مغربی تہذیب نے پوری دنیا پر بالخصوص اسلامی معاشرے پر بہت نمایاں اثر ڈالا ہے۔ جہاں دنیا نے مغرب،سائنس،ٹیکنالوجی اور ڈیموکریٹ میں جدت پائی وہیں اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوئے،مثلاً:انفرادیت،مادیت پرستی،معاشرتی تناؤ،قدیم اسلامی تقاضوں کا مفقود  اور بے حیائی وغیرہ۔

مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے جو اسلامی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ان میں بے حیائی کا عنصر نمایاں ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یورپین کنٹرینر میں رہنے والے انگریز ترقی کی دنیا میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔پردے پر سختی مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے!

در حقیقت مسلمانوں کی ترقی میں پردہ نہیں بے حیائی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔جی ہاں! جب تک مسلمانوں میں شرم و حیا اور پردے کا دور دورہ رہا تب تک وہ فتو حات پر فتوحات حاصل کر تے چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پرچمِ اسلام لہرانے لگا۔پردہ نشین ماؤں نے بڑے بڑے جرنیل و سپہ سالار،عظیم حکمران،علمائے کرام و اولیائے کاملین کو جنم دیا،تمام امہات المومنین و صحابیات با پردہ تھیں،حسین کریمین کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہ زہرا با پردہ تھیں،حضور غوثِ اعظم کی والدہ محترمہ با پردہ تھیں۔الغرض جب تک پردہ قائم تھا اور خواتین چادر اور چار دیواری کے اندر تھیں تب تک مسلمان کافروں پر غالب رہے،پھر جب کافروں کے زیرِ اثر مسلمانوں نے بے حیائی کا سلسلہ شروع کیا تو مسلمان مسلسل تنزلی کے گہرے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ کل تک جو کفار مسلمانوں کے نام سے لر زتے تھے آج مسلمانوں پر غالب آ چکے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔آج کا نا دان مسلمان کفار کی بے حیائی والا لباس پہن کر بیوی کو میک اپ کر وا کر مخلوط سیرگاہوں میں لے جاتا اور اپنی اولاد کو ترقی کی خاطر غیر اسلامی ممالک میں کافروں کے سپرد کر کے پتا نہیں کون سی ترقی کا متلاشی ہے!

وہ قوم جو کل تک کھیلتی تھی شمشیروں کے ساتھ

سینما دیکھتی ہے آج وہ ہمشیروں کے ساتھ

افسوس!صد کروڑ افسوس!عورتوں میں بے پردگی ہونا اور گناہوں کی کثرت ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔اکثر مسلمان عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی دھن میں حیا کی چادر اتار پھینکی ہے۔خدا کی قسم!موجودہ روش میں نہ ترقی ہے نہ کا میابی۔ترقی اور کا میابی کا دار و مدار صرف اور صرف اللہ اور رسول ﷺ کی فرما نبرداری کرتے ہوئے زندگی کو سنتوں کی اتباع کرتے ہوئے ایمان سلامت لیے قبر میں جائے اور جہنم کے خوفناک عذاب سے بچ کر جنت پانے پر ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:فَمَنْ  زُحْزِحَ  عَنِ  النَّارِ  وَ  اُدْخِلَ  الْجَنَّةَ  فَقَدْ  فَازَؕ- (پ 4،ال عمرٰن: 185)ترجمہ کنز الا یمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا۔

‌‌‌‌‌زمانہ جدید میں بعض آزاد خیال لوگ کہتے ہیں کہ علمائے کرام عورتوں کو چار دیواری میں بٹھائے رکھنا چاہتے ہیں لیکن غور فرمائیے کہ یہ حکم دنیا کے کسی عالم نے نہیں دیا بلکہ رب کریم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے۔چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى22الااحزاب 33)ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

عورت کی بے پردگی مو جبِ غضبِ الٰہی اور سببِ تباہی ہے۔چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-ترجمہ:اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔(پ18النور31)

بیان کردہ آیتِ کریمہ کے مطابق مفسر ِقرآن،خلیفۂ اعلیٰ حضرت،حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں: یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اِس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔مسئلہ:اِسی لئے چاہئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں۔حدیثِ شریف میں ہے: اللہ پاک اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔(تفسیرات احمدیہ،ص525)اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زيور کی آوازعَدَمِ قَبولِ دُعا (یعنی دعاقَبول نہ ہونے )کا سبب ہے تو خاص عورَت کی(اپنی) آواز(کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا) اور اس کی بے پردَگی کيسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔

(تفسیر خزائنُ الْعِرفان، ص 566 )

حیا ہے آنکھوں میں باقی نہ دل میں خوف ِخدا

بہت دنوں سے نظامِ حیات ہے بر ہم

یہ سیر گاہیں کہ مقتل ہیں شرم و غیرت کے

یہ معصیت کے مناظر ہیں زینتِ عالم

نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو

کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم

وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل

جہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقشِ قدم

تیری حیات ہے کردارِ رابعہ بصری

ترے فسانے کا موضوع عصمت ِمریم