بارے میں بدگمان ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے میری عیب جوئی کی اگرچہ اس کی اصلاح کی نیت ہو۔

یہ عمل دلوں میں بد گمانی کی وجہ سے نفرت اور دوری پیدا کرتا ہے اور انسان دوبارہ اس اصلاح کرنے والے پاس بیٹھنا اپنی عزت نفس کی توہین سمجھتا ہے کہ یہ سب کے سامنے مجھے ذلیل کرے گا۔

سب کے سامنے کسی کی غلطی یا کمی پر سمجھانے سے وہ شخص شرمندہ ہو سکتا ہے اور وہ خود کو کمتر محسوس کر سکتا ہے۔

سب کے سامنے سخت تنقید کرنے سے اکثر تعلقات خراب ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ اصلاح کرنے والے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔

کچھ لوگ سب کے سامنے سمجھائی جانے والی بات پر دھیان نہیں دے پاتے کیونکہ وہ خوفزدہ یا مضطرب ہوتے ہیں۔

بار بار عوامی اصلاح سے انسان کو یہ لگنے لگتا ہے کہ ہر غلطی پر شرمندہ ہونا پڑے گا، یہ احساس مستقل خوف اور ذہنی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔

اصلاح کا مقصد صرف سبق دینا ہوتا ہے، لیکن سب کے سامنے اصلاح کرنے سے وہ مقصد ضائع ہو جاتا ہے۔

کچھ لوگ سب کے سامنے بات سنتے ہیں مگر دل سے قبول نہیں کرتے، جب کوئی سب کے سامنے اصلاح کرتا ہے تو انسان اندر سے برا محسوس کرتا ہے اور بات قبول نہیں کرتا۔

جب سب کے سامنے غلطی بتائی جائے تو انسان بعض اوقات جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

چاہے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، عوامی طور پر سمجھانا دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔

بار بار عوامی تنقید انسان کو احساس دلاتی ہے کہ وہ دوسروں سے کم تر ہے، جو ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

مجمع میں سمجھانے سے دوسرے لوگ بھی غلط انداز میں بات لے سکتے ہیں، جس سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اکثر لوگ مجمع میں بات ماننے کے بجائے ضد پر آ جاتے ہیں، چاہے وہ دل ہی دل میں غلطی مان بھی رہے ہوں۔

جب کسی کو سب کے سامنے سمجھایا جائے تو وہ دل میں بات رکھ لیتا ہے، اور آہستہ آہستہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کیا غلط کیا تھا، مگر یہ یاد رہتا ہے کہ اسے کیسے کہا گیا اس لئے وہ بد گمانی کا شکار رہتا ہے کہ سمجھانے والا میرا دشمن ہے کیونکہ سب کے سامنے مجھے سمجھایا گویا اس کا ارادہ مجھے ذلیل کرنا تھا۔

انسان زبان سے تو کچھ نہیں کہتا، مگر دل میں مخالفت اور دوری پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کی عزت اس کے دل کا دروازہ ہے، جو دروازہ توڑ کر داخل ہو، وہ بات منوا تو سکتا ہے، دل نہیں جیت سکتا۔

سب کے سامنے سمجھائے جانے کے بعد اسے لگتا ہے کہ اب ہر جگہ اس پر انگلی اٹھ سکتی ہے۔

اصلاح کا اصل مقصد انسان کو سنوارنا ہوتا ہے اور سنوارنے کے لیے تنہائی، نرمی اور عزت سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔ سب کے سامنے سمجھانا اکثر انسان کو بدلنے کے بجائے توڑ دیتا ہے۔

سمجھانا ایک اہم عمل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب سے آگاہ کرے، لیکن سب کے سامنے سمجھانے سے اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

شرمندگی: سب کے سامنے سمجھانے سے انسان شرمندہ ہو سکتا ہے جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہو سکتی ہے اور اس کا اعتماد کم ہو سکتا ہے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہو سکتی ہے۔

مقصد میں ناکامی: سب کے سامنے سمجھانے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان سمجھنے کی بجائے ضد پر اڑ سکتا ہے۔

نصیحت کیا ہے؟ حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور نامناسب باتوں سے روکنے کا فائدہ دے۔ (تفسیر کبیر،3/370)

امام اجل حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی کی کوئی ناپسندیدہ حرکت دیکھتے تو اسے تنہائی میں سمجھاتے یا اس کے حوالے سے اسے مکتوب لکھتے۔

نصیحت اورفضیحت(رسوائی) میں فرق: ناپسندیدہ بات پر تنہائی میں سمجھانا نصیحت اور سب کے سامنے سمجھانا فضیحت (رسوائی)کہلاتا ہے۔

کسی کے سامنے نصیحت کرنا: کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا سب کے سامنے سمجھانے سے بھی نصیحت پرتاثیر نہیں رہتی جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا۔ (تنبیہ الغافلین، ص 48)

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مومن پردہ پوشی کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس فاسق و فاجر بدنام کرتا ہے اور شرم و عار دلاتا ہے۔ (جامع العلوم والحکم، 1/225)

قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: دین نصیحت ہے اور نصیحت ہمیشہ نرمی اور حکمت کے ساتھ ہی ہونی چاہیئے۔

اصلاح کا حسین انداز: آخری نبی محمد عربی ﷺ کو جب کسی کی کوئی ناگوار بات معلوم ہوتی تو آپ اس کا بھی پردہ رکھتے اور اصلاح کے لیے یوں ارشاد فرمایا کرتے: یعنی لوگوں کو کیا ہوگیا جو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص 758)

درست انداز میں کی گئی نصیحت: حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب قوت القلوب میں نصیحت کے متعلق جو کچھ نقل فرمایا ہے کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہے آپ فرماتے ہیں: نصیحت کا درست طریقہ یہ ہے کہ جس کی خیر خواہی مقصود ہو اسے تنہائی میں نصیحت کیجیے لوگوں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کیجئے نہ کسی کو اس کا عیب بتائیے جیسا کہ منقول ہے: مومنوں کی نصیحتیں ان کے کانوں میں ہوتی ہیں۔ حضرت مسعر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی گئی:کیا آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو آپ کو آپ کے عیوب سے آگاہ کرے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ تنہائی میں مجھے نصیحت کرے تو ٹھیک ہے اور اگر لوگوں کے سامنے سمجھائے تو نہیں۔ (قوت القلوب، 2/370)

اس لیے بہتر ہے کہ سمجھانا ہو تو تنہائی میں سمجھائے تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہو جائے بروز قیامت وہی لوگ قابل رشک مقام پر فائز ہوں گے جو دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں یعنی ان کی خیر خواہی کے پیش نظر اللہ کی پسندیدہ باتوں کا حکم

دیتے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی تکمیل و تعمیر کے لیے اصلاح کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اگرچہ اصلاح ایک وسیع مفہوم لفظ کا حامل ہے مگر عمومًاصلاح کے معنی سمجھانے کے ہی لیے جاتے ہیں لفظ اصلاح اگرچہ بذات خود ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے مگر سمجھانے کے لیے اصلاح کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: انفرادی اصلاح اور اجتماعی اصلاح۔

انفرادی اصلاح: انفرادی اصلاح کے معنی ہیں اکیلے میں سمجھانا بہتر یہ ہے کہ جس کی غلطی ہو اس کو الگ سے سمجھایا جائے یوں اس کو اچھا بھی لگے گا اور ندامت بھی نہیں ہوگی اور بات بھی جلدی سمجھ آئے گی اگر علی الاعلان اصلاح کی کوشش کریں گے تو شیطان اس کو ضد میں مبتلا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے مزید دس غلطیاں کرے گا۔ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھاردیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

اجتماعی اصلاح: اجتماعی اصلاح کے معنی ہیں سب کے سامنے سمجھانا اجتماعی طور پر سمجھانے کا انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے والا یہ محسوس نہ کرے کہ اس کو سب کے سامنے ذلیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔

کسی غلطی کی اصلاح میں بھی ہمیں رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اپنانا چاہیے آپ جہاں ضرورت سمجھتے ہیں عام مجلس میں بھی غلطی کی اصلاح فرماتے لیکن اس کے لیے عمومًا غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کے عمومی وضاحت پر اکتفا کرتےایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کی اصلاح کرتے ہوئے جو نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کچھ لوگ نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھاتے ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں سختی سے تنبیہ فرمائی حتی کہ ارشاد فرمایا: وہ ضرور بضرور اس حرکت سے باز آ جائے ورنہ ان کی آنکھیں چھین لی جائیں گی۔ (بخارى، 1/265، حديث:750)

سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات: اگرچہ سب کے سامنے سمجھانا بھی ٹھیک ہے جبکہ سامنے والی کی دل شکنی نہ ہو لیکن بعض اوقات سب کے سامنے سمجھانا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور سمجھانے کا سب سے افضل طریقہ یہ ہی ہے کہ اکیلے میں سمجھایا جائے حضرت سیدنا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)

سب کے سامنے سمجھانے کے چند نقصانات درج ذیل ہیں:

خود اعتمادی کی کمی: سب کے سامنے سمجھانے سے اس کی خود اعتمادی کم ہوسکتی ہے جس سے وہ اپنے کام میں دلچسپی نہیں لے پائے گا۔

شرمندگی اور بے عزتی: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ شرمندہ اور بےعزت ہو سکتا ہے جس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور تعلقات خراب ہوتے ہیں۔

مقابلہ اور ضد: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ اپنی ضد پر اڑ سکتا ہے اور مقابلہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس سے نہ صرف اپنا نقصان کرے گا بلکہ دوسروں کا بھی نقصان کر بیٹھے گا۔

بےاحترامی: سب کے سامنے سمجھانے سے اس کا احترام جاتا رہے گا جسے تعلق میں خرابی آسکتی ہے اور دوبارہ آپس میں بات کرنے سے شرم محسوس کرے گا۔

غصہ اور ناراضگی: سب کے سامنے سمجھانے سے وہ غصہ وناراض ہو سکتا ہے جس سے تعلقات میں تنگی آسکتی ہے۔

اسی لیے کسی کو سمجھانے کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی عزت نفس کو نقصان نہ پہنچے۔ مقولہ ہے: اصلاح کرنے والوں سے کبھی تعلق مت توڑیں زندگی میں وہ لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں جو آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں جو آپ کی اصلاح کرتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اچھی صحبت نصیب کرے۔ آمین

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور نامناسب باتوں سے روکے۔ (تفسیر کبیر،3/370)

وعظ و نصیحت کی اہمیت اور افادیت کی حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ وعظ و نصیحت حضرات انبیائے کرام کی عظیم سنت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۲۵) (پ 14، النحل: 125) ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔

پیارے آقا ﷺ نے نصیحت کرنے والوں کو قابل رشک لوگوں سے تعبیر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو انبیا نہ شہدا لیکن بروز قیامت انبیا و شہدا ان کے مقام کو دیکھ کر رشک کریں گے، وہ لوگ نور کے منبروں پر بلند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتے ہیں اور زمین پر لوگوں کو نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔ عرض کی گئی: وہ کس طرح لوگوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبوب باتوں کا حکم دیتے ہیں اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں، لہٰذا جب لوگ انکی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (صحابیات اور نصیحتوں کے مدنی پھول، ص 11)

امیر اہلسنّت فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت پر مبنی بیان کرنا مستحب ہے اگر نہیں کیا تو کچھ گناہ نہیں لیکن کسی کو گناہ کرتے دیکھا اور روکنے پر قادر ہو تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر (یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا) فرض ہے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کئی آداب ہیں جن میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے ہرگز نہ ٹوکا (سمجھایا) جائے کہ جیسا کہ سابقہ آیت میں بیان ہوا کہ اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور اس طریقے پر جو سب سے بہتر ہو۔

سب سے سامنے سمجھانے کے کئی نقصانات ہوتے ہیں، مثلاً سب نے سامنے سمجھانے سے بات بےاثر ہو جاتی ہے۔ جس کو سمجھایا جائے اس کی دل آزاری کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے جس سے وہ گناہ پر ضدی ہو جاتا ہے اور اپنی غلطی پر مزید اڑ جاتا ہے۔ اسکو ایذا پہنچتی ہے۔ اس کے دل میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ اسکی کی تذلیل ہوتی ہے۔ سمجھانے والے کا لوگوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے سمجھانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے کہ اس شخص کی توجہ اپنی اصلاح کی طرف سے اپنی شرمندگی کی جانب ہو جاتی ہے۔ اسکی عیب جوئی ہوتی ہے۔

حضرت بی بی ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب لگایا۔ (سمجھانے کا طریقہ، ص 1)

حضرت مسعر بن کدام سے پوچھا گیا کہ آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں کہ جو آپ کو آپ کے عیبوں پر خبردار کرے؟ فرمایا: اگر تنہائی میں نصیحت کرے تو پسند ہے اور اگر سر عام سمجھائے تو نہیں۔ (مسلمان کی پردہ پوشی کے فضائل، ص 11)

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والے کو چاہئے کہ ایسے اچھے انداز سے سمجھائے کہ جس سے برائی کرنے والے کی تذلیل بھی نہ ہو، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ اس برائی (گناہ) سے باز آ جائے۔