اسرار
احمد (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا اور اسے امن، عدل اور بھلائی قائم
کرنے کا حکم دیا۔ مگر افسوس! جب انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو وہ زمین
میں فساد پھیلانے لگتا ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار فساد فی الارض کی مذمت بیان کی
گئی ہے تاکہ بندہ اس خطرناک گناہ سے بچ سکے۔
فساد فی
الارض کیا ہے؟فساد سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی،
بدامنی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور گناہوں کا پھیلاؤ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت
ناپسند ہے۔
قرآنِ کریم میں فساد کی مذمت:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ:11،12)
تفسیر صراط الجنان:لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے
یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے
اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر
فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے
نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا
اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ
رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی
صورتیں ہیں۔(تفسیر صراط الجنان )
وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمہ
کنزالایمان: اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت
205)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ ترین چیزوں میں سے ہے، اور جو شخص
فساد کرتا ہے وہ اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے۔
فساد کرنے
والوں کے لیے کریم رب عزوجل نے سخت وعید ارشاد فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 33)
یہ آیت
فساد کی سنگینی کو بیان کرتی ہے کہ جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے دنیا
و آخرت میں سخت سزا ہے۔
فساد کے نتائج:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی
النَّاسِ
ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان
برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔ (پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 41)
یہ آیت
بتاتی ہے کہ زمین میں پھیلنے والی برائیاں انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں فساد کی مذمت:نبی کریم ﷺ
نے بھی فساد اور ظلم سے سختی کے ساتھ منع فرمایا:الظلم ظلمات يوم القيامةترجمہ: ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا
سبب ہوگا۔ (صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب الظلم ظلمات، حدیث: 2447)
فساد
دراصل ظلم کی ایک شکل ہے، اور ظلم کا انجام نہایت ہولناک ہے۔
فساد کی صورتیں (آج کے دور میں):جھوٹ،
دھوکہ اور خیانت،قتل و غارت اور دہشت گردی،رشوت اور کرپشن،بدامنی اور انتشار پھیلانا،دین
سے دوری اور گناہوں کی ترویج۔
اصلاح کا
راستہ :دعوتِ اسلامی کا پیغام یہی ہے کہ:اپنے کردار کو سنواریں،سنتوں پر عمل کریں،نیکی
کی دعوت دیں،برائی سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔اللہ پاک ہمیں فساد سے بچنے،
امن و محبت پھیلانے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یاد رکھئے! جو زمین میں
فساد پھیلاتا ہے وہ اللہ کی ناراضی مول لیتا ہے، جبکہ جو اصلاح کرتا ہے وہ اللہ کا
محبوب بندہ بن جاتا ہے۔اللہ ہمیں مصلح بنائے، مفسد نہ بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین
ﷺ
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ
اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-ترجمۂ
کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا
اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو
جلالیا۔(سورۃالمائدۃ:32)
قتل ناحق
کی 2 وعیدیں :(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کسی
مومن کوقتل کرنے میں اگر زمین وآسمان والے شریک ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو
جہنم میں دھکیل دے ۔ (ترمذی، کتاب الدیات، باب الحکم فی الدماء، ۳ / ۱۰۰، الحدیث: ۱۴۰۳)
(2)حضرت
براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک
دنیا کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلماً قتل سے زیاد سہل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الدیات،
باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً، ۳ / ۲۶۱، الحدیث:
۲۶۱۹)
امن و
سلامتی کا مذہب: یہ آیت ِ مبارکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام
کس قدر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسلام کی نظر میں انسانی جان کی کس قدر اہمیت
ہے۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو اسلام کی اصل تعلیمات کو پس پُشت
ڈال کر دامنِ اسلام پر قتل و غارت گری کے حامی ہونے کا بد نما دھبا لگاتے ہیں اور
ان لوگوں کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو مسلمان کہلا کر بے قصور لوگوں کو بم
دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے موت کی نیند سلا کر یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں
نے اسلام کی بہت بڑی خدمت سر انجام دے دی۔
اسلامی سزاؤں کی حکمت:اسلا م نے
ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور
بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور
لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار
حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو
تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ
سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے
اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں
تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی
بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر
پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو
راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے،
کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو
زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد
سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب
کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی
بسر کرنا شروع کر دے گا۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے
وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑافساد ہوگا۔ (سورۃانفال:73)
تفسیر صراط الجنان:وَ
الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ:اور کافر ا ٓ پس میں ایک
دوسرے کے وارث ہیں۔ اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت میں ایک دوسرے
کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان آپس میں
ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں
تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ اور بڑا
فساد برپا ہو گا۔ (جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۱۵۴، مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۴۲۲،
ملتقطاً)
اس آیت کی حقانیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ
مسلمانوں کو آپس کے عدمِ اتحاد پر فرمایا گیا تھا کہ اس سے فتنہ اورفسادِ کبیر
ہوگا اور اب ہر کو ئی دیکھ سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کے خلاف فتنہ اورفسادِ کبیر ہے
یا نہیں اور اس کی وجہ بھی مسلمانوں کا عدمِ اتحاد ہے یا نہیں ؟
مسلمانوں
میں باہمی تعاون اور مدد کی ضرورت: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے
مسلمانوں کو کافروں کی دوستی اور ان کاوارث بننے سے منع کیا ہے، ان سے جدا رہنے،
مسلمانوں کو آپس میں میل جول رکھنے اور ایک دوسرے کامعاون و مددگار بن کر مضبوط
طاقت بننے کا حکم دیا ہے ۔ لیکن افسوس! فی زمانہ ایک گھر سے لے کر عالمی سطح تک ا
س معاملے میں مسلمانوں کا حال اس کے الٹ ہی نظر آ رہا ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں
اپنے ہی بہن بھائیوں کے ساتھ میل جول رکھنے، مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے
اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے سے بیزار ہو چکے ہیں اور یہی حال پڑوسیوں
اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ہے، اسی طرح ایک علاقے کے مسلمان دوسرے علاقے کے
مسلمانوں سے ، ایک شہر کے مسلمان دوسرے شہر کے مسلمانوں سے، ایک ملک کے مسلمان
دوسرے ملک کے مسلمانوں سے باہمی الفت و محبت اور تعاون و مدد کو تیار نہیں بلکہ
عمومی طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی بجائے کفار سے بہر صورت
دوستی کرنا چاہتے ہیں اور ہر طرح کی قربانی دے کر ان سے بنائی ہوئی دوستی کو مضبوط
کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی کافر ملک کی کسی مسلم ملک کے ساتھ جنگ شروع ہوجائے تو
اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ تعاون کرنے اورکفار کے خلاف ان کی مدد کرنے کی بجائے
کافروں کا ساتھ دیتے ہیں اور مسلمان بھائیوں کو تباہ وبرباد کرنے میں کافروں کو ہر
طرح کی مدد دیتے اور ان کی تھپکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی اپنی
حکمرانی قائم رہے اور ان کی عیش و مستی میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ
مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور اپنے دین و مذہب کی تعلیمات کو سمجھنے، ان
پر عمل کرنے اوران کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے
ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔(سورۃالقصص:83)
تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ
الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر۔ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں
اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں
نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور
نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔(
روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷
/ ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے
برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ
عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام
ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی
معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔ حضرت عیاض
بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی
(میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتّٰی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر
نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ،
باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث:
۶۴(۲۸۶۵))
اسلام امن
و سلامتی کا دین ہے جو انسانیت کو عدل، احسان اور اصلاح کا درس دیتا ہے۔ کائنات کا
اصل حسن اس کے توازن اور نظم و ضبط میں پوشیدہ ہے، اور جو شخص اس نظم و ضبط کو
درہم برہم کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ خوبصورتی پر وار کرتا
ہے۔ زمین پر بگاڑ پیدا کرنا، بے گناہوں کا خون بہانا، اخلاقی پستی پھیلانا اور ظلم
و جبر کا بازار گرم کرنا "فساد فی الارض" کہلاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس
عمل کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ایک ایسا جرم قرار دیا ہے جس کی
جڑیں تکبر، خود غرضی اور احکاماتِ الٰہی سے روگردانی میں پیوست ہیں۔ اللہ تعالیٰ
نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تاکہ وہ تعمیر و ترقی کرے، نہ کہ تخریب
اور تباہی۔ فساد محض مادی توڑ پھوڑ کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرتی اقدار کی پامالی
اور انسانی حقوق کے غصب کرنے کا دوسرا نام ہے۔قرآنِ مجید کی متعدد آیات اس بات پر
گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں فرماتاارشادِ باری تعالیٰ
ہے:
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت ۲۰۵)
اس آیت میں
واضح کیا گیا ہے کہ فساد فی الارض کا نتیجہ معاشی تباہی (کھیتی کی بربادی) اور جانی
نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی کہ وہ فساد سے راضی نہیں،
یعنی فسادی شخص اللہ کی رحمت سے دور اور اس کے غضب کے قریب ہوتا ہے۔
فساد کی ایک
صورت حق اور باطل کے درمیان تمیز کو ختم کرنا اور اصلاح کے نام پر بگاڑ پیدا کرنا
ہے۔
منافقین کی صفت بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیات ۱۱،۱۲)
یہ آیات
اس نفسیاتی پہلو کو اجاگر کرتی ہیں کہ اکثر فسادی اپنے جرم کو مصلحت اور اصلاح کا
لبادہ اوڑھ کر پیش کرتے ہیں، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا یہ دعویٰ باطل ہے۔
زمین کی
اصلاح ہو جانے کے بعد اس میں دوبارہ بگاڑ پیدا کرنا بدترین جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا
فرمان ہے:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔ (سورۃ
الاعراف، آیت ۵۶)
یہاں
"اصلاح" سے مراد انبیاء کرام کی تعلیمات اور شریعت کے قوانین ہیں جن کے
ذریعے زمین پر امن قائم ہوتا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنا درحقیقت زمین کو
دوبارہ جہالت اور اندھیروں کی طرف دھکیلنا ہے۔فساد فی الارض کی سنگینی کا اندازہ
اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا
ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ کنز
الایمان:جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین
میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ، آیت ۳۲)
یہ آیت
فساد کی شناخت کو اس کے انتہائی نقطے پر پہنچا دیتی ہے کہ ایک شخص کا ناحق خون یا
زمین میں بگاڑ پوری انسانیت کی موت کے مترادف ہے۔
مختصر یہ
کہ فساد فی الارض ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو معاشروں کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتی
ہے۔ قرآنِ کریم نے نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ اسے کفر اور نفاق کی علامت قرار دیا۔
انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور زمین پر امن،
محبت اور عدل کے قیام کے لیے کوشش کرے۔ جب انسان اپنے خالق کے احکامات کے مطابق
زندگی بسر کرتا ہے تو زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے، اور جب وہ سرکشی اختیار کرتا
ہے تو فساد کی آگ سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ لہٰذاہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ
اصلاحِ معاشرہ کا علمبردار بنے اور ہر اس قدم کی مخالفت کرے جو زمین کے توازن کو
بگاڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔
قرآن کریم
ایک ایسی کتاب ہے جو معاشرے میں امن، امان اور عدل و انصاف کے قیام پر زور دیتی ہے
اور ہر اس عمل کی سختی سے ممانعت کرتی ہے جو انسانی زندگی کے توازن کو بگاڑے۔
"فساد فی الارض" سے مراد زمین پر بدامنی پھیلانا، قتل و غارت، ظلم و
ستم، اور اللہ کی حدود کو پامال کرنا ہے۔
(1) فساد کی ممانعت اور اصلاح کا حکم:اللہ تعالیٰ
نے انسانوں کو زمین پر اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور
واضح فرمایا ہے کہ اصلاح کے بعد بگاڑ پیدا نہ کیا جائے۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ
الاعراف، آیت: 56)
وضاحت: اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا اصل نظام "اصلاح" یعنی بہتری پر مبنی
ہے۔ جو شخص بھی گناہوں، ظلم یا نافرمانی کے ذریعے اس توازن کو بگاڑتا ہے، وہ درحقیقت
اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا میں فساد پھیلا رہا ہے۔
(2) مفسدین (فسادیوں) سے اللہ کی بیزاری:قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ وہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں
کرتا:وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃالمائدۃ،
آیت: 64)
وضاحت: جب
خالقِ کائنات کسی گروہ سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے، تو یہ ان کی دنیاوی اور
اخروی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ فساد اخلاقی ہو یا معاشی (جیسے ناپ تول میں کمی)،
اللہ کے نزدیک مردود ہے۔
(3) منافقین کا طرزِ عمل:قرآن کریم
نے ان لوگوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو بظاہر اصلاح کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں
وہ فسادی ہوتے ہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت: 11،12)
وضاحت: یہ آیات منافقانہ رویے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
آج کے دور میں بھی بہت سے فتنے "امن" اور "اصلاح" کا لبادہ
اوڑھ کر انسانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں، قرآن نے صدیوں پہلے ان کے اس دھوکے کو چاک
کر دیا تھا۔
(4) فساد فی الارض کی دنیاوی سزا:اسلامی
قانون (شریعت) میں زمین پر بدامنی پھیلانے، دہشت گردی کرنے اور انسانی جان و مال
سے کھیلنے والوں کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ معاشرہ محفوظ رہے۔
ارشاد
فرمایا:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں ۔(سورۃ
المائدۃ، آیت: 33)
قرآنِ حکیم
کی روشنی میں فساد فی الارض ایک سنگین جرم ہے جو انسانیت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر
دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو امن کا گہوارہ بنانے کا حکم دیا ہے اور فساد پھیلانے
والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب کی نوید سنائی ہے۔ ایک سچے مسلمان
کا شیوہ یہ ہے کہ وہ معاشرے میں "مصلح" (اصلاح کرنے والا) بن کر رہے نہ
کہ "مفسد"۔
شاہد
رضا عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور خیر خواہی پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس "فساد
فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، بددیانتی اور
اخلاقی تباہی کو قرآنِ کریم نے نہایت سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ یہ مضمون قرآنِ
مجید کی آیات، صحیح احادیثِ نبویہ ﷺ اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں فساد فی
الارض کی مذمت پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔
فساد فی الارض کا مفہوم:"فساد" کے لغوی
معنی بگاڑ، خرابی اور نظام کا درہم برہم ہونا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ہر
وہ عمل ہے جو انسانی معاشرے کے امن، عدل اور اخلاقی اقدار کو تباہ کرے، جیسے: ظلم
و زیادتی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور کرپشن، فتنہ انگیزی، حقوق العباد کی پامالی۔
فساد کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی :قرآنِ مجید
میں فساد کی مذمت پر ارشاد ہوا :
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ ۱۱ـ۱۲)
یہ آیت ان
لوگوں کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنے غلط اعمال کو نیکی کا نام دیتے ہیں۔
ایک اور
مقام پر ارشاد فرمایا فساد اللہ کو ناپسند ہے:
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (البقرۃ:۲۰۵)
یہاں واضح
کیا گیا کہ فساد صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی اور ماحول کو نقصان
پہنچاتا ہے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے :اَنَّهٗ
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا
قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنز العرفان:
جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل
کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(المائدۃ:۳۲)
یہ آیت
انسانی جان کی عظمت اور فساد کی سنگینی کو بیان کرتی ہے۔
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ:۳۳)
یہ آیت اس
بات کو ظاہر کرتی ہے کہ فساد ایک سنگین جرم ہے جس کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے
ہاتھوں نے کمائیں۔ (الروم:۴۱)
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ دنیا میں بگاڑ کی اصل وجہ انسان کے اپنے اعمال ہیں۔
احادیثِ
نبویہ ﷺ میں بھی جا بجا فساد کی مذمت بیان ہوئیں چنانچہ احادیث درج ذیل ہے
مسلمان وہ ہے جس سے لوگ محفوظ رہیں:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح
بخاری، حدیث: 10)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ فساد سے بچنا ایمان کا حصہ ہے۔
ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح
مسلم، حدیث: 2578)
یہ حدیث
معاشرتی فساد اور انتشار سے بچنے کی تاکید کرتی ہے۔
بزرگانِ دین کے اقوال سے فساد کی
مذمت :
فساد کے اسباب:دین سے
دوری، ظلم اور ناانصافی، لالچ اور حرص، جہالت، اقتدار کا غلط استعمال۔
قرآن و حدیث
کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ فساد فی الارض ایک سنگین جرم اور اللہ تعالیٰ
کے غضب کا سبب ہے۔ اسلام ایک پرامن، عادل اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دیتا
ہے، جہاں ہر فرد دوسرے کے حقوق کا احترام کرے۔ اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تو
نہ صرف فساد کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے۔
فساد فی الارض ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان زمین پر ظلم، ناانصافی اور
بگاڑ پھیلاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس عمل کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے ایک بڑا
گناہ قرار دیا گیا ہے۔
فساد فی الارض کی تعریف:فساد فی
الارض کا مطلب ہے زمین پر بگاڑ اور ظلم پھیلانا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان
اپنی خود غرضی اور ناانصافی کی وجہ سے زمین کے نظام کو خراب کرتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ:
11،12)
فساد فی الارض کی اقسام:فساد فی
الارض کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
(1) ظلم و
ناانصافی: زمین پر ظلم و ناانصافی کرنا فساد فی الارض ہے۔
(2) قتل و
خونریزی: بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا یا زخمی کرنا فساد فی الارض ہے۔
(3) مال و
دولت کی چوری: لوگوں کا مال و دولت چوری کرنا یا ان کے حقوق ماری کرنا فساد فی
الارض ہے۔
(4) زمین
کی خرابی: زمین کو خراب کرنا یا اس کے وسائل کو ضائع کرنا فساد فی الارض ہے۔
فساد فی الارض کی سزا:قرآن مجید
میں فساد فی الارض کی سخت سزا بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (المائدۃ:
33)
فساد فی الارض سے بچنے کا طریقہ:فساد فی
الارض سے بچنے کے لیے ہمیں چند باتوں پر عمل کرنا ہوگا:
(1) عدل و
انصاف: ہمیں اپنے معاملات میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
(2) تقویٰ:
ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
(3) صلح و
صفائی: ہمیں لوگوں کے ساتھ صلح و صفائی سے پیش آنا چاہیے۔
(4) زمین
کی حفاظت: ہمیں زمین کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کے وسائل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
فساد فی
الارض ایک بڑا گناہ ہے جس کی سخت مذمت قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ ہمیں اس سے بچنے
کے لیے عدل و انصاف، تقویٰ، صلح و صفائی اور زمین کی حفاظت کرنی چاہیے۔
احمد
مرتضیٰ عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
الله تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا
قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ
مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین
میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ
فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ ( سورۃالبقرۃ:11،12)
تفسیر
صراط الجنان:اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں
کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں
پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ
ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر
قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں
کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
ایک اور
مقام پر ہے: كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ
لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)
ترجمۂ کنزالعرفان: (اور ہم نے
فرمایاکہ)اللہ کا رزق کھاؤ اور پیواور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ (سورۃالبقرۃ:60)
حضرت موسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم سے فرمایا گیا کہ آسمانی طعام مَن و
سَلْوٰی کھاؤاور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الہٰی سے بغیر محنت کے
میسر ہے اوراس بات کا خیال رکھو کہ فتنہ و فساد سے بچو اور گناہوں میں نہ پڑو۔ ہر
امت کو یہی حکم تھا کہ اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ لیکن فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی رزق
کے استعمال سے منع نہیں فرمایا بلکہ حرام کمانے، حرام کھانے، کھاکر خدا کی ناشکری
و نافرمانی سے منع کیا گیا ہے۔
سورۃ رعد
میں فرمایا:وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ
الدَّارِ(۲۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ
کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں
اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔
(سورۃ رعد:25)
اور ارشاد
فرمایا:وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا
تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے
نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ (سورۃالشعراء،183)
فساد فی
الارض کی قرآنِ مجید میں سخت مذمت کی گئی ہے کیونکہ یہ معاشرے کے امن و سکون کو
تباہ کر دیتا ہے۔قرآن مجید انسانوں کو زمین میں اصلاح کرنے اور بھلائی پھیلانے کا
حکم دیتا ہے۔جو لوگ ظلم، ناانصافی اور فساد پھیلاتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے سخت
عذاب کی وعید سنائی ہے۔فساد نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے
اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اسی لیے
اسلام امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ زمین پر فساد
ختم ہو۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔
(سورۃالبقرۃ:11،12)
تفسیر صراط الجنان:لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے
یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے
اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر
فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے
نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا
اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ
رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی
صورتیں ہیں۔
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ
الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ
اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس
سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے
تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں
رکھتا۔(سورۃالقصص:77)
محمد
جمشید(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
انسانی
معاشرہ امن، عدل اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب اس میں ظلم،
ناانصافی اور بدامنی پھیل جائے تو اسے قرآنِ مجید کی زبان میں "فساد فی
الارض" کہا جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو زمین میں امن و
سکون کو قائم رکھنے اور ہر قسم کے فساد سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں
بار بار فساد پھیلانے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور انہیں سخت عذاب کی وعید سنائی
گئی ہے۔
فساد فی
الارض صرف لڑائی جھگڑے یا قتل و غارت تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو معاشرے کے
امن کو خراب کرے، دوسروں کے حقوق سلب کرے یا اخلاقی بگاڑ پیدا کرے، اس میں شامل
ہے۔ آج کے دور میں بھی مختلف شکلوں میں فساد ہمارے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے، جس
سے بچنے کے لیے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے
بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ
المائدۃ،آیت 32)
(1)ظلم کی ممانعت: اتَّقُوا الظُّلْمَ،
فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:ظلم
سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البر
والصلۃ، حدیث نمبر 2579)
(2) مسلمان کی پہچان (دوسروں کو
نقصان نہ دینا):المُسْلِمُ
مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ:
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح البخاری، کتاب
الإيمان، حدیث نمبر 10)
صحابہ اور سلف و صالحین کا انصاف
(1) حضرت عمراور انصاف:حضرت عمر
بن خطاب کے دور میں ایک شخص نے دوسرے پر ظلم کیا۔ مقدمہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے
فوراً انصاف کیا اور فرمایا کہ ظلم معاشرے میں فساد کو جنم دیتا ہے۔(ابن کثیر،
البدایہ والنہایہ، جلد 7)
(2) صلح کروانے کی فضیلت:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان صلح کروانا بہت بڑا نیک کام ہے۔ ایک روایت میں آتا
ہے کہ دو لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا فساد کو ختم کرتا ہے۔(سنن ابی داؤد،
کتاب الادب، حدیث نمبر 4919)
اسلام ایک
ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو زمین میں امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور
ہر قسم کے فساد سے سختی سے منع کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فساد فی الارض کی شدید
مذمت کی گئی ہے اور انسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زمین میں اصلاح کے بعد بگاڑ
پیدا نہ کریں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں ظلم، چغل خوری، دھوکہ دہی اور دوسروں کو
نقصان پہنچانے جیسے اعمال کو فساد قرار دے کر ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔حکایات
اور اسلامی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انصاف، سچائی، صلح جوئی اور امانت
داری معاشرے میں امن قائم کرتی ہیں، جبکہ ظلم اور برے اعمال فساد کو جنم دیتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ خود بھی فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی اس سے
روکے تاکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم ہو سکے۔
فساد فی
الارض ایک نہایت اہم اور حساس موضوع ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی معاشرے کے
امن و سکون سے ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے
اعمال میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جو رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا
ہے۔ یہی بگاڑ "فساد فی الارض"کہلاتا ہے، جو ظلم، ناانصافی، بددیانتی اور
بدامنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا فساد پھیلانے
والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ
لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ
فسادیوں کو نہیں چاہتا ۔(المائدۃ آیت ٦٤)
اسی طرح ایک
اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور
بناؤ نہیں کرتے۔ (الشعراء آیت ١٥٢)
یعنی حد
سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں
اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں
کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی
کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط
ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳
/ ۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲،ص۸۲۷، ملتقطاً)
فساد کی
کئی صورتیں ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔
(سورۃالبقرۃ:آیت 11)
اس کے تحت
تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ
جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح
ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا
س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو
کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں
اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی
کوپہچان سکیں۔
منافقین
کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں
اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے
نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی
کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا
اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ
رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی
صورتیں ہیں۔(صراط الجنان جلد 1 البقرۃ الآیۃ 11ـ12)
حضرت براء
بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا
کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلماً قتل سے زیاد سہل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الدیات،
باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً، ۳ / ۲۶۱، الحدیث:
۲۶۱۹)
فساد فی
الارض معاشرے کی تباہی کا سبب ہے، جبکہ اصلاح، عدل اور نیکی اس کا علاج ہیں۔ ہر
انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی سے بچے اور بھلائی کو فوقیت دے، تاکہ زمین پر
امن و سکون قائم ہو سکے۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قسم کے فساد سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلّم۔
علی
حسن عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز
الایمان: وہ کہ اللہ
اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن
گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف
کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے
اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(سورۃالمائدۃ:33)
اسلامی
سزاؤں کی حکمت: اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے،
چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ
زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س
کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ
جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر
سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت
مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے
سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ
انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی
معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی
پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور
موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری
پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک
ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے
سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر
امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے
ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:11،12)
تفسیر
صراط الجنان: لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے
یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے
اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر
فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے
نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا
اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ
رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی
صورتیں ہیں۔
محمد
سلمان (درجہ سابعہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
زمین میں
فساد پھیلانا یہ ایک برا عمل ہیں۔ اور اس عمل کیوجہ سے لوگ اس شخص سے متنفر اور بد
ظن ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ لوگ انکے ساتھ چلنےپھرنےاور بیٹھنے کو بھی ناپسند قرار
دیتے ہیں ۔ کہ کہی ایسا نہ ہو کہ اسکی نحوست ہم پر پڑ جائے۔
فساد کی
کئی صورتیں ہیں جیسا کہ : آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال،
انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر
اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث
کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں ۔
اور قرآن
کریم نے کئی مقامات پر انکے خلاف وعیدیں ارشادفرمائی:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ
فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ
کنزالایمان : جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین
میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ آیت نمبر
5)
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد فرمایا :
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (سورۃ
المائدۃ، آیت نمبر 33)
وضاحت :ایسے
لوگ دنیا و آخرت دونوں میں رسوا اور ذلیل ہونگے ۔
اس طرح
فساد فی الارض سے بچنے کی تاکید فرمائی :
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃالاعراف:آیت56)
تفسیر صراط الجنان: وَ لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔یعنی
اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم
و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
Dawateislami