زندگی خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، راحت اور تکلیف کے درمیان گھومتی رہتی ہے۔ کبھی انسان مسرور ہوتا ہے اور کبھی غم کی گھڑی آتی ہے۔ ان حالات میں سب سے بڑی خوبی جو انسان کو سنبھالتی ہے وہ ہے صبر۔ صبر وہ روشنی ہے جو دل کو سکون بخشتی ہے اور انسان کو مشکلات کے اندھیروں میں ہمت عطا کرتی ہے۔ صبر انسان کے اخلاق کو جِلا دیتا ہے، ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کو اللّٰه کے قریب لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید ملتی ہے۔

قرآنی آیات :

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: " بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔"(البقرة: 153)

مفہوم: اللہ تعالیٰ اپنی خاص مدد اور نصرت ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جو مصیبت میں صبر کرتے ہیں۔

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: "اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"(البقرة: 155)

مفہوم: صبر کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں خوش خبری ہے۔

احادیث:

سب سے بڑی نعمت:

1۔«وما أُعطِيَ أحدٌ عطاءً خيرًا وأوسعَ من الصبر»"کسی کو بھی صبر سے بڑھ کر کوئی بڑی اور وسیع نعمت عطا نہیں کی گئی۔"صحیح بخاری، کتاب الزکاة، حدیث 1469

صبر کی حقیقت :

2۔«إنماالصبرعندالصدمةالأولى»"اصل صبر تو پہلی چوٹ لگنے کے وقت ہوتا ہے۔"صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث 1283

صبر کا دروازہ کوشش سے کھلتا ہے:

3۔«مَن يتصبَّر يُصَبِّرْهُ اللّٰهُ»"جو صبر کی کوشش کرتا ہے، اللّٰه اسے صبر عطا فرماتاہے۔"صحیح بخاری، کتاب الزکاة، حدیث 1469

صبر کے فوائد :

1۔صبر کرنے والا انسان دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔

2۔صبر سے انسان کی زبان اور رویہ قابو میں رہتا ہے۔

3۔صبر دل کی سختی کو دور کرتا اور اللّٰه کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

4۔صبر کرنے والوں کو اللّٰه تعالیٰ آخرت میں بے حساب اجر عطا فرمائے گا۔

اللّٰه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مجلس کے حقوق صحیح معنیٰ میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اٰمین یا رب العالمين ۔


قرآن مجید فرقان حمید کو اللہ نے ہدایت اور علم کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس میں اللہ سبحانہ و تعالی نے احکامات،انبیاء کے واقعات، جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سزائیں اور قیامت کے احوال اور اس کے علاوہ بہت کچھ بیان کیا ہے تاکہ مومنین ان سے ہدایت حاصل کرے۔ اسی طرح قرآن مجید فرقان حمید میں قیامت کے احوال بھی بیان کیے ہے جیسے سورج و چاند کا بے نور ہونا، پہاڑوں کا پاش پاش ہونا،آسمان کاپھٹنا، ستاروں کی روشنی سلب ہونا اور بکھرنا اور تمام وحشی جانوروں کا جمع کیا جانا یہ سب قیامت کے احوال ہیں۔ جن کے بارے میں آج ہم پڑھے گے۔

قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمہ: کنزالعرفان:اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( سورۃ الحج آیت: 1،2 پارہ: 17)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت مقدسہ کے تحت ہے: بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں اور نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔( روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۶ / ۳)

اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے قیامت کی حالت بیان فرمائی کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہے کہ وہ ماں جو اپنے بچے جو ابھی دنیا میں بھی نہیں آیا ہوتا اس کو بھی بھول جاتی ہے۔

کان پھاڑ دینے والی چنگھاڑ:اس طرح کی ایک اور آیت طیبہ ہے جس میں کہا گیا کہ اس دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے سب اپنے عزیزوں کو بھول جائے گے، والدین اولاد کو اور اولاد والدین کو مرد بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو بھلا دیں گے۔ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمہ: کنزالایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائیاور ماں اور باپاور جورو(بیوی) اور بیٹوں سے ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے۔(سورۃ عبس پارہ:30 آیت:33تا 37)

اس آیت مقدسہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ: جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی آواز آئے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔( تفسیرکبیر، عبس،تحت الآیۃ: ۳۳-۳۷، ۱۱ / ۶۱-۶۲، خازن، عبس، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۷، ۴ / ۳۵۴-۳۵۵، ملتقطاً)

بروز قیامت حسرت :ایک اور آیت طیبہ ملاحظہ ہو۔ وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ(۲۴) ترجمہ: کنزالایمان:اور اس دن جہنم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی۔(سورۃ الفجر پارہ: 30 آیت: 23،24 )

مفسرین فرماتے ہیں کہ جہنم کی ستر ہزار باگیں ہوں گی ہر باگ پر ستر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں گے اور وہ جوش و غضب میں ہوگی یہاں تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں جانب لائیں گے، اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے ،سوائے حضور پُرنور، حبیب ِخدا، سیّد ِانبیاء ﷺ کے کہ حضورِ اکرم ﷺ ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘ فرماتے ہوں گے ،جہنم حضورِ اَقدس ﷺ سے عرض کرے گی کہ اے سیّد ِعالَم! ﷺ ، آپ کا میرا کیا واسطہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھ پر حرام کر دیا ہے۔ (قرطبی، الفجر، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰ / ۳۹، الجزء العشرون)اس دن انسان سوچے گا اور اپنی غلطیوں ، لغزشوں ، خطاؤں اور گناہوں کو سمجھے گالیکن وہ وقت سوچنے کا نہیں ہوگا اور اس وقت کا سوچنا سمجھنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گااور اس سوچنے سے صرف حسرت حاصل ہوگی اور اسی وجہ سے قیامت کا ایک نام یَوْمُ الْحَسْرَۃِ یعنی حسرت کا دن بھی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، پارہ:30، سورۃ الفجر، آیت:23،24)

اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا جو اپنے نامہ اعمال میں نیکیاں کم دیکھ کر یا قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے حسرت میں ڈوبے ہو گے اور کہے گے کہ کاش! ہم نے اور نیکیاں کی ہوتی تاکہ وہ آج ہمارے کام آتی لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہو گی۔

یہ تھا قیامت سے متعلق چند احوال جنہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید میں بیان کیا تاکہ لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرے۔آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ 


اللہ پاک نے یہ دنیا ایک با مقصد طور پر پیدا فرمائی ہے اور ایک مقرر وقت پر یہ دنیا فنا ہو جائے گی پھر اللہ پاک کے حکم سے لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اس دن قیامت قائم کی جائے گی اس دن برے لوگوں کا کیا انجام ہوگا اور اچھے لوگوں کا کیا حال ہوگا اج ہم قرانی آیات سے قیامت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

زمین کے ہلنے کا منظر: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔(سورۃ حج٫ آیت 1)

قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْﭪ(۷) وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹) وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰) وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْﭪ(۱۱) وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲) وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ اور جب تھلکی اونٹنیاں چھوٹی پھریں۔اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔ اور جب سمندر سلگائے جائیں۔ اور جب جانوں کے جوڑ بنیں۔ اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کس خطا پر ماری گئی۔ اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں۔ اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے اور جب جہنم کوبھڑکایا جائے اور جب جنت پاس لائی جائے ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔(سورۃالتکویر٫آیت 1 تا 14)

قیامت کے دن لوگ پریشان ہوں گے: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔(سورۃ عبس،آیت 33تا 37)

مذکورہ آیات میں قیامت کی ہولناکیاں اور لوگوں کا حال بیان ہوا ہے تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا، ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا قیامت کا دن بہت سخت دن ہوگا ہمیں برے اعمال سے بچنا چاہیے اور نیک اعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمیں قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہو۔


اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے اچھے و برے اعمال کی جزا و سزا کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے کہ جس دن اللہ پاک اپنے بندوں کے اعمال کا حساب و کتاب فرمائے گا اپنے نیک بندوں کو انعامات سے مالامال فرمائے گا اور گنہگاروں کو جہنم کا عذاب دے گا اس دن کو قیامت کہتے ہیں قیامت کا دن وہ عظیم دن ہے کہ جس پر یقین رکھنا ہر مسلمان کا جزوِ ایمان ہے۔ قرآن کریم میں اس عظیم دن کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے جن میں (يومُ الساعة، يومُ الحساب، يومُ الميزان، يومُ عظيم وغيره موجود ہیں)

قارئین کرام! اللہ پاک نے قیامت کے احوال و ہولناکیوں کا قرآن کریم میں متعدد بار تذکرہ فرمایا۔ چند آیات ملاحظہ کیجئے۔

1۔ دابَۃُ الاَرْض کا خروج: اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (۸۲) ترجمہ کنز العرفان:ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔(النمل82، پارہ20)

تفسیر: اللہ پاک اس آیت کریمہ میں قیامت کی نشانی کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ قرب قیامت ہم ان کے لیے زمین سے ایک عجیب و غریب جسم والا جانور نکالیں گے جو لوگوں سے فصیح و بلیغ کلام کرے گا۔

"دابَۃُ الاَرْض" اس کے بارے میں اتنا جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا جو کوہ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشانی لگائے گا ایمان والوں کی پیشانی پر عصائے موسی علیہ السلام سے نورانی خط کھینچے گا کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔(خزائن العرفان ص712، مکتبۃ المدینہ)

2۔ قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶)

ترجمہ کنز العرفان:جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ خوب چوڑا چورا کر دیے جائیں گے۔ تو وہ ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہو جائیں گے۔(الواقعہ4/5/6، پارہ27)

تفسیر:اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس وقت زمین تھر تھرا کر کانپے گی جس سے اس کے اوپر موجود پہاڑ اور تمام عمارتیں گر جائیں گی اور یہ اپنے اندر موجود تمام چیزیں باہر آجانے تک کانپتی رہے گی اور پہاڑ چوڑا ہو کر خشک ستو کی طرح ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ اور وہ اس وجہ سے ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہو جائیں گے۔(صراط الجنان، ج9، ص675)

3۔ صور میں پھونکا جانا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ کنز العرفان:اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنی زمین میں ہے سب بے ہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(الزمر68، پارہ24)

تفسیر:آیت کے اس پہلے حصے میں پہلی بار صور پھونکنے کا بیان ہے اس سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ فرشتوں اور زمین والوں میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے اور ان پر موت نہ آئی ہوگی تو وہ اس سے مر جائیں گی۔پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد آسمانوں میں اور زمینوں پر موجود تمام فرشتے اور جاندار مر جائیں گے البتہ جسے اللہ تعالی چاہے گا اُسے اس موت نہ آئے گی۔

آیت کے دوسرے حصے میں دوسری بار صور پھونکے جانے کا بیان ہے جس سے مردہ زندگی کیے جائیں گے اس طرح کہ وہ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے وہ حیرت میں آکر مبہوت(دنگ) شخص کی طرح ہر طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے۔(صراط الجنان، ج8، ص503/504)

4۔ دل دہلا دینے والا دن: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵)

ترجمہ کنز العرفان:وہ دل دہلا دینے والی۔ وہ دل دہلا دینے والی کیا ہے اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلا دینے جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔اور پہاڑ رنگ برنگی دنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔

اس آیت کریمہ میں بھی اللہ کریم نے قیامت کی ہولناک کی شدت اور دہشت کا تذکرہ فرمایا ہے۔

قارئین کرام! آپ نے چند آیاتِ کریمہ کا مطالعہ کیا کہ جس میں قیامت کے احوال کا تذکرہ موجود ہے قرآن کریم کے بیان کردہ یہ احوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قیامت کا دن یقینی ہے دنیا عارضی ہے اصل کامیابی آخرت کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے حاصل ہوگی۔ ہمیں ان آیات کریمہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


دنیا کی زندگی انسان کو ایک پُر سکون اور قائم نظام دکھائی دیتی ہے۔ زمین اپنے مدار پر قائم ہے، سورج و چاند اپنی گردش میں مصروف ہیں، پہاڑ زمین کے لیے گویا میخوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور سمندر اپنی حدود میں قید ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ایک دن آئے گا جب یہ سارا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور کائنات اپنی اصل حقیقت آشکار کر دے گی۔ یہی دن قیامت کہلاتا ہے۔

اس دن زمین اپنی بنیادوں سے ہل اٹھے گی۔ وہ پہاڑ جو انسان کو مضبوطی کی علامت دکھائی دیتے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔ سمندر اپنی گہرائیوں سے ابھر کر کناروں کو توڑ ڈالیں گے اور آسمان اپنی مضبوطی کے باوجود پھٹ جائے گا۔ ستارے بجھ جائیں گے اور سورج اپنی روشنی کھو بیٹھے گا۔ گویا وہ سب کچھ جسے انسان ہمیشہ کے لیے قائم سمجھتا تھا، یکسر بدل جائے گا۔

قیامت کے دن کا سب سے بڑا منظر انسان کی اپنی بے بسی اور حیرانی ہے۔ وہ اپنے پیاروں سے بے نیاز ہو جائے گا، کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ دنیاوی رشتے، محبتیں اور سہارے سب ٹوٹ جائیں گے۔ ہر شخص اپنی نجات اور حساب کی فکر میں ہوگا۔ یہ وہ دن ہوگا جب ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔

قیامت کا منظر حقیقی :قیامت کے حوالے سے کچھ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں ہمیں اس کی اہمیت کا اندازا ہو جیسے کہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔( سورۃ الانفطار82 آیت1_5 )

اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں  قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں  کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں  سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں  گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں  اور جب سمندروں  میں  قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں  گے اور جب قبریں  کریدی جائیں  گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں  گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں  اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)

قیامت میں زمین کا انجام :اس آیت کریمہ میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کی قیامت والے دن زمین کا کیا انجام ہوگا جیسے کہ ایک آیت کریمہ میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا ہے : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(ترجمہ کنزالایمان سورۃ الزلزال 99 آیت 1)

اس آیت میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

فیصلے کا دن :دنیا کے فیصلے کا دن مقرر ہے اس پر آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں جس میں ہمیں قیامت کے دن کا فیصلہ کن ہونے کہ حوالے سے بتایا گیا ہے رب العالمین ارشاد فرماتا ہے کہ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔(ترجمہ کنزالایمان سورۃ النباء 78 آیت 17_18 )

اس آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بیشک وہ دن جس میں   اللہ  تعالیٰ مخلوق کافیصلہ فرمائے گا وہ ا س کے علم میں  ثواب اور عذاب کے لئے ایک مقرر کیا ہوا وقت ہے۔ (جلالین مع صاوی، النّبأ، تحت الآیۃ:  ۱۷،  ۶ /  ۲۳۰۰)

اورقیامت کہ دن صور کہ حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ارشاد فرمایا: کہ فیصلے کا دن وہ ہو گا جس دن صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو تم اپنی قبروں سے حساب کیلئے حساب کی جگہ کی طرف فوج در فوج چلے آؤ گے۔( روح البیان، النّبأ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۲۹۹، ملخصاً)

ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا ذکر محض ایک علمی موضوع نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس کا یقین انسان کے دل میں بیداری پیدا کرتا ہے۔ جب آیاتِ قرآنی کی روشنی میں قیامت کی ہولناکیاں، حساب و کتاب کی سختی اور جزا و سزا کی کیفیت سامنے آتی ہے تو دل لرز اُٹھتا ہے اور عمل کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی۔ کامیاب وہی ہے جو آج کے دن اپنی اصلاح کر لے، گناہوں سے توبہ کرے اور نیک اعمال کی طرف بڑھ جائے۔ قیامت کی آیات کا پیغام یہی ہے کہ غفلت نہ کرو، وقت کو غنیمت جانو، اور اپنے رب کے حضور کامیاب کھڑے ہونے کی تیاری کرو۔

اے اللہ! قیامت کے دن کی سختیوں اور خوف سے ہمیں اپنی پناہ عطا فرما۔

اے ربّ! حساب و کتاب کو ہمارے لئے آسان بنا، میزان میں ہمارے نیک اعمال کو بھاری فرما، اور ہمارے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما۔اے پروردگار! پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار دے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت الفردوس میں داخل فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا میں ایمان، آخرت میں نجات اور اپنی رضا و قرب عطا فرما۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ یا رب العالمین۔


جیسے دنیاوی امتحان کے لیے بندے اس کشمکش میں ہوتے ہیں کہ ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں اچھاگریڈ پا جائیں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اخروی امتحان کے لیے بھی تیاری کریں تاکہ ہم ادھر بھی اچھے گریڈ حاصل کر کے جنت کی طرف روانہ ہو جائیں جیسا کہ :اللہ تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے ۔اور جب تارے جھڑ پڑیں۔اور جب سمندر بہا دئیے جائیں۔اور جب قبریں کریدی جائی۔ہر جان جان لے گی جو اس نے آ گے بھیجا اور جوپیچھے۔(سورۃ الانفطار ایت نمبر 1 تا 5)

اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔ (روح البیان٫الانفطار٫تحت الایت 5ـ1)


(1) قبروں سے باہر آنے کا دن :   وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۴۱) یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(۴۲) اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گاایک پاس جگہ سے۔ جس دن چنگھاڑ سنیں گے حق کے ساتھ یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا۔بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے ( پارہ ، 26 ، سورۃ ق ، آیۃ 41 تا 43)

(2) زمین و آسمان کا چورا ہونا : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱۵) ترجمہ کنزالایمان: پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جائیں ۔وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی۔ ( پارہ ، 29۔ ، سورۃ الحاقہ ، آیۃ : 13 تا 15)

قیامت کے احوال کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے اورا س کی ابتداء قیامت قائم ہوتے وقت کے واقعات سے کی گئی ہے،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں ارشاد فرمایا کہ پھرجب صور میں پہلی مرتبہ ایک پھونک ماری جائے گی اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہوں سے اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے تو اس دن وہ قیامت قائم ہو جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد ، 10،۔ ص : 319)

(3) آسمان کا پھٹنا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے ( پارہ ، 30 ، سورۃ الانفطار ، آیۃ : 1 تا 5 )

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے ( صراط الجنان ، جلد ، 10 ، ص : 561 ، 562)


قرآنِ مجید ایک مکمل ضابطۃ حیات ہے جو نہ صرف دنیاوی زندگی کے اصول واضح کرتا ہے بلکہ آخرت کی زندگی، اس کے مراحل اور انجام کے بارے میں بھی تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قیامت کا دن، جسے "یوم الدین"، "یوم الفصل"، "یوم الحشر" اور "الساعۃ" جیسے مختلف ناموں سے قرآن میں ذکر کیا گیا ہے، ایک عظیم و ہولناک دن ہو گا، جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بارہا دی ہے تاکہ انسان غفلت سے بیدار ہو جائے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔

قرآنِ حکیم قیامت کے دن کے احوال کو نہایت مؤثر اور بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے، کہیں عبرت انگیز مناظر کے ذریعے اور کہیں سوال و جواب کی صورت میں۔ وہ دن ایسا ہو گا جب زمین اپنی ساری خبریں اُگل دے گی، آسمان پھٹ جائے گا، پہاڑ روئی کی طرح اُڑ جائیں گے اور انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو گا، اپنے ہر عمل کا حساب دینے کے لیے۔

قرآن کا یہ انداز نہ صرف خبردار کرنے والا ہے بلکہ دلوں میں خوفِ آخرت اور اصلاحِ عمل کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا قیامت کے احوال پر غور کرنا، مؤمن کی ایمانی کیفیت کو تازہ کرتا ہے اور اسے دنیا کی فانی لذتوں سے بلند کر کے ابدی زندگی کی تیاری کی طرف راغب کرتا ہے۔

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)

ترجمہ کنز الایمان: جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔( الانفطار' 82 ' آیت(1-5)

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱)

ترجمہ کنز الایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔( الزلزال '99 ' آیت(1)

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲)وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔( الزلزال؛ 99 :آیت (2-3)

قیامت کے احوال کا قرآنی بیان انسان کو اس ابدی دن کی یاد دہانی کرواتا ہے جہاں نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، صرف خالص عمل ہی نجات کا ذریعہ بنے گا۔ یہ دن حق ہے، یقیناً آ کر رہے گا۔ قرآن مجید نے قیامت کے واقعات اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ انسان عبرت حاصل کرے، توبہ و رجوع کرے، اور اپنی دنیا کو سنوار کر آخرت کی فلاح حاصل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ان قرآنی بیانات پر غور کریں، دل کی آنکھیں کھولیں، اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال کر کامیاب آخرت کی تیاری کریں۔ اللہ پاک ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


یہ دنیا فانی ہے اور ایک نہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو گی ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہوگا ۔ اللہ عزوجل قرآن مجید میں انسان کو بار بار اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے اور یاددہانی کرواتا ہے ۔ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک دن اس کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے تمام تر اعمال کا جواب دینا ہے ۔ قرآن مجید احوالِ قیامت کو ذکر کرتے ہوئے کہیں تو اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے اور کہیں مومنین کو ملنے والی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے ۔ اسی موضوع پر مشتمل چند آیات ذیل میں مذکور ہیں :

(1) قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز العرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔(سورۃ الانفطار آیات 1 تا 5)

تفسیر صراط الجناناِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)

(2)قیامت کا زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز العرفان ::جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(سورۃ زلزال آیت نمبر 1)

تفسیر صراط الجناناِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے: ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

قیامت کا زلزلہ کتنا ہولناک ہے اس کے بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(الحج،1،2)

(3)اعمال کی سزا و جزا: سورۃ زلزال کے اندر اللہ پاک نے قیامت کی ایک اور حالت کے بارے میں بیان فرمایا کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں حساب دینا ہوگا فرماتا ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ترجمۂ کنز العرفان:توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔ (سورۃ زلزال آیت نمبر 8،9)

تفسیر صراط الجنانوَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ: اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا فرماتے ہیں کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اور برے اعمال دکھائے جائیں گے، مومن کو اس کی نیکیاں اور برائیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ برائیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اور کافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ وہ کفر کی وجہ سے ضائع ہوچکیں اور برائیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔

حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو وہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں کی سزا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے پہلی آیت مومنین کے بارے میں ہے اور یہ آیت کفار کے بارے میں ہے۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۴ / ۴۰۱، مدارک، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۶۸، ملتقطاً)

قرآنِ کریم میں قیامت کے احوال کا بیان فقط خبر نہیں بلکہ تنبیہ اور نصیحت ہے۔ ان آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ قیامت کے ہولناک احوال پڑھ کر مومن کے دل میں خوف بھی جاگتا ہے اور امید بھی کہ اگر وہ ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزارے گا تو ختم نا ہونے والی کامیابی اس کا مقدر بنے گی۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن کے ان بیانات کو پڑھ اور سن کر غفلت کی نیند سے جاگیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اور اس دن کی تیاری کریں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


آیئے ہم احوال قیامت کے حوالے سے چند قرآنی آیات ذکر کرتے ہیں۔

(1) ہر جان اپنے اعمال کو جان لے گی : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان : جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے.( پارہ 30 ، سورۃ الانفطار، آیت نمبر 1 تا 5)

(2) قیامت کے نزدیک زمین کا تھر تھرانا : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز الایمان : جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ ( پارہ 30، سورۃ الزلزال، آیت نمبر 1)

( 3)قیامت کے دن آسمان کا کھلنا : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان : اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔ (پارہ 30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 19 تا 20)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو نیکیاں کرنے کی اور گناہوں سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اسلامی عقائد میں یومِ قیامت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب تمام انسان اپنے اعمال کا حساب دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے تحت ان کی جزا یا سزا کا فیصلہ ہوگا۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن کی حقیقت، اس کی ہولناکی، علامات، اور اس دن کے مناظر کو نہایت جامع اور پراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان غفلت سے بیدار ہو کر اپنی اصلاح کرے۔

قیامت کا مفہوم"قیامت" عربی زبان کا لفظ ہے جو "قیام" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "کھڑا ہونا" یا "اٹھ کھڑا ہونا"۔ شریعت کی اصطلاح میں قیامت سے مراد وہ دن ہے جب تمام مردہ انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ قرآن مجید اس دن کو یوم الدین (بدلے کا دن)، یوم الفصل (فیصلے کا دن)، یوم الحشر (جمع ہونے کا دن)، الطامۃ الکبریٰ (بڑی مصیبت)، اور الصاخۃ (چیخ مارنے والا دن) جیسے مختلف ناموں سے یاد کرتا ہے۔

قیامت کے ابتدائی احوال:قرآن میں قیامت کے دن کے آغاز کو نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الزلزال میں ارشاد ہے:اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز العرفان :جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(الزلزال،1)

سورۃ القارعہ میں بیان ہے:یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ کنز العرفان جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔(القارعہ: 4)

ان آیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کا دن نہایت سخت، دہشت ناک ہو گا۔ زمین لرز اٹھے گی، پہاڑ روئی کی مانند اڑیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا اور سمندر اُبل پڑیں گے۔

کائنات میں تبدیلی:قیامت کے دن کائنات کی ہر چیز میں تبدیلی آئے گی۔ سورۃ التکویر میں ہے:اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان :جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔(التکویر: 1-2)

اسی طرح سورۃ الانفطار اور سورۃ الانشقاق میں آسمان کے پھٹنے، زمین کے برابر ہونے اور قبروں کے الٹنے کا ذکر موجود ہے۔ یہ سب علامات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قیامت صرف انسانی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ پورے نظامِ کائنات کی تبدیلی کا دن ہوگا۔

