اصحاب بیعت
رضوان ان خوش نصیب صحابہ کرام کو کہا جاتا ہے جنہوں نے بیعت رضوان کے موقع پر حضرت
محمد ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی۔
بیعت
رضوان کا پس منظر: یہ واقعہ 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر پیش آیا جب
نبی کریم ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ گئے تو کفار قریش نے انہیں روک دیا اسی
دوران یہ خبر پھیلی کہ سفیر رسول حضرت عثمان بن عفان کو شہید کر دیا گیا ہے یہ سن
کر حضور نے تمام صحابہ سے یہ عہد لیا کہ وہ اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے
جان ہی نہ دینی پڑے۔
بیعت
کا منظر: صحابہ
کرام نے ایک درخت کے نیچے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اس موقع پر تقریبا 1400 صحابہ
موجود تھے اس بیت کو اللہ تعالی نے قران مجید میں خاص طور پر سراہا
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ
الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
اصحاب
بیت رضوان کی فضیلت:
اللہ تعالیٰ
نے خود ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا یہ صحابہ غیر معمولی وفاداری اور قربانی کے
جذبے کے حامل تھے ان کے بارے میں احادیث میں بھی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
چند
نمایاں اصحاب بیعت رضوان: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق،
حضرت عثمان غنی، حضرت علی رضی اللہ عنہم۔
حضرت عثمان اس
وقت مکہ میں تھے مگر حضور ﷺ نے ان کی طرف سے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔
اصحاب بیعت
رضوان کی فضیلت کے بارے میں بخاری میں متعدد احادیث آئی ہیں ان میں سے ایک مشہور
حدیث یہ ہے کہ وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس نے درخت کے نیچے بیعت کی۔(ترمذی،
5/462، حديث: 3886)
حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: تم بیعت
رضوان والے اس وقت زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔
تمام اصحاب بیعت
رضوان کی عصمت واضح ہے اور حضرت محمد ﷺ نے بھی ان کے لیے خیر کی بشارت فرمائی۔
اہل
حدیبیہ کی مغفرت: حضرت
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو بدر
اور حدیبیہ میں شریک ہوا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)
حضرت سلمہ بن الاکوع
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی اور یہ بیعت موت
پر تھی یعنی جان قربان کرنے کا عہد۔
جب حضرت عثمان
بن عفان رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے اور بیعت میں موجود نہ تھے تو نبی کریم ﷺ نے
اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا: یہ عثمان کی طرف سے ہے۔ (ترمذی،
5/395، حدیث: 3726) یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ حضور ﷺ اپنے ہر صحابی کا کتنا
خیال رکھتے تھے اور انہیں بیعت کی فضیلت سے محروم نہیں رکھا، بیعت رضوان کے موقع
پر اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ سے اپنی رضا کا اعلان کیا اور نبی کریم ﷺ بھی ان سے
انتہائی خوش تھے آپ ﷺ ان کے لیے دعائیں فرماتے اور ان کی وفاداری کو سراہتے تھے۔
حضور ﷺ نے ان
صحابہ پر مکمل اعتماد کیا جب بیعت لی تو یہ دراصل ان کی وفاداری اور قربانی پر
اعتماد کا اظہار تھا آپ ﷺ نے انہیں اپنے سب سے قریبی اور مخلص ساتھیوں میں شمار
کیا۔
اصحاب بیعت
رضوان کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت خصوصی بشارتوں میں ظاہر ہوئی، ہر صحابی کے خیال
رکھنے میں نظر آئی، دعا اعتماد اور عزت کی شکل میں سامنے آئی، یہ تعلق محبت وفاداری
اور ایمان کا ایک کامل نمونہ ہے جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ہم وہ خوش
نصیب امت ہیں جن تک حضور ﷺ کی محبت اور اصحاب بیعت رضوان کی محبت ہم تک سینہ بہ
سینہ منتقل ہوئی اور تاقیامت رہے گی اور یہ سلسلہ تاقیامت منتقل ہوتا رہے گا۔ حضور
کو اصحاب بیعت رضوان سے بہت محبت تھی۔
ان عظیم
ہستیوں کے بارے میں قرآن پاک میں بھی چند جگہ ان کے متعلق آیتیں ہیں آئیے ہم بھی
کچھ آیتیں سنتے ہیں کہ اس سے ہمارے دلوں میں ان کی عقیدت مزید اجاگر ہو۔
چنانچہ پارہ
11 سورۂ توبہ کی آیت نمبر 100 میں ارشاد ہوتا ہے: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ
رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)ترجمہ
کنز الایمان: اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے
لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی
کامیابی ہے۔
اس آیت میں کس
قدر شان بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی اور ان کے اعمال کو قبول
فرما کر ان کو دائمی رضا اور جنت کی بشارت دی ہے۔ جن میں ان صحابہ کرام کی شان اور
ان کا مقام اور دیگر خوبیاں اور کمالات بیان کیے گئے ہیں۔
صحابہ
کرام کی عظمت پر فرامین مصطفیٰ:
1۔ ارشاد
فرمایا: جس نے میرے اصحاب کے متعلق بری بات کہی تووہ میرے طریقے سے ہٹ گیااس کا
ٹھکانا آگ ہے۔ (ریاض النضرۃ، 1/ 22)
2۔ روایت ہے
حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ
کہو کیونکہ اگر تم میں کوئی احد(پہاڑ)بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو
پہنچے نہ آدھے کو۔ (ترمذی، 5/462، حدیث: 3887)
ان احادیث میں
صحابہ کرام کی شان بیان کی گئی ہے اور ان سے بغض رکھنے والوں کے لیے قیامت کے دن عذاب
تیار کر رکھا ہے۔ ان کے بغض سے صحابہ کرام کی شان میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ ان
کی تو مزید شان بڑھی ہے۔اور کیوں نہ ہو یہ صحابہ کرام حضور کے محافظ تھے اور بعض
صحابہ اکرام کو جنت کی بشارت دنیا ہی میں دے دی۔
اس دور میں ان
کی عزت وناموس کا پہرہ دینے کیلئے علمائے کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اور اللہ کے فضل
سے یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اور آج اس پرفتن دور میں بھی یہ ذمہ داری امیر
اہلسنّت مولانا ابو بلال الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ان
سب کے دلوں کے اندر حضور اکرم ﷺ کی محبت اس قدر جاگزیں ہوگئی ہے کہ ان کے دلوں کے
ٹکڑے بھی کردیئے جائیں پھر بھی یہ محبت ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس قدر بس چکی ہیں
کہ ان کے دل کے ٹکڑوں سے بھی اصحاب واہلِ بیت کی محبت کی خوشبو آئے گی۔
اسی لیے تو
مرشد کہتے ہیں:
آسرا
عطار کا، اصحاب و اہل بیت ہیں
یہ وہ مبارک
ہستیاں ہیں جن کی ان تھک محنت سے دین اسلام کی تبلیغ ہوئی اور اپنا تن من دھن سب
قربان کردیا۔اور ان مبارک ہستیوں نے ابتدائے اسلام کے مشکل ماحول میں بھوک پیاس
برداشت کرکے،پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے قریبی رشتہ داروں سے دشمنیاں مول لے لی اور
اسلام کا پرچم بلند کیا۔اور یہ ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم ان اصحاب
کے نام لیوا ہیں اور ہمیں اللہ کی عبادت سے روکنے والی کوئی چیز حائل نہیں ہے یہ
سب ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے اور ہم ان ہستیوں کا جتنا شکر کریں کم ہیں۔ بندہ
مومن کیلئے لازمی ہے کہ وہ صحابہ و اہل بیت اطہار سے بھی محبت رکھے اور ساتھ اہل
بیت کا خادم ہوں۔اور حبیب خدا مکی مدنی مصطفی ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے کےلیے ہمیں
بھی اپنے دل میں صحابہ و اہل بیت کی محبت رکھنی چاہیے سیدوں سے بھی محبت رکھنی
چاہیے کیونکہ یہ جنت میں لے جانے کا سبب ہے اور عشق رسول کا تقاضا ہے۔
دو
عالم نہ کیوں ہو نثارِ صحابہ کہ ہے عرش منزل وقار ِصحابہ
امیں
ہیں یہ قرآن و دِین ِ خدا کے مدارِ ہدیٰ اعتبارِ صحابہ
خلافت،
امامت، ولایت، کرامت
ہر اک
فضل پر اقتدارِ صحابہ
یہ وہ صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے
آپ ﷺ کے دست مبارک پر کفار مکہ کے خلاف آخری دم تک لڑنے کی بیعت کی اور اللہ کریم
نے اس بیعت پر اپنی رضا کی خوشخبری دی۔ ان کی تعداد 1400 تھی۔
ان میں حضرت
ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت علی مرتضیٰ و حضرت عثمان غنی (جن کی نمائندگی
آپ نے خود کی) حضرت طلحہ بن عبید اللہ و حضرت زبیر بن عوام و حضرت سعد بن ابی وقاص
و حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت جابر بن عبداللہ اور ان کے علاوہ مہاجرین اور انصار
کے ممتاز اکابرین شامل تھے۔
یہ بیعت
اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور اس میں شامل تمام صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم جنتی ہیں۔
بیعت رضوان
میں شریک صحابہ کرام کو ”اصحاب شجر“ بھی کہا جاتا ہے۔
اصحاب
بیعت رضوان کیلئے رضائے مصطفیٰ ﷺ کا پروانہ: نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: وہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی
دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 104، حدیث: 6404)
شارح مسلم
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: علمائے کرام نے فرمایا کہ اس
حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ بیعت رضوان کرنے والے صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی
دوزخ میں نہ جائے گا اور حدیثِ پاک میں جو ان شاء اللہ کہا گیا ہے، یہ شک کی وجہ
سے نہیں بلکہ (اللہ پاک کے نام کی) برکت حاصل کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ (شرح النووی
علی مسلم، 8/58)
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: سب سے افضل میں اور میرے صحابہ ہیں۔ عرض کی گئی: پھر کون افضل ہے؟ ارشاد
فرمایا: *پھر وہ لوگ افضل ہیں جو ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔ عرض کی گئی: پھر کون؟
ارشاد فرمایا: *پھر وہ جو ان کی پیروی کریں گے۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/94، رقم: 1043) یعنی آپ ﷺ کو ان سب صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم سے محبت تھی اور یہ حدیث فرما کر ان کے درجات کو بلند فرمایا۔
صحابہ
کرام کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ: مسلمانوں کا مضبوط عقیدہ ہے کہ تمام
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم متقی و پرہیزگار ہیں۔ ان کا ذکر ادب و محبت اور توقیر کے
ساتھ کیا جاتا ہے۔ تمام مہاجرین کرام جنتی ہیں، وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے اور
وہ روزِمحشر فرشتے ان کااستقبال کریں گے۔
اصحاب
بیعت رضوان کیلئے اللہ کی رضا کی خوشخبری: اللہ پاک پارہ 17 سورۃ الانبیاء
آیت نمبر 101 سے 103 میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جن کے لیے
ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں، وہ اس کی بھنک نہ
سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں غم میں نہ ڈالے گا
وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن
جس کا تم سے وعدہ تھا۔
حضور
کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت از بنت محمد طارق،سراجا منیرا گجرات
بیعت رضوان
تاریخ اسلام کا وہ ایمان افروز واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ
عنہ کی بے پناہ محبت وفاداری اور قربانی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے اور ان سے صرف
حضور ہی راضی نہیں بلکہ اللہ بھی ان سے راضی ہے۔ آئیے قرآن پاک سے اہل بیعت رضوان کی
شان سنتے ہیں۔
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ
الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
حدیبیہ میں
حاضر ہونے سے پیچھے رہ جانے والوں کے احوال بیان کرنے کے بعد یہاں سے اس کی تفسیر
میں ہے: اے پیارے حبیب ﷺ بے شک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ حدیبیہ کے مقام
پر درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے اور جس پر بیعت کر رہے تھے اس سے متعلق ان
کے دلوں میں موجود صدق اخلاص اور وفا سب اللہ کو معلوم تھا تو اللہ نے ان کے دلوں
پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا اس سے خیبر کی فتح مراد
ہے جو کہ حدیبیہ سے واپس آنے کے چھ ماہ بعد حاصل ہوئی۔ (تفسیر کبیر، 10/49)
آئیے بیعت
رضوان میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کی فضیلت سنتے ہیں۔ اس بیعت میں جن صحابہ
کرام نے شرکت فرمائی ان کی ایک فضیلت تو اسی آیت میں بیان ہوئی کہ اللہ نے انہیں
خاص طور پر اپنی رضا سے نوازا اور دوسری فضیلت حدیث پاک میں بیان ہوئی، جیسا کہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے درخت
کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حدیث:3886)
بیعت
رضوان کا پس منظر: حدیبیہ کے مقام پر جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
بیعت کی انہیں چونکہ رضائے الہی کی بشارت دی گئی اس لیے اس بیعت کو ”بیعت رضوان“
کہتے ہیں۔
اس بیعت کا ظاہری
سبب یہ پیش آیا کہ حضور ﷺ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اشرافِ
قریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ انہیں اس بات کی خبر دیں کہ حضور ﷺ کعبہ کی
زیارت کے لیے عمرہ کے ارادے سے تشریف لائے ہیں اور آپ کا ارادہ جنگ کرنے کا نہیں
ہے اور ان سے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلا
دیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ اپنے دین کو غالب فرما دے گا۔ حضرت
عثمان سردان قریش کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں خبر دی قریش اس بات پر متفق رہے
کہ نبی کریم ﷺ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا
کہ اگر آپ کعبہ مکرمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں حضرت عثمان غنی نے فرمایا:
ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بغیر طواف کروں ادھر حدیبیہ میں موجود
مسلمانوں نے کہا حضرت عثمان بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ مکرمہ پہنچے اور طواف سے
مشرف ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ کے کمزور
مسلمانوں کو فتح کی بشارت بھی پہنچائی پھر قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو روک
لیا اور حدیبیہ میں خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کروا دیے
گئے ہیں اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم سے کفار کے مقابلے میں جہاد پر ثابت قدم رہنے کی بیعت لی یہ بیعت ایک بڑے
خوار دار درخت کے نیچے ہوئی جس سے عرب میں سمرہ کہتے ہیں حضور ﷺ نے اپنا بایاں دست
مبارک دائیں دست مبارک میں لے لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے اور دعا
فرمائی یا رب عثمان تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے کام میں ہیں۔
اس واقعے سے
معلوم ہوتا ہے کہ سید المرسلین ﷺ کو نور نبوت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خوفزدہ
ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی کو بھیج دیا۔ یہ واقعہ بھی شان اہل بیعت رضوان
پر دلالت کرتا ہے۔ (خازن، 4 150، 151،خزائن العرفان، ص 943)
حضور
کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت از بنت عابد حسین،فیض مدینہ نارتھ کراچی
بیعتِ رضوان
کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال پیش آیا۔ ذو القعدۃ 6 ہجری میں حضور ﷺ 1400 صحابہ کرام
کے ہمراہ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ کیلئے روانہ ہوئے لیکن کفار مکہ نے
مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی نہ کرنے دی۔ حضور ﷺ نے حضرت عثمان کو مسلمانوں کی
جانب سے سفیر بنا کر بھیجا کہ وہ قریش کو یہ خبر دیں کہ ہم جنگ کیلئے نہیں آئے صرف
زیارت کے قصد سے آئے ہیں۔ حضرت عثمان کے مکہ پہنچنے کے بعد یہ خبر پھیلا دی گئی کہ
آپ کو قریش نے شہید کر دیا ہے اس پر قصاص عثمان کیلئے حضور نے مسلمانوں سے ایک
بیعت لی حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم سے مرنے پر حضور نے بیعت نہ لی بلکہ اس بات پر
بیعت لی کہ ہم جنگ سے نہ بھاگیں۔ (سیرت ابن ہشام، 3/104) چونکہ یہ بیعت رضائے الہی
پر مبنی تھی اس لئے اس بیعت کو بیعت رضوان اور اس کے صاحبین کو اصحابِ بیعتِ رضوان
کہا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق ان کی تعداد 1400 یا 1500 تھی ان صحابہ کے بے شمار
فضائل ہیں اور حضور ﷺ کو ان صحابہ سے بے حد محبت تھی۔ محبت کے چند واقعات درج ذیل
ہیں۔
عثمان
غنی کا ہاتھ اپنا ہاتھ قرار دینا: بیعت رضوان میں حضور نے اپنا بایاں
ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ بخاری شریف
میں ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ عثمان کی
بیعت ہے پھر اسے بائیں ہاتھ پر مارا۔(ترمذی، 5/395، حدیث: 3726) یہ محبت اور
اعتماد کا اعلیٰ ترین اظہار تھا کہ آپ علیہ الصلوٰۃ السلام نے حضرت عثمان کے ہاتھ
کو اپنا دست مبارک قرار دیا۔
جنت
کی بشارت: حضرت
جابر سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:جن لوگوں نےدرخت کے نیچے بیعت کی تھی ان
میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)
خدا
کی رضا کا اعلان: ان
اصحاب سے محبت مصطفیٰ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں
اللہ پاک نے ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ
الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
انگلیوں
سے پانی کا جاری فرمانا: حدیبیہ کے مقام پر جب پانی کی قلت تھی
اس موقع پر ان اصحاب کیلئے آپ علیہ السلام نے اپنی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے
چشمہ جاری فرمائے چنانچہ
حضرت جابر رضی
اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہوچکا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چھاگل تھا، اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ
کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا
رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا، نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے
سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن
میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے
لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے پوچھاگیا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اگر ہم ایک
لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہوجاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
(بخاری، 2/493، حدیث: 3576)
انگلیاں
پائیں وہ پیاری پیاری، جن سے دریائے کرم ہے جاری
جوش
پر آتی ہےجب غم خواری تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں
بیعت
رضوان کا واقعہ: حضرت
عثمان غنی مکہ پہنچے اور قریش کے سرداروں کو یقین دلانے لگے لیکن وہ ٹس سے مس نہ
ہوئے انہوں نے حضرت عثمان کو پیش کش کی کہ اپ خود طواف کر لیں دوسروں کی بات مت
کریں مگر حضرت عثمان غنی نے فرمایا اللہ کی قسم میں ہرگز اس گھر کا طواف نہ کروں
گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کا طواف نہ فرما لیں بات بڑھ گئی اور ان کا قیام وہاں
طول پکڑ گیا، ایسے میں یہ افواہ سرگرم ہوگئی کہ حضرت عثمان کو قریش نے شہید کر دیا
ہے مصطفی جان رحمت ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ عثمان کے خون کا بدلہ
لینا فرض ہے یہ فرما کر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ
تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار رہو
گے تمام صحابہ نے یہ عہد لے کر آپ کی بیعت کی یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخ
اسلام میں بیعت الرضوان ہے اس درخت اور اس کے نیچے ہونے والی بیعت کا ذکر قرآن پاک
میں دو مقامات سورۂ مائدہ اور سورۂ فتح کی کئی آیات میں آیا ہے۔ بیعت الرضوان 6 ہجری
میں صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوئی اور اس بیعت میں تقریبا 1400 صحابہ کرام نے شرکت
کی۔
یہ بیعت ہو
جانے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی کی شہادت کی خبر غلط تھی وہ حیات تھے اور
ٹھیک تھے۔
اللہ تعالی نے
ان سےراضی ہونے کا اعلان فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ
یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
حضور
کی ان سے محبت کی جھلکیاں:
حضور ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان سے بہت محبت کی اور انہیں جنت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: جو
شخص بیعتِ رضوان میں شریک تھا وہ جنت میں جائے گا۔ (ترمذی، 5/463، حديث: 3889)
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ انہیں بخش دے اور ان پر
رحم کرے۔
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دنیا کے بہترین لوگ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا۔
بیعت
الرضوان میں شریک چند اصحاب کے نام:
1 حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ 2حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 3حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ 4حضرت
علی المرتضی رضی اللہ عنہ 5حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ 6حضرت سعد بن عبادہ رضی
اللہ عنہ۔
اصحاب
بیعت الرضوان سے محبت:
حضور ﷺ نے ان
کی قربانی کو سراہا اور انہیں جنت کی بشارت دی یہ صحابی حضور ﷺ کے ساتھ ہر میدان
میں شامل رہے اور اسلام کی ترویج کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا حضور ﷺ کو
اصحاب بیعت الرضوان سے بہت محبت تھی۔
حضور کی
اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت از بنت ڈاکٹر محمد شہباز عطاری، فیصل آباد پنجاب
اللہ پاک نے
اپنے آخری نبی، مکی مدنی مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی
سیرتِ مبارکہ کا ہر پہلو ہدایت و محبت سے بھرا ہوا ہے۔ انہی مبارک پہلوؤں میں سے
ایک روشن باب اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت بھی ہے۔ یہ وہ خوش نصیب صحابۂ کرام ہیں
جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے حضور ﷺ کے دستِ اقدس پر جان نثاری کی
بیعت کی۔
سن 6 ہجری میں
جب نبیِّ کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کے قریب حدیبیہ تشریف لائے تو بعض حالات
کی بنا پر یہ خبر مشہور ہوئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے
ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے صحابۂ کرام سے جہاد اور ثابت قدمی پر بیعت لی۔ تمام صحابۂ
کرام رضی اللہ عنہم نے جانثاری کے جذبے سے بیعت کی۔
اللہ تعالیٰ
نے اس عظیم بیعت کا ذکر قرآنِ پاک میں یوں فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ
الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
اس آیتِ
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہ صحابۂ کرام اللہ پاک کے محبوب بندے اور اس کی رضا پانے
والے ہیں۔
حضور نبیِّ
کریم ﷺ کو ان صحابہ سے بے حد محبت تھی۔ آپ ﷺ نے ان کی وفاداری، اخلاص اور قربانی
کو سراہا۔ حدیثِ پاک میں ہے: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی، ان میں سے کوئی جہنم
میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)
یہ حضور ﷺ کی
اپنے ان جاں نثار صحابہ سے محبت اور ان کے حق میں بشارتِ عظمیٰ ہے۔
صحابۂ کرام سے
محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض ہلاکت کا سبب ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ ہے
کہ تمام صحابۂ کرام عادل، نیک اور قابلِ احترام ہیں۔ خصوصاً اصحابِ بیعتِ رضوان کو
عظیم فضیلت حاصل ہے کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ان سے اپنی رضا کا اعلان
فرمایا۔
آج ہمیں چاہیے
کہ ہم صحابۂ کرام کی سیرت پڑھیں، ان کی اطاعت، وفاداری اور عشقِ رسول سے سبق حاصل
کریں۔ ان مقدس ہستیوں کا ادب کریں اور دلوں میں ان کی محبت بسائیں۔
اللہ پاک ہمیں
صحابۂ کرام خصوصاً اصحابِ بیعتِ رضوان کی سچی محبت نصیب فرمائے۔
Dawateislami