رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت کاشف شیراز،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
نیند
ایک عظیم نعمت ہے۔صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب
مقدار میں نیند بھی ضروری ہے۔نیند اللہ پاک
کی بہت بڑی اور عظیم نعمت ہے کہ اس کی بدولت انسان تازہ دم رہتا ہے۔ اگر انسانی
نیند پوری نہ ہو تو تعلیم تو کیا ہر کام متاثر ہو جاتا ہے۔ بدن کو آرام و سکون
پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ”نیند“ ہے ۔
اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا
نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا
الَّیْلَ لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا
النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ
کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور
دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
تفسیر
صراط الجنان میں ہے:کیا ہم نے تمہاری نیند کو
تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ
بنایا تاکہ اس سے تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو
ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے
معاملات پوشیدہ رہیں،اور کیا ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس
میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش
کرو ۔
کس کو کتنا سونا چاہیے؟عمر
کے مختلف ادوار کے اعتبار سے انسان کو نیند کی مختلف مقدار درکار ہوتی ہے۔ایک
تحقیق کے مطابق کم سن بچوں کے لیے 12 سے 15 گھنٹے ،15سے 40 سال والوں کے لیے 7 سے 8 گھنٹے جبکہ 40 سال
سے زائد عمر والوں کے لیے 6گھنٹے کی نیند
ضروری ہے۔
نیند پوری نہ ہونے کے نقصانات :
”نیند“
پوری نہ ہونے کے متعدد جسمانی،روحانی اور معاشرتی نقصانات ہیں۔مسلسل نیند پوری نہ
ہونے پر ملازم اگر ڈیوٹی کے اوقات میں سوتا یا اونگھتا رہے تو اس سے نہ صرف اس کا
کام متاثر ہو گا بلکہ انجام کار اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ڈرائیور
یا پائلٹ کی نیند پوری نہ ہو تو نہ صرف اس کی بلکہ مسافروں کی جان بھی خطرے میں پڑ
سکتی ہے۔ کئی حادثات کے بعد جب تحقیقات ہوئیں تو حادثے کا بنیادی سبب ڈرائیور کا
دوران ڈرائیونگ اونگھنا پایا گیا۔
طالبِ
علم کی نیند پوری نہ ہو تو کلاس میں استاد کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنا اور محفوظ
کرنا اس کے لیے دشوار ہے۔الغرض جو انسان جس بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو،نیند کا
فطری تقاضا پورا نہ ہونا اس کے لئے جسمانی اور روحانی اعتبار سے نقصان دہ ہے۔مسلسل
نیند کی کمی انسان کے مزاج میں جھجھلاہٹ اور چڑچڑاپن پیدا کر دیتی ہے، وہ معمولی
باتوں پر طیش میں آ جاتا اور سامنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اور اس کا نتیجہ
یہ نکلتا ہے کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگتا ہے۔
بد
قسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں رات دیر تک جاگنے اور پھر دوپہر چڑھے تک سونے کا معمول
عام ہوتا جا رہا ہے جو نہ صرف شرعی لحاظ سے ناپسندیدہ بلکہ طبی لحاظ سے بھی نقصان
دہ ہے۔اگر آپ صحت مند زندگی گزارنے کی خواہش مند ہیں تو رات کو دینی مشاغل سے فارغ
ہو کر جلد سو جائیے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے اور
عین فطرت کا تقاضا بھی۔ اللہ پاک فرماتا ہے :وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ
الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ
لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص:
73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں
آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔
اس سے
معلوم ہوا کہ کمائی کے لیے دن اور آرام کی لیے رات مقرر کرنی بہتر ہے ۔
اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوف ِخدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
(
حدائق بخشش، ص 111)
رات دیر
تک جاگنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان فجر کی نماز سے محروم ہوجاتا ہے۔فجر
کی نماز چھوڑ دینا نہ صرف گناہ ہے بلکہ دن بھر برکت سے محرومی کا سبب بھی بنتا ہے۔
حدیثِ مبارک میں ہے:اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا یعنی
اے اللہ!میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔(ابو
داود ، 3 / 51 ،حدیث : 2606)
ماہرینِ
صحت کے مطابق نیند کے دورانِ جسم سے melatonin نامی ہارمون خارج ہوتا ہے جو انسان کے دماغ
،دل اور اعصاب کو مضبوط بناتا ہے ۔ اگر انسان دیر تک جاگتا رہے تو یہ ہارمون صحیح
مقدار میں نہیں بنتا،جس سے ذہنی دباؤ اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔( نیچر ریسرچ جرنل ،2023)
کن اوقات میں نہیں سونا چاہیے؟عصر کے بعد نہ سوئیں کہ عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔
فرمانِ
مصطفےٰ ﷺ ہے : جو عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت
کرے۔( مسند ابی یعلی ،4/278،حدیث:4897)
دن کے
ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔
(بہارِ
شریعت،3/436)
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ صلیِ علیٰ کہتے کہتے
ہمیں یہ
سمجھنا ضروری ہے کہ نیند محض آرام کانام نہیں بلکہ یہ ایک ضرورت ہے جس کی تکمیل کے
بغیر انسانی جسم اور دماغ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ رات
کو جلد سونے اور صبح جلد جاگنے کی عادت اپنائیں تاکہ ہماری صحت ، ذہانت اور روزمرہ
کارکردگی بہترین رہے۔ رات کا سکون ضائع کر کے وقتی کام تو پورا ہو جاتا ہے مگر اس
کے اثرات زندگی بھر ساتھ رہتے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں وقت پر سونے اور صبح
جلدی اٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ
Dawateislami