انسان کا حال اور حساب و کتاب:قیامت کے روز انسان کی حالت انتہائی پریشان کن ہوگی۔ سورۃ عبس میں فرمایا: یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان : اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔(عبس: 34-35)

اللہ عزوجل ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے جنت الفردوس میں داخل فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ 


دنیا دار العمل اور آخرت دار الجزاء ہے یہاں شریعت کی پاسداری کی مشقت اٹھانے والا راحتِ ابدی کا حقدار ہے ، دوسری طرف دنیا کی مختصر زندگی میں احوال قیامت کو بھول جانے اور ظاہری عیش و عشرت میں دل لگانے والا آخرت میں پچھتائے گا اور اگر سرکشی معاذ اللہ حد کفر تک پہنچ گئی تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنتی نعمتوں سے محروم ہوکر دوزخ میں عذاب پائے گا،پھر جنت و جہنم کا معاملہ تو کجا اس سے قبل قیامت کے وحشت انگیز احوال ہیں جن سے مسلمان کو ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس دن کو بھلا دینے پر وعید وارد ہوئی، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠(۲۶) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔ (پ23،ص،26)

حصول عبرت کے لیے چند احوال ذکر کیے جاتے ہیں۔

1۔صُور ِ اسرافیل اور اس کے اثرات :اسرافیل علیہ السلام پہلا صُور پھونکیں گے تو اس کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ لوگ بے ہوش ہوجائیں گے پھر دوسرے صُور پھونکے جانےپر ،مدفونین قبروں سے نکالے جائیں گے اور برہنہ قدم و بدن خوف خدا سے لرزتے ہوئے میدان محشر کی طرف سفر شروع ہوجائے گا آیات قرآنیہ ان امور کو یوں بیان کرتی ہیں:صُور اول و ثانی:

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸)

ترجمہ کنز العرفان:اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔(الزمر،68)

قبروں سے خروج: یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(۴۲)ترجمہ کنز العرفان:جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں گے ، یہ (قبروں سے) باہر آنے کادن ہوگا۔(ق،42)

برہنہ قدم و بدن:كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۰۴) ترجمہ کنز العرفان:ہم اسے دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا۔(الانبیاء،104)

صراط الجنان میں اسی آیت کے تحت ایک تفسیر یہ ذکر کی گئی کہ "جیسا پہلے بنایا " سے مراد کہ جیسے ماں کے پیٹ سے برہنہ اور غیر ختنہ شدہ پیدا کیا گیا تھا۔

2۔زمین و آسمان ومافیہا کی کیفیات:اس دن آسمان،زمین ،سمندر ،پہاڑ،سورج ،چاند،ستارے اپنی اصلی حالت پر نہیں رہیں گے بلکہ قیامِ قیامت کی ہیبت کے سبب عجیب و غریب احوال پر ہوں گے ،اللہ پاک نے قرآن میں ان کا یوں تذکرہ فرمایا:

آسمان: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ]الانفطار:1[ترجمہ کنز العرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔زمین: وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً[الحاقۃ:14]ترجمہ کنز العرفان:اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے۔سمندر: وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ]الانفطار:3[ترجمہ کنز العرفان: اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔پہاڑ: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ[القارعۃ:5] ترجمہ کنز العرفان:اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔سورج: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ]التکویر:1[ ترجمہ کنز العرفان:جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔چاند: اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ[القمر:1] ترجمہ کنز العرفان:قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ستارے: وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ]الانفطار:2[ ترجمہ کنز العرفان:اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔

3۔رشتہ داروں کی بے بسی:قرآن پاک میں متعدد مقامات پر رشتہ داروں کی بیکسی اور لاچاری کو بیان کیا گیا یہاں تک کہ ماں باپ جو دنیا میں اولاد کی ادنی سی تکلیف پر مضطرب ہوجاتے ہیں انہیں بھی اولاد کی پرواہ نہ ہوگی اور اپنے سوا کچھ نہ سوجھے گا۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)

ترجمہ کنز العرفان:اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پرواہ کردے گی۔(عبس 33 تا 37)

اس کے بعد اعمال نامہ ،پل صراط اور دیگر دل دہلا دینے والے امور ہیں مگر اختصار کے پیش نظر انہیں ذکر نہیں کیا جارہا ،بس اس دعا کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں ان آیات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے عافیت والا معاملہ فرمائے۔(آمین)