اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو امن، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ اس کے باوجود بعض لوگ دوسروں کو لڑانے اور جھگڑا کروانے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ نہایت بری عادت ہے۔

جھگڑا کروانے کی اصل جڑ شیطان ہے، کیونکہ وہی انسانوں کے دلوں میں بغض اور نفرت ڈال کر انہیں باہم لڑواتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ (پ 7، المائدۃ: 91) ترجمہ: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔

جھگڑا کروانے والا شخص دراصل چغلی کرنے والا ہوتا ہے اور چغلی اسلام میں سخت گناہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ۔ فرمایا: وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ (المعجم الاوسط، 5/386، حدیث: 7697)

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ جھگڑا کروانے والے اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک بدترین لوگ ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی نفرت کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی سخت عذاب بھگتیں گے۔

رسول اکرم ﷺ نے ایک اور حدیث میں فرمایا: چغلی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 65، حدیث 290) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھگڑا کروانے کی عادت انسان کو جنت سے محروم کر دیتی ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ لوگوں میں فساد ڈالتا اور ایک کی بات دوسرے کو پہنچا کر انہیں لڑواتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا: چغلی کرنے والے کی بات پر یقین مت کرو، کیونکہ وہ دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتا ہے۔ (تنبیہ الغافلین، ص 133) اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔

اسلام میں جھگڑا کروانا گناہ کبیرہ ہے، جبکہ صلح کروانا باعث ثواب ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان والوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لڑائی جھگڑا کروانے کے بجائے آپس میں صلح کرائیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نہ خود جھگڑا کروائیں اور نہ ہی دوسروں کی باتوں پر یقین کرکے کسی کے درمیان اختلاف پیدا کریں۔ بلکہ ہمیں صلح کرانے والے، بھائی چارے اور محبت پھیلانے والے بننا چاہیے تاکہ دنیا بھی پرسکون ہو اور آخرت بھی سنور جائے۔

اے اللہ! ہمیں صلح کرنے والوں میں شامل فرما، ہمیں چغلی اور جھگڑوں سے نجات عطا فرما اور ہمیں ہمارے والدین اور ہمارے مشائخ کو اپنی رحمت سے بخش دے۔ آمین