اللہ پاک نے مسلمانوں کو بہترین امت بنایا ہے جس کی اساس بلند اخلاق اور حیا پر ہے ۔ ارشادِ باری ہے:كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(پ 4، الِ عمرٰن:110)ترجمہ: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئے ظاہر کی گئی۔

لیکن موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ مغربی زندگی ہے، جہاں اپنی روشن روایات کو چھوڑ کر اغیار کی نقالی کو ترقی کا زینہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ اندھی تقلید محض لباس یا وضع قطع تک محدود نہیں بلکہ ہمارے عقائد اور معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

حیا کا جنازہ اور اخلاقی پستی:مغربی تہذیب کی تقلید کا سب سے پہلا وار ہماری حیا پر ہوا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:اَلْحَيَاءُ مِنَ الْاِيمَانِ یعنی حیا ایمان کا حصہ ہے۔

( بخاری، 1/ 19، حدیث: 24)

مغرب نے آزادیِ اظہار اور فیشن کے نام پر بے پردگی اور اختلاطِ مرد و زن کو فروغ دیا۔ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو اخلاقی اقدار خود بخود دم توڑ دیتی ہیں۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب میں اس بات کی وضاحت ملتی ہے کہ کس طرح غیر شرعی فیشن کی پیروی انسان کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔

خاندانی نظام کی تباہی :مغربی معاشرہ انفرادیت پسندی کا شکار ہے جہاں خونی رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔وہاں والدین کو اولڈ ہومز بھیجنا ایک معمول ہے۔ ہم نے جب ان کی طرزِ زندگی کو اپنایا تو ہمارے ہاں بھی مشترکہ خاندانی نظام بکھرنے لگا۔امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتب میں والدین کی اطاعت اور رشتوں کے احترام پر بہت زور دیتے ہیں۔ مغربی تہذیب کی تقلید نے ہمیں اپنوں سے دور کر کے نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کیونکہ سکون اپنوں کی خدمت اور قربت میں ہے، نہ کہ غیروں کے کلچر میں۔

ذہنی غلامی اور احساسِ کمتری: کسی دوسری قوم کی اندھی تقلید در اصل اپنی شناخت سے محرومی اور ذہنی مغلوبیت کی علامت ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں کئی مقامات پر کفار کی مشابہت سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔مغرب کی سائنسی ایجادات سے فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، لیکن ان کے طرزِ حیات کو اپنا لینا ایک ایسی ذہنی غلامی ہے جو انسان کو اپنے دین پر فخر کرنے سے روک دیتی ہے۔

حاصلِ کلام :مغربی تہذیب کی اندھی تقلید زہرِ قاتل ہے۔اگر ہم نے قرآن و سنت کے دامن کو مضبوطی سے نہ تھاما اور اپنے بزرگانِ دین کی سادہ اور پروقار زندگی کو مشعلِ راہ نہ بنایا تو ہماری آنے والی نسلیں اپنی پہچان کھو دیں گی۔ حقیقی کامیابی مغرب کی نقالی میں نہیں بلکہ اتباعِ مصطفےٰ میں پنہاں ہے۔ اللہ پاک ہمیں اسلامی تہذیب کو اپنانے اور اغیار کی مشابہت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پچھلی کچھ دہائیوں سے مغربیت تمام دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔افسوس ناک  یہ ہے کہ تقریباً تمام عالمِ اسلام مغربی کلچر کا لبادہ اوڑھنے کی طرف گامزن ہے۔ کفار کی مادی ترقی کو دیکھ کر عالمِ اسلام کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہیں ۔مسلم ممالک ان کی ترقی کی اصل وجوہات اور ان کفار کے اخروی انجام کو سمجھے بغیر ،مغرب کے ظاہری کلچر کو ترقی کا سبب جانتے ہیں حالانکہ یہ تو وہ ہیں جو سر درد کو آسیبی بیماری خیال کرتے اور جوتے مار کر علاج کرتے ۔ان کے پاس تمام علوم مسلمانوں کے چوری شدہ ہیں اور یہ لوگ مسلمانوں کی تحقیقات و علوم کو ترجمہ کر کے اپنے ناموں سے شائع کرواتے ہیں۔مسلمان اپنی ترقی کے لیے اسلامی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر مغربی رسوم و رواج کو اپنانے کی تگ و دو میں ہیں۔مگر بجائے ترقی کے تنزلی کے گڑھوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ یہ بات تو ظاہر ہے آفتاب مغرب کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر زبردست آب و تاب کے باوجود ڈوب جاتا ہے ۔لہٰذا تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اسلام پر عمل کرتے رہے تمام دنیا پر چھائے رہے۔طب، سائنس ،ریاضیات،جغرافیہ،فلکیات غرض ہر میدان میں کارنامے دکھائے مگر جب سے دین کو چھوڑا تو کوئی خاطر خواہ ترقی ہونے کے بجائے در بدر رسوا ہیں ۔

