واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور دل سوز باب ہے جس نے حق و باطل کے فرق کو ہمیشہ کیلئے واضح کردیا۔ واقعہ کربلا 10 محرم 61 ہجری کو میدان کربلا میں پیش آیا۔ جہاں نواسہ رسول جگر گوشئہ بتول امام حسین رضی اللہ عنہ نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو قبول فرمایا۔ یہ معرکہ امام حسین اور انکے جانثار ساتھیوں کی حق پرستی، صبر اور استقامت کی بے مثال داستان ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں سب سے پہلا سبق یہ دیتا ہے کہ حق کی خاطر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب اسلام کی حقیقی روح کو خطرہ لاحق ہو اور اس وقت کے حکمران یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو امام حسین نے صاف انکار کردیا۔ انکا یہ انکار ذاتی مفاد کیلئے نہ تھا بلکہ دین کی حفاظت کیلئے تھا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ مسلمان اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر حق کا سودا نہیں کرسکتا کیونکہ سچائی کی راہ میں مشکلات آتی ہیں، مگر سچا انسان حالات کے دباؤ میں آکر اپنے اصول نہیں چھوڑتا اس لیے امام حسین نے حق کا ساتھ دیتے ہوئے باطل کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار دراصل پوری امت کیلئے پیغام تھا کہ مسلمان کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔

واقعہ کربلا صبر اور استقامت کی اعلیٰ مثال بھی پیش کرتا ہے تین دن کی پیاس، شدید گرمی،بچوں کی تکلیف اور اپنے پیاروں کی شہادت، یہ سب ایسے حالات تھے جو کسی بھی انسان کو کمزور کرسکتے تھے لیکن امام حسین نے ہر حال میں رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھا اور صبر کا دامن نہ چھوڑا اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آزمائشیں ایمان کو مضبوط بنانے کیلئے آتی ہیں اور سچا مومن مشکلات میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔

واقعہ کربلا کا نہایت اہم پہلو پردہ دار پاک بیبیوں کا کردار ہے کہ میدان کربلا میں جہاں مردوں نے شجاعت اور قربانی کی مثال قائم کی، وہیں خواتین نے حیا، صبر، استقامت کی عظیم تاریخ رقم کی بالخصوص حضرت زینب بنت علی نے جس صبر، وقار اور حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا سخت ترین حالات میں بھی انہوں نے اپنی عزت، اپنی غیرت اور اپنے پردے کی حفاظت کی اور دشمنوں کے دربار میں کھڑے ہوکر کلمۂ حق بلند کیا۔

یہ خواتین دین کی محافظ تھیں انہوں نے مصائب برداشت کیے، قید و بند کی صعوبتیں(مشکلات)جھیلیں، مگر اپنے کردار اور حیاء پر آنچ نہ آنے دی۔ انکا یہ طرز عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پردہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ ایمان اور کردار کا نام ہے آج کی مسلمان عورت اگر ان پاک بیبیوں کی سیرت کو اپنالے تو وہ ہر میدان میں باوقار و باعزت رہ سکتی ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ اصل کامیابی دنیوی طاقت یا ظاہری فتح میں نہیں ہے بلکہ سچائی پر قائم رہنے میں ہے بظاہر امام حسین اور انکے ساتھی شہید ہوگئے مگر حقیقت میں وہی کامیاب ٹھہرے کیونکہ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور انکو آج بھی دنیا محبت کے ساتھ یاد کرتی ہے اور انکا تذکرہ ادب سے کیا جاتا ہے جبکہ ظلم کا نام نفرت سے لیا جاتا ہے۔ امام حسین رضی اللّٰہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی قربانی نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور امت کو بیداری کا درس دیا۔

الغرض واقعۂ کربلا ہمیں ایمان، صبر، قربانی، وفاداری اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان اصولوں کو اپنالیں، سچ کا ساتھ دیں اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں تو یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے، امام حسین کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور انکی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد