الحمدللہ
تعالی ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا
ہونا ضروری ہے کیونکہ اسلام ایک مستحکم دین ہے جو کہ عدل و انصاف کا حامل ہے جیسا
کہ اگر کوئی بندہ عمل کرتا ہے تو جس قدر اس عمل کی حیثیت ہوتی ہے اس قدر بندہ جزا
کا مستحق ہوتا ہے اور اگر اس کا برعکس کریں تو جس قدر برا عمل ہوگا اس قدر بندہ
سزا کا مستحق ہوگا اور ہمارا مقصد بھی ایک برے عمل یعنی فساد فی الارض کی مذمت کو
بیان کرنا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں۔(سورۃالمائدۃ:33)
اس آیت
مبارکہ میں فساد فی الارض کی جزا قتل وغیرہ کو مقرر کیا گیا ہے حالانکہ قتل کے
بارے میں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے :مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ
فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے
بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃالمائدۃ:32)
حالانکہ
اس میں قتل کی مذمت بیان ہوئی ہے جبکہ پہلی آیت میں فساد کی کوشش کرنے والوں کو
قتل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ امتوں میں انبیاء کرام کا فساد فی الارض
سے روکنا :جس طرح فساد فی الارض سے دین اسلام نے روکا اور اس کی مذمت بیان فرمائی
اسی طرح گزشتہ امتوں میں بھی انبیاء کرام نے اس مذموم کام سے رکنے کا حکم ارشاد
فرمایا ہے جیسا کہ حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اپنی قوم کو نیکی کی دعوت
دی تو انہیں فساد فی الارض سے بھی منع فرمایا چنانچہ : وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۷۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔(الاعراف:74)
اسی طرح
حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا جس طرح فرمایا:
وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶)
ترجمہ کنز
الایمان :اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔(العنکبوت:36)
اسی طرح
حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی قوم سے فرمایا :
وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)
ترجمہ کنز
الایمان: اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو۔ (سورۃ
البقرۃ:60)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس برے کام سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami