22 ذوالقعدۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

وقتِ کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

وقتِ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کائنات کا نظام جو اتنی بڑی ہستی چلا رہی ہے وہ سارا نظام اس ایک ہستی کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے وقت پر ہی چل رہا ہے سورج، چاند، ستارے وقت پر ہی نکلتے ہیں سورج روشنی دیتا اور رات ہوتے ہی غروب ہو جاتا ہے اسی طرح رات ہوتے ہی چاند نمایاں ہوتا اور اس رب کی پاکی بیان کرتے ہوئے خو ب چمک رہا ہوتا ہے  پرندے اپنے گھروں کو پرواز کر جاتے ہیں چڑیا ں اللہ پاک کی پاکی بیان کرتی ہوئی اپنے گھونسلے میں چلی جاتی ہے مؤذن پانچ وقت اذان دیتا اور لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف کامیابی کی طرف بلاتا ہے غافل لوگ دنیاوی مشغولیت میں اپنا وقت ضائع کرنے میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ نمازی ایک اللہ کو سجدہ کر کے اسکا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہوتا ہے نماز ہمیں وقت کی قدر اور اسکی اہمیت کا درس دیتی ہے اس طرح کائنات کا ذرہ ذرہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے اس ایک اللہ کے احکام کی پیروی کرنے میں مصروف ہے اللہ پاک ہمیں بھی اس پیاری نعمت وقت کی قدر کرتے ہوئےاپنی رضا والے کاموں میں مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

اللہ پاک نے ہمىں اشرف المخلوقات بناىا اور اپنے پىارے حبىب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے اىمان عطا فرماىا ہمارے لىے اس دنىا مىں طرح طرح کى نعمتىں پىدا فرمائىں جس طرح چاند، سورج، ستارے، ہوا، پانى سب اس کى عظىم نعمتىں ہىں۔

پىارے اسلامى بھائىو!

اسى طرح وقت اور زندگى کھوىا ہوا وقت لاکھ کوشش کے باوجود نہىں مل سکتاْ ۔ حضرت معقل بن ىسار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروى ہے کہ نبى کرىم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرماىا کوئى دن اىسا نہىں جو دنىا مىں آئے اور وہ یہ ندا نہ کرے :

اے ابن آدم! مىں تىرے ہاں جدىد مخلوق ہوں آج تو مجھ مىں کل قىامت کے دن اس کى گواہى دوں گا، تو مجھ مىں نىکى کرتاکہ مىں تىرے لىے کل قىامت مىں نىکى کى گواہى دوں مىرے چلے جانے کے بعد تو کبھى مجھے نہ دىکھے گا۔

(حلىة الاولىا حدىث ۲۵،۱، ج ۱، ص ۳۴۴)

ىاد رکھو کہ دنىا مىں وہى لوگ کامىاب ٹھہرے جنہوں نے وقت کى قدر کى ، اللہ کے فضل وکرم اور وقت کى قدر کرنے کى برکات کى اہمىت کو جاننے کى وجہ سے عبدالقادر جىلانى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہغوث اعظم کھلائے اور على ہجوىرى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہگنج بخش مشہور ہوئے اس طرح معىن الدىن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہننے خواجہ غرىب نواز بننے کا اعزاز پاىا۔ ہمىں چاہىے کہ اپنے وقت کو اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى اطاعت مىں گزارىں اور اس کے لىے نىک صحبت اختىارکرنا ہے، بے حدضرورى ہے۔

لہزا اگر ہم وقت کى ضائع کرنے والے کے پاس بىٹھ گئے تو ہم بھى وقت کے ضائع کرىں گے اور اگر ہم وقت کى اہمىت جاننے والوں کے پاس اور ان کى صحبت مىں رہىں گے تو ہم بھى وقت کى قدر دان بن جائىں گے۔

پىارے اسلامى بھائىو! وقت اللہ کى اىسى نعمت ہے جو ہر انسان کو برابر ملتی ہے، امیر و غریب سب کے لئے دن و رات ایک ہی ہیں سب کو یہی ۲۴ گھنٹے ہی ملتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا کہ وقت کی قدر کون کرتا ہے اور اسے برباد کون کرتا ہے عنقریب یہ فانی دنیا ختم ہونے والی ہے ۔ وقت کی قدر و اہمیت یہ ہے کہ قراٰن مجید کی سورہ عصر میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

تَرجَمۂ کنز الایمان:زمانہ محبوب کى قسم بے شک آدمى ضرور نقصان مىں ہے مگر جو اىمان لائے اور اچھے کام کىے اور اىک دوسرے کو حق کى تاکىد کى اور اىک دوسرے کو صبر کى وصىت کى ۔

لہذا ہمىں اچھے کاموں اور نىکى کىے کاموں مىں وقت گزارنا چاہىے، جن سے شرىعت نے منع کىا اس مىں چونکہ چنانچہ سے کام نہ لے بلکہ شرىعت پر چلتے ہوئے وقت گزارىں۔

مال تقسىم کرنے کى بھى مہلت نہ ملى:

بنى اسرائىل کا اىک شخص نے مال جمع کىا پھر بىٹوں کوکہہ کر مال کو سامنے رکھو، جب کہ موت کا وقت آچکا تھا ملک الموت علیہ السَّلام نے روتے ہوئے دىکھا تو پوچھا کىوں رو رہے ہو، مىں ىہاں سے تىرى روح قبض کىے بغىر نہ جاؤں گا اس آدمى نے کہا کہ مجھے مہلت دے تاکہ اس مال کو تقسىم کرو، فرشتے نے کہا کہ مہلت نہىں ىہ کام موت سے پہلے کرلىتا پھر ملک الموت علیہ السَّلام نے اس کى روح قبض کرلى۔(احىا العلوم صفحہ ۷۸۹ مکتبہ المدىنہ )

وقت کى اہمىت پر دو فرمان مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

دو نعمتىں اىسی ہىں کہ جن کے بارے مىں بہت سے لوگ دھوکے مىں ہىں۔

۱۔صحت اور فراغت۔(بخارى)

روزانہ صبح جب سور ج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت یہ اعلان کرتاہے کہ اگر آج کوئى کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد مىن پلٹ کر نہىں آؤں گا۔

(شعب الاىمان باب فى الصىام ماجا وفى الىلة النصف فى الشعبان حدىث ۳۸۲۰۔ملخصا)

پارہ ۳، (تىس ) سورہ التکاثر کى آىت نمبر ۸ مىں فرماىا:


ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)تَرجَمۂ کنز الایمان:پھربیشک ضرو راس دن تم سے نعمتوں کى پرسش ہوگى۔

اور وقت بھى اىک بہت نعمت ہے اس کے بارے مىں پرستش ہوگى ،سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان کہ قىامت کے دن سوال ہوں گے ان مىں سے اىک سوال ىہ ہے کہ عمر کن کاموں مىں صرف کى۔ (ترمذى کتاب حدىث ۲۴۲۴، القىامت)

وقت کے قدر دانوں کے ارشادات:

فرمان حضرت على رضی اللہ تعالٰی عنہ : ىہ اىام تمہارى زندگى کے صفحات ہىں ان کو اچھے اعمال سے زىنت بخشو۔

فرمان امام شافعى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: اہل اللہ کى صحبت سے سىکھنے کو ملى کہ وقت تلوار کى طرح ہے تم اس کو ( نىک اعمال س) کاٹو ورنہ ( فضولىات مىں مشغول کرکے) تم کو کاٹ دے گا۔

امام رازى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ : وقت نہاىت ہى قىمتى دولت ہے، (انمول ہىرے ۱۶ تا ۱۸)

وقت و ضائع کرنے والے اسباب :

چند بىان کرتا ہوں، موبائل فون، اور انٹرنىٹ کے غىر ضرورى استعمال کرنا، گىم کھىلنے مىں اور کھىل کود مىں وقت برباد کرنا، آوارہ گردى اور برى صحبت اس طرح فضول گفتگو۔

لہذا ہمىں چاہىے کہ وقت کو غنىمت جان کر اچھے کاموں مىں گزارىں تاکہ جنت کى بلند ترىن اور مرتبہ حاصل کرلیں، اللہ پاک عمل کى توفىق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم


وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

وقت زندگی ہے اسے بہترطور پر استعمال کرکے ہم کامیاب ہوسکتے ہیں،اس لیے ضروری ہے کہ ہم وقت کی اہمیت کو سمجھیں،وقت ضائع کرنے والے عناصر کا جائزہ لیں ،وقت کو بہتر استعمال کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کریں اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔محبوب کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جہاں ہر معاملے میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے وہیں وقت کی اہمیت اور قدر کو بھی اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا:

اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ

ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو (۱)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے(2)صحت کو بیماری سے پہلے (3)مالداری کوتنگدستی سے پہلے(4) فرصت کومشغولیت سے پہلے اور (5) زندَگی کوموت سے پہلے ۔(اَلْمُسْتَدْرَک ج۵ ص۴۳۵ حدیث ۷۹۱۶ دارالمعرفۃ بیروت)

''دن'' کا اعلان:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت ضائع کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت "دن" یہ اعلان کرتا ہے: اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ ص۳۸۶حدیث۳۸۴۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ایک اور مقام پر فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بَہُت سے لوگ دھوکے میں ہیں ، ایک صحّت اور دوسری فراغت۔(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۴ ص۲۲۲حدیث ۶۴۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

افسوس کرنے والا جنتی

اگر کوئی وقت کی اہمیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے ضائع کرتا ہے تو جنت میں جانے کے باوجود بھی افسوس کرے گا چنانچہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:"اہلِ جنّت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سوائے اُس ساعت (یعنی گھڑی ) کے جو (دنیا میں)اللہ پاک کے ذِکر کے بِغیر گزرگئی۔"(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۴ ص۲۲۲حدیث ۶۴۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وقت کی اہمیت کو سمجھنے والے:

آئیے اسلاف میں سےچند ہستیوں کے واقعات پڑھئیے تاکہ ہمارے دلوں میں بھی وقت کی اہمیت مزید اُجاگر ہو اور ہم بھی اسے زیادہ سے زیادہ قیمتی بنائیں،چنانچہ

1 حافِظ اِبن عَساکِر تَبْیِیْنُ کَذِبِ الْمُفْتَرِی میں فرماتے ہیں: (پانچویں صدی کے مشہور بزرگ) حضرت سیِّدُنا سلیم رازی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ کا قَلَم جب لکھتے لکھتے گھس جاتا تو قَط لگاتے (یعنی نوک تراشتے )ہوئے(اگر چِہ دینی تحریر کیلئے یہ بھی ثواب کا کام ہے مگر ایک پنتھ دو کاج کے مِصداق) ذکرُ اﷲ شُروع کردیتے تاکہ یہ وَقت صِرف قَط لگاتے ہوئے ہی صَرف نہ ہو!

2 آٹھویں صَدی کے مشہور شافِعی عالم سیِّدُنا شمس الدّین اَصبہانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں حافِظ ابنِ حجر رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس خوف سے کھانا کم تناوُل فرما تے تھے کہ زیادہ کھانے سے بَول وبَراز کی ضَرورت بڑھے گی اور بار باربیت الخلاء جاکر وَقت صَرف ہوگا! (الدررالکامنۃ للعسقلانی ج۴ ص۳۲۸ داراحیاء التراث العربی بیروت)

3 حضرتِ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تذکِرۃُ الحُفَّاظ میں خطیبِ بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :''آپ راہ چلتے بھی مطالَعَہ جاری رکھتے۔'' (تاکہ آنے جانے کا وقت بے کار نہ گزرے) :۔۔ (تذکرۃ الحفاظ ج۳ ص۲۲۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

4 حضرتِ جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وقتِ نَزْع قرآنِ پاک پڑھ رہے تھے، ان سے اِستفسار کیا گیا :اس وَقت میں بھی تلاوت؟ اِرشاد فرمایا: میرا نامہ اَعمال لپیٹا جارہا ہے تو جلدی جلدی اس میں اِضافہ کررہا ہوں۔(صید الخاطر لابن الجوزی ص۲۲۷ ،مکتبہ نزار مصطفٰے الباز)

مذکورہ واقعات کے علاوہ بیسویں بزرگان دین کی زندگیوں کے واقعات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھے ہوئے ہیں لیکن وقت کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کا درست استعمال کرنے والے کے لیے یہی کافی ہیں، اللہ پاک ہمیں حقیقت میں وقت کی اہمیت سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

اللہ پاک نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہیں جن کاکوئی بشری طاقت احاطہ نہیں کرسکتی ۔اللہ پاک فرماتا ہے: ترجمہ کنزالایمان: اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے (ابراہیم ۳۴)

اللہ پاک کی ان نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت وقت بھی ہے ،یہ ایک ایسا قیمتی متاع ہے کہ اس کی ضرورت زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم ہے ،چاہےوہ کاروبارہو یا گھر ،تعلیم وتعلم ہو، یاسفر وحضر یا پھر عبادات و معاملات ہوں، الغرض کوئی بھی شعبہ ہو اور موجودہ مصروف ترین اور سائنسی دور میں اس کی اہمیت کے پیشِ نظر نئی نئی ایجا دات وجود میں آرہی ہیں جن کا بنیادی مقصد آسانی ،ترقی ،کامیابی،اور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کا م کرنا ہے ،وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانِ عالی بہترین رہنمائی کرتا ہے: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو!جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،صِحَّت کو بیماری سے پہلے،مال داری کوتنگدستی سے پہلے،فُرصت کومَشغُولیَّت سے پہلےاور زِندگی کوموت سے پہلے"۔ {شعب الایمان ،باب الذھد وقصر الامل،ج۱۲،ص۴۷۷،حدیث ۹۷۶۸}

یہ حدیث علم وعمل ،عبادت و ریاضت بلکہ دنیا و آخرت کے کثیر أمور کو جامع ہے ، ایک بزرگ فرماتے ہیں :علماء وعقلاء سب اس پر متفق ہیں کہ انسان کی سب سے اہم پو نجی جس کو بچا کر بچا کراستعمال کرنا چاہیے وہ وقت ہے۔{ذیل طبقات حنابلہ ج۱،ص۱۴۶}

دنیا کی تاریخ میں جن شخصیات کا ہم ذکرِخیر کرتے ہیں ان کی نمایا ں خو بیو ں میں سے ایک خاص وصف اپنے وقت کی قدر دانی بھی ہےاور جن حضرات نے وقت کی قدر کی اللہ نے ان کے لئے بڑے بڑے کام آسان کردیئے ۔مثلاامام محمد علیہ الرحمۃ نے ایک ہزار کتب تحریر فر مائیں ،ابن عقیل علیہ الرحمۃ نے ایک کتاب آٹھ سو۸۰۰ جلدوں کی تحریر فرمائی ،امام غزالی علیہ الرحمۃ نے "یاقوت التاویل "نامی کتاب چالیس جلدوں میں لکھی ،امام ابن جریر علیہ الرحمۃ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار صفحات لکھے ،علامہ باقلانی علیہ الرحمۃ نے صرف "معتزلہ فرقہ "کے رد میں ستر ہزار صفحات لکھے ،محدث ابن شاہین علیہ الرحمۃ نے کتب کی تحریر میں سات سو درہم کی روشنائی استعمال کی ،علامہ ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے زمانہ طالب ِعلمی بیس ہزار کتب کا مطالعہ کیا،اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنی زندگی میں لاکھوں فتوے تحریر کیے۔{علم وعلماء کی اہمیت ص۲۰۔۲۹ ملتقطا }

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے وقت کو مفید اور نیک کاموں صرف کرکے اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں، فالتو وقت گزرنا کتنے بڑے نقصان کی بات ہے وہ اس حدیثِ مبارَک سے سمجھئے چُنانچِہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے ''اہلِ جنّت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سوائے اُس ساعت (یعنی گھڑی ) کے جو (دنیا میں)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر کے بِغیر گزرگئی۔'' (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر ج۲۰ ص۹۳۔۹۴ حدیث ۱۷۲)

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

    وقت اللہ عزوجل کی ایک ایسی عظیِمُ الشّان نعمت ہے جو ہر انسان کو برابر ملتی ہے. اللّٰه عزوجل نے ہر ایک کو دن اور رات کی صورت میں ڈبل بارہ(24)گھنٹے عطا فرمائے ہیں ۔وقت میں یوں تو تین(٣)حروف ہیں مگر حقیقت میں یہ بہت ہی انمول خزانہ ہے. وقت کو نہ تو کوئی خرید سکتا ہے اور نہ ہی اسے ذخیرہ(جمع) کیا جا سکتا ہے. جو کوئی وقت کی اہمیت کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اپنی صبح شام کو وقت کا پابند بنا لیتا ہے تو ترقی و کامرانی خود آگے بڑھ کر اُس کے قدم چومتی ہے اِس کے بر عَکس جو کوئی وقت کی قدر نہیں کرتا اور اس کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہ جاتا ہے اور اپنے قیمتی وقت کو فُضُول کاموں میں گنوادیتا ہےتو ایسا شخص وقت کی بربادی کے سبب ذِلّت و رُسوائی کے گڑھے میں اِس طرح گرتا ہے کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا.

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد معلوم ہونا نہایت ضروری ہے. چنانچہ اللّٰه عزوجل( پارہ اٹھارہ(١٨)سورۃ المُؤمِنُون آیت نمبر ١١٥ )میں ارشاد فرماتا ہے :اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (١١٥). تَرجَمۂ کنز الایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار ر بنایا اور تمھیں ہماری طرف پِھرنا نہیں ۔

صَدرُالاَفَاضِل حضرت علّامہ مولٰینا سیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃاللّٰهِ الھادی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں "اور (کیا تمہیں) آخرت میں جزا کے لیے اُٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں. ( تفسیر خزائن العرفان: صفحہ: ٦٤٧، مطبوعہ؛ مکتبۃ المدینہ)                                   

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد اللّٰه عزوجل کی عبادت کرنا ہے. جیسا کہ سورۃ الذاريات کی آیت نمبر چھپن(56 ) میں بھی ارشاد ہوتا ہے. ترجمہ کنزالعرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بناۓ کہ میری عبادت کریں.

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! زندگی کا یہ مختصر وقت کس تیزی کے ساتھ برف کی مانِند پِگھل رہا ہے لہذا عقلمند وہی ہے جو اس عَالَم فانی کے دھوکے میں مبتلا نہ ہو اور اپنے انمول ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی وقت کی نا قدری نہ کرے تقویٰ اور پرہیزگاری اِختیار کرے اور اپنے شب و روز کو فضولیات اور دنیوی عیش و عِشرت میں ضائع کرنے کے بجائے اِن کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرے. زندگی کا جو دن نصیب ہو گیا اُس کو غنیمت جانتے ہوئے جتنا ہو سکے اللّٰه عزوجل کی عبادت کر لیجیے. فالتو وقت گزرنا کتنی بڑی بد نصیبی ہے اِس بات کا اندازہ اس حدیث پاک سے لگایا جا سکتا ہے. چنانچہ تاجدارِ مدینہ صلّى اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "اہل جنّت کو کسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہو گا سِوائے اُس ساعت کے جو (دنیا میں) اللّٰه عزوجل کے ذکر کے بغیر گزر گئی."

(المعجم الکبیر، جلد ٢٠،صفحہ ٩٣،حدیث ١٨٢،مطبوعہ داراحیاءالتراث العربی بیروت)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! زندگی کے ایام چند گھنٹوں سے اور گھنٹے لمحوں سے عبارَت ہیں ، کیا معلوم کہ کب ملک الموت تشریف لے آئیں اور اگر ہم اس فانی دنیا کی رنگینیوں میں ہی کھو ے رہے تو خدا کی قسم! ایک لمحے کے کڑویں حصّے کی بھی مہلت نہ دی جائے گی ۔ آئیے اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ کیجیے. حضرت سیدنا سُحَیْم  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں تابعی بزرگ حضرت سیدنا عامِر بن عبدُاللّٰہ رحمۃ اللّٰه علیہ کے پاس(گیا) تھا، وہ نَماز پڑھ رہے تھے، آپ مُختصِر نماز پڑھ کر میری جانب مُتَوَجِّہ ہوئے اور فرمایا:"مجھے جلدی ہے! فوراً اپنی ضرورت بیان کیجئے"! میں نے پوچھا: کس چیز کی جلدی ہے؟ فرمایا: "اللّٰه پاک آپ پر رحم فرمائے مجھے جلدی ہے! (کہ کہیں) مَلَکُ الموت علیہ السلام(روح قبض کرنے کیلئے) نہ آجائیں" پھر میں وہاں سے اُٹھ گیا اور وہ دوبارہ نماز میں مشغول ہو گئے. (احیاء العلوم، جلد ٥، صفحہ ٥٠٦، مطبوعہ دار صادر بیروت)

     پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بُزُرگان دین رَحِمَھُمُ اللّٰه المُبین کو اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی فضول گزاردینا کتنا دشوار لگتا تھا اور ایک ہم ہیں کہ ہمیں اپنے وقت کو فضولیات میں ضائع کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں. ہمارے اسلاف کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں کہ جن کا نام آتے ہی ہمارے منہ سے بے ساختہ رضی اللّٰه تعالٰی عنہ اور رحمۃ اللّٰه تعالٰی علیہ جاری ہو جاتا ہے، کیوں؟ اِس لئے کہ وہ حضرات اپنے وقت کی قدر و اہمیت سے بَخوبی واقف تھے. آئیے! وقت کے ایک عظیم قدردان کا اِرشاد سنتے ہیں اور نصیحت کے مَدَنی پھول کی

خُوشبو سُونگھنے کی کوشش کرتے ہیں، چُنانچہ امیر المُؤمنین علیُّ المُرتضٰی کرَّمَ اللّٰه تعالٰی وجھَهُ الكريم فرماتے ہیں:" یہ ایّام تمھاری زندگی کے صفحات ہیں اِن کو اچھے اعمال سے زِینت بخشو" ( انمول ہیرے، صفحہ ١٦،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہم سے ہر ایک کو چاہیے کہ  اپنی زندگی کے انمول ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی وقت کو فضول کاموں میں ضائع نہ کریں اور جتنا زیادہ ہو سکے اللّٰه عزوجل  اور اُس کے محبوب صلّی اللّٰه علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں.

ریاضت  کے یہی دن ہیں بُڑھاپے میں  کہاں  ہِمّت

جو کچھ کرنا ہے اب کر لو ابھی نُوری جواں تم ہو

(سامان بخشش، صفحہ ١٤٣، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

اللّٰه عزوجل ہمیں وقت کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے اور اپنی زندگی کو اچھے کاموں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین! بِجاہ النَّبِیِّ الامین صلّی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم.

                    عبادت میں گزرے مری زندگانی

                    کرم    ہو    کرم  یا خُدا یا اِلٰہی

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

اللہ تعالیٰ نےانسان کوجونعمتیں عطاکی ہیں ان میں سےایک بہت بڑی نعمت وقت ہے ، لہذا اس کی قدر کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ فوری ضائع ہونے والی ایسی چیز ہےکہ جسے نہ چھوا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، یہ برف کی طرح ہےکہ اگر آپ اسے استعمال نہ کریں اور باہر رہنے دیں تو یہ پگھل جائے گا۔

وقت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، اسے آپ نہ پیشگی استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیشگی ضائع کر سکتے ہیں۔وقت کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی فروخت کیا جا سکتا ہے اسے نہ تو کرائے پر لے سکتے ہیں اور نہ ہی کرائے پر دے سکتے ہیں۔

ہر چیز کےلئےوقت کی ضرورت ہے،ہرکام کسی نہ کسی وقت پرہوتاہےلیکن انسان کےپاس وقت کوبہتر استعمال کرنے کےوسائل کم ہیں ،اسےہمیشہ قلّت ِوقت کی شکایت رہتی ہے،وہ بہت سارےکام فرصت کےاوقات میں کرنا چاہتا ہےمگریہ زندگی ہےکہ اس میں اسےفرصت کا کوئی لمحہ میسر نہیں آتا،اس نےدنیا میں اپنےآپ کو اس قدرالجھالیا ہےکہ اب اسے فرصت صرف قبرمیں ہی ملےگی لیکن وہ قبرکےمعاملات پرغورہی نہیں کرتا۔

ہرانسان کےپاس جو زندگی ہےوہ آج کی زندگی ہے، آج کل ہم نےدفتر اور کاروبارکےاوقات کوہی اصل زندگی سمجھ رکھا ہے،ہم میز، کرسیوں ،فائلوں،نوٹس،سیٹھ صاحب اور افسر کے غلام ہوکر رہ گئےہیں،ہم نےان کی دنیا بنانےکےلئےاپنی آخرت کوتباہ کرنےکا راستہ اپنایاہوا ہے،ہمیں وقت کے بارے میں احسا س پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔

میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!ہمیں اپنےوقت کی قدرپہچاننا ضروری ہے،فالتو وقت گزارناکتنےبڑے نقصان کی بات ہے وہ ان دو احادیثِ مبارکہ سے سمجھئے ۔

(1) تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ با قرینہ ہے: “ اہلِ جنّت کو کسی بھی چیز کا افسوس نہیں ہو گا سوائےاس ساعت( یعنی گھڑی) کےجو (دنیا میں ) اللہ عزّوجل کے ذکر کے بغیر گزر گئی۔( المعجم الکبیرج 20 حدیث 172 دار احیاء التراث العربی بیروت)

(2) دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکےمیں ہیں ایک صحت اور دوسری فراغت۔ ( صحیح البخاری ج 4 ص222 حدیث 6412 دارالکتب العلمیہ بیروت)

پیارے اسلامی بھائیو! جو وقت گزرجاتا ہےوہ گزراوقت کہلاتاہے،اس کےبارے میں افسوس کرنےکےلئےبیٹھ جانا بھی وقت ضائع کرنےکاباعث ہوتاہے۔ جووقت آیانہیں ہےاس کے بارے میں سوچاجاسکتاہے، مگر جووقت قابلِ استعمال ہےوہ یہی ہےجو آپ اس وقت گزار رہے ہیں،لہذا اپنےاس وقت کی قدر کیجئے اور اس کو ضائع کرنےسےبچیں۔

اللہ پاک سےدعا ہے کہ ہمیں اپنےوقت کی قدر کرنےکی اور اسے اپنی رضا والےکاموں میں گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

اللہ نے ہمىں بے شار نعمتىں عطا کى ہىں اور ان کا شمار کرنے کو جائىں تو شمار نہ کرسکىں ، لىکن ىہاں چند نعمتىں پىش کرتا ہوں:

حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى امتى ہىں، قرآن پاک ، ہوا پانى، اىمان ، زندگى اور صحىح سلامت تمام جسمانى اعضا وغىرہ، اور ہمىں ىہ نعمتىں بن مانگے عطا کى گئىں ہىں لىکن عمومى طورپر دىکھا گىا ہے کہ بہت لوگ ان کى قدر نہىں کرتے اور جب ان سے ہاتھ دھو بىٹھتے ہىں تو پھر اس کى قدرو اہمىت جان لىتے ہىں لىکن سمجھنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

وقت پر وقت کى گر بات نہ مانى تم نے وقت پھر وقت نہ دے گا تمہىں پچھتانے کا

ان نعمتوں مىں سے اىک نعمت وقت ہے اور اس کى اہمىت سے کوئى بھى ناواقف نہىں۔لىکن ىہ دىکھا جاتا ہے کہ کسى کو علم ہى نہىں آج کے دور آج سب سے زىادہ وقت کى اہمىت پر زور دىا جارہا ہے اور اس کى اہمىت اجاگر کرنے کے لىے سىمىنادر منعقد کىے جارہے ہىں، لىکن کچھ نادان لوگ اس کى اہمىت کو نہىں سمجھتے لىکن وقت پھر اىسے نادانوں کو اہمىت بتا دىتا ہے جو بندہ اپنى کمپنى ، فىکٹرى ىا، دکان وقت پر کھولے اور بند کرتا ہے تو وہ کامىاب ہوتا ہے اسى طرح جو کام وقت پر کرے اور وقت پر ہى ختم کرے تو اس سے گاہک خوش ہوتے اور پکے ہوجاتے ہىں تو ىہ سب وقت کا صحىح استعمال کا نتىجہ ہے۔

اىک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اىک اور شخص کے ساتھ جارہے تھے تو حضرت حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان سے فرماىا جوعلم حاصل کرتے ہىں تو وہ شخص دوسرى جگہ چل پڑا لىکن آپ نے نے علم کى مجلس کو جوائن کرلىا، پھر اىک وقت آىا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا اہل علم مىں اىک نام پىدا ہوگىا، ىہ سب وقت کى اہمىت اور اس کا صحىح استعمال کرنے کى برکتىں ہىں۔

تو جب کوئى وقت کى اہمىت کو سمجھ جائے اور اس کا صحىح استعمال کرے تو اس دنىا و آخرت مىں کثىر بھلائىاں نصىب ہوتى ہىں۔ تو ہمىں وقت کى قدر و اہمىت کرنى چاہىے، اللہ تعالىٰ ہمىں وقت کى اہمىت کو سمجھنے کى تو فىق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

وقت اللہ پاک کى بہت بڑى نعمت ہے کہ جس کى قدر وا ہمىت کو جان کر اسے اچھے کاموں مىں استعمال کرکے دنىا و آخرت مىں بڑى کامىابى حاصل کى جاسکتى ہے، ىہ اصل حقىقت ہے کہ گىا وقت لوٹ کر نہىں آتا۔ اور ىہ حقىقت بھى واضح ہے کہ دنىا مىں جن لوگوں نے وقت کى قدر کى انہوں نے بہت اہم کام انجام دىئے اور کامىابى نے ان کے قدم چومے اور جنہىں اسے غفلت مىں گزارا انہىں ناکامى کا منہ دىکھنا پڑا۔

وقت کى اہمىت شخصىت کا نور ہے اىک دانا کا قول ہے کہ تمام نعمتىں اور دولتوں مىں سے قىمتى دولت وقت ہے، کہ دنىا کى ہر اىک نعمت دوبارہ حاصل کرنا ممکن ہے لىکن جو وقت اىک بار گزر گىا وہ کبھى لوٹ کر نہىں آئے گا۔

دىن اسلام مىں وقت کى اہمىت :

ہمارے دىن اسلام مىں وقت کو بہت اہمىت حاصل ہے کہ عبادتوں کو وقت پر ادا کرنا بندے پر فرض ہے، جیسے نماز ، روزہ، حج اور دىگر عبادتىں کہ ان کى ادائىگى مقررہ وقت پر لازم ہے، قرآن کرىم مىں رب تعالىٰ فرماتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)

تَرجَمۂ کنز الایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ (سورہ نسا آىت۱۰۳)

زندگى قىمتى سرماىہ ہے :

ہمارى زندگى کا اىک اىک لمحہ قىمتى سرماىہ ہے اگر ہم نے اسے بے کار ضائع کردىا تو سوائے حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہىں آئے گا، ہمىں ىہ بات ىاد رکھنى چاہىے کہ رب تعالىٰ نے انسان کو اىک خاص مقصد کے تحت دنىا مىں بھىجا ہے رب تعالىٰ صورت و پىدائش کا سبب قرآن پاک مىں ارشاد فرماتا ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا

تَرجَمۂ کنز الایمان:وہ جس نے موت و زندگى پىدا کى کہ تمہارى جانچ ہو تم مىں کس کا کام زىادہ اچھا ہے۔ (سورہ ملک: ۲)

احادىث مبارک:

پىارے پىارے آقا مکى مدنى مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے امتىوں کو وقت کى اہمىت کى تعلىم دىتے ہوئے ارشاد فرماىا:

۱۔روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اعلان کرتا ہے کہ اگر آج کو ئى اچھا کام کرتا ہے تو کرلو آج کے بعد مىں کبھى پلٹ کر نہىں آؤں گا۔(شعب الاىمان حدىث ۳۸۴۰)

اے کاش ہمىں اس بات کا احساس ہوجائے کہ ہم روز بروز اپنی موت کے قرىب ہوتے جارہے ہىں ہر گزرتا لمحہ ہمىں موت کى طرف لے جارہا ہے

مرتے جاتے ہىں ہزاروں آدمى

عاقل وو نادان آخر موت ہے

۲۔اہل جنت افسوس کرىں گے :

تاجدار مدىنہ قرار قلب و سىنہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرىنہ ہے کہ اہل جنت کو کسى چىز کا فسوس نہ ہوگا سوائے اس ساعت ( گھڑى) کے جو دنىا مىں اللہ کے ذکر کے بغىر گزرگئى۔

۳۔لوگ دو معاملے مىں دھوکے مىں ہىں:

پىارے آقا مکى مدنى مصطفى صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالى شان ہے کہ دو نعمتىں اىسى ہىں جن کے بارے مىں لوگ دھوکے مىں ہىں اىک صحت اور دوسرى فراغت۔(صحىح البخارى ج ۴، حدىث، ۶۴۱۲)

حقىقت ہے کہ صحت کى قدر بىمارى ہى کرسکتا ہے اور وقت کى قدر وہى سمجھ سکتا ہے جو بے حد مصروف ہو ورنہ جو لوگ فارغ ہوں انہىں کىا معلوم کہ وقت کىسى قىمتى چىز ہے۔

اسلاف کرام کے ارشادات:

حضرت حسن بصرى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہىں :

اے آدمى تو اىام ( دنوں) ہى کا مجموعہ ہے جب تک اىک روز گزر جائے تو ىوں سمجھ کہ تىرى زندگى کا اىک حصہ گزر گىا۔ (الطبقات الکبرىٰ ج ۱)

علامہ ذہبى، خطىب بغدادى کے بارے مىں تحرىر فرماتے ہىں کہ آپ راہ چلنے مىں بھى مطالعہ جارى رکھىں (تاکہ آنے جانے کا وقت بے کار نہ جائے)۔

غور تو کىجئے کہ وہ عظىم الشان جن کے شب و روز صرف نىکىوں مىں گزرتے تھے وہ وقت کے کبھى قدر کرنے والے تھے کہ اىک لمحہ بھى فارغ گزارنا انہىں گوارا نہ تھا، اور آج ہمارا حال ہے کہ روزانہ کچھ گھنٹے فضول باتوں مىں ضائع کرنے پر بھى افسوس نہىں ہوتا۔

زندگى کى مثال برف جىسى ہے :

اىک بزرگ فرماتے ہىں کہ مىں نے سورہ عصر کا مطلب اىک برف فروش ( بىچنے والے) سے سمجھا جو بازار مىں آؤاز لگا رہا تھا کہ ااس شخص پر رحم کرو جس کا سرماىہ گھلا جارہا ہے تب مىرى سمجھ مىں والعصر ان الانسان لفى خسر، کا مطلب آگىا واقعى عصر کى جو نصىحت انسان کو دى گئى ہے وہ برف کى طرح تىزى سے پگھل رہى ہے اس کو بے کار برباد کرنا اور فضول کاموں مىں اپنا ہى انسان کا خسارہ ہے۔(تفسىر جلالىن سورہ العصر)

حاصل الکلام :

خلاصہ کلام ىہ ہے کہ ہمىں اس دنىا مىں کہىں مختصر وقت کے لىے رہنا ہے اور اسى مختصر وقت مىں قبر و حشر کے طوىل ترىن معاملات کى تىارى کرنى ہے لہذا ہمارا وقت بہت قىمتى ہے ىہ تىز رفتار گاڑى کى طرح فراٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رکتا ہے اور نہ پکڑنے پر ہاتھ آتا ہے کاش کہ ہمىں وقت کى قدر کرنا نصىب ہوجائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ىہ سانس کى مالا بس اب ٹوٹنے والى ہے

غفلت سے مگر دل کىوں بىدار نہىں ہوتا

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

حکایت:

کلاس میں موجود ایک طالب العلم نے استاذ سے سوال کیا کہ وقت کی اہمیت کو کیسے جانے؟

استاذ نے کہا؟ پیارے طالب العلم میں آپ کو ایک حکایت سے سمجھاتا ہو،ایک مرتبہ دو شخصوں کو دو گھنٹے فرصت کے ملے،سوچ میں پڑ گئے اب کیا کیا جائے؟ تو ایک شخص(دینی)کتاب پڑھنے میں لگ گیا تو دوسرا موبائل میں وقت کو گزارنے لگا،ایک کتاب پڑھتا رہا تو دوسرا موبائل میں وقت کو ضائع کرتا رہا،دوگھنٹے پورے ہوگئے،وقت دونوں کا گزر گیا،لیکن سوال یہ ہے کہ فائدہ میں کون رہا ہے؟یقینا جواب کتاب والےکے حق میں دیا جائےگا،وقت تو گزر جاتا ہے چاہے صحیح استعمال کرے یا نہ کرے،فائدہ میں وہی ہے جس نے وقت سے فائدہ اٹھا لیا کامیاب وہی کہ جس نے وقت کو کامیاب بنا لیا۔

پیارے اسلامی بھائیو! اس فرضی حکایت سے وقت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

زندگی کے شب و روز:

وقت اللہ پاک کی ایک ایسی نعمت ہے جو ملتی تو ہر شخص کو ہے چاہے وہ دینی شخص ہو یادنیاوی،امیر ہو یا غریب،بڑا ہو یا چھوٹا،استاذ ہو یاشاگرد لیکن اس کے گزارنے میں تقریباہر ایک کااختلاف(فرق) ہوتا ہےکوئی وقت کو پڑھائی میں گزارتا ہے،تو کوئی سوشل میڈیاپر،کوئی ذکر اللہ کی محفل میں گزارتا ہے،تو کوئی دنیاوی گپ شپ کی بیٹھک میں،کوئی رب کو راضی کرنے میں گزارتا ہے تو کوئی دنیا کو راضی کرنےمیں۔

وقت تو گپ شپ میں گزر جاتا ہے لیکن زندگی میں مقام و مرتبہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جس نے وقت کی قدر اس کو دنیا میں وہ مقام ملتا ہے کہ صدیاں گزر جاتی ہے،پھر بھی ان کا نام تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے،آپ امام اعظم کو دیکھ لیں یا امام مسلم کو، امام شافعی کو دیکھ لیں یا امام بخاری کو،امام اہلسنت کو دیکھ لیں یا پھر صدر الافاضل کو،حکیم الامت کو دیکھ لں یا پھر حافظ ملت، جتنے بھی عمل خیر(نیک عمل) میں حصہ ڈالنے والی شخصیات ہیں ان کی سیرت میں ایک نمایاں وصف ",وقت کی قدر "بھی ہوتا ہے جو ان کو بلند بالا(بہت اونچے) مقام پر فائز کردیتا ہے

وقت کی قدر قدردانوں سے پوچھو:

وقت کی قدر قدردانوں سے پوچھو کہ وہ کیسے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچاتے تھے

جیسا کہ حافظ ابن عساکر", تبیین کذب المفتری" میں فرماتےہیں:پانچویں صدی کے مشہور بزرگ حضرت سیدنا سلیم رازی علیہ الرحمۃ کا قلم جب لکھتے لکھتے گھس جاتا تو قط لگاتے یعنی نوک تراشتے اگرچہ دینی تحریر کے لیے یہ بھی ثواب کا کام ہے مگر آپ علیہ الرحمۃ ذکر اللہ شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط لگاتے ہوئے ہی صرف نہ ہو۔ (ماہنامہ ضیائے طیبہ،اپریل2018)

جنتیوں کی حسرت:

وقت کی اہمیت کیوں ضروری ہے اس بارے میں حدیث مبارک دیکھئےکہ ،"جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہیں کریں گےسوائے ان ساعتوں(گھڑیوں) کے جو انہوں نےدنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر صرف کردیں۔(مراۃ المناجیح،ج7،ص1،نعیمی کتب خانہ)

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کی قدر کرتے ہوئے خدا و رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یاد میں گزاریں کہ۔

سانسوں کی مالا بس ٹوٹنے ہی والی ہے

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

بنت  خطیب الرحمٰن قریشی (مدرسۃ المدینہ آن لائن ایبٹ آباد)

دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز وقت ہے، وقت کو ضائع مت کرو اور ہر وقت مصروف عمل رہو وقت کی قدر پوچھنی ہے تو ایسے انسان سے پوچھو جو اپنا آخری وقت گزار رہا ہوں ۔جی بالکل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم وقت کو کیسے ضائع کرتے ہیں؟ جی کبھی کبھار ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تو ہم اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔کبھی بے جا گھروں سے نکل کر باہر بازاروں میں وقت کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہمیں وقت کی قدر تب آتی ہے جب وقت ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔

بہترین وقت:

بہترین وقت یہ ہے کہ ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ایسے کاموں میں گزاریں جن کا آخرت میں ہم نفع کما سکے۔ہمیں نماز وقت پر قائم کرنی چاہیےقرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہیے ۔زیادہ سے زیادہ وقت دین کی خدمت میں گزارنا چاہیے ،اپنے ماں باپ کی خدمت میں گزارنا چاہیے زیادہ سے زیادہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ کسی کی مدد کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔اور یوں کہتے ہیں کہ مدد کر کے کیا کرنا ہے ہم عبادت کر کے ثواب کما لیں گئے۔لیکن عبادت کا مقام اپنی جگہ اور خدمت خلق کا اپنی جگہ۔ یاد رہے "عبادت کرنے سے جنت ملتی ہے ،خدمت خلق کرنے سے خدا ملتا ہے"

ہمیں بغیر مقصد کے کوئی بات نہیں کرنی چاہیے ،اپنا وقت دوسروں کی غیبت میں نہیں گزارنا چاہیے۔اس کے دو پہلو ہیں ایک وقت کا ضیاع دوسرا گناہ کرنااس سے بہتر ہے کہ آپ کے پاس جو باتوں کے لیے بھی وقت ہے اسے کم کر کے عبادت میں گزارنا چاہیے۔درود پاک پڑھنا چاہیے استغفار کرنی چاہیے۔

حدیث:

رسول اللّہ صلی اللّہ و علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے تو اللّہ پاک اس پر دس مرتبہ رحمت بیجھتا ہے۔

مفہوم حدیث۔ہمارے پیارے مصطفٰی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم دن میں 70 مرتبہ استغفار کرتے۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ہمارے لب بھی درود پاک کی کثرت سے اور استغفار سے تر رہیں۔اور ہم اپنا زیادہ تر وقت نیک کاموں میں گزاریں

وقت پر مدد:

ہمیں وقت پرمدد کرنی چاہیے اپنے آس پاس کے لوگوں کی، مالی مدد،جسمانی مدد۔

وقت اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔ لہذا وقت کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ لیکن اگر آپ وقت پر کسی کی مدد کریں گئے تو یقیناً کوئی ایسا وقت آئے گا کہ وہ آپ کی مدد کرے گا ۔اگر آپ کسی کی مدد کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ آج میں اس کی مدد کروں گا تو کل کو یہ میری مدد کرے گا۔ آپ مدد کریں اور اللّہ پاک سے امید رکھیں ۔اللّه پاک کی رضا کے لیے مدد کریں اسی سے اجر کی امید رکھیں ۔

وقت کی قدر ان سے پوچھے جن کے پاس وقت نہیں وقت کس کے پاس نہیں؟ وقت تو کسی کے پاس بھی نہیں ہے نہ جانے کب موت آجائے۔ ہمیشہ نیک کام کرتے رہیں تا کہ جب موت آئے تو ہمارے ساتھیوں کو پچھتاوا نہ ہو کہ کس حالت میں مرا۔ دعا کرتے رہیں " اے اللّه پاک مجھے بُرے وقت سے بچا لینا،بے شک تیرے سوا کوئی بچانے والا نہیں"

اللّه پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ایمان والی زندگی اور ایمان والی موت نصیب کرے آمین یارب العالمین اللّہ پاک سے دعا کرنی چاہیے یا اللّہ پاک دنیا میں آتے ہی کلمہ سنا مرتے وقت بھی نصیب فرمانا۔آمین

وقت کی پابندی:

ہم سب کو وقت کی پابندی کرنی چاہیے وقت پر نماز قائم کرنی چاہیے اگر ہم وقت کی پابندی کریں گئے تو ہمارے تمام کام وقت پر ہوتے جائیں گے۔ ہمیں وقت کی پابندی ہر حال میں کرنی چاہیے۔بچوں ،بڑوں کو سب کو ٹائم ٹیبل بنانا چائیے اسی طرح وقت کو ضائع کرنے سے بچائیں اور تمام کام بخوبی وقت پر کریں ۔ یاد رہے کہ صرف دنیاوی مصروفیات کے لیے وقت نہ نکالےبلکہ دینی احکام کی بھی پابندی کریں۔ وقت کی قیمت انہیں معلوم ہوتی ہے جنہوں نے اپنا وقت کھویا ہو۔

وقت بھی دو قسم کا ہوتا ہے:

اچھا وقت ، برا وقت

جب اچھا وقت ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سب اپنے ہیں اورجب بُرا وقت ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کوئی اپنا نہیں پس وقت جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے بُرا وقت ہو یا اچھا وقت ہو میرا رب کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا بے شک اللّہ پاک ہم۔سب کو وقت کی پابندی کرنے کی توفیق دے۔آمین

وقت پر کام کرنے سے ہی یقینی کامیابی حاصل ہے ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا اور اورنبی آخرالزمان، نے بھی وقت کی اہمیت پر فرمایا، دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، وقت اورصحت (صحیح البخاری)

وقت کی بچت:

آج ہماری زندگی میں آلات جدیدہ میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلی ویژن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور یہ بہت مفید چیزیں ہیں دیکھا جائے تو ان کے صحیح استعمال سے بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہاں ان کا غیر ضروری استعمال بہت سا قیمتی وقت ضائع کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ان کو ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرنا چاہئے ہر وقت انہی میں مگن رہ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔اپنا وقت کی بچت کر کے اس وقت میں لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔اذکار کر لینے چاہیے۔اور بہت سے پینڈنگ کام اس وقت میں کیے جا سکتے ہیں۔

وقت کے فوائد اور نقصان

انسان اگر محنت کر ے تو دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر اُس کے پاس وقت نہیں تو وہ ایک سوئی بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ چنانچہ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو وقت کو غنیمت جان کر رضائے الٰہی کے حصول میں لگ جاتے ہیں اور نہ صرف دنیا کو پا لیتے ہیں بلکہ آخرت میں جنت جیسی ابد الآباد نعمتوں کے بھی مستحق قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ جب وقت کو صرف عیش کوشی اور خرمستیوں میں ضائع وبرباد کردیتے ہے تو جہنم کا ایندھن بن کے رہ جاتے ہے۔

وقت کی ناقدری کا انجام:

ہماری نوجوان نسل میں بالخصوص وقت کی ناقدری کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ دن بھر موبائل فون پر لگے رہنا، موقع ملتے ہی ٹی وی اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر فضول کاموں میں وقت برباد کر نا عام ہے۔ ایسا کر کے نہ صرف وہ اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں بلکہ اپنی قسمت کے دروازے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بند کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل جو کہ قوم کی معمار ہے وقت کی قدر کرے اور اْسے بروئے کار لائے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت کا راستہ دے۔ (آمین)

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

وقت کو بہترین استعمال کرنے کا طریقہ (جدول بنانا اور اس پر عمل کرنا ہے ):

آئے اسی بات پر کچھ سطور کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ آپ کے پاس دو قسم کے کام ہیں

1 ۔اہم ( پسندیدہ یا غیر پسندیدہ)

2 ۔غیر اہم ( مگر پسندیدہ)

اب آپ نے اپنے پہلی قسم کے کاموں کا جدول بنانا ہے اور اس تقسیم کاری کا ثبوت ہمیں قرآن و حدیث میں بھی ملتا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے:

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ ترجمہ کنز العرفان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا( سورہ یونس آیت 67)

آقا کا جدول :

دیکھیں کہ قرآن پاک نے بھی ہمارے اہم کاموں کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ہمارا جدول بنایا ہے۔ اسی طرح کتب میں یہ بات ملتی ہےکہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں داخِل ہوتے تو اس میں قِیام کے وَقْت کے تین 3 حصّے کر لیتے تھے:

٭…ایک حِصّہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (کی عِبَادَت) کے لئے

٭…دوسرا اپنے اَہْل (یعنی گھر والوں) کے لئے اور

٭…تیسرا اپنی ذاتِ اَقْدَس کی لیے

دیکھیں اس اس بات سے بھی واضح ہوا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے اہم کاموں کا جدول بنایا کرتے تھے۔ اب آئیے دوسری قسم کی طرف

یاد رہے کہ یہ کام ہماری زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کو کرنے کے لیے ہمارے اصل کاموں میں کوئی فرق نہ آئے اس کی احتیاط لازمی ہے ۔ ان کاموں کے لیے وقت مقرر کرنے کی حاجت بنسبت پہلی قسم کے کم ہے اس قسم میں آپ وقت کو یوں مقرر کیجیے کہ جب بھی اپنے اہم کاموں سے فراغت پا لوں گا تو ان کاموں کو سر انجام دوں گا۔ اب آپ کو ان سطور کی مثال عرض کرتا ہوں۔

جدول

تہجد صدائے مدینہ نماز مدنی حلقہ وغیرہ

4:26 سے 6:00

جامعہ کی تیاری جامعہ جانا آنا اور نماز ظہر

6:00 سے 2:00

آرام

2:00 سے 2:30

کھانا اسباق کی دہرائی نماز عصر ، مدنی کام

2:30 سے 6:30

نماز مغرب کھانا، قرآن پاک کی تلاوت

6:30 سے 8:00

ذاتی مطالعہ اور نماز عشاء

8:00 سے 9:30

آرام کی تیاری اور آرام

9:30 سے 4:26

نوٹ : یہ جدول مثال ہے آپ سب اپنے اپنے حساب سے جدول بنائیں،

اب آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ اس جدول میں دوسری قسم کا ذکر نہیں تو آئیے اب اس پر کچھ عرض کرتا ہوں تو یاد رہے آپ کے جدول میں بہت جگہ آپ کو وقت ِفراغت ملے گا

مثلاً کبھی مدنی کاموں سے جلدی فراغت کبھی پڑھائی سے تو کبھی جامعہ سے چھٹی تو اب ان فارغ اوقات میں آپ اپنے ذوق کے کاموں کو سر انجام دیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے وقت کو بہترین بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین


وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
29 days ago

پىارے اسلامى بھائىو!

وقت اللہ پاک کى بہت بڑى نعمت ہے اگر حقىقى معنوں مىں دىکھا جائے تو انسان کى اصل دولت وقت ہى کہ جو اس کى قدر کرے اور اسے صحىح طرىقے سے خرچ کرے وہى امىر ہے اگر مزىد اس سے آگے بڑھ کر ىہ کہا جائے کہ انسان کى پورى زندگى کا نام وقت ہے، تو غلط نہ ہوگا۔

ىہ اللہ پاک کى اتنى بڑى واضح نعمت ہے کہ اس کى اہمىت و افادىت پر کوئى کتاب ىا رہنما کے پاس جانے کى حاجت نہىں پڑتى بلکہ محض غور و فکر سے ہى اس کى اہمىت کا اندازہ تمام عالم پر واضح ہوجاتا ہے ، مثال کے طور پر اگر اىک نظر کائنات کے نطام کو دىکھىں تو کائنات کا نظام ہمىں وقت کى اہمىت کا درس دىتا ہے نظر آتا ہے جىسے سورج کا وقت پر طلوع اور غروب ہونا اور دن رات مہىنے اور سال کا مقررہ وقت پر ہونا اسى طرح گرمى سردى بہار خزاں ہمارى پىدائش اور ہمارى موت ىہ سب ہمىں اس بات کا احساس دلارہىں ہىں کہ وقت کوئى عام چىز نہىں بلکہ ىہى تمہارى زندگى ہے ۔

اور اگر اىک نظر قرآن و حدىث مىں دىکھىں تو اس مىں بھى ہمىں وقت کى پابندى کرنے کى ترغىب دى گئى ہے جسے اللہ پاک نے ارشاد فرماىا:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳) تَرجَمۂ کنز الایمان: بے شک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت مىں فرض ہے ۔(سورہ نسا ۱۰۳)

اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تىن فرمان سنئے:

۱۔ روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت دن ىہ اعلان کرتا ہے اگر آج کوئى اچھا عمل کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد مىں کبھى پلٹ کر نہىں آؤں گا۔

(انمول ہىرے ، بحوالہ شعب الاىمان ج ۳، ۳۸۶ بىروت)

۲۔ دو نعمتىں اىسى ہىں جن مىں اکثر لوگ غافل ہىں، اىک صحت دوسرى فراغت ۔

( بخارى ج۴، ص ۳۲۲، حدىث ۶۴۱۲ بىروت)

۳۔ اہل جنت کو کسى چىز کا بھى افسوس نہىں ہوگا سوائے اس ساعت ( ىعنى گھڑى) کے جو ( دنىامىں) اللہ کے ذکر کے بغىر گزرى ۔

( انمول ہىرے بحوالہ المعجم الکبىر ۲۰۲۔ص ۹۳۔ حدىث ۱۷ بىروت)

اگر ہم اپنے معاشرے مىں غور کرىں تو بھى بخوبى معلوم ہوگا کہ جو وقت کى اہمىت کو سمجھتا اور اس کى قدر کرتا ہے وہى کامىاب ہوتا ہے جیسے کسان اگر وقت پر بىچ نہ بوئے وقت پر پانى نہ دے تو فائدہ نہىں اٹھا سکتا، اسى طرح مزدور ، مسافر اور چرند پرند کا معاملہ ہے۔

وقت کے قدر دانوں کے اقوال :

حضرت امام شافعى :

وقت تلوار ہے اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہىں کاٹ ڈالے گا۔( وقت ہزار نعمت ہے،ص ۶۷)

حضرت عمر بن عبدالعزىز:

دن اور رات تم مىں اپنا کام کرتے ہىں ، تو تم بھى ان مىں اپنا کام کرو۔ ( اىضا ص ۵۴)

حضرت خلىل بن احمد نحوى :

وہ لمحات مجھ پر گراں گزرتے ہىں جن مىں مىں کھا نا کھاتا ہوں (اىضا۵۷)

حضرت امام حسن بصرى :

مجھے اپنى زندگى مىں اىسے بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کے نزدىک وقت کى قدر و قىمت درہم و دىنار سے بھى زىادہ تھى۔(اىضا)

اللہ پاک ہمىں بھى اپنے قىمتى لمحات کى قدر کرنے کى توفىق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم