نیند ایک عظیم نعمت ہے۔صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں نیند  بھی ضروری ہے۔نیند اللہ پاک کی بہت بڑی اور عظیم نعمت ہے کہ اس کی بدولت انسان تازہ دم رہتا ہے۔ اگر انسانی نیند پوری نہ ہو تو تعلیم تو کیا ہر کام متاثر ہو جاتا ہے۔ بدن کو آرام و سکون پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ”نیند“ ہے ۔

اللہ پاک فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے:کیا ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ بنایا تاکہ اس سے تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے معاملات پوشیدہ رہیں،اور کیا ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو ۔

کس کو کتنا سونا چاہیے؟عمر کے مختلف ادوار کے اعتبار سے انسان کو نیند کی مختلف مقدار درکار ہوتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق کم سن بچوں کے لیے 12 سے 15 گھنٹے ،15سے 40 سال والوں کے لیے 7 سے 8 گھنٹے جبکہ 40 سال سے زائد عمر والوں کے لیے 6گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔

نیند پوری نہ ہونے کے نقصانات :

”نیند“ پوری نہ ہونے کے متعدد جسمانی،روحانی اور معاشرتی نقصانات ہیں۔مسلسل نیند پوری نہ ہونے پر ملازم اگر ڈیوٹی کے اوقات میں سوتا یا اونگھتا رہے تو اس سے نہ صرف اس کا کام متاثر ہو گا بلکہ انجام کار اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ڈرائیور یا پائلٹ کی نیند پوری نہ ہو تو نہ صرف اس کی بلکہ مسافروں کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ کئی حادثات کے بعد جب تحقیقات ہوئیں تو حادثے کا بنیادی سبب ڈرائیور کا دوران ڈرائیونگ اونگھنا پایا گیا۔

طالبِ علم کی نیند پوری نہ ہو تو کلاس میں استاد کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنا اور محفوظ کرنا اس کے لیے دشوار ہے۔الغرض جو انسان جس بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو،نیند کا فطری تقاضا پورا نہ ہونا اس کے لئے جسمانی اور روحانی اعتبار سے نقصان دہ ہے۔مسلسل نیند کی کمی انسان کے مزاج میں جھجھلاہٹ اور چڑچڑاپن پیدا کر دیتی ہے، وہ معمولی باتوں پر طیش میں آ جاتا اور سامنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگتا ہے۔

بد قسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں رات دیر تک جاگنے اور پھر دوپہر چڑھے تک سونے کا معمول عام ہوتا جا رہا ہے جو نہ صرف شرعی لحاظ سے ناپسندیدہ بلکہ طبی لحاظ سے بھی نقصان دہ ہے۔اگر آپ صحت مند زندگی گزارنے کی خواہش مند ہیں تو رات کو دینی مشاغل سے فارغ ہو کر جلد سو جائیے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے اور عین فطرت کا تقاضا بھی۔ اللہ پاک فرماتا ہے :وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص: 73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔

اس سے معلوم ہوا کہ کمائی کے لیے دن اور آرام کی لیے رات مقرر کرنی بہتر ہے ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

شرمِ نبی خوف ِخدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

( حدائق بخشش، ص 111)

رات دیر تک جاگنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان فجر کی نماز سے محروم ہوجاتا ہے۔فجر کی نماز چھوڑ دینا نہ صرف گناہ ہے بلکہ دن بھر برکت سے محرومی کا سبب بھی بنتا ہے۔ حدیثِ مبارک میں ہے:اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا یعنی اے اللہ!میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔(ابو داود ، 3 / 51 ،حدیث : 2606)

ماہرینِ صحت کے مطابق نیند کے دورانِ جسم سے melatonin نامی ہارمون خارج ہوتا ہے جو انسان کے دماغ ،دل اور اعصاب کو مضبوط بناتا ہے ۔ اگر انسان دیر تک جاگتا رہے تو یہ ہارمون صحیح مقدار میں نہیں بنتا،جس سے ذہنی دباؤ اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔( نیچر ریسرچ جرنل ،2023)

کن اوقات میں نہیں سونا چاہیے؟عصر کے بعد نہ سوئیں کہ عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔

فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے : جو عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔( مسند ابی یعلی ،4/278،حدیث:4897)

دن کے ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔

(بہارِ شریعت،3/436)

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے

کھلے آنکھ صلیِ علیٰ کہتے کہتے

ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نیند محض آرام کانام نہیں بلکہ یہ ایک ضرورت ہے جس کی تکمیل کے بغیر انسانی جسم اور دماغ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ رات کو جلد سونے اور صبح جلد جاگنے کی عادت اپنائیں تاکہ ہماری صحت ، ذہانت اور روزمرہ کارکردگی بہترین رہے۔ رات کا سکون ضائع کر کے وقتی کام تو پورا ہو جاتا ہے مگر اس کے اثرات زندگی بھر ساتھ رہتے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں وقت پر سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ


انسانی زندگی کا دار و مدار صحت اور وقت کے صحیح استعمال پر ہے۔یہ  وہ دو نعمتیں ہیں جن سے اکثر لوگ غافل ہیں۔اپنی صحت کا خیال رکھنا،صحت مند رہنے کے لیے اپنی مصروفیات میں توازن قائم رکھنا،وقت کی قدر کرنا اور ہر کام اپنے وقت پر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن و سنت میں وقت کی قدر اور درست استعمال کی بہت تاکید آئی ہے۔ اسی میں سے ایک رات میں وقت پر آرام کرنا بھی ہے اور کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور دن کو کام کے لیے ۔اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔

یہاں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ بنایا تاکہ اس سے تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے معاملات پوشیدہ رہیں ، اور کیا ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو۔(تفسیر صراط الجنان،10/496)

نیز اللہ پاک فرماتا ہے:وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)(پ19،الفرقان:47)ترجمہ کنز العرفان:اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ اور نیند کو آرام بنایااور دن کو اٹھنے کے لیے بنایا۔

معلوم ہوا کہ رات کو ہمارے پیارے پروردگار نے آرام و سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے،لہٰذاجب انسان فطری اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ، یعنی بلا وجہ رات دیر تک جاگتا ہے تو یہ عمل مجموعی صحت،روز مرہ کی کارکردگی اور روحانی سکون پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔رات دیر تک جاگنے کے نقصانات وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں،لہٰذا اس عادت کے خطرات کو سمجھنا ہم سب کے لیے بڑا ضروری ہے۔ یہاں بعض دینی اور دنیاوی نقصانات بیان کیے جاتے ہیں۔

(1)دماغی صحت پر شدید اثرات:انسانی دماغ کو نیند کی ضرورت کسی مشین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رات دیر تک جاگنے سے دماغی تھکن زیادہ رہتی ہے۔ یاد داشت میں بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے۔باتیں یاد نہیں رہتیں،حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔یوں انسان کی روز مرہ زندگی بہت متاثر ہوتی ہے ۔طلبہ و طالبات کو امتحانی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔نیز فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہو جاتی ہے۔مسلسل نیند کی کمی سے ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

(2)جسمانی صحت کی خرابی:رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے جسم کے حیاتیاتی نظام (Biological system)میں خرابی پیدا ہو تی ہے جس کے سبب درج ذیل بیماریاں پیدا ہو جاتی ہے:

موٹاپا: نیند کے دوران بھوک کا ہارمون کنٹرول ہوتا ہے جبکہ دیر تک جاگنے والوں میں بے جا کھانا کھانے کی عادت بنتی ہے۔

امراضِ قلب:بعض تحقیقات کے مطابق دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہےجس کی وجہ سے دل صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتا۔

جِلدی مسائل: آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، رنگت کا خراب ہونا اور وقت سے پہلے بوڑھا ہو جانا بھی اسی کا نتیجہ ہے۔

(3)ذہنی رویّوں میں خرابی:دیر تک جاگنے سے انسان کے مزاج پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر غصہ آتاہے، ایسا انسان لوگوں سے بلا وجہ الجھتا ہے ،بے وجہ افسردگی طاری ہوتی ہے،کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا،نیند پوری نہ ہونے کے باعث گھر والوں نیز اسکول ، کالج ،یونیورسٹی اور آفس کے دوستوں کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں ۔

(4)دینی نقصان:راتوں کو دیر تک جاگنے سے ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ فجر کی نماز میں آنکھ نہیں کھلتی۔ایسا انسان اس عظیم فضیلت سے محروم رہ جاتا ہے۔رات جلدی سونے والا فرض نماز کے ساتھ تہجد کے لیے بھی جاگ سکتا ہے جبکہ دیر سے سونے والا نماز ِ تہجد کی برکات حاصل نہیں کرپا تا۔دیر تک جاگنے کا عمل سستی، کاہلی اور غفلت کو پیدا کرتا ہے۔ ایسا انسان نہ صرف نفل میں بلکہ فرض نماز میں بھی سستی محسوس کرتا ہے۔

(5)تعلیمی کارکردگی میں کمی:طلبہ و طالبات کے لیے دیر تک جاگنے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں،مثلاً:پڑھائی میں توجہ کم ہوتی ہے،دماغ تازہ نہ ہونے کی وجہ سے سبق یاد نہیں رہتا،امتحان میں منفی اثر پڑتا ہے،سستی اور غنودگی سے کلاس میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ دن میں پڑھایا گیا سبق وہی ذہن اچھی طرح سمجھ اور یاد رکھ سکتا ہے جس نے رات کو مکمل آرام کیا ہو۔

(6)روزگار اور عملی زندگی پر اثرات:رات دیر تک جاگنے کے سبب دورانِ ملازمت غفلت و کوتاہی،کام کے دوران غلطیاں،فیصلے کرنے میں دقت کا سامنا، وقت پر نہ پہنچنے کی عادت، توانائی کی کمی جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔یہ مسائل کامیابی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

(7)وقت کا ضیاع:زیادہ تر لوگ رات دیر تک جاگتے ہوئے ایسے کاموں میں لگ جاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا جیسے موبائل پر بے مقصد اسکرولنگ،سوشل میڈیا،گانے باجے اور فلمیں ڈرامے اور ویڈیو گیمز وغیرہ میں لگے رہنا۔یہ سب کام ڈھیر سارا وقت کھا جاتے ہیں اور انسان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

بیان کردہ نقصانات تو ایک جھلک ہے ورنہ رات دیر تک جاگنے کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔یاد رہے کہ رات دیر تک جاگنا محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک سنگین نقصان دہ عمل ہے۔یہ انسان کی ذہنی،جسمانی،روحانی،تعلیمی اور معاشرتی زندگی کو تباہ کردیتا ہے۔ کامیاب، صحت مند اور پرسکون زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان فطرت کے اصولوں کے مطابق چلے، رات جلد سوئے، صبح جلدی اٹھے اور نیند و آرام کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔


رات کو جاگنا آسان لگتا ہے لیکن نقصان دہ ہے۔رات دیر تک جاگنے سے نیند کا قدرتی چکر خراب ہو جاتا ہے،جسم کے ہارمونز متوازن نہیں رہتے،دماغ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا،یاد داشت متاثر ہوتی ہے،جلد پر داغ دھبے اور جھریاں جلدی آتی ہیں، وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ،دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ،صبح دیر سے جاگنے کی عادت بیزاری اور تھکن پیدا کرتی ہے، سستی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔لہٰذا  بہتر یہی ہے کہ رات کو وقت پر سوئیں اور دن میں توانائی بڑھائیں ۔

قرآنی آیت:وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۶۱) (پ24،المؤمن:60، 61)ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اُس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا بےشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے ۔

حدیثِ مبارک:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک ہر رات آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے جبکہ رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے۔فرماتا ہے:حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں،حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں۔ کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معافی دوں؟وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہے۔

(ترمذی،1/444،حدیث:446)

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ بات ضروری طور پر معلوم ہے کہ قیامت کے دن انسان کو اللہ پاک کی عبادت ہی سے نفع پہنچے گا،اس لیے اللہ پاک کی عبادت میں مشغول ہونا انتہائی اہم کام ہے اور چونکہ عبادات کی اقسام میں دعا ایک بہترین قسم ہے اس لیے یہاں بندوں کو دعا مانگنے کا ارشاد فرمایا گیا۔ اس آیت میں لفظ یدعونی کے بارے میں مفسرین کا ایک قول ہے کہ اس سے مراد دعا کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ اے لوگو!تم مجھ سے دعا کرو میں اسے قبول کروں گا۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبادت کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرو میں تمہیں ثواب دوں گا۔(تفسیر کبیر،9/527،تفسیر جلالین،ص395،تفسیر نسفی، ص1063 ملتقطاً)

