یہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے آپ ﷺ کے دست مبارک پر کفار مکہ کے خلاف آخری دم تک لڑنے کی بیعت کی اور اللہ کریم نے اس بیعت پر اپنی رضا کی خوشخبری دی۔ ان کی تعداد 1400 تھی۔

ان میں حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت علی مرتضیٰ و حضرت عثمان غنی (جن کی نمائندگی آپ نے خود کی) حضرت طلحہ بن عبید اللہ و حضرت زبیر بن عوام و حضرت سعد بن ابی وقاص و حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت جابر بن عبداللہ اور ان کے علاوہ مہاجرین اور انصار کے ممتاز اکابرین شامل تھے۔

یہ بیعت اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور اس میں شامل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں۔

بیعت رضوان میں شریک صحابہ کرام کو ”اصحاب شجر“ بھی کہا جاتا ہے۔

اصحاب بیعت رضوان کیلئے رضائے مصطفیٰ ﷺ کا پروانہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 104، حدیث: 6404)

شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: علمائے کرام نے فرمایا کہ اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ بیعت رضوان کرنے والے صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا اور حدیثِ پاک میں جو ان شاء اللہ کہا گیا ہے، یہ شک کی وجہ سے نہیں بلکہ (اللہ پاک کے نام کی) برکت حاصل کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ (شرح النووی علی مسلم، 8/58)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل میں اور میرے صحابہ ہیں۔ عرض کی گئی: پھر کون افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: *پھر وہ لوگ افضل ہیں جو ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔ عرض کی گئی: پھر کون؟ ارشاد فرمایا: *پھر وہ جو ان کی پیروی کریں گے۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/94، رقم: 1043) یعنی آپ ﷺ کو ان سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت تھی اور یہ حدیث فرما کر ان کے درجات کو بلند فرمایا۔

صحابہ کرام کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ: مسلمانوں کا مضبوط عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم متقی و پرہیزگار ہیں۔ ان کا ذکر ادب و محبت اور توقیر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تمام مہاجرین کرام جنتی ہیں، وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے اور وہ روزِمحشر فرشتے ان کااستقبال کریں گے۔

اصحاب بیعت رضوان کیلئے اللہ کی رضا کی خوشخبری: اللہ پاک پارہ 17 سورۃ الانبیاء آیت نمبر 101 سے 103 میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں، وہ اس کی بھنک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں غم میں نہ ڈالے گا وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ امت کے ان روشن ستاروں کی برکت سے ہمیں عشق رسول ﷺ کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین