ابو
صَفی محمد علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
مطالعۂ
عقائد دینِ اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور ایمان کو پختہ بنانے کا سب سے اہم
ذریعہ ہے۔ عقیدہ وہ اساس ہے جس پر انسان کے تمام اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اگر
بنیاد درست ہو تو عمارت مضبوط رہتی ہے اور اگر بنیاد میں کمزوری ہو تو نیک اعمال
بھی غیر مستحکم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اہلِ علم نے عقائد کی درستگی کو دین کی اولین
ضرورت قرار دیا ہے۔ مطالعۂ عقائد انسان کو حق و باطل میں فرق کرنے، گمراہ کن نظریات
سے بچنے اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا شعور عطا کرتا ہے۔
ایمان کی درستگی کا حکم:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو! ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر۔(سورۃ النساء:
136)
اس آیت میں ایمان کو مزید مضبوط اور درست رکھنے
کا حکم دیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عقائد کی اصلاح اور ان کا مطالعہ ہمیشہ
ضروری ہے۔
گمراہی سے
بچنے کا ذریعہ:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا:
كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا
رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب
اور میری سنت۔ (موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر 1594)یہ حدیث اس حقیقت کو بیان
کرتی ہے کہ صحیح عقیدہ قرآن و سنت سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔
مطالعۂ
عقائد انسان کے دل کو شکوک و شبہات سے پاک کرتا، یقین کو مضبوط بناتا اور اسے فکری
استقامت عطا کرتا ہے۔ جب انسان اپنے عقائد کو دلائل اور بصیرت کے ساتھ سمجھ لیتا
ہے تو وہ ہر قسم کے فتنوں اور گمراہیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہی
مطالعہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت، رسولِ کریم ﷺ کی محبت اور دینِ حق کی حقیقت سے
روشناس کراتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقائدِ صحیحہ کا علم حاصل کرے،
اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرے، کیونکہ یہی وہ سرمایہ
ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ضامن ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جسے دیکھ
کر دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے۔
Dawateislami