کربلا درس زندگی ہے: اے عاشقان رسول یقیناً کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ مگر یاد رکھیے کربلا صرف ایک سانحہ نہیں۔ سانحے تو دنیا میں بہت سے ہوئے ہیں ظلم وستم کی بڑی بڑی داستانیں اس زمین میں قائم ہوئیں۔ مگر وہ سب مٹ گئیں آج لوگوں کے دل ودماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں اگر کربلا صرف سانحہ ہوتا تو تقریباً 1 ہزار 3 سو 82 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا لہذا کربلا ایک سانحہ نہیں یہ درس زندگی کی ایک پوری کتاب ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی بتاتا ہے ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے عظمت و شان سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔

یزید کی بری عادتیں: امام حسین رضی اللہ عنہ کے خطبے سے یزید کی جو 7 بری عادتیں معلوم ہوتی ہے ان میں سے چند یہ ہے یزید فاسق تھا شرابی تھا ظلم تھا یزید رحمن کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی پیروی کرتا تھا۔ (تاریخ طبری، 3/306 ملخصاً)

گناہوں کی نحوست: اب ہم اپنے کردار پر غور کریں کہ یزید فاسق ( جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے) تھا ہم میں سے کتنے ہیں جو گناہ تو کرتے مگر افسوس اس کا اعلان بھی کرتے ہیں، واقعہ کربلا کا درس یہ ہے کہ اصل حسینی ہونا اسی کو کہاجاتا ہے کی ہم گناہوں سے بچیں۔ اللہ پاک ہم گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

امام حسین کے اس فرمان ”یزید رحمن کی اطاعت چھوڑتا اور شیطان کی پیروی کرتا ہے“ اگر اس پر غور کریں تو نماز پڑھنا رحمن کی اطاعت اور نہ پڑھنا شیطان کی پیروی۔ ہم اپنا محاسبہ کریں کیا ہم نماز پڑھتے ہم روزے رکھتے ہیں جھوٹ غیبت اور چغلی شیطان کی پیروی ہے کیا ہم اس سے بچتے ہیں۔

دنیا پرستی: ایک اہم بات جو واقعہ کربلا سکھاتا ہے کہ یزید بد بخت نے میدان کربلا میں جتنا ظلم کیا یا کروایا یہ سب اصل میں دنیا کی محبت اور لالچ کا نتیجہ تھا، ہمیں آخرت کو کثرت سے یاد کرنا چاہئے تاکہ دل سے دنیا کی محبت نکلے اور نیکیاں کرنے کا ذہن بنے۔

اللہ کی خفیہ تدبیر: ہمیں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا چاہیے کہ مختار ثقفی جس نے چن چن کر یزیدیوں کا صفایا کیا اور محبینِ حسین کے دل جیتے مگر بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے مرتد ہوگیا ہمیں اللہ پاک سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرنی چاہیے۔

امام حسین نے حالتِ جنگ میں بھی نماز نہ چھوڑی لہٰذا ہمیں بھی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔

اللہ پاک ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں امام حسین کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور دل سوز باب ہے جس نے حق و باطل کے فرق کو ہمیشہ کیلئے واضح کردیا۔ واقعہ کربلا 10 محرم 61 ہجری کو میدان کربلا میں پیش آیا۔ جہاں نواسہ رسول جگر گوشئہ بتول امام حسین رضی اللہ عنہ نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو قبول فرمایا۔ یہ معرکہ امام حسین اور انکے جانثار ساتھیوں کی حق پرستی، صبر اور استقامت کی بے مثال داستان ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں سب سے پہلا سبق یہ دیتا ہے کہ حق کی خاطر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب اسلام کی حقیقی روح کو خطرہ لاحق ہو اور اس وقت کے حکمران یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو امام حسین نے صاف انکار کردیا۔ انکا یہ انکار ذاتی مفاد کیلئے نہ تھا بلکہ دین کی حفاظت کیلئے تھا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر حق کا سودا نہیں کرسکتا کیونکہ سچائی کی راہ میں مشکلات آتی ہیں، مگر سچا انسان حالات کے دباؤ میں آکر اپنے اصول نہیں چھوڑتا اس لیے امام حسین نے حق کا ساتھ دیتے ہوئے باطل کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار دراصل پوری امت کیلئے پیغام تھا کہ مسلمان کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔

واقعہ کربلا صبر اور استقامت کی اعلیٰ مثال بھی پیش کرتا ہے تین دن کی پیاس، شدید گرمی،بچوں کی تکلیف اور اپنے پیاروں کی شہادت، یہ سب ایسے حالات تھے جو کسی بھی انسان کو کمزور کرسکتے تھے لیکن امام حسین نے ہر حال میں رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھا اور صبر کا دامن نہ چھوڑا اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آزمائشیں ایمان کو مضبوط بنانے کیلئے آتی ہیں اور سچا مومن مشکلات میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔

واقعہ کربلا کا نہایت اہم پہلو پردہ دار پاک بیبیوں کا کردار ہے کہ میدان کربلا میں جہاں مردوں نے شجاعت اور قربانی کی مثال قائم کی، وہیں خواتین نے حیا، صبر، استقامت کی عظیم تاریخ رقم کی بالخصوص حضرت زینب بنت علی نے جس صبر، وقار اور حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا سخت ترین حالات میں بھی انہوں نے اپنی عزت، اپنی غیرت اور اپنے پردے کی حفاظت کی اور دشمنوں کے دربار میں کھڑے ہوکر کلمۂ حق بلند کیا۔

یہ خواتین دین کی محافظ تھیں انہوں نے مصائب برداشت کیے، قید و بند کی صعوبتیں(مشکلات)جھیلیں، مگر اپنے کردار اور حیاء پر آنچ نہ آنے دی۔ انکا یہ طرز عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پردہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ ایمان اور کردار کا نام ہے آج کی مسلمان عورت اگر ان پاک بیبیوں کی سیرت کو اپنالے تو وہ ہر میدان میں باوقار و باعزت رہ سکتی ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ اصل کامیابی دنیوی طاقت یا ظاہری فتح میں نہیں ہے بلکہ سچائی پر قائم رہنے میں ہے بظاہر امام حسین اور انکے ساتھی شہید ہوگئے مگر حقیقت میں وہی کامیاب ٹھہرے کیونکہ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور انکو آج بھی دنیا محبت کے ساتھ یاد کرتی ہے اور انکا تذکرہ ادب سے کیا جاتا ہے جبکہ ظلم کا نام نفرت سے لیا جاتا ہے۔ امام حسین رضی اللّٰہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی قربانی نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور امت کو بیداری کا درس دیا۔

الغرض واقعۂ کربلا ہمیں ایمان، صبر، قربانی، وفاداری اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان اصولوں کو اپنالیں، سچ کا ساتھ دیں اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں تو یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے، امام حسین کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور انکی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور سبق آموز واقعہ ہے جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین اسلام کی بقا کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ یہ واقعہ ہمیں صبر، حق پر استقامت اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ 15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ نے اسی قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا ساتھ دیا۔ آپ نے ظلم و جبر کو قبول نہ کیا بلکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دے کر دین کو زندہ کر دیا۔

نبی کریم ﷺ نے اہل بیت سے محبت کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔(ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)

یہ حدیث حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام اور ان سے محبت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی خاطر قربانی دینا سب سے بڑی سعادت ہے۔

کربلا کا سب سے بڑا سبق صبر اور استقامت ہے۔ شدید پیاس، بھوک اور مشکلات کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 153)

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظاہری طاقت اہم نہیں بلکہ حق پر قائم رہنا اصل کامیابی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کم تعداد کے باوجود باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور قیامت تک کے لئے حق و باطل کا معیار قائم کر دیا۔

ہمیں چاہئے کہ ہم واقعۂ کربلا سے سبق حاصل کریں، سچائی، صبر اور دین کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔ نیز اہل بیت اطہار سے محبت کریں اور ان کی سیرت پر عمل کریں۔

واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ اسلام کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے، بلکہ یہ ایک ایمان افروز واقعہ ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پ 2، البقرۃ: 154) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔

حضورﷺ نے بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی کی تھی۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ (ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)

واقعہ کربلا سے ہم نے کچھ سبق سیکھے ہیں:

1۔ حق پرستی: امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف حق کے لیے لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔

2۔ صبر و استقامت: امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں بہت صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔

3۔ قربانی: امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دی۔

4۔ ایمان کی حفاظت: امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

الغرض امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مسلمانوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ ہم کو بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

واقعہ کربلا سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں واقع کربلا سے سبق سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین


واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے جس کے اندر کئی درس پنہاں ہیں۔ یہ محض ایک حق و باطل کا معرکہ ہی نہیں بلکہ انسانیت  لیے ایک بہت بڑی مثال ہے کہ حق اور انصاف پر ثابت قدمی کس حد تک اختیار کی جاسکتی ہے

کربلا درس زندگی ہے: یقیناً کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مگر یاد رکھئے! کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، سانحے دنیا میں بہت ہوئے ہیں مگر آج لوگوں کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں، اگر کربلا بھی صرف ایک سانحہ ہوتا تو اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا، لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب بھی ہے، واقعۂ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی بتاتا ہے، ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے، زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے اور عظمت و شان سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔

واقعہ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ اس کے متعلق چند نکات پیش کئے گئے جاتے:

یزیدی کردار سے بچیں: امام حسین رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی قربانی کیوں پیش کی؟ یقیناً آپ کو تاج و تخت و حکومت سے کوئی سروکار نہیں تھا، آپ تو جنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں، آپ کو دنیا کی عارضی حکومت کی حرص بھلا کیسے ہو سکتی تھی؟ مگر امام حسین رضی اللہ عنہ آخر یزید کی بیعت کیوں نہیں کرتے تھے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو یزید کی ذات سے اختلاف نہیں تھا، آپ کو یزید کے کردار سے اختلاف تھا۔ اگر یزید کا کردار ستھرا ہوتا اور وہ قرآن و سنّت کا پیروکار ہوتا تو امام حسین رضی اللہ عنہ ہر گز اس کی بیعت سے انکار نہ فرماتے مگر اس بدبخت کاکردار اچھا نہیں تھا، اب ذرا غور فرمائیے! جب امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کے برے کردار سے خوش نہ ہوئے تو اگر وہی کردار ہمارا بھی ہو، جو عادتیں یزید کی تھیں، ویسی ہی عادتیں ہماری بھی ہوں، جیسا گندا اخلاق یزید کا تھا، ویسا ہی ہمارا بھی ہو تو کیا امام حسین رضی اللہ عنہ ہم سے خوش ہو جائیں گے؟

صبر کی اعلی مثال: واقعہ کربلا کا سب سے اہم درس صبر ہے کہ آلِ رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے صبر کی عظیم مثال پیش کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ یہاں ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں کس حد تک صبر سے کام لیتے ہیں اور بالخصوص اسلام کی سربلندی کے راستے میں آنے والی آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں یا ہمت ہار جاتے ہیں، یاد رہے کہ دین حق کی سربلندی کے لئے آزمائشوں پر صبر کا دامن نہ چھوڑنا ہی سنت حسینی ہے۔

امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

پیارے مبلغ ! معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے

دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا

حق و باطل میں فرق: واقعہ کربلا سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا ہے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے اگرچہ دنیاوی قوت زیادہ رکھتا ہو مگر حقیقی کامیابی حق پسند انسان کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ 15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔

یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں جان دینی بھی پڑ جائے اس کے باوجود باطل کے سامنے جھکنا نہیں ہے۔

حیا کا درس: اسلام میں پردے اور حیا کی کس قدر اہمیت ہے یہ بھی ہمیں واقعہ کربلا میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ آلِ رسول کی شہزادیوں نے نہایت ظلم و ستم کے باوجود بھی حیا اور پردے کو نہ چھوڑا اور ان کٹھن حالات میں بھی صبر کے دامن کو تھامے رکھا تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پردہ اور حیا کرتی ہیں جیسا کربلا میں دیکھنی کو ملی؟

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (مستدرک، 1/176،حدیث:66)

پیاری اسلامی بہنو! غور کیجیے کہ اسلام میں شرم و حیا کی کتنی اہمیت ہے! آج اسلام کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ مسلمانوں سےحیا کی چادر کھینچ لی جائے کہ جب حیا ہی نہ رہے گی تو ایمان خود ہی رخصت ہو جائے گا یعنی جس میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنی ہی وہ شرم و حیا والی ہوگی جبکہ جس کا ایمان جتنا کمزور ہوگا شرم و حیا بھی اس میں اتنی ہی کمزور ہوگی۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم واقعہ کربلا کی یاد محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ جو سبق ہمیں کربلا سے سیکھنے کو ملے انہیں اپنی زندگی میں عملی طور پر بھی نافذ کریں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین معرکہ کربلا ہے یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان تھا اہل کوفہ نے نواسہ رسول امام حسین کو خطوط وقاصد بھیج کر دھوکہ سے بلایا اور یزید منافق کی بیعت کرنے پر مجبور کیا امام حسین نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو یزیدی لشکر نے آپ پر آپ کے اہل خانہ اور جانثار وں پر ظلم وستم کرنا شروع کر دیا اور انہیں شہید کر دیا۔

ہر محرم الحرام میں تمام مسلمان سیدنا امام حسین کی شہادت پر اپنے قلبی رنج کا اظہار کرتے ہیں مگر ان غمزدگان میں بہت کم لوگ اس جانب، اس مقصد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی خاطر امام حسین نے اتنی بڑی قربانی دی۔ ہمارے لیے اس مقصد کو جاننا بہت ہی ضروری ہے جس کی خاطر نواسہ رسول امام حسین نے اپنا پورا خاندان قربان کردیا۔

آئیے مختصراً جانتے ہیں کہ واقعہ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا:

1۔ واقعہ کربلا سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دین سے محبت رکھنے والا دین کی بقا وسلامتی کی خاطر اپنے کسی بھی عزیز سے عزیز متاع کو بھی اللہ کی راہ میں لٹا اور مٹا دینے سے گریز نہیں کرتا۔

2۔ خدمت دین اور دعوت دین میں کبھی بھی پس وپیش کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب بھی موقع میسر ہو دین کے نام پر چل پڑنا اور دین کی سربلندی کے لیے ہر جائز کوشش کرنی چاہئے۔

3۔ دین کی حفاظت کے لیے اپنی محبوب چیز یں، گھر بار بلکہ اپنی جان بھی راہ خدا میں نذرانہ کرنا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

4۔ اگر دنیا کی اس عارضی زندگی میں مصیبتوں اور تکلیفوں کے تاریک بادل بھی چھا جائے تب بھی حکم خدا وند ی سے غفلت نہیں برتنی چاہیے بلکہ ہر حال میں حکم الٰہی بجا لانا چاہیے۔

5۔ نماز کی پابندی کرنی چاہیے ہر حال میں اپنے رب کے اگئے سجدہ ریز ہو نا چاہیے کہ امام حسین نے جنگ کے حالات میں جب ہر طرف تلواریں تھی تنے تنہا میدان میں تھے نماز کا وقت ہوا تو اپنے رب کے اگئے حاضر ہو گئے اور سجدے میں سر کٹا دیا۔ سبحان اللہ

6۔ واقعہ کربلا ہمیں درس دیتا ہے کہ جو بھی وعدہ کرو اسے پورا کرو اس پر مکمل عمل کرو۔

7۔ اسلام وایمان کی عظیم نعمت پاکر جھوٹ، غیبت، دھوکہ وفریب، ظلم اور حقوق اللہ حقوق العباد کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

8۔ دین اسلام ایک پر امن دین ہے اس لیے کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔

9۔ مسلمان کا شیوہ محبت قرآن اور عادت تلاوت قرآن ہے امام حسین نے نیزے پر قرآن پڑھا واہ کیا محبت ہے قرآن سے۔

اللہ کریم ہمیں اہل بیت کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں اہل بیت کا خوب خوب فیضان عطا فرمائے اور ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