اسلام ایک
پرامن دین ہے جو تمام مسلمانوں کو بھلائی عدل انصاف اور اخوت اور بھائی چارے کا
درس دیتا ہے اور فساد فی الارض سے منع کرتا ہے ۔فساد فی الارض سے مراد زمین میں
فساد یعنی بگاڑ پیدا کرنا ،ظلم، قتل و غارت کرنا ،ناانصافی، دھوکہ بازی اور دیگر
خرابیوں کو پھیلانا ہے جسے قرآن مجید میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ عزوجل نے
قرآن پاک میں کئی مقامات پر آیات نازل فرما کر اس سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا
ہے۔
اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ ،آیت نمبر 11 ، 12 )
لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ
سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ
حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ (صراط الجنان جلداول،ص76،77)
فساد فی الارض کے بارے میں مزید اللہ
تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ
اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ
لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنز العرفان:اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے
کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر
اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔اور جب پیٹھ پھیرکر
جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور
اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃالبقرۃ:آیت نمبر 204،205)
مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ: جس کی گفتگو تجھے اچھی لگتی ہے۔
شانِ نزول: یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید
المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو
کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا
اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک
کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی
گئی ہیں وہ یہ ہیں :
(1)ظاہری
طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا (2)اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا (3)جھگڑالو
ہونا (4) فساد پھیلانا، (5)لوگوں کے اموال برباد کرنا (6)نصیحت کی بات سن کر قبول
کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔
یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا
تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں
بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی
عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں
میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ (تفسیرِ صراط
الجنان،جلداول،ص322،323)
فساد فی
الارض کی مذمت کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷) ترجمۂ
کنزالعرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز
کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو
یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت نمبر 27)
اس آیت سے
بھی فساد فی الارض کی مذمت ثابت ہوتی کہ وہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں اس طرح کہ
اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے گے اوران اللّہ تعالیٰ کی رحمت ان لوگوں سے دور
ہو جائے گی اور اللّہ تعالیٰ کےفضل سے محرومی کا بھی سبب بنے گے اور آخرت میں انکا
انجام کیا ہوگا ۔
ایک اور
جگہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ
کنز العرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو
ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (سورۃ
الاعراف:آیت نمبر 56)
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم
کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (تفسیرِ صراط الجنان،
جلد،3،ص،343۔344)
اللہ پاک
ارشاد فرمایا:وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک
دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ
الانفال،آیت نمبر73 )
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ:اور کافر
ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت
میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان
آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ
بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ
اور بڑا فساد برپا ہو گا۔اس آیت کی حقانیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں
کو آپس کے عدمِ اتحاد پر فرمایا گیا تھا کہ اس سے فتنہ اورفسادِ کبیر ہوگا اور اب
ہر کو ئی دیکھ سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کے خلاف فتنہ اورفسادِ کبیر ہے یا نہیں اور
اس کی وجہ بھی مسلمانوں کا عدمِ اتحاد ہے یا نہیں ؟
مسلمانوں میں باہمی تعاون اور مدد کی
ضرورت: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کی دوستی اور
ان کاوارث بننے سے منع کیا ہے، ان سے جدا رہنے، مسلمانوں کو آپس میں میل جول
رکھنے اور ایک دوسرے کامعاون و مددگار بن کر مضبوط طاقت بننے کا حکم دیا ہے ۔ لیکن
افسوس! فی زمانہ ایک گھر سے لے کر عالمی سطح تک ا س معاملے میں مسلمانوں کا حال اس
کے الٹ ہی نظر آ رہا ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں اپنے ہی بہن بھائیوں کے ساتھ میل
جول رکھنے، مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک
ہونے سے بیزار ہو چکے ہیں اور یہی حال پڑوسیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ہے، اسی
طرح ایک علاقے کے مسلمان دوسرے علاقے کے مسلمانوں سے ، ایک شہر کے مسلمان دوسرے
شہر کے مسلمانوں سے، ایک ملک کے مسلمان دوسرے ملک کے مسلمانوں سے باہمی الفت و
محبت اور تعاون و مدد کو تیار نہیں بلکہ عمومی طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ
مسلمانوں کی بجائے کفار سے بہر صورت دوستی کرنا چاہتے ہیں اور ہر طرح کی قربانی دے
کر ان سے بنائی ہوئی دوستی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی کافر ملک کی کسی
مسلم ملک کے ساتھ جنگ شروع ہوجائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ تعاون کرنے اورکفار
کے خلاف ان کی مدد کرنے کی بجائے کافروں کا ساتھ دیتے ہیں اور مسلمان بھائیوں کو
تباہ وبرباد کرنے میں کافروں کو ہر طرح کی مدد دیتے اور ان کی تھپکیاں حاصل کرنے کی
کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی اپنی حکمرانی قائم رہے اور ان کی عیش و مستی میں کوئی کمی
نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور اپنے دین و مذہب
کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اوران کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین۔(تفسیرِ صراط الجنان،جلد4،ص،52،53)
Dawateislami