باطن کی بیماریوں میں سب سے خطرناک مرض وہ ہے جو نیکی کے لباس میں چھپ کر انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ ‏یہی مرض خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں آدمی اپنی عبادت، علم، نسب، دولت یا کسی بھی صلاحیت کو دیکھ کر اپنے ‏آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ کیفیت اطمینان یا اعتماد معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو اعمال کو ‏کھوکھلا کر دیتاہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ میں اس بیماری کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت آئی ہے۔ اس تحقیقی مقالے میں ہم خود پسندی کے لغوی، اصطلاحی ‏اور اخلاقی پہلوؤں کو حدیث کی روشنی میں منظم انداز سے پیش کریں گے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلام نے اسے کیوں تباہ کن صفت ‏قرار دیا ہے۔

لغوی بحث:عربی زبان میں خود پسندی کے لیے لفظ "العُجب" استعمال ہوتا ہے۔

لسان العرب میں ابن منظور لکھتے ہیں کہ "العُجب" سے مراد ہے: کسی چیز کو دیکھ کر اس سے متاثر ہونا اور اسے عظیم سمجھنا۔ ‏‏(لسان العرب، مادہ: عجب)‏

مفردات القرآن میں راغب اصفہانی کے مطابق: عُجب وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے نفس اور اپنے عمل کو بڑا سمجھتا ہے اور اسے ‏اپنی ذات کا کمال سمجھتا ہے۔ ‏‏(مفردات، مادہ: عجب)

لغوی اعتبار سے یہ لفظ حیرت کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن اخلاقی اصطلاح میں یہ اپنے نفس کی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہونے کو ‏کہتے ہیں۔

اصطلاحی تعریف اور مفہوم:علمائے اخلاق کے نزدیک:‏امام ابو حامد الغزالی نے إحياء علوم الدين میں لکھا کہ عُجب یہ ہے کہ انسان اپنی نعمت یا عمل کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرے اور ‏منعمِ حقیقی (اللہ) کو بھول جائے۔

امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباري میں فرمایا کہ عُجب تکبر سے پہلے کا درجہ ہے؛ کیونکہ متکبر دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، جبکہ خود پسند ‏پہلے اپنے نفس کو عظیم سمجھتا ہے۔

تین ہلاک کرنے والی چیزیں:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں: ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے، ایسی خواہشِ نفس جس کی ‏اتباع کی جائے، اور آدمی کا اپنے نفس پر فخر کرنا۔

‏ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5930؛ شعب الإيمان للبیہقی)‏

یہ حدیث خود پسندی کو صریح طور پر ہلاکت کا سبب قرار دیتی ہے، یعنی یہ کوئی معمولی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ روحانی تباہی کا دروازہ ‏ہے۔

گناہ سے بڑا خطرہ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبَ‏ ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی بڑی چیز کا خوف ہوتا، یعنی خود پسندی کا۔ ‏

‏(شعب الايمان للبیہقی، رقم: 7315)‏

یہاں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ گناہ کے بعد ندامت انسان کو جھکا دیتی ہے، لیکن خود پسندی انسان کو اندھا کر دیتی ہے، یہاں ‏تک کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خود پسندی دل کی ایسی بیماری ہے جو بظاہر نیکی کے پردے میں چھپ ‏کر انسان کو ہلاکت تک لے جاتی ہے۔ یہ اخلاص کو ختم کرتی ہے، توبہ کے دروازے بند کرتی ہے اور انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم ‏کر سکتی ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ بندہ ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے، اپنے نفس کو خطاکار جانے، اور ہمیشہ خوف و رجاء کے درمیان ‏زندگی گزارے۔