نہ دین کے رہے نہ دنیا کے

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن

اسلام دشمن مفکروں نے مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے فکر پیش کی کہ مغرب کو ترقی اس طرح ملی کہ انہوں نے مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ چیزیں سمجھا ۔مسلم عوام میں سے دین میں ڈانواں ڈول لوگوں نے اس سوچ کو قبول کیا،دین سے ہٹ کر ترقی کی راہیں دیکھنے لگے اور دینِ اسلام کے متصادم اصول بنائے لیکن سر توڑ کوشش کے باوجود خاطر خواہ ترقی حاصل نہیں کر پا رہے ۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر

ایک اہم المیہ مخلوط مغربی کلچر ہے جس کی نقالی مسلم ممالک میں کی جارہی ہے ۔مخلوط کلچر میں اسلام کی بہت سی حدود کو پامال کیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بےپردگی عام ہو رہی ہے اور شرم و حیا کا تصور ہی ختم ہو رہا ہے۔اللہ ورسول ﷺکی ناراضی کے علاوہ دنیاوی نقصان بھی کثیر ہیں مثلاً: نا جائز بچوں کی پیدائش ، طلاق کی شرح میں اضافہ ،مختلف قسم کے خطرناک ایڈز مثلاً:HIV ایڈز وغیرہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔لڑکے لڑکیوں کے میل ملاپ سے نا جائز تعلقات پیدا ہوتے ہیں،پھر بلیک میلنگ کا سلسلہ چلتا ہے جس کا انجام یا تو مزید بدکاری ہوتا ہے یا پھر خودکشی کے کیسز بڑھتے ہیں ۔

مسلمان عورت مغربی عورت کی عیاشی،فحاشی و عریانی اور نام نہاد آزادی کو دیکھ کر اپنی آزادی کی رٹ لگانے میں مصروف ہے۔مسلمان عورت سمجھتی ہے کہ آدھے کپڑے پہن لینا آزادی ہے ۔وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی کہ مغربی عورت کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔عورت مرد کے شانہ بشانہ ہونے کے شوق میں حیا کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر بے پردہ ہو کر باہر نکلتی ہے۔انسانی صورت میں شیطان اسے ہڑپ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں نتیجتا ًریپ اور زیادتی کے کیسز بنتے ہیں، کچھ کیسز کو دبا دیا جاتا ہے،کچھ نیوز چینلز پر چلتے ہیں اور غیرت و عزت کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں پھر یہ عورت انصاف کی بھیک مانگتی نظر آتی ہے ۔ آئے روز اولڈ ہاؤسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اسلامی تعلیمات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑا جا رہا ہے ۔وہ اولاد جس کو والدین کا سہارا بننا تھا اور والدین نے اسے بڑھاپے کے سہارے کے لیے پال پوس کر جوان کیا وہ انہیں سسکتا ہوا اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آتی ہے۔پھر تنہائی کے احساس کو ختم کرنے کے لیے ڈھیروں رقم کے عوض کتے کو ساتھی بنا لیا جاتا ہے۔اسلامی جمہوری نظام کو چھوڑ کر معیشت کی بہتری کے لئے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام اپنایا گیا جس سے معاشرے میں مسلسل عوام کا استحصال کیا جاتا ہے نتیجتاً امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔اس نظام کے تحت خوشحال معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا کیونکہ درحقیقت فرد کی ترقی ہی کسی ملک یا معاشرے کی ترقی ہے ۔

پچھلے دنوں ایک رپورٹ کے تحت پتا چلا کہ کسی کافر ملک میں بہت ساری دمیں(tail )بیچی گئیں جو انسانوں کے لئے بنائی گئی تھیں۔

انگریز ڈارون کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں جس کے مطابق انسان بندر سے وجود میں آیا لہٰذا یہ دُمیں لگانے والے اپنی اصل (جو ان کے نزدیک ایک جانور ہے)کی طرف لوٹ رہے ہیں اس سے اور دیگر بہت ساری ابحاث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کفار کس حد تک گرے ہوئے لوگ ہیں۔ابھی صرف یہ پستی ان کا مقدر نہیں بلکہ دوزخ کے گہرے کنویں میں ابدی سزا ان کے کفر کا بدلہ ہے ۔رہا ان کا مادی قوت میں برتری کاہونا تو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ-یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸) وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)(پ15،بنی اسرائیل:19،18)ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو جلدی والی (دنیا)چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔

ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا:قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ(۱۵)(پ3،ال عمرٰن:15)کنزُ العِرفان: (اے حبیب!)تم فرماؤ،(اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں؟ (سنو،وہ یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور(وہاں)پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

اللہ پاک کفار کو ان کا حصہ دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے کیونکہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں لہٰذا مسلم عوام کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ کفار کے پیچھے چلنے میں کوئی بھلائی نہیں، نجات اور ترقی اللہ پاک کی رضا میں ہے اللہ پاک کی رضا فقط اسلام میں ہی ہے۔بندے کو اسلام پر ہی عمل کرنا چائیے کیونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں ہر ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔

آ ج دنیا میں دیکھا جائے تو ہر طرف زیادہ تر غیر مسلم کے رسم و رواج اپنائے جارہے ہیں ہمارے کھا نے،پینے،کسی سے ملاقات کرنے،رہن  سہن یہاں تک کہ ہمارے گفتگو کرنے کے انداز میں بھی غیر مذہبوں کے طریقے کار آ چکے ہیں۔مسلمان بھی غیر مذہب والوں کی مشابہت کرتے ہیں۔ نوجوان نسل کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم بھی ان کی طرح نظر آئیں ،ان کی طرح کے فیشن اپنائیں اور ہم لوگوں میں نمایاں نظر آئیں جس کی وجہ سے آج دنیا میں بہت برے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پہلا نتیجہ:اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتاہے:وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ15،بنی اسرائیل:32 ) ترجمہ کنز الایمان:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔

دیکھا جائے تو سنت کے مطابق لباس پہنا بہت کم ہو چکا ہے اور زیادہ لوگ غیر مذہب والوں کے لباس اپناتے ہیں جس کی وجہ سے بے حیائی والے فیشن عام ہوتے جارہے ہیں جبکہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺہے:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نےمجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(مشکاۃ المصابیح،1/55، حدیث: 175)

لوگ بغیر دیکھے،بغیر سمجھے مغربی تہذیب کے رسم و رواج اپناتے ہیں کہ ان کو ذرا بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ ہم یہ رسم و رواج نہیں اپنا رہے بلکہ دینِ اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔

دوسرا نتیجہ:ہمارے پیارے دینِ اسلام نے اس بات کی ممانعت کی ہے کہ بد مذہبوں سے دو ستی یا محبت نہ رکھی جائے کہ جب ان سے دوستی ہو گی تو ان کی محبت بھی دل میں جگہ لے گی اور آہستہ آہستہ ہم ان کی طرف مائل ہونا شروع ہو جائیں گی اور ان کے طریقے کار کی پیروی کرنے لگ جائیں گی۔

کفار کے ساتھ دوستی کرنے کا حکم: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت سید سلیمان اشرف بہاری کے قلم سے ملاحظہ ہو: کافر کے ساتھ دلی دوستی اور قلبی محبت کفر ہے اس حکم میں کفار و ہند اور کفار و یورپ سب مساوی ہیں۔( النور ،ص104) دیکھا جائے تو شادیوں میں مغربی تہذیب کی نقل کی جاتی ہے جیسے:گانے بجانے وغیرہ ،دلہن کی انٹری کروائی جاتی ہے،لڑکیاں پردہ کرنے کے بجائے غیر مسلم لڑکیوں کی طرح بے حیائی والے کپڑے پہنتی ہیں، لڑکے سنت کے مطابق داڑھی رکھنے کے بجائے داڑھی منڈوا کر پھرتے ہیں،یورپی ممالک ہمیں روشن خیالی کا ذہن دیتے ہیں،اس میں کتنا بڑا نقصان ہے یہ تو کوئی با شعور اور اپنے دین سے محبت کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔ اپنے دین کا نقصان ہو گا تو اس سے بڑھ کر تو کوئی برا نقصان یا نتیجہ نہیں ہوسکتا یعنی اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مغربی تہذیب کی نقل کرنے سے ہمارے دین کو بلندی حاصل نہیں ہوگی بلکہ دین میں کمی واقع ہو گی اورمسلم تحریک کے بجائے غیر مسلم تحریک دنیا پر حکومت کرے گی ۔

دعا:اے اللہ!ہمیں مغربی تہذیب کے رسم و رواج کی نقل کرنے سے محفوظ فرما اور اپنے دین کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ آ مین

تہذیب سے مراد کسی قوم یا معاشرے کا وہ مکمل طرزِ زندگی ہے جس میں اس کے رہن سہن، لباس، زبان، رسم و رواج، اخلاق،سوچ، تعلیم اور معاشرتی اقدار شامل ہوتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں کسی قوم کی پہچان ہوتیں ہیں اور اسی سے اس کے افکار اور کردار کی تشکیل ہوتی ہے اور معاشرہ کس راہ پر ہے یہ واضع ہوتا ہے۔

مغربی معاشرے نے جہاں سائنس کی دنیا میں قدم رکھ کر انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں،وہیں اخلاقی اقدار اور روحانی قدروں سے دوری کے باعث کئی سماجی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔

آج کا مسلمان معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید عام ہوتی جا رہی ہے،جس کے منفی اثرات ہماری اخلاقی، سماجی اور دینی زندگی پر نمایاں ہو رہے ہیں۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰)(پ2،البقرۃ:170)ترجمہ کنز الایمان:اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت۔

انسان جب اللہ کریم کے بتائے ہوئے احکام کے بجائے باپ داد یا کسی غالب تہذیب کی اندھی تقلید میں لگ جاتا ہے تو فکری گمراہی کو پروانا چڑھتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ یعنی جوکسی قوم سے مشابہت اختیار کرے گا تووہ انہی میں سے ہو گا۔ (ابو داود، 4/62،حدیث:4031)

کہا جاتا ہے کہ جو اپنی مدد آپ کرتا ہے اللہ پاک اس کی مدد کرتا ہے لیکن جب ایک انسان اپنی پہچان خود نہ بنائے بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرے تو یہ اس کو اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات سے ہٹ کر مغربی سوچ کو حق و باطل کا معیار بنا دیتی ہے، جس سے صحیح اور غلط میں تمیز ختم ہو جاتی ہے،پھر جو تنائج سامنے آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :

1: دینی اقدار سے دوری:مغربی تہذیب کی نقالی کے نتیجے میں نماز،پردہ، حیا اور حلال و حرام کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ دینی اعمال سے غافل ہو جاتا ہے،اسے شخصی آزادی کا نام دیا جاتا ہے۔

2: اخلاقی زوال:بے حیائی،خود غرضی،جھوٹ،والدین کی نافرمانی اور بد تمیزی جیسی اخلاقی برائیاں عام ہو جاتی ہیں، جن سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

3:خاندانی نظام کی کمزوری:مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے باعث بڑوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے،والدین اور اولاد میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

4: تہذیبی و ثقافتی شناخت کا خاتمہ:اپنی زبان،لباس اور اسلامی روایات کو چھوڑ کر مغربی طرزِ زندگی اپنانے سے قوم کی اپنی پہچان مٹنے لگتی ہے اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔

5: معاشرتی بے سکونی:

مادہ پرستی اور خواہشات کی پیروی کے باعث قناعت ختم ہو جاتی ہے،جس سے حسد، مقابلہ بازی اور معاشرتی انتشار بڑھتا ہے۔

6: ایمانی کمزوری:غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے ایمان کمزور ہوتا ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید دینی، اخلاقی اور معاشرتی تباہی کا سبب بنتی ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تہذیب اور اقدار کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔افسوس!آج مسلمان مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی لباس کی خاص وضع اور عورتوں کو بے پردہ کردینے میں نہیں بلکہ کامیابی کا راستہ صراطِ مستقیم ہے ۔

غیر مسلموں کی نقالی دلوں کو سیاہ کر دیتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان دین سے دور ہو جاتا ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی پہچان اسلامی رکھیں۔کیونکہ کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا نا جائز اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا۪-وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(۶) (پ7، الانعام:6)ترجمہ کنز الایمان:کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا اور ان کے نیچے نہریں بہائیں تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی۔

اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دنیوی خوشحالی ،مال و دولت اور سہولیات کی کثرت اللہ پاک کی رضا مندی کی علامت نہیں ورنہ قارون بہت بڑا مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہوتا۔یہاں سے ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی دنیوی ترقی، سائنسی مہارت،سہولیات کی کثرت،ایجادات کی بہتات، مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر انہیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور مسلمانوں کو مردود سمجھتے ہیں اور اخلاق و کردار میں مسلمانوں کو کفار کی تقلید کامشورہ دیتے ہیں۔ کفار کی یہ دنیوی کامیابی مقبولیت کی نہیں بلکہ مہلت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ پاک کا قانون ہے کہ وہ کافروں کی جلد پکڑ نہیں فرماتا بلکہ انہیں مہلت دیتا اور آسائشیں عطا فرماتا ہے،پھر انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔نیز نام نہاد دانشور،مسلمانوں کو مغربی ممالک کی اندھی تقلید کا نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے اور وہ اپنی قارونی سوچ اپنے پاس ہی رکھیں۔(تفسیر صراط الجنان،3/69)

ترقی کے نام پر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید انسان کو وقتی ترقی تو دے سکتی ہے مگر اسلام کی روشن تعلیمات سے محروم کر دیتی ہے۔ایک مسلمان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ علم و سائنس سے فائدہ اٹھائے مگر اپنی اسلامی شناخت اور اخلاقی اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔قرآن و سنت کی راہ نمائی سے منہ موڑ کر کسی بھی غالب تہذیب کی اندھی پیروی معاشرتی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں تمثیلاً یوں بیان کیا ہے:

یہی درس دیتا ہے ہر شام کا ڈوبتا سورج

کہ مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ترقی اور جدید سہولیات کو اختیار کرتے ہوئے بھی اپنی دینی اور تہذیبی بنیادوں کو محفوظ رکھیں کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے۔رب کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے والی بنادے۔ آمین 

مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ایک ایسا رجحان ہے جو رفتہ رفتہ ہماری دینی،اخلاقی اور معاشرتی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ترقی اور جدت کے نام پر جب بغیر سوچے سمجھے مغرب کے طور طریقے اپنائیں جائیں تو اس کے کئی منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔

دینی کمزوری:اندھی تقلید سے سب سے پہلا نقصان دین پر پڑتا ہے،یوں کہ عبادات میں سستی،حیا میں کمی اور حلال و حرام کی تمیز ختم ہونے لگتی ہے۔

اخلاقی زوال:مغربی معاشرے میں آزادی کے نام پر بے حیائی،فحاشی اور اخلاقی حدود کی پامالی عام ہے لیکن جب یہ رجحانات ہمارے معاشرے میں آتے ہیں تو شرم و حیا،ادب و احترام اور خاندانی اقتدار کمزور ہو جاتے ہیں۔

خاندانی نظام کی تباہی:مغربی تہذیب کے طرزِ زندگی کی نقالی سے والدین کی نافرمانی،شادی میں تاخیر،طلاق کی کثرت اور خاندان کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے حالانکہ اسلام خاندان کو معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

تہذیبی شناخت کا خاتمہ:اپنی زبان،لباس،روایات اور اقدار سے شرمندگی محسوس کرنا اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔قومیں جب اپنی شناخت کو کھو دیتی ہیں تو دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں۔جب انسان دین سے دور ہو کر صرف خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو دل کا سکون ختم ہو جاتا ہے،اس لیے آج ڈپریشن،بے چینی اور خود کشی جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں حالانکہ حقیقی سکون اللہ پاک کے ذکر میں ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں تعلیم کا مقصد کردار سازی کے بجائے صرف دولت کمانا اورعلم نفع کے بجائے فتنہ بن جاتا ہے۔ طالبِ علم اخلاق و ادب اور ذمہ داری سے محروم ہو جاتے ہیں۔لباس،میل جول اور آزادی کے نام پر بے اعتدالی معاشرے میں جرائم،بد اعتمادی اور بے راہ روی کو جنم دیتی ہے۔جب ہر انسان اپنی خواہش کو قانون سمجھے تو معاشرہ نظم سے محروم ہو جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید انسان کو امت کے اجتماعی دکھ درد سے بے پروا کر دیتی ہے اور وہ امتِ مسلمہ کے مسائل کے بجائے ذاتی آسائش اور مغربی طرزِ زندگی میں گم ہو جاتا ہے۔ جب دین پر چلنے میں فخر کی بجائے شرمندگی محسوس ہونے لگے تو غیرتِ ایمانی ختم ہو جاتی ہے۔مغربی رسم و رواج،مہنگی تقریبات اور غیر اسلامی توقعات نکا ح کو مشکل اور گناہ کو آسان بنا دیتی ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ روی بڑھتی ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے والا انسان دین کی بات کو اپنی ترقی میں رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے،یوں دعوت و اصلاح کا فریضہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں دینی مجالس،علمِ دین اور اہلِ علم کی صحبت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے جس سے جہالت بڑھتی ہے۔تفریح اور مصروفیات اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عبادت اور خاندانی حقوق پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نقصان دہ ہے۔اسلام سکھاتا ہے کہ ترقی اور مفید چیزیں اپنائیں مگر اپنی ایمانی،اخلاقی اور ثقافتی شناخت کو ہمیشہ برقرار رکھیں کیونکہ بصیرت،اعتدال اور تعمیری سوچ کے ساتھ زندگی گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

دینِ اسلام ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو انسانی زندگی سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس دین کا سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ اللہ پاک کے رسول ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں تمام مسائل کو عملی جامہ پہنا کر آنے والی اُمتِ مسلمہ کے لیے مکمل ہدایت فراہم کی لیکن صد افسوس کہ دنیا میں چند ایسی ماڈرن تہذیبیں جنم لے چکی ہیں جو اسلامی شاہراہ سے بالکل ہٹ کر ہیں،انہی میں سے آج کی مغربی تہذیب بھی ہے جو اپنی ظاہری جاذبیت اور دلکشی کے باعث پوری دنیا  کا محور بن چکی ہے جس کے نقصان دہ اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور جیسا کہ مغربی طرز کے لباس جیسے جینز، ٹی شرٹس وغیرہ کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کا بھی بہت غلط استعمال ہو رہا ہے جو مغربی تہذیب کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کا رہن سہن بھی مغربی طرز کے مطابق ہو رہا ہے، مغربی طرز کے تعلیمی نظام کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے،لوگوں کی نظر میں اسلامی تعلیمی نظام کی اہمیت کم ہو رہی ہے،مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے ہماری اخلاقیات پر برا اثر پڑ رہا ہے،ہمارے معاشرے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے،لوگوں کے درمیان تعلقات خراب ہو رہے ہیں،لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں،ہمارے نواجوان گمراہ ہو کر اپنی زندگی کے مقاصد کو بھول رہے ہیں۔اسی طرح آج کل غیر مسلموں کی نقالی کر کے یکم اپریل کو اپریل فول یعنی جھوٹ کا تہوار منایا جاتا ہے جو شرعی طور پر بالکل غلط ہے۔اکثر اس موقع پر جو مذاق کیے گئے ان کے اثرات منفی ہی ظاہر ہوئے اور لوگوں کو نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)(پ7،الانعام: 153)ترجمہ: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ تمہیں یہ حکم فرمایا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔

یہاں دوسرے راستوں سے مرادوہ راستے ہیں جو اسلام کے خلاف ہوں یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملت۔لہٰذا اگر تم اسلام کے خلاف راستے پر چلے تواللہ پاک کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔صوفیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ معاملات کی خرابی عبادات کی خرابی تک پہنچا دیتی ہے اور عبادات کی خرابی کبھی عقائد کی خرابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ترک ِمستحب ترک ِسنت کا اور ترک ِسنت ترک ِفرض کا ذریعہ ہے چور کو پہلے دروازے پر ہی روکو۔ (تفسیر صراط الجنان،3/245)

نبیِ کریم ﷺ نے تہذیبی نقالی کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ یعنی جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔(ابو داود، 4/62،حدیث:4031)یہ حدیث واضح پیغام دیتی ہے کہ اخلاق و تہذیبی مشابہت میں احتیاط لازم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی اسلامی روایات کو نہ بھولیں بلکہ ہم ہر کام شریعت کے دائرے میں رہ کر کریں اور مغربی تہذیب کی نقالی سے بچیں۔

مغربی تہذیب نے پوری دنیا پر بالخصوص اسلامی معاشرے پر بہت نمایاں اثر ڈالا ہے۔ جہاں دنیا نے مغرب،سائنس،ٹیکنالوجی اور ڈیموکریٹ میں جدت پائی وہیں اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوئے،مثلاً:انفرادیت،مادیت پرستی،معاشرتی تناؤ،قدیم اسلامی تقاضوں کا مفقود  اور بے حیائی وغیرہ۔

مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے جو اسلامی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ان میں بے حیائی کا عنصر نمایاں ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یورپین کنٹرینر میں رہنے والے انگریز ترقی کی دنیا میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔پردے پر سختی مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے!

