21 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

وقت کی اہمیت

Sun, 14 Jun , 2020
59 days ago

بنت  خطیب الرحمٰن قریشی (مدرسۃ المدینہ آن لائن ایبٹ آباد)

دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز وقت ہے، وقت کو ضائع مت کرو اور ہر وقت مصروف عمل رہو وقت کی قدر پوچھنی ہے تو ایسے انسان سے پوچھو جو اپنا آخری وقت گزار رہا ہوں ۔جی بالکل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم وقت کو کیسے ضائع کرتے ہیں؟ جی کبھی کبھار ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تو ہم اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔کبھی بے جا گھروں سے نکل کر باہر بازاروں میں وقت کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہمیں وقت کی قدر تب آتی ہے جب وقت ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔

بہترین وقت:

بہترین وقت یہ ہے کہ ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ایسے کاموں میں گزاریں جن کا آخرت میں ہم نفع کما سکے۔ہمیں نماز وقت پر قائم کرنی چاہیےقرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہیے ۔زیادہ سے زیادہ وقت دین کی خدمت میں گزارنا چاہیے ،اپنے ماں باپ کی خدمت میں گزارنا چاہیے زیادہ سے زیادہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ کسی کی مدد کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔اور یوں کہتے ہیں کہ مدد کر کے کیا کرنا ہے ہم عبادت کر کے ثواب کما لیں گئے۔لیکن عبادت کا مقام اپنی جگہ اور خدمت خلق کا اپنی جگہ۔ یاد رہے "عبادت کرنے سے جنت ملتی ہے ،خدمت خلق کرنے سے خدا ملتا ہے"

ہمیں بغیر مقصد کے کوئی بات نہیں کرنی چاہیے ،اپنا وقت دوسروں کی غیبت میں نہیں گزارنا چاہیے۔اس کے دو پہلو ہیں ایک وقت کا ضیاع دوسرا گناہ کرنااس سے بہتر ہے کہ آپ کے پاس جو باتوں کے لیے بھی وقت ہے اسے کم کر کے عبادت میں گزارنا چاہیے۔درود پاک پڑھنا چاہیے استغفار کرنی چاہیے۔

حدیث:

رسول اللّہ صلی اللّہ و علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے تو اللّہ پاک اس پر دس مرتبہ رحمت بیجھتا ہے۔

مفہوم حدیث۔ہمارے پیارے مصطفٰی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم دن میں 70 مرتبہ استغفار کرتے۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ہمارے لب بھی درود پاک کی کثرت سے اور استغفار سے تر رہیں۔اور ہم اپنا زیادہ تر وقت نیک کاموں میں گزاریں

وقت پر مدد:

ہمیں وقت پرمدد کرنی چاہیے اپنے آس پاس کے لوگوں کی، مالی مدد،جسمانی مدد۔

وقت اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔ لہذا وقت کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ لیکن اگر آپ وقت پر کسی کی مدد کریں گئے تو یقیناً کوئی ایسا وقت آئے گا کہ وہ آپ کی مدد کرے گا ۔اگر آپ کسی کی مدد کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ آج میں اس کی مدد کروں گا تو کل کو یہ میری مدد کرے گا۔ آپ مدد کریں اور اللّہ پاک سے امید رکھیں ۔اللّه پاک کی رضا کے لیے مدد کریں اسی سے اجر کی امید رکھیں ۔

وقت کی قدر ان سے پوچھے جن کے پاس وقت نہیں وقت کس کے پاس نہیں؟ وقت تو کسی کے پاس بھی نہیں ہے نہ جانے کب موت آجائے۔ ہمیشہ نیک کام کرتے رہیں تا کہ جب موت آئے تو ہمارے ساتھیوں کو پچھتاوا نہ ہو کہ کس حالت میں مرا۔ دعا کرتے رہیں " اے اللّه پاک مجھے بُرے وقت سے بچا لینا،بے شک تیرے سوا کوئی بچانے والا نہیں"

اللّه پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ایمان والی زندگی اور ایمان والی موت نصیب کرے آمین یارب العالمین اللّہ پاک سے دعا کرنی چاہیے یا اللّہ پاک دنیا میں آتے ہی کلمہ سنا مرتے وقت بھی نصیب فرمانا۔آمین

وقت کی پابندی:

ہم سب کو وقت کی پابندی کرنی چاہیے وقت پر نماز قائم کرنی چاہیے اگر ہم وقت کی پابندی کریں گئے تو ہمارے تمام کام وقت پر ہوتے جائیں گے۔ ہمیں وقت کی پابندی ہر حال میں کرنی چاہیے۔بچوں ،بڑوں کو سب کو ٹائم ٹیبل بنانا چائیے اسی طرح وقت کو ضائع کرنے سے بچائیں اور تمام کام بخوبی وقت پر کریں ۔ یاد رہے کہ صرف دنیاوی مصروفیات کے لیے وقت نہ نکالےبلکہ دینی احکام کی بھی پابندی کریں۔ وقت کی قیمت انہیں معلوم ہوتی ہے جنہوں نے اپنا وقت کھویا ہو۔

وقت بھی دو قسم کا ہوتا ہے:

اچھا وقت ، برا وقت

جب اچھا وقت ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سب اپنے ہیں اورجب بُرا وقت ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کوئی اپنا نہیں پس وقت جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے بُرا وقت ہو یا اچھا وقت ہو میرا رب کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا بے شک اللّہ پاک ہم۔سب کو وقت کی پابندی کرنے کی توفیق دے۔آمین

وقت پر کام کرنے سے ہی یقینی کامیابی حاصل ہے ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا اور اورنبی آخرالزمان، نے بھی وقت کی اہمیت پر فرمایا، دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، وقت اورصحت (صحیح البخاری)

وقت کی بچت:

آج ہماری زندگی میں آلات جدیدہ میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلی ویژن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور یہ بہت مفید چیزیں ہیں دیکھا جائے تو ان کے صحیح استعمال سے بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہاں ان کا غیر ضروری استعمال بہت سا قیمتی وقت ضائع کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ان کو ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرنا چاہئے ہر وقت انہی میں مگن رہ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔اپنا وقت کی بچت کر کے اس وقت میں لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔اذکار کر لینے چاہیے۔اور بہت سے پینڈنگ کام اس وقت میں کیے جا سکتے ہیں۔

وقت کے فوائد اور نقصان

انسان اگر محنت کر ے تو دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر اُس کے پاس وقت نہیں تو وہ ایک سوئی بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ چنانچہ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو وقت کو غنیمت جان کر رضائے الٰہی کے حصول میں لگ جاتے ہیں اور نہ صرف دنیا کو پا لیتے ہیں بلکہ آخرت میں جنت جیسی ابد الآباد نعمتوں کے بھی مستحق قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ جب وقت کو صرف عیش کوشی اور خرمستیوں میں ضائع وبرباد کردیتے ہے تو جہنم کا ایندھن بن کے رہ جاتے ہے۔

وقت کی ناقدری کا انجام:

ہماری نوجوان نسل میں بالخصوص وقت کی ناقدری کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ دن بھر موبائل فون پر لگے رہنا، موقع ملتے ہی ٹی وی اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر فضول کاموں میں وقت برباد کر نا عام ہے۔ ایسا کر کے نہ صرف وہ اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں بلکہ اپنی قسمت کے دروازے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بند کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل جو کہ قوم کی معمار ہے وقت کی قدر کرے اور اْسے بروئے کار لائے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت کا راستہ دے۔ (آمین)