سمجھانا ایک اہم عمل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب سے آگاہ کرے، لیکن سب کے سامنے سمجھانے سے اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

شرمندگی: سب کے سامنے سمجھانے سے انسان شرمندہ ہو سکتا ہے جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہو سکتی ہے اور اس کا اعتماد کم ہو سکتا ہے اس کے دل میں نفرت و عداوت پیدا ہو سکتی ہے۔

مقصد میں ناکامی: سب کے سامنے سمجھانے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان سمجھنے کی بجائے ضد پر اڑ سکتا ہے۔

نصیحت کیا ہے؟ حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور نامناسب باتوں سے روکنے کا فائدہ دے۔ (تفسیر کبیر،3/370)

امام اجل حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی کی کوئی ناپسندیدہ حرکت دیکھتے تو اسے تنہائی میں سمجھاتے یا اس کے حوالے سے اسے مکتوب لکھتے۔

نصیحت اورفضیحت(رسوائی) میں فرق: ناپسندیدہ بات پر تنہائی میں سمجھانا نصیحت اور سب کے سامنے سمجھانا فضیحت (رسوائی)کہلاتا ہے۔

کسی کے سامنے نصیحت کرنا: کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا سب کے سامنے سمجھانے سے بھی نصیحت پرتاثیر نہیں رہتی جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا۔ (تنبیہ الغافلین، ص 48)

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مومن پردہ پوشی کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس فاسق و فاجر بدنام کرتا ہے اور شرم و عار دلاتا ہے۔ (جامع العلوم والحکم، 1/225)

قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: دین نصیحت ہے اور نصیحت ہمیشہ نرمی اور حکمت کے ساتھ ہی ہونی چاہیئے۔

اصلاح کا حسین انداز: آخری نبی محمد عربی ﷺ کو جب کسی کی کوئی ناگوار بات معلوم ہوتی تو آپ اس کا بھی پردہ رکھتے اور اصلاح کے لیے یوں ارشاد فرمایا کرتے: یعنی لوگوں کو کیا ہوگیا جو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص 758)

درست انداز میں کی گئی نصیحت: حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب قوت القلوب میں نصیحت کے متعلق جو کچھ نقل فرمایا ہے کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہے آپ فرماتے ہیں: نصیحت کا درست طریقہ یہ ہے کہ جس کی خیر خواہی مقصود ہو اسے تنہائی میں نصیحت کیجیے لوگوں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کیجئے نہ کسی کو اس کا عیب بتائیے جیسا کہ منقول ہے: مومنوں کی نصیحتیں ان کے کانوں میں ہوتی ہیں۔ حضرت مسعر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی گئی:کیا آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو آپ کو آپ کے عیوب سے آگاہ کرے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ تنہائی میں مجھے نصیحت کرے تو ٹھیک ہے اور اگر لوگوں کے سامنے سمجھائے تو نہیں۔ (قوت القلوب، 2/370)

اس لیے بہتر ہے کہ سمجھانا ہو تو تنہائی میں سمجھائے تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہو جائے بروز قیامت وہی لوگ قابل رشک مقام پر فائز ہوں گے جو دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں یعنی ان کی خیر خواہی کے پیش نظر اللہ کی پسندیدہ باتوں کا حکم

دیتے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں۔