در حقیقت مسلمانوں کی ترقی میں پردہ نہیں بے حیائی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔جی ہاں! جب تک مسلمانوں میں شرم و حیا اور پردے کا دور دورہ رہا تب تک وہ فتو حات پر فتوحات حاصل کر تے چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پرچمِ اسلام لہرانے لگا۔پردہ نشین ماؤں نے بڑے بڑے جرنیل و سپہ سالار،عظیم حکمران،علمائے کرام و اولیائے کاملین کو جنم دیا،تمام امہات المومنین و صحابیات با پردہ تھیں،حسین کریمین کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہ زہرا با پردہ تھیں،حضور غوثِ اعظم کی والدہ محترمہ با پردہ تھیں۔الغرض جب تک پردہ قائم تھا اور خواتین چادر اور چار دیواری کے اندر تھیں تب تک مسلمان کافروں پر غالب رہے،پھر جب کافروں کے زیرِ اثر مسلمانوں نے بے حیائی کا سلسلہ شروع کیا تو مسلمان مسلسل تنزلی کے گہرے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ کل تک جو کفار مسلمانوں کے نام سے لر زتے تھے آج مسلمانوں پر غالب آ چکے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔آج کا نا دان مسلمان کفار کی بے حیائی والا لباس پہن کر بیوی کو میک اپ کر وا کر مخلوط سیرگاہوں میں لے جاتا اور اپنی اولاد کو ترقی کی خاطر غیر اسلامی ممالک میں کافروں کے سپرد کر کے پتا نہیں کون سی ترقی کا متلاشی ہے!

وہ قوم جو کل تک کھیلتی تھی شمشیروں کے ساتھ

سینما دیکھتی ہے آج وہ ہمشیروں کے ساتھ

افسوس!صد کروڑ افسوس!عورتوں میں بے پردگی ہونا اور گناہوں کی کثرت ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔اکثر مسلمان عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی دھن میں حیا کی چادر اتار پھینکی ہے۔خدا کی قسم!موجودہ روش میں نہ ترقی ہے نہ کا میابی۔ترقی اور کا میابی کا دار و مدار صرف اور صرف اللہ اور رسول ﷺ کی فرما نبرداری کرتے ہوئے زندگی کو سنتوں کی اتباع کرتے ہوئے ایمان سلامت لیے قبر میں جائے اور جہنم کے خوفناک عذاب سے بچ کر جنت پانے پر ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:فَمَنْ  زُحْزِحَ  عَنِ  النَّارِ  وَ  اُدْخِلَ  الْجَنَّةَ  فَقَدْ  فَازَؕ- (پ 4،ال عمرٰن: 185)ترجمہ کنز الا یمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا۔

‌‌‌‌‌زمانہ جدید میں بعض آزاد خیال لوگ کہتے ہیں کہ علمائے کرام عورتوں کو چار دیواری میں بٹھائے رکھنا چاہتے ہیں لیکن غور فرمائیے کہ یہ حکم دنیا کے کسی عالم نے نہیں دیا بلکہ رب کریم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے۔چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى22الااحزاب 33)ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

عورت کی بے پردگی مو جبِ غضبِ الٰہی اور سببِ تباہی ہے۔چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-ترجمہ:اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔(پ18النور31)

بیان کردہ آیتِ کریمہ کے مطابق مفسر ِقرآن،خلیفۂ اعلیٰ حضرت،حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں: یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اِس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔مسئلہ:اِسی لئے چاہئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں۔حدیثِ شریف میں ہے: اللہ پاک اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔(تفسیرات احمدیہ،ص525)اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زيور کی آوازعَدَمِ قَبولِ دُعا (یعنی دعاقَبول نہ ہونے )کا سبب ہے تو خاص عورَت کی(اپنی) آواز(کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا) اور اس کی بے پردَگی کيسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔

(تفسیر خزائنُ الْعِرفان، ص 566 )

حیا ہے آنکھوں میں باقی نہ دل میں خوف ِخدا

بہت دنوں سے نظامِ حیات ہے بر ہم

یہ سیر گاہیں کہ مقتل ہیں شرم و غیرت کے

یہ معصیت کے مناظر ہیں زینتِ عالم

نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو

کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم

وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل

جہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقشِ قدم

تیری حیات ہے کردارِ رابعہ بصری

ترے فسانے کا موضوع عصمت ِمریم