ماجد
علی عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
مطالعۂ عقائد سے مراد
اپنے دینی عقائد کو سمجھ کر، دلیل کے ساتھ اور شعور کے ساتھ پڑھنا ہے۔ یہ ہر
مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ عقائد ہی ایمان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک
مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے، اسی طرح درست عقائد کے بغیر ایمان
بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
مطالعۂ
عقائد کی ضرورت:آج کے دور میں مختلف قسم کے شبہات، غلط نظریات اور فتنوں کا پھیلاؤ
ہے۔ ایسے حالات میں اگر انسان اپنے عقائد سے واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہ ہو
سکتا ہے۔ مطالعۂ عقائد ہمیں اپنے دین کی حقیقت سمجھنے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات
کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔
مزید فرمایا عقائد کے بغیر ایمان کامل نہیں عقیدہ
نہ رکھنے والا ایسے ہے جیسے عقیدہ کا منکر ہو یا غلط عقیدہ رکھنے والا مثال کے طور
پر اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کا انکار کرتا ہے یاکل کائنات کے
مالک ہونے کا یا اس کے نظام کو چلانے کا منکر ہو یا اس میں کسی کو شریک ٹھہرانے کو
ماننے والا ہو تو وہ ایمان سے گیا۔اسی طرح کلمہ شہادت کا منکر ہو عبادت کے لائق کسی
اور کو بھی سمجھتا ہو ۔حضور ﷺ کے بعد بھی کسی نبی کے آنے پر یقین رکھتا ہو ۔
اسی وجہ
سے عقیدہ اہلسنت بہت ضروری ہے اس میں کسی بھی بات سے اعراض نہیں کیا جاسکتا ۔
آج کے دور
میں جہاں نئی نئی ذہنی و فکری گمراہیاں جنم لے رہی ہیں، وہاں دینِ اسلام کا مطالعہ
اور صحیح سمجھ نہایت ضروری ہو گئی ہے۔ جب انسان دینی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے تو
وہ آہستہ آہستہ عقائد اسلام اور اسکی اہمیت سے بھی غفلت برتنے لگتا ہے، جو کہ ایک
بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ نہ صرف ایمان کی کمزوری کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بگاڑ کا
سبب بھی بنتا ہے۔
جیسے آج
کل کچھ motivational speaker لوگوں کے ذہن خراب کرتے ہیں ان کو تقدیر پر
اعتماد کرنے کہ بجائے ان کا ذہن اسباب کی طرف کرتے ہیں یعنی مسبب الاسباب سے دور کیا
جا رہا ہے اسی لیے عقائد کا درست علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری ہے
تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکے اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھال سکے۔
تو ایمان
میں عقیدہ کا پوری طرح عمل دخل ہے زندگی موت جنت دوزخ حشر نشر قیامت کے دن اٹھایا
جانا حساب و کتاب سب پہ عقیدہ ہونا ضروری ہے اگر ان پہ عقیدہ نہیں ہو گا تو ہم اپنی
عبادات میں بھی غفلت میں پڑ جائیں گے ۔
مطالعۂ عقائد کے فوائد:
(1) ایمان کی مضبوطی:مطالعۂ
عقائد سے انسان کے ایمان میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ، انبیاء اور آخرت
پر مضبوط یقین حاصل کرتا ہے۔
(2) صحیح اور غلط کی پہچان:یہ علم
انسان کو صحیح عقائد اور باطل نظریات میں فرق کرنا سکھاتا ہے، جس سے گمراہی سے
بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
(3) شکوک و شبہات کا ازالہ:عقائد کا
علم دل میں پیدا ہونے والے شک و شبہات کو ختم کرتا ہے اور ذہنی سکون فراہم کرتا
ہے۔
(4) دین کی صحیح سمجھ:مطالعۂ
عقائد سے دین اسلام کی بنیادیں واضح ہوتی ہیں، جس سے عبادات اور اعمال درست طریقے
سے انجام دیے جاتے ہیں۔
(5) آخرت کی کامیابی:صحیح
عقائد انسان کو نجات کی راہ دکھاتے ہیں، کیونکہ اسلام میں اعمال کے ساتھ عقیدہ
درست ہونا بھی ضروری ہے۔
(6) بدعات اور گمراہی سے حفاظت:یہ علم
انسان کو غلط رسم و رواج اور بدعات سے بچاتا ہے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے میں
مدد دیتا ہے۔
(7) دعوتِ دین میں آسانی:جس شخص کے
عقائد مضبوط ہوں، وہ دوسروں کو بھی بہتر انداز میں دین کی دعوت دے سکتا ہے۔
آخر میں یہ
کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم
اپنے عقائد کو سمجھ کر سیکھیں اور ان پر عمل کریں تاکہ ہمارا ایمان مضبوط ہو اور
ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو۔
اسلام کے
بنیادی عقائد (اولین فرائض ) یعنی توحید، رسالت، ملائکہ، آسمانی کتب، قیامت و
حشرنشر وغیرہ پر ایمان لانے کے متعلق مکۂ معظمہ کے قیام کے زمانۂ نبوی میں اکثر
آیات نازل ہوئیں۔ شرک و بت پرستی کی برائی و مذمت ، اللہ وحدہ لاشریک کی عظمت و
جلالت کا اظہار ، قیامت کا ہولناک منظر ، جنت و دوزخ کا پُر اثر بیان۔ رسالت کے
خواص اور اس کی ضرورت کے دلائل یہ تمام امور ان آیات میں بیان ہوئے ، عقائد کا
مسلسل بیان سورۃالبقرۃ اور سورۃالنساء میں ہے اور یہ سورتیں مدینے میں نازل ہوئیں۔
مکی سورتوں میں زیادہ تر زور توحید ، قیامت کے دن اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر صرف
ہوا ہے، لیکن مدینے میں اسلام کے تمام عقائد اور اصول اولین کی مجموعی تعلیم شروع
ہوجاتی ہے۔
اسلامی
عقائد کی حیرت انگیز اثر پذیری کا راز اسلامی عقائد کی بنیادی بات عقیدۂ توحید میں
مضمر ہے۔ یعنی اس بات پر ایمان کہ کائنات کو پیدا کرنے والا زندگی کا سر چشمہ اور
تمام قوتوں کا مالک اور حاکم اعلیٰ صرف ایک اللہ ہے۔ ایک مالک، صاحب اختیار اور
خالق، اللہ پر ایمان لانے سے وحدتِ بنی آدم (ایک برادری) کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ یعنی
یہ عقیدہ کہ جب زندگی کا سرچشمہ ایک ہے تو زندگی کے اظہار کی صورتوں کو بھی اپنی
اصل اور بنیاد کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، اسی سے مساوات انسانی اور احترام
آدمیت کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی پر دنیا کی امن و سلامتی کا دار و مدار ہے۔
قرآن کریم
نے جو خالص توحیدِ الہٰی کا نظریہ پیش کیا ہے اور جس عجیب انداز سے اسے بیان اور
فطری دلائل سے اسے ثابت کیا ہے ، دنیا کی الہامی کتب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو،توحید کا بیان سورۃ البقرۃ میں اس انداز سے ہوا کہ
ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارا
معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا ۔ (سورۃ
البقرۃ:163)
سورۃ
النساء میں اللہ کی یکتائی کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی
بچہ ہو اُسی کا مال ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی
کارساز(کام بنانے والا) ہے ۔(سورۃالنساء 171)
ترجمہ کنز
الایمان: انہوں نے
اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابن مریم کو اور
انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے
پاکی ہے ان کے شرک سے۔ (سورۃ توبہ : 31)
سورۃابراہیم
میں قرآن کو اللہ کی وحدانیت کی علامت طور پر پیش کیا گیاترجمہ کنز الایمان: یہ لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے
ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور اس لیے کہ عقل
والے نصیحت مانیں۔ (سورۃابراہیم :52)
اس طرح کی متعدد آیات میں عقیدۂ توحید کو
دلائل کائنات کے ساتھ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ وحدانیت کی تلقین کے ساتھ
شرک کا ابطال کیا گیا ہے۔توحید کے بعد دوسرا اہم ترین عقیدہ ’’رسالت ‘‘ ہے۔ انسانی
رہنمائی و ہدایت کے لئے اور امت کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے رسالت پر ایمان لانا
بھی ضروری ہے۔ یعنی یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی طرف سے
مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ
تک جتنے بھی نبی و رسول آئے، وہ سب سچے اور برحق تھے۔ ہمیں اللہ کے احکام ، اس کی
مرضی اور اس کی پسندو نا پسند کا علم، حکم الہٰی کے ذریعے حاصل ہوا۔
رسولوں کی
صداقت پر ایمان نہ ہو تو احکام الہٰی کی صداقت بھی مشکوک اور مشتبہ ہو جاتی ہے اور
انسان کے سامنے نیکی اور معصومیت کا نمونہ اور کردار و عمل کا کوئی آئیڈل موجود
نہیں رہتا جو انسانوں کے عمل کا محرک بن سکے۔ سلسلۂ رسالت کے آخری نبی محمد رسول
اللہ ﷺ ہیں ۔تمام نبی آسمانِ نبوت کے ستارے ہیں ۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آیا، نہ
آئے گا۔ کیونکہ آپ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیماتِ
قرآن اور آپ ﷺ کی زندگی کا نمونۂ عمل اسوۂ حسنہ ہمیشہ انسانیت کے لئے روشنی کے
مینار ہیں، جن سے بنی نوع آدم سفرِ حیات میں رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔
عقیدۂ
رسالت ہی کے ساتھ ملائکہ اور آسمانی کتابوں پر ایمان کا بھی تعلق ہے اور وہ توحید
و رسالت پر ایمان لانےکا لازمی جز و ہیں، کیوں کہ اللہ کی ذات اور رسول اللہ ﷺ کی
تعلیمات سے انسانیت کو روشناس کرانے اور ان کی ہدایت و رہنمائی میں بنی نوع انسان
کو چلانے اور قانون ہدایت کو پہنچانے اور اس کی حفاظت کے لئے جن ذرائع کی ضرورت تھی،
وہ یہی ہیں، لہٰذا ان پر ایمان لانا لازمی ہے۔
فرشتوں پر
ایمان کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے درمیان قاصد اور سفیر ہیں۔ مادیت و روحانیت
کے درمیان واسطہ ہیں۔ آسمانی کتابوں پر ایمان کہ ہدایت ربانی جو ہمیں رسولوں کے
ذریعے حاصل ہوئی ہے، اسے انسانوں تک، دور دراز کے ملکوں اور قوموں تک پہنچانے کے
لئے وہ تحریروں کی شکل میں یعنی کتابوں میں یا لفظ و آواز سے مرتب ہو کر ہمارے سینوں
میں محفوظ ہیں۔ ان پر ایمان کے بغیر ہمارے پاس ہدایت ربانی معلوم کرنے کا کوئی اور
ذریعہ نہیں رہ جاتا اور نیکی و بدی کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا ،ان تمام آسمانی
کتابوں اور صحیفوں میں صرف قرآن حکیم ہی اب باقی رہ گیا ہے، کیوں کہ یہی اللہ
آخری ابدی پیغام ہے۔ اس کی حفاظت کا انتظام بھی اللہ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ ترجمہ
کنز الایمان: بےشک ہم نے
اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ (سورۃ الحجر:9)
آخرت پر
ایمان کہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جو دائمی اور ابدی ہے۔ مرنے کے بعد ایک دن
تمام انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور پھر ہر انسان سے اس کی دنیا کی زندگی کے
تمام اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ اچھے اور نیک اعمال پر اجر ملے گا اور برے
اعمال پر سزا دی جائے گی۔ آخرت پر ایمان کہ انسان کو دنیا میں شُترِبے مہار نہیں
بننے دیتا۔
اگر یہ نہ
ہو تو انسانیت سراپا درندگی بن جائے ،یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں
اس کی ذمہ داری محسوس کراتا ہے۔ اسے خیر پر ابھارتا اور شر سے باز رکھتا ہے۔ اس
طرح خیر و شر کی یہ بنیاد ہی احساس جواب دہی ہے۔ انسان اور جانور میں بنیادی فرق
بھی یہی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جواب دہ ہے اور جانور کسی کو بھی جواب دہ نہیں،
جو انسان خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا ،درحقیقت وہ جانور ہے، بلکہ اس
سے بھی بدتر۔ترجمہ کنز الایمان: وہ
چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ۔ (سورۃالاعراف 179)
اسلام کے
نزدیک عقیدۂ آخرت اس قدر اہم ہے کہ قرآن حکیم نے بیشتر مقامات پر اس کا ذکر ایمان
باللہ کے ساتھ کیا ہے۔ اسلام کے اخلاقی اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ہی اس سنگِ
بنیاد پر کھڑی ہے ۔ احتساب اور جزاو سزا کے بغیر دنیا کا کوئی بھی کام ایسا نہیں
جو دیانت داری سے کیا جاسکے ۔ سارے اخلاق کا انحصار چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی
، جزا و سزا کے تصور پر ہے۔ اسلام اس کی اہمیت کو ایک لمحہ کے لئے بھی فراموش نہیں
کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس عقیدے کو مختلف انداز میں بار بار دھراتا ہے۔
کوئی شخص اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ،جب تک کہ اسے آخرت پر ایمان کا مل نہ
ہو۔ دل میں شک و شبہ رکھ کر خواہ وہ خود کو کتنا ہی سچا مسلمان ثابت کرے، اس کا
اسلام قبول نہیں، زندگی کے بعد موت پر بھی ایسا ہی یقین ہونا چاہیے، جیسا کہ
موجودہ زندگی پر ہے۔
توحید و
رسالت ، آسمانی کتابوں ، فرشتوں ، رسولوں اور قیامت پر ایمان لانے کے متعلق قرآن
میں واضح ہدایت موجود ہیں ۔ترجمہ کنز الایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو
ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں
پر ۔(سورۃ البقرۃ:177)
ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر
اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس
کے رسولوں کو یہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے
اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف
پھرنا ہے۔ (سورۃالبقرۃ:285)
سورۃ نساء
میں حکم دیا گیا :ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے اُن رسول
پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں
اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا ۔(سورۃ
النساء: 136)
آج کی
مادی اور سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانیت حیوانی زندگی بسر کر رہی ہے
اور پستی کے گڑھے میں گری ہوئی ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ زندگی کا مقصد غلط
سمجھ لیا گیا ہے۔ دین اور دنیا کے الگ الگ دائرے بنا کر زندگی کی وحدت اور ترقی کے
توازن کو ختم کر دیا گیا ہے۔ سیرت النبی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ دین و دنیا کی
مکمل علمی، ذہنی، روحانی اور انتظامی خوبیوں اور حلال و حرام کی روزی کی صفات کا
اثر اور خواہش نظر نہیں آتی ۔ اخلاقی و ذہنی لحاظ سے انسان ناقص اور اعمال کے
اعتبار سے پستی کا شکار ہیں۔ صرف مادیت اور کھانے پینے لباس اور اشیائے تعیش کو
مقصدِ حیات بنا لیا گیا ہے۔
ایسا نظریہ
ونظام حیات صرف اسلامی الہامی وعقائد پر مبنی اسلامی نظام حیات ہے، جس سے اچھا اور
ہمہ گیر اور کوئی نظریہ حیات نہیں ۔ کیونکہ ذوق سلیم نے اسے پسند کیا ہے اور فطرت
کی سلامت روی اسی کا تقاضا کرتی ہے ۔ ’’جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور نظام حیات
(دین) کو تلاش کرے گا، وہ اس سے ہر گز ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔اس دور کی بے یقین
اور شک و شبہات کی فضا میں زندگی کی نئی دعوت اور دنیا پیغام وہی ہے جو اسلامی
عقائد کی شکل میں ڈیڑھ ہزار سال قبل محسنِ انسانیت ﷺ کی وساطت سے انسانیت کو ملا
تھا۔ یہ ایک بڑا طاقتور ، واضح اور روشن پیغام ہے جس سے زیادہ منصفانہ اور مبارک پیغام
اس پورے عرصے میں دنیا نے کسی زبان سے نہیں سنا، یہ بعینہ وہی پیغام ہے جسے سن کر
مسلمان مدینہ طیبہ سے نکلے اور تمام دنیا میں پھیل گئے اور دنیا پر حکمرانی کی۔
فراز
احمد(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ اگر بندے کے عقائد درست
ہوں تو اس کے اعمال کام آئیں گے، ورنہ سارے اعمال رائیگاں ہو جائیں گے۔ کیونکہ
عقائد کا جاننا بندے کے لیے کتنا ضروری ہے، اس کا اندازہ آپ اس آیت مبارکہ سے لگا
سکتے ہیں:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ
رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)
ترجمۂ
کنز العرفان:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا
تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے، پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں
کریں گے۔
یقیناً آپ
نے اندازہ لگا لیا ہوگا، لیکن افسوس کہ آج کل ہم مسلمان عقائد کی ضرورت و اہمیت سے
بالکل ناواقف ہیں۔ حالانکہ اس دور میں دین کے راہزن قدم قدم پر تاک لگائے بیٹھے ہیں۔
اللہ نہ کرے اگر ہم یوں ہی چلتے رہے تو بروزِ قیامت ہمیں بہت خسارے اٹھانے پڑیں
گے۔
دورِ حاضر
میں بد مذہب اپنے مذموم و مزعوم عقائد کے اثبات کے لیے قلیل و محدود احادیث کا
سہارا لیتے ہیں اور معاذ اللہ قرآنی آیات کی نامناسب تفسیر و تاویل کر کے دینِ
اسلام میں تحریف کرتے ہیں۔ ادھر ہماری قوم کی سستی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ نہ
تو اپنے عقائد کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔آج کے
دور میں وجودِ باری تعالیٰ کے منکرین پیدا ہو گئے ہیں اور ہم خاموش بیٹھے ہیں،
معاذ اللہ! ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کذبِ باری تعالیٰ کو ممکن مان رہے ہیں، اور
ہم کچھ نہیں کر رہے۔ حالانکہ ہمارے پاس قوی دلائل ہونے کے باوجود ہم خالی ہاتھ بیٹھے
ہیں۔ اسی طرح عقائد کا مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم مختلف باطل فرقوں کا نشانہ بن
رہے ہیں۔افسوس! یہودیت، نصرانیت، قدریہ، معتزلہ، قادیانیت، خوارج، مرجیہ اور باطنیہ
وغیرہ سب اپنے باطل نظریات کے ساتھ سرگرم ہیں، اور ہم محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
نہ خود بچ رہے ہیں اور نہ دوسروں کو بچا پا رہے ہیں۔
حالانکہ
ان تمام نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہمیں جلد از جلد اپنے عقائد کو سمجھنے اور ان کے
مطالعہ کی طرف قدم بڑھانا چاہیے، مگر ہم اس سے غافل ہیں۔اگر ہم اپنے گرد و نواح
اور پسماندہ علاقوں کی طرف دیکھیں تو وہاں بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہیں بنیادی
عقائد کا بھی علم نہیں ہوتا، اور بد مذہب وہاں جا کر اپنے باطل عقائد ان کے دلوں میں
راسخ کر دیتے ہیں، اور وہ بے چارے لاعلمی میں قبول کر لیتے ہیں۔
اگر ہم
خود عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے تو دوسروں کو کیسے بچائیں گے؟ لہٰذا ہمیں چاہیے
کہ ہم خود بھی عقائد کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں اور ان کی صحیح
عقائد کے ساتھ تربیت کریں، کیونکہ بروزِ قیامت تربیت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔اس
کے علاوہ اہلِ علاقہ اور اہلِ اسلام کی طرف بھی توجہ دیں اور اپنے مسلمان بھائیوں
کو ضروری عقائد سکھا کر انہیں بد مذہبی سے بچائیں۔ ہمیں چاہیے کہ بد عقیدہ اور بری
عادات و کردار والے لوگوں کی صحبت سے بچیں اور نیک، صالح اور درست عقائد رکھنے
والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ صحبت کا اثر ضرور پڑتا ہے۔بری عادات بہت
جلد انسان میں سرایت کر جاتی ہیں۔ اسی طرح اعمال کے لیے عقائد کا درست ہونا اور
باطن کا صاف ہونا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح پانی پر عمارت قائم نہیں رہ سکتی،
اسی طرح اعمال بھی درست عقائد اور اخلاص کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔اگر عقائد درست
نہ ہوں یا ان میں کمزوری ہو تو اعمال کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ہر
عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین اور اعمال کی بنیاد صحیح عقائد، اخلاص،
تقویٰ اور پرہیزگاری پر رکھے تاکہ اس کے اعمال اسے فائدہ دیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں درست عقائد سیکھنے، سکھانے، سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
محمد
اطہر علی (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
مطالعہ
عقائد کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنا ایک مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے
اعمال کی
قبولیت کا
دارومدار درست عقیدے پر ہے عقائد کی اصلاح و درستگی کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ ارشادِ خدا عزوجل ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ
اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا
یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ
ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری
کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا یہی ہے دور کی گمراہی۔ (سورۃ ابراہیم:18)
لہذا ثابت
ہوا کہ اگر کوئی انسان کثیر نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کر لے لیکن اس کے عقائد میں
فساد ہو تو یہ ذخیرہ راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگا۔(کتاب العقائد، مقدمہ)
ایک اور
مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ
الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ
الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ
ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ
السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ
الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ
وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا
مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور
کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور
یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز
قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے
مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی
پرہیزگار ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:177)
تفسیر صراط الجنان:لَیْسَ
الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: اصل نیکی
یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔ مفسرین نے اس آیت کا خاص شانِ
نزول بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ خطاب اہلِ کتاب اور مؤمنین سب کو ہے اور
معنی یہ ہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرلینا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں
اور دل اخلاص کے ساتھ ربِّ قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔
اس آیت
مبارکہ سے بھی عقائد کے علم کی اہمیت کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی
اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى ثَلَاثٍ
وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا:
وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِيْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
روایت ہے
حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا بنی اسرائیل
بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی سوا ایک ملت کے
سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ وہ ایک فرقہ کون ہے فرمایا وہ جس پر میں
اور میرے صحابہ ہیں اسے ترمذی نے روایت کیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1، حدیث نمبر:171)
اس حدیث مبارکہ کے مطابق امت میں 73 فرقوں میں
سے صرف ایک گروہ جنت میں جائے گا، اللہ تعالی کہ کرم سے وہ گروہ جس پر حضور ﷺ اور
حضور ﷺ کے تمام اصحاب علیہم الرضوان ہیں۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے وہ گروہ
اہل سنت و جماعت ہے اس گروہ کے عقائد کو سیکھنا اور اپنانا ہی دائمی کامیابی اور
جہنم سے نجات کا راستہ ہے۔
دورہ حاضر
میں بھی نئے نئے فتنے سر اٹھاتے ہیں اور جو مسلمان عقائد کے حوالے سے کمزور ہوتا
ہے یا جسے اپنے عقائد کے بارے میں صحیح طرح معلوم نہیں ہوتا تو ایسے مسلمانوں کا
گمراہی میں جا پڑنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس مسلمان کے مقابلے میں جسے اپنے
عقائد پر گرفت ہوتی ہے اور اپنے عقائد کو جانتا ہے تو اسی لیے مطالعہ عقائد ہر
مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کو گمراہی کے گڑھے میں
گرنے سے بچا سکے۔عقائد کا علم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کیا ہیں اور
انبیاء کرام علیہم السلام، بالخصوص حضور نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ کیا ہے جب تک
ہمیں اللہ کی توحید اور رسالت کے صحیح تقاضوں کا علم نہیں ہوگا ہم محبت و اطاعت کا
حق ادا نہیں کر سکتے۔مسلک اعلی حضرت میں عقائد کے علم کا ایک بڑا مقصد دل میں رسول
اللہ ﷺ کے سچی محبت،حضور ﷺ کی تعظیم اور ان کے فضائل و کمالات (جیسے علم غیب،
نورانیت، اور شفاعت)کو اجاگر کرنا ہے جو کہ ایمان کی اصل ہے۔
بزرگان دین کی خدمات: اس حوالے
سے ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم نے بہت کام کیا ہے اور اپنی کتابوں میں کتاب
العقائد شامل کر کے عقیدے کی اہمیت کو خوب واضح کیا ہے۔
اگر اعلی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کو بھی دیکھا جائے تو آپ نے بھی عقائد پر بہت کام
کیا ہے۔بیسویں صدی کے آغاز میں جب نئے فتنے اٹھے، تو آپ نے قدیم عقائد کی حفاظت کی۔آپ
نے "الدولۃ المکیہ" جیسی کتاب لکھ کر اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی
عظمت و شان (عقیدہِ رسالت) کو مدلل طریقے سے واضح کیادورہ حاضر کی عالم بنانے والی
کتاب بہار شریعت جس کے مصنف مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں انہوں نے بھی
اپنی کتاب بہار شریعت میں سب سے پہلے عقائد کے متعلق ہی بحث کی ہے کیونکہ مسلمان
کہ اگر عقائد ہی درست نہ ہوئے تو اس کے سارے اعمال برباد ہیں۔ اور اسی کے ساتھ
ساتھ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب جاءالحق عقیدے کی مضبوطی کے
حوالے سے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
مطالعہ
عقائد کے لیے کتابیں: مطالعہ عقائد کے لیے بہت سی کتابیں علماء اہل سنت نے تصنیف
فرمائی لیکن ان میں سے چند مشہور کتابیں ہم ذکر کر دیتے ہیں جو آپ کے مطالعہ میں
ہوں گی تو ان شاءاللہ آپ کا عقیدہ مضبوط ہوگا۔
محمد
حامد رضا (درجہ سابعہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
مطالعۂ
اسلامی عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم اور بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہی عقائد دینِ
اسلام کی اصل روح اور بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صحیح عقائد انسان کے ایمان کو
مضبوط کرتے ہیں اور اسے گمراہی، فتنوں اور باطل نظریات سے محفوظ رکھتے ہیں۔اسلام میں
عقائد کی حیثیت جڑ کی مانند ہے جس طرح درخت کی مضبوطی اس کی جڑ پر منحصر ہوتی ہے،
اسی طرح انسان کے اعمال کی قبولیت اس کے صحیح عقیدہ پر موقوف ہے۔ اگر عقیدہ درست
نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآنِ مجید
میں بارہا ایمان کی درستگی پر زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ
سورۃ الاخلاص میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)
ترجمہ کنز العرفان:تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے،
اللہ بے نیاز ہے۔(سورۃالاخلاص:1،2)
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ سب سے پہلے صحیح عقیدہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے جو یہاں پر شرک
کے مقابل لایا گیا ہے، تاکہ انسان کا ایمان پختہ بنیادوں پر قائم ہو سکے۔آج کے دور
میں جب فتنوں، شکوک و شبہات اور فکری انتشار کا غلبہ ہے، مطالعہ عقائد کی اہمیت مزید
بڑھ جاتی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف نظریات آسانی سے عام
ہو رہے ہیں، جن میں بہت سے ایسے ہیں جو اسلامی تعلیمات و عقائد سے بحث کرتے ہیں۔ ایسے
حالات میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستند کتب اور اہلِ علم کی رہنمائی سے
اپنے عقائد کو مضبوط کرے، تاکہ وہ ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رہ سکے۔
مزید
برآں، صحیح عقائد انسان کے اخلاق اور کردار کو بھی سنوارتے ہیں۔ جب انسان کو اللہ
تعالیٰ کی قدرت، اس کی صفات، انبیاء ورسل اور قیامت کے دن حساب و کتاب کا یقین
ہوتا ہے تو وہ اپنے اعمال میں اخلاص، دیانت داری اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اگر میں
اس حوالے سے کہو تو بچے کی عمر چار سال ہوجائے تو اسے مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا
دینا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر عقیدہ کمزور ہوا تو انسان دنیا کی ظاہری چمک دمک میں
کھو جائے گا اور آخرت کو بھول جاے گا۔
خلاصہ یہ
ہے کہ مطالعۂ عقائد کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہ صرف ایمان
کی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ ایک متوازن اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں بھی بنیادی
کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد کو درست کرے، ان
کا گہرا مطالعہ کرے اور اپنی آنے والی نسلوں تک صحیح عقیدہ منