واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت محمد عمران، جامعۃ المدینہ میانہ پورہ سیالکوٹ
واقعہ کربلا
ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ اسلام کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امام
حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے، بلکہ یہ ایک ایمان افروز واقعہ ہے جس سے
ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
قرآن مجید میں
اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ
اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پ 2، البقرۃ:
154) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو،
بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے
ہیں اور اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔
حضورﷺ نے بھی
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی کی تھی۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے
فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ (ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)
واقعہ کربلا
سے ہم نے کچھ سبق سیکھے ہیں:
1۔
حق پرستی: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف حق کے لیے لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔
2۔
صبر و استقامت: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں بہت صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔
3۔
قربانی: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دی۔
4۔
ایمان کی حفاظت: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
الغرض امام
حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مسلمانوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے ظلم کے
خلاف آواز اٹھائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ ہم کو بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے
اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
واقعہ کربلا
سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کر سکتے
ہیں۔
اللہ ہمیں
واقع کربلا سے سبق سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت طاہر حسین،جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
واقعہ کربلا
اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے جس کے اندر کئی درس پنہاں ہیں۔ یہ محض ایک حق و
باطل کا معرکہ ہی نہیں بلکہ انسانیت لیے
ایک بہت بڑی مثال ہے کہ حق اور انصاف پر ثابت قدمی کس حد تک اختیار کی جاسکتی ہے
کربلا
درس زندگی ہے: یقیناً
کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مگر یاد رکھئے! کربلا صرف ایک
سانحہ نہیں، سانحے دنیا میں بہت ہوئے ہیں
مگر آج لوگوں کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں، اگر کربلا بھی صرف ایک سانحہ ہوتا تو اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود
اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا، لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب بھی ہے،
واقعۂ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی
بتاتا ہے، ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے، زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے اور عظمت و شان
سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔
واقعہ کربلا
سے ہم نے کیا سیکھا؟ اس کے متعلق چند نکات پیش کئے گئے جاتے:
یزیدی
کردار سے بچیں: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی قربانی
کیوں پیش کی؟ یقیناً آپ کو تاج و تخت و حکومت سے کوئی سروکار نہیں تھا، آپ تو
جنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں، آپ کو دنیا کی عارضی حکومت کی حرص بھلا کیسے ہو سکتی
تھی؟ مگر امام حسین رضی اللہ عنہ آخر یزید کی بیعت کیوں نہیں کرتے تھے؟ اس کی
وجہ یہ ہے کہ آپ کو یزید کی ذات سے اختلاف
نہیں تھا، آپ کو یزید کے کردار سے اختلاف تھا۔ اگر یزید کا کردار ستھرا ہوتا
اور وہ قرآن و سنّت کا پیروکار ہوتا تو
امام حسین رضی اللہ عنہ ہر گز اس کی بیعت
سے انکار نہ فرماتے مگر اس بدبخت کاکردار اچھا نہیں تھا، اب ذرا غور فرمائیے! جب
امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کے برے کردار
سے خوش نہ ہوئے تو اگر وہی کردار ہمارا بھی ہو، جو عادتیں یزید کی تھیں، ویسی ہی
عادتیں ہماری بھی ہوں، جیسا گندا اخلاق یزید کا تھا، ویسا ہی ہمارا بھی ہو تو کیا
امام حسین رضی اللہ عنہ ہم سے خوش ہو
جائیں گے؟
صبر
کی اعلی مثال: واقعہ
کربلا کا سب سے اہم درس صبر ہے کہ آلِ رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے صبر کی
عظیم مثال پیش کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ یہاں ہمیں غور کرنا چاہیے کہ
ہم زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں کس حد تک صبر سے کام لیتے ہیں اور بالخصوص
اسلام کی سربلندی کے راستے میں آنے والی آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں یا ہمت ہار جاتے
ہیں، یاد رہے کہ دین حق کی سربلندی کے لئے آزمائشوں پر صبر کا دامن نہ چھوڑنا ہی
سنت حسینی ہے۔
امیر اہل سنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
پیارے
مبلغ ! معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے
دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا
حق
و باطل میں فرق: واقعہ
کربلا سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا ہے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے اگرچہ
دنیاوی قوت زیادہ رکھتا ہو مگر حقیقی
کامیابی حق پسند انسان کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ
وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ
15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو
مٹنا ہی تھا۔
یہ واقعہ
سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں جان دینی بھی پڑ جائے اس کے باوجود باطل کے سامنے
جھکنا نہیں ہے۔
حیا
کا درس: اسلام
میں پردے اور حیا کی کس قدر اہمیت ہے یہ بھی ہمیں واقعہ کربلا میں دیکھنے کو ملتی
ہے کہ آلِ رسول کی شہزادیوں نے نہایت ظلم و ستم کے باوجود بھی حیا اور پردے کو نہ
چھوڑا اور ان کٹھن حالات میں بھی صبر کے دامن کو تھامے رکھا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پردہ اور
حیا کرتی ہیں جیسا کربلا میں دیکھنی کو ملی؟
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو
دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (مستدرک، 1/176،حدیث:66)
پیاری اسلامی
بہنو! غور کیجیے کہ اسلام میں شرم و حیا کی کتنی اہمیت ہے! آج اسلام کے دشمنوں کی
یہی سازش ہے کہ مسلمانوں سےحیا کی چادر کھینچ لی جائے کہ جب حیا ہی نہ رہے گی تو
ایمان خود ہی رخصت ہو جائے گا یعنی جس میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنی ہی وہ شرم و
حیا والی ہوگی جبکہ جس کا ایمان جتنا کمزور ہوگا شرم و حیا بھی اس میں اتنی ہی
کمزور ہوگی۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ ہم واقعہ کربلا کی یاد محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ جو سبق ہمیں کربلا
سے سیکھنے کو ملے انہیں اپنی زندگی میں عملی طور پر بھی نافذ کریں۔
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت ایاز خان، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
تاریخ اسلام
کا ایک اہم ترین معرکہ کربلا ہے یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان تھا اہل کوفہ نے
نواسہ رسول امام حسین کو خطوط وقاصد بھیج کر دھوکہ سے بلایا اور یزید منافق کی
بیعت کرنے پر مجبور کیا امام حسین نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو یزیدی لشکر نے آپ
پر آپ کے اہل خانہ اور جانثار وں پر ظلم وستم کرنا شروع کر دیا اور انہیں شہید کر
دیا۔
ہر محرم
الحرام میں تمام مسلمان سیدنا امام حسین کی شہادت پر اپنے قلبی رنج کا اظہار کرتے
ہیں مگر ان غمزدگان میں بہت کم لوگ اس جانب، اس مقصد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی
خاطر امام حسین نے اتنی بڑی قربانی دی۔ ہمارے لیے اس مقصد کو جاننا بہت ہی ضروری
ہے جس کی خاطر نواسہ رسول امام حسین نے اپنا پورا خاندان قربان کردیا۔
آئیے مختصراً
جانتے ہیں کہ واقعہ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا:
1۔ واقعہ
کربلا سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دین سے محبت رکھنے والا دین کی بقا وسلامتی کی
خاطر اپنے کسی بھی عزیز سے عزیز متاع کو بھی اللہ کی راہ میں لٹا اور مٹا دینے سے
گریز نہیں کرتا۔
2۔ خدمت دین
اور دعوت دین میں کبھی بھی پس وپیش کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب بھی موقع میسر
ہو دین کے نام پر چل پڑنا اور دین کی سربلندی کے لیے ہر جائز کوشش کرنی چاہئے۔
3۔ دین کی
حفاظت کے لیے اپنی محبوب چیز یں، گھر بار بلکہ اپنی جان بھی راہ خدا میں نذرانہ
کرنا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
4۔ اگر دنیا
کی اس عارضی زندگی میں مصیبتوں اور تکلیفوں کے تاریک بادل بھی چھا جائے تب بھی حکم
خدا وند ی سے غفلت نہیں برتنی چاہیے بلکہ ہر حال میں حکم الٰہی بجا لانا چاہیے۔
5۔ نماز کی
پابندی کرنی چاہیے ہر حال میں اپنے رب کے اگئے سجدہ ریز ہو نا چاہیے کہ امام حسین
نے جنگ کے حالات میں جب ہر طرف تلواریں تھی تنے تنہا میدان میں تھے نماز کا وقت
ہوا تو اپنے رب کے اگئے حاضر ہو گئے اور سجدے میں سر کٹا دیا۔ سبحان اللہ
6۔ واقعہ
کربلا ہمیں درس دیتا ہے کہ جو بھی وعدہ کرو اسے پورا کرو اس پر مکمل عمل کرو۔
7۔ اسلام
وایمان کی عظیم نعمت پاکر جھوٹ، غیبت، دھوکہ وفریب، ظلم اور حقوق اللہ حقوق العباد
کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
8۔ دین اسلام
ایک پر امن دین ہے اس لیے کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
9۔ مسلمان کا
شیوہ محبت قرآن اور عادت تلاوت قرآن ہے امام حسین نے نیزے پر قرآن پڑھا واہ کیا
محبت ہے قرآن سے۔
اللہ کریم
ہمیں اہل بیت کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں اہل بیت کا خوب خوب فیضان عطا فرمائے
اور ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami