قرآنِ
مجید میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے احوال کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان
فرمایا ہے تاکہ انسان عبرت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری کے ساتھ بسر
کرے۔ قیامت کا دن وہ عظیم دن ہے جب زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوگا، قبروں سے
انسان اٹھائے جائیں گے، اعمال نامے کھولے جائیں گے اور عدلِ الٰہی کے مطابق فیصلہ
ہوگا۔ قرآن مجید جگہ جگہ اس دن کے ہولناک مناظر اور انسان کے انجام کو بیان کر کے یہ
حقیقت اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت ہی کی ہے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر قیامت کے احوال بیان کئے ہیں۔ آئیے
اس کے متعلق کچھ جانتے ہیں۔
ارشاد
باری تعالیٰ عزوجل ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنزالایمان: جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔( پارہ 30 ،
سورۃ الزلزال ، آیت 1)
ایک
اور مقام پر بیان ہوا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ
یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:"بیشک فیصلے کا دن
ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں
۔"( پارہ 30 ، سورۃ النبا ، آیت 17٫18)
دوسرے
مقام پر بیان ہوا ۔ارشاد باری تعالیٰ عزوجل: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸)
وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:"پھر جس دن آنکھ چوندھیائے
گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔ "
(پ29،القیامۃ،7تا 9)
قیامت
کے احوال کا قرآنی بیان ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان اپنے رب کی
اطاعت اور نافرمانی کے انجام کو کبھی نہ بھولے۔ وہ دن ایسا ہوگا جہاں نہ مال ساتھ
دے گا نہ اولاد، بلکہ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی کامیابی کا ذریعہ ہوں گے۔ لہٰذا
ضروری ہے کہ ہم قرآن کے پیغام سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تقویٰ، عبادت
اور اعمالِ صالحہ سے سنواریں تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت اور بخشش کے مستحق بن
سکیں۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
جیسے
دنیاوی امتحان کے لیے بندے اس کشمکش میں ہوتے ہیں کہ ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں
اچھی گریڈ پا جائیں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اخروی امتحان کے لیے بھی تیاری کریں
تاکہ ہم ادھر بھی اچھے گریڈ حاصل کر کے جنت کی طرف روانہ ہو جائیں جیسا کہ اللہ تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ
کنزالایمان:جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سمندر بہا دیے
جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو اس نے اگے بھیجا
اور جو پیچھے چھوڑا۔(سورۃ الانفطار ایت نمبر 1 تا 5)
اس آیت مبارکہ اور اس کے بعد والی چار ایات میں
قیامت کے احوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب اسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے
پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑکے گر پڑیں گے جس طرح پروئے
ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم اٹھ دوڑ کر کے انہیں بہا دیا
جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہو جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں
گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہو جائے
گا جو اس نے نیک یا برا عمل اگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی ایک قول یہ ہے
کہ جو اگے بھیجا ہے اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑا اس سے میراث مراد ہے
(روح البیان٫الانفطار٫تحت الایت 5ـ1)
اور
یہ جاننا اعمال نامے پڑھنے کے ذریعے ہوگا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ
تعالی نے ارشاد فرمایا
ترجمہ
کنز العرفان اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگا دیا اور ہم اس کے لیے قیامت
کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جس سے وہ کھلا ہوا پائے گا فرمایا جائے گا کہ اپنا
نامہ اعمال پڑھ اج اپنے متعلق حساب کرنے کے لیے تو خود ہی کافی ہے (بنی اسرائیل:
13/14)
جیسا
کہ ہمیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو کچھ بھی ہم دنیا میں رہ کر کریں گے چاہے وہ نیک
اعمال ہو یا وہ توبہ نعوذ باللہ برا اعمال ہو یقینا اس کا حساب ہمیں ضرور دینا ہے
دینا ہوگا اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اچھے سے اچھا اعمال کریں اور برے کاموں سے
بچنے کی کوشش کریں ۔ جو کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
دنیا
کی زندگی ایک عارضی امتحان ہے اور اس کے بعد سب کو قیامت کے دن ربّ العالمین کے
حضور حاضر ہونا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار قیامت کے احوال بیان فرمائے
تاکہ بندہ دنیا کی غفلت سے نکل کر اپنی آخرت کی تیاری کرے۔
قیامت
کا برپا ہونا:قیامت اچانک برپا ہوگی، ساری کائنات کی بساط لپیٹ دی
جائے گی۔ قرآن میں ہے: اِذَا
الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) ترجمۂ کنز الایمان: "جب
سورج لپیٹا جائے گا" (التکویر: 1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمۂ
کنز الایمان: "اور جب ستارے جھڑ جائیں گے" (الانفطار: 2) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳)
ترجمۂ کنز الایمان: "اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے" (التکویر:
3)
آسمان
پھٹ جائیں گے، زمین کانپ اُٹھے گی اور سمندر بھڑک اُٹھیں گے۔
قیامت
کی ہیبت:یہ دن نہایت ہیبت ناک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان: جس
دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی
اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور
وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ (الحج: 2)
اے
عاشقانِ رسول ﷺ!قیامت کا دن برحق ہے، اس کے ہولناک احوال قرآنِ عظیم میں بار بار بیان
کیے گئے تاکہ ہم غفلت سے جاگ جائیں۔ یاد رکھئے! دنیا چند روزہ ہے، مال و دولت، عیش
و آرام سب یہیں رہ جانا ہے، قبر کے بعد تنہا ساتھ دینے والی چیز صرف ایمان اور نیک
اعمال ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ گناہوں سے بچیں، نماز قائم کریں، قرآن کی تلاوت اور
خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، تاکہ قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت نصیب
ہو اور ہم جنت الفردوس کے وارث بنیں۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں قیامت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے میں
جنت کا پروانہ عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الأمین ﷺ
عاکف علی (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ
تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اچھے اور برے اعمال کے حساب کے لیے ایک عظیم دن مقرر فرمایا
ہے، جس دن وہ اپنے نیک بندوں کو بے شمار انعامات سے نوازے گا اور گناہگاروں کو
جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس دن کو یوم القیامہ کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن پر
ایمان رکھنا ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جز ہے۔
قرآنِ
کریم میں اس دن کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے، جیسے:
یومُ
الساعۃ
یومُ
الحساب
یومُ
المیزان
یومٌ
عظیم
اللہ
تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما کر ہمیں عبرت حاصل کرنے
کی طرف متوجہ کیا ہے۔
قرآن
کریم میں قیامت کے مناظر:
1۔
قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا
رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ
هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶) ترجمہ
کنزالایمان:جب زمین زور سے ہلائی جائے گی، اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے تو
وہ بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہو جائیں گے۔(الواقعہ 4-6، پ 27)
تفسیر:قیامت
کے دن زمین زلزلے سے کانپے گی، پہاڑ ستو کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر فضاؤں میں غبار کی
طرح اڑ جائیں گے۔
2۔
صور میں پھونکا جانا: وَ
نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا
مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸)
ترجمہ کنزالایمان:صور میں
پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین میں جو ہیں سب مر جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر
دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھنے لگیں گے۔(الزمر 68، پ
24)
تفسیر:پہلی
بار صور پھونکے جانے سے ہر جاندار مر جائے گا، دوسری بار صور پھونکے جانے سے سب
زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
3۔
دل دہلا دینے والا دن: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ
النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ کنزالایمان:وہ
کھڑکھڑانے والی قیامت! تجھے کیا معلوم وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے اس دن لوگ بکھرے
ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہو جائیں
گے۔ (القارعہ 1-4، پ 30)
اے
قارئین کرام! یہ چند آیات اس حقیقت کو واضح کر رہی ہیں کہ قیامت کا دن یقینی ہے۔
دنیا فانی ہے، اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے
گا وہ کامیاب ہوگا، اور جو غفلت میں ڈوبا رہا وہ نقصان اٹھائے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم
ان آیاتِ کریمہ سے عبرت حاصل کریں، اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی
فرمانبرداری میں بسر کریں، اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کلام سے
نصیحت حاصل کرنے، ایمان پر استقامت پانے اور آخرت میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
علی حیدر عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
قیامت
کا دن جسے یومِ حشر بھی کہا جاتا ہے، وہ وقت ہے جب یہ دنیا اپنے انجام کو پہنچے گی۔
یہ ایک ایسا دن ہو گا جس کا تصور ہماری عقل سے بالا تر ہے۔ قرآن و حدیث میں اس دن
کے احوال کا ذکر بڑے دل دہلا دینے والے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ دن حساب و کتاب
کا دن ہو گا، جب ہر شخص کو اس کی نیکیوں اور برائیوں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے
گا۔
جب
وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ آئے گی : فَاِذَا جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنز العرفان:پھر جب
وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی
ماں اور اپنے باپاوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے
گی۔سورۃ عبس آیت نمبر (33تا37)
یہاں
سے قیامت کی ہو ناکیاں بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان ہوناکیاں کے بارے میں
سنے گا اس کے دل میں خوف پیدا ہوگا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غور و فکر
کرنے کفر سے منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک
کے ساتھ عاجزی انکساری کے ساتھ پیش انے کی طرف مائل ہوگا۔ (تفسیر صراط الجنان سورت
عبس آیت نمبر (33تا37) جلد دسویں صفحہ (نمبر 543)
محمد نواز ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک نے قرآن مجید میں کثیر
مقام پر قیامت کے احوال کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ان میں سے کچھ آیت مبارکہ عرض
کرتا ہوں:
(1)
فَاِذَا جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔[.پارہ 30سورۃ العبس آیت
نمبر33تا37]
(2)
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱)
وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ
اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵)
ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔
[پارہ
30 سورۃ الانشقاق آیت نمبر 1تا5]
تفسیر صراط الجناناِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ: جب
آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اور اس کے بعد والی 4آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت
قائم ہونے کے وقت جب آسمان پھٹ جائے گااور وہ اپنے پھٹنے کے بارے میں اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گا اورا س کی اطاعت کرے گا اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اوراس کی اطاعت کرے اور جب زمین کوبرابر کرکے
دراز کر دیا جائے گا اور اس پر کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا اور زمین
اپنے اندر موجود سب خزانے اورمردے باہرڈال دے گی اور خزانوں اور مُردوں سے خالی
ہوجائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر پھینک دینے کے بارے میں اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گی اور اس کی اطاعت کرے گی اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اور اس کی اطاعت کرے تو اس وقت انسان اپنے عمل
کا ثواب اور عذاب کی صورت میں دیکھ لے گا۔
(3)
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ
الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک
تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی۔ [ پارہ 30 سورۃ الغاشیۃ آیت نمبر
1]
تفسیر صراط الجنان:
هَلْ اَتٰىكَ:
بیشک تمہارے پاس آچکی: اس آیتِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے کہ اے دو عالَم کے سردار! ﷺ ، آپ کے پاس ایسی مصیبت کی خبر آچکی جو چھا
جانے والی ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کی شدّتیں اور ہَولْناکیاں ہر چیز پر چھا
جائیں گی۔ (روح البیان ، الغاشیۃ ) یونہی اس دن کافروں کے دلوں پر غشی اور چہروں
پر سیاہی چھا جائے گی جبکہ فرمانبردارمسلمانوں کے دلوں پر خوشی اور چہروں پر روشنی
چھا جائے گی۔
ابن رفیق محمد شفیق عطّاری ( جامعۃ المدینہ فيضان عثمان غنى کراچی ، پاکستان)
دنیا
کی زندگی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ وہ دن جسے قرآن مجید
نے بار بار یاد دلایا، جسے یوم القیامۃ، یوم الدین، یوم الحشر اور یوم الحسرة کے
ناموں سے پکارا گیا ہے۔ قیامت کا ذکر انسان کو غفلت سے جگاتا اور عمل کی طرف متوجہ
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں قیامت کے ہولناک مناظر اور اس کے مختلف پہلوؤں کو نہایت
بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند آیات کے ذریعے قیامت کے احوال ملاحظہ
ہوں۔
آسمان
پھٹ پڑے گا:ارشادِ باری تعالیٰ ہے اِذَا السَّمَآءُ
انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ
فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا
قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ
جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی
جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ (الانفطار:1تا 5)
تفسیرِ
خازن میں ہے : جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی
جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور
جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر
مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال
دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا
اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
قیامت
کا ایک نام القارعہ: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ
النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان:دل دہلانے والی کیا وہ دہلانے والی اور
تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی،جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے،اور پہاڑ
ہوں گے جیسے دھنکی (دھنی ہوئی)اون۔ (القارعۃ: 1تا 5)
تفسیرِ
خازن میں ہے : قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا یہ نام اس لئے
رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں گے
کیونکہ دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور مضبوط
ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں گے
جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور
انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۰۳)
زلزلے
کی شدت: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ
اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ
کنزالعرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔اور زمین اپنے
بوجھ باہر پھینک دے گی۔ (الزلزال:1تا 2)
تفسیرِ
خازن میں ہے : جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی
درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز
ٹوٹ پھوٹ جائے گی اورجب زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردے سب نکال کر باہر پھینک
دے گی۔ یاد رہے انسان اور جِنّات بوجھ والے وجود ہیں جب تک زمین کے اوپر موجود ہیں
تو وہ زمین پر بوجھ ہیں اور جب زمین کے اندر ہوں تو زمین کے لئے بوجھ ہیں اسی وجہ
سے انسانوں اور جِنّات کو ثَقَلَین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مردہ ہوں یا زندہ زمین
ان کا بوجھاٹھاتی ہے۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۴ /
۴۰۰-۴۰۱)
قیامت
کا دن وہ عظیم دن ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآنِ کریم میں دی تاکہ
انسان غفلت سے جاگے اور عمل کی طرف متوجہ ہو۔ اس دن نہ مال کام آئے گا، نہ رشتہ
دار اور نہ ہی دنیاوی تعلقات، بلکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ خوش
نصیب وہی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ایمان اور نیک اعمال کا سرمایہ جمع کیا۔ اللہ
پاک ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت
الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
ندیم احمد ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
یقیناً
ہر مسلمان پر یہ عقیدہ رکہنا ضروری ہے کہ ہم مرنے کی بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے قیامت کے دن لوگوں سے حساب لیا جائے گا نیک
لوگوں کو انکا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا جبکہ برے لوگوں کو انکا نامہ
اعمال الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے میزان حق ہے
اس پہ لوگوں کہ اعمال تولے جائیں گے اسکے علاؤہ جنت اور دوزخ پر ایمان لانے ضروری
ہے ۔
قیامت
کے دن کوئی جان کسی کو نفع بخش نہیں ہوگی:قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ
وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ
بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳)
ترجمہ
کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے
بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک الله کا
وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں الله کے حلم
پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(سورۃ لقمان : آیت 33)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یقیناً ہر انسان کو کو مرنے کے بعد دبارہ اٹھایا جائے
گا اسے چاہیے کہ قیامت کے دن سے خوف کرے جس دن ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گااور
باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافروں کی مسلمان اولاد انہیں
فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافر اولاد کو- بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ
سچا ہے ا ورایسا دن ضرور آنا ہے۔
قیامت
کے دن کو جھٹلانے والوں کا انجام:اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
ہے: بَلْ كَذَّبُوْا
بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان:بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے
لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ- (سورۃ: الفرقان: آیت 11)
اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں انکے لیے اللہ تبارک و
تعالیٰ نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے :
کفار
قیامت کے دن کس کو پکارے گئے:اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ
اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَۚ-اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴۰)
بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ
تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠(۴۱)
ترجمہ
کنز الایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا
اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر سچے ہو۔ بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے
جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔(سورۃ الانعام آیت
نمبر40اور41)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا وہ
اللہ کے سوا کسی اور پکارے گئے ان کو مخاطب کر کے فرمایا اگر تم سچے ہو تو انکو
پکارو جن جھوٹے معبودوں کی تم پوجا کرتے تھے ہتاکہ وہ اپنے ان معبودوں کو بھی بھول
جائیں گے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں -
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کی حولناکیوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں حضور ﷺ کی
شفاعت نصیب فرمائے اور ہماری بے حساب مغفرت فرمائے آمین یارب العالمین
رضوان علی عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
حساب
و کتاب کی طرح قیامت پر بھی ایمان لانا واجب ہے اور اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے
کہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا قیامت کے دن کوئی جان کسی کو نفع نہیں دے گی، قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ
وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ
بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳)
ترجمہ
کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے
بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک الله کا
وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں الله کے حلم
پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(سورۃ لقمان : آیت 33)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یقیناً ہر انسان کو کو مرنے کے بعد دبارہ اٹھایا جائے
گا اسے چاہیے کہ قیامت کے دن سے خوف کرے جس دن ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گااور
باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافروں کی مسلمان اولاد انہیں
فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافر اولاد کو بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے ا ورایسا دن
ضرور آنا ہے۔
قیامت
کے دن کو جھٹلانے والوں کا انجام:اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
ہے:
بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ
سَعِیْرًاۚ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان:بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے
لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ۔(سورۃ: الفرقان: آیت 11)
اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں انکے لیے اللہ تبارک و
تعالیٰ نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے :
دعا:اللہ
پاک سے دعا ہے کہ قیامت کے دن ہماری نیکیوں کا پلہ بھاری ہو اور قیامت کے دن ہمیں
اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے میں رکھے ان کی شفاعت نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
عبدالمنان عطّاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
قیامت،
جسے یومِ حشر، یومِ حساب اور یومِ الدین بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کا سب سے
بڑا اور فیصلہ کن واقعہ ہے. قرآنِ کریم میں اس کا ذکر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے
کیا گیا ہے، تاکہ انسان اس کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کو اس
کے مطابق ڈھال سکیں. قرآن میں قیامت کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف ڈرانے
کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے، انہیں انصاف، عدل اور اخلاقی ذمہ
داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔
(1)صور کا پھونکنا : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ
اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔(سورۃ عبس آیات
33,34,35,36,37,)
(2) آسمان کا شق ہونا: اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ
حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴)
وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔(سورۃ
انشقاق آیات1,2,3,4,5)
(3) مصیبت کی خبر: هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی
خبر آئی جو چھا جائے گی۔(سورۃ غاشیہ آیت 1)
اللہ
پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔
محمد عمر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
قیامت،
جسے یومِ حشر، یومِ حساب اور یومِ الدین بھی کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کا سب سے
بڑا اور فیصلہ کن واقعہ ہے. قرآنِ کریم میں اس کا ذکر بار بار اور مختلف پہلوؤں سے
کیا گیا ہے، تاکہ انسان اس کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کو اس
کے مطابق ڈھال سکیں. قرآن میں قیامت کے جو احوال بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف ڈرانے
کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے، انہیں انصاف، عدل اور اخلاقی ذمہ
داری کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔
(1)
بات کریں گے: اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ
تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ
(۶۵) ترجمۂ کنز الایمان:آج ہم ان کے مونھوں پر مہر
کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں
گے۔(سورۃ یٰس آیت 65)
(2)
آسمان شق ہوگا : اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ
لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا
وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب
کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں
ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔(سورۃ
انشقاق آیات1,2,3,4,5)
(3)
مصیبت کی خبر آئی : هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی
خبر آئی جو چھا جائے گی۔(سورۃ غاشیہ آیت 1)
(4)
سفارش کام نہ آئی: وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ
نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا
عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۴۸) ترجمہ
کنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی اور نہ
کافر کے لئے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ
ان کی مدد ہو۔(سورۃ بقرہ آیت 48)
(5)سور
کا پھونکنا : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ
الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔(سورۃ عبس آیات
33,34,35,36,37,)
احمد رضا بن ذیشان ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اللہ
پاک نے اپنی حکمت کاملہ کے مطابق اس دنیا کو پیدا فرمایا اور جس طرح ہر چیز کے لیے
ایک عمر مقرر ہے کہ اتنے وقت ہی وہ باقی رہتی ہے پھر فنا ہو جاتی ہے ایسے ہی دنیا
کی ایک عمر اللہ عزوجل کے علم میں مقرر ہےاس کے پورا ہونے کے بعد دنیا فنا ہو جائے
گی. زمین و آسمان، آدمی، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا اسی کو '' قیامت '' کہتے ہیں.
اب
یہ کب قائم ہوگی اس کا علم تو خدا کو ہے اور اس کے بتانے سے حضور ﷺ کو ہے. قیامت
کا معاملہ انتہائی اہم اور ہولناک ہے، یہاں قیامت کے چند احوال و ہولناکیاں بیان کی
جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان احوال اور ہَولْناکیوں کے بارے میں سنے گا تو اس کے
دل میں خوف پیدا ہو گا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غورو فکر کرنے ،کفر سے
منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے، لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک کے ساتھ
عاجزی واِنکساری کے ساتھ پیش آنے کی طرف مائل ہو گا۔
زمین
کا زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنز الایمان :جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(سورۃالزلزال،آیت
01)
اس
آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور
زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی
شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک
ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: 1 ،4 /400)
قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو
،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی
کہ)ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا
حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں
ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے.
(سورۃ
الحج، آیت 1،2)
مخلوق
کا انتشار: یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ
الْمَبْثُوْثِۙ(۴) ترجمہ
کنز الایمان :جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے(سورة القارعۃ، آیت 04)
اس آیت میں قیامت کے دن قبروں سے اٹھتے وقت
مخلوق کے اِنتشار کو پھیلے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح پروانے
شعلے پر گرتے وقت مُنتَشِر ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی ایک جہت مُعَیَّن نہیں ہوتی
بلکہ ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت سے جاتا ہے یہی حال قیامت کے دن مخلوق کے اِنتشار
کا ہو گا کہ جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح مُنتَشِر
ہوں گے اور ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت کی طرف جا رہا ہو گا( خازن، القارعۃ، تحت
الآیۃ: 4 ،4 /403)
پہاڑ
ریزہ ریزہ: وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان :اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی
اون(سورة القارعۃ، آیت 05)
آیت
مبارکہ میں قیامت کے دن پہاڑ کی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ دل دہلا دینے
والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال
ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون
کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!
(
خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،4 /403، روح البیان، القارعۃ، تحت الآیۃ: 5 ،10
/500، ملتقطاً)
آسمان
کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان : جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں
اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے(سورة
الانفطار، آیت 1 تا 5)
ان
آیات طیبہ میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں
کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں
گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے
انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں
کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو
معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔(
روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: 1 - 5، 10 / 355 - 366، خازن، الانفطار، تحت
الآیۃ: 1 - 5 ،4 /358، ملتقطاً)
اللہ
پاک ہمیں قیامت کے دن کی تیاری کرتے ہوئے اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین
Dawateislami