اللہ پاک نے قرآن مجید میں کثیر مقام پر قیامت کے احوال کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ان میں سے کچھ آیت مبارکہ عرض کرتا ہوں:

(1) فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)

ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔[.پارہ 30سورۃ العبس آیت نمبر33تا37]

(2) اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵)

ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔

[پارہ 30 سورۃ الانشقاق آیت نمبر 1تا5]

تفسیر صراط الجناناِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اور اس کے بعد والی 4آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت قائم ہونے کے وقت جب آسمان پھٹ جائے گااور وہ اپنے پھٹنے کے بارے میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گا اورا س کی اطاعت کرے گا اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اوراس کی اطاعت کرے اور جب زمین کوبرابر کرکے دراز کر دیا جائے گا اور اس پر کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا اور زمین اپنے اندر موجود سب خزانے اورمردے باہرڈال دے گی اور خزانوں اور مُردوں سے خالی ہوجائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر پھینک دینے کے بارے میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گی اور اس کی اطاعت کرے گی اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اور اس کی اطاعت کرے تو اس وقت انسان اپنے عمل کا ثواب اور عذاب کی صورت میں دیکھ لے گا۔

(3) هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی۔ [ پارہ 30 سورۃ الغاشیۃ آیت نمبر 1]

تفسیر صراط الجنان:

هَلْ اَتٰىكَ: بیشک تمہارے پاس آچکی: اس آیتِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے کہ اے دو عالَم کے سردار! ﷺ ، آپ کے پاس ایسی مصیبت کی خبر آچکی جو چھا جانے والی ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کی شدّتیں اور ہَولْناکیاں ہر چیز پر چھا جائیں گی۔ (روح البیان ، الغاشیۃ ) یونہی اس دن کافروں کے دلوں پر غشی اور چہروں پر سیاہی چھا جائے گی جبکہ فرمانبردارمسلمانوں کے دلوں پر خوشی اور چہروں پر روشنی چھا جائے گی۔