اس سے پہلی آیت میں دعا مانگنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا اور دعا میں مشغول ہونے کے لئے اللہ پاک کی معرفت ہونا ضروری ہے ، اس لئے یہاں ایک قادر معبود کے موجود ہونے پر دلیل بیان فرمائی گئی ہے،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام اور سکون پاؤ ،کیونکہ رات میں ٹھنڈک اور نمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کی حرکت کرنے والی قوتیں رات میں قدرے ساکن ہو جاتی ہیں،نیز رات میں اندھیرا ہوتا ہے جس کی بنا پر انسان کے حواس بھی پوری طرح کام کرنے سے رک جاتے ہیں اور یوں انسان کے اَعصاب اور حواس کو آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور اللہ پاک نے تمہارے نفع کے لئے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنے ضروری کام اطمینان کے ساتھ انجام دے سکو ،بیشک رات اور دن کو پیدا کر کے اللہ پاک لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن بہت سے آدمی اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔( تفسیر کبیر،9/528،تفسیر روح البیان، 8 /203ملتقطاً)


رات جیسی عظیم نعمت اللہ کریم نے آرام اور سکون کے لیے بنائی ہے۔ قدرت نے دن کو آرام کرنے اور رات کو سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا لیکن آج کے دور میں راتوں کو دیر تک جاگنا ایک فیشن سمجھا جاتا ہے۔رات دیر تک جاگنا بظاہر معمولی سی بات لگتی ہے آج کے دور میں لوگ موبائل فون،سوشل میڈیا اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے دیر تک جاگنے کی عادی ہو چکے ہیں  اور اس کے نقصانات پر غور نہیں کرتے۔قرآنِ پاک اور حدیثِ مبارک سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رات آرام کے لیے ہے نہ کہ جاگنے کے لیے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص: 73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)

حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ ﷺ عشا سے پہلے سونے اور عشا کے بعد بلا ضرورت باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔(بخاری،1/201، حدیث:547)

قرآن حدیث دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رات کو آرام کے لیے بنایا گیا اور بلا ضرورت رات دیر تک جاگنا ناپسندیدہ ہے۔رات دیر تک جاگنا کئی بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے اور بہت صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔

جسمانی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے،انسان ہر وقت خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے،آنکھوں کی کمزوری،تھکن،بدہضمی جیسی کئی بیماریاں انسان کی صحت کو متاثر کرتی ہیں،مسلسل جاگنے سے دل اور اعصابی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔

ذہنی اور تعلیمی نقصانات:نیند کی کمی سے ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے،یاداشت کمزور ہو جاتی ہے،توجہ منتشر رہتی ہے اور پڑھائی میں دل نہیں لگتا جس کے نتیجے میں تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ، چڑچڑا پن اور بے چینی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

اخلاقی اور معاشرتی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے فرد کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے، وہ سست اور کاہل نظر آتا ہے ،وقت کی قدر ختم ہو جاتی ہے، زندگی کے روز مرہ کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں نیز رات دیر تک جاگنے سے انسان فرائض و واجبات میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔

طبعی ماہرین کے مطابق صحت متوازن رکھنے کے لیے چھ سے اٹھ گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سونے اور جاگنے کے اوقات پر غور کریں،مکمل نیند لیں،جب سونے لگیں تو فون کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں،جلدی سونے کی عادت ڈالیں تاکہ جسم اور ذہن تندرست رہے نیز زندگی اور اس کے کاموں اور عبادات کو اچھے انداز سے سرانجام دے سکیں۔


اللہ پاک کی بے شُمار نعمتوں میں سے ایک نعمت” نیند“ بھی ہے ، اِس نعمت کی بدولت ذہن کو راحت ملتی اور جسم تھکن سے نَجات پاتا ہے۔اللہ پاک نے رات آرام کے لئے بنائی ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں بھی ارشاد ہوتا ہے:اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ (پ24، المؤمن : 61)ترجمہ:اللہ ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اُس میں آرام پاؤ ۔

فی زمانہ دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ رات دیر تک جاگنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کے بے شمار نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ایک ریسرچ کے مطابق رات کو دیر تک جاگنے سے جہاں جسمانی صحت کو نقصان پہنچتا ہے وہیں ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔موڈ خراب ہوتا ہے اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔اگر رات کو وقت پر نہیں سوئیں گی تو نیند کا دورانیہ کم ہوگا نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے ، قوتِ مدافعت میں کمی آتی ہے، موٹاپے اور ذیابیطس جیسی پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے ،اس لئے ہمیں چاہئے کہ رات کو وقت پر سوئیں تاکہ ہماری صحت بھی اچھی رہے اور عبادت پر قوت بھی حاصل ہو۔ پیارے آقا ﷺ بھی سونے کا اہتمام فرماتے تھے وضو فرماتے اور اس کی ترغیب ارشاد فرماتے جیسا کہ روایت ہے ،رسولِ اکرم ﷺ سونے سے پہلے وُضو فرماتے۔(مواہب لدنیہ،2/185)

پیارے آقا ﷺ نے حضرت بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:جب تم اپنے بستر پر جانے کا ارادہ کرو تو نَماز جیسا وُضو کرو ۔( بخاری،1/104، حدیث:247 ) باوُضو سونے کی ترغیب دینے میں حکمت یہ ہے کہ خواب سچّا آئے ، شیطان کے ڈرانے دھمکانے سے حفاظت ہو اور اگر موت آجائے تو بندہ پاکیزگی کی حالت میں ہو۔( شرح مسلم للنووی،جز: 9،17/32)اللہ کریم ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بلا وجہ رات کو دیر تک جاگنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کے دینی و دنیاوی بہت سے نقصانات ہیں۔ بغیر کسی شرعی وجہ کے رات کو دیر تک جاگنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور مذموم فعل ہے کیونکہ یہ مشیتِ الٰہی کے خلاف ہے۔اللہ کریم نے رات آرام کے لیے بنائی ہے تو کوئی اگر بغیر کسی غذر یا  شرعی وجہ کے اس کے خلاف کرے گا تو مکروہ ہو گا جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص: 73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)

دینی نقصانات:نمازِ فجر میں سستی اور قضا ہونے کا اندیشہ ، نوافل میں کمی ، دل کا سخت ہو جانا ، توجہ کی کمی کی وجہ سے نماز میں دل نہ لگنا، صحت کے خراب ہونے کے سبب عبادات میں کمی ، جماعت سے محروم ہو نے کا خطرہ اور نیکیاں بھاری لگنا۔

دنیاوی نقصان:صحت خراب ہونا،معمولات میں کمی،سستی کے سبب اہم کاموں سے محرومی یااچھے انداز میں مکمل نہ کرپانا، اعتماد میں کمی ، دل کی بیماریاں ، شوگر اور ہارمونز وغیرہ کا مسئلہ ،بے چینی اور دماغی بیماریوں کا خطر ہ رہتا ہے ۔

ہمارا معاشرہ: آج کل ہمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے فضول و بے فائدہ کاموں میں وقت صرف کرتا ہے وہیں رات کو دیر تک جاگنے اور فضول گفتگو و مجلسوں میں وقت گزارتے ہیں ۔اللہ کریم ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


رات دیر تک جاگنے کے نقصانات

ذہنی صحت پر اثر:

نیند کی کمی کی وجہ سے اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے۔

جسمانی صحت پر اثر:

موٹاپا:

نیند کی کمی موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

ذیا بیطس:

گلو کوز میٹا بولزم اور انسولین پر منفی اثرات کی وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

دل کی بیماریاں:

نیند کی کمی دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

قوتِ مدافعت میں کمی:

جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)(پ20،القصص:73)ترجمہ:کنز العرفان:اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور(دن میں ) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔

تفسیر صراط الجنان:ارشاد فرمایا کہ اے لوگو!اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ اور دن بھر کی محنت و مشقت سے ہونے والی تھکن دور کرو اور دن میں روزی تلاش کرو جو کہ اللہ پاک کا فضل ہے اورتم اپنی معاشی و کاروباری سرگرمیاں انجام دو اور تم پر یہ رحمت فرمانے کی حکمت یہ کہ تم اس کی وجہ سے اپنے اوپر اللہ پاک کا حق مانو،اس کی وحدانیّت کا اقرار کرو اورصرف اسی کی عبادت کر کے اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ۔( تفسیر طبری،10/98)

اللہ پاک نے رات آرام کے لیے بنائی ہے، لیکن لوگوں میں رات دیر تک جاگنے کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔سمجھاؤ تو کہتے ہیں کہ نیند ہی نہیں آتی۔ مسلمان کے لیے صبح چار بجے تو بستر چھوڑنے کا وقت ہو جاتا ہے،لیکن اب لوگ اس کے قریب سونے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ حدیثِ شریف میں تہجد میں اٹھ کر نماز پڑھنے کو نیک لوگوں کا طریقہ بتایا گیا ہے، اس وقت اللہ پاک آسمانِ دنیا سے صدا لگاتا ہے، ایک دو اور تین بجے سونے والا کیسے اس صدا پر لبیک کہہ سکتا ہے!روزانہ ان صداؤں کو اَن سُنا کرنا سخت محرومی کا باعث ہے۔اسی لیے رحمت ِعالَم ﷺ نے عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے کو ناپسند اور منع فرمایا ہے۔ اگر عشا کے بعد جلدی سونے کی عادت بنا لی جائے تو تہجد اور فجر میں جاگنا آسان ہو جاتا ہے۔حضرت عمر عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے والوں کی خبر لیا کرتے تھے۔بعض صحابہ سے ضرورت کے تحت عشا کے بعد جاگنا اور بات کرنا ثابت ہے، لیکن یہ ثبوتِ جواز کے لیے ہے،ان کا اصل معمول جلدی سونا اور جلدی اٹھنا ہی تھا۔

غور کیجیے کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقاتِ انسان، بلکہ جانوروں تک کے لیے فطری طور پر نیند کا ایک وقت معین کر دیا اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لیے مناسب بنا دیا اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی ہے، ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لیے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے اوقات مقرر کرتا ہے اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی اور ہر انسان اپنی نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا، تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا، کیوں کہ انسان کی حاجتیں باہم ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام خراب ہو جاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہو جاتے جن کا تعلق جاگنے والوں سے ہے۔اگر ہم رات سوئیں گی ہی نہیں تو سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ جلد اٹھ کر عبادت بھی نہ کرسکیں گی۔ہم ربِّ کریم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دنیا میں آئی ہیں اور یہ بھول بیٹھی ہیں کہ ربِّ کریم کے فرامین کو نہ مان کر کیا اسے راضی کر بھی سکتی ہیں ؟

رات دیر تک جاگتے رہنا بہت سی نیکیوں سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے ۔قربِ خدا نہ مل سکا تو اس کا الٹ ہوگا کہ ہم خسارے میں رہیں گی۔ہم نے تو اللہ کو راضی کرنا تھا لیکن یہ کیا

نہ جسمانی قوت رہی نہ ذہنی ،نہ فکری۔ ہم نے دماغ کو مفلوج کر دیا حتی کہ اللہ کریم کے احکام ماننے میں سستی کرنی لگیں۔ ایک مسلمان اگر شریعت کی پیروی اور اللہ کریم کو راضی نہ کرے گا تو کیا کرے گا ؟

لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ راتوں کو جاگ رہی ہیں۔آخر سبب کیا ہے؟ اگر معاذ اللہ گناہ کر رہی ہیں ،آنکھوں اور کانوں کی حفاظت نہیں کر رہیں تو رب کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں۔اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے !اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے الفاظ میں اپنے جذبات کو اس طرح بیان کرتے ہیں :

دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

مسلمان رات کو وقت پر نہ سوئے تو صبح تک سوتے ہی رہ گئے ۔کیا نقصان ہوا؟فجر قضا ۔کیا نقصان ہوا ؟رب کی ناراضی۔کیا نقصان ہوا ؟حضور ﷺ کے قلبِ مبارک کو غمگین کر بیٹھیں۔اللہ ہمیں معاف فرمائے،ہم پر نظرِ رحمت عطا فرمائے،ہمیں سچی عاشقہ رسول بنائے ،احکامِ شریعت کی پابندی کرنے والی بنائے اور اپنے شب و روز عین احکامِ خداوندی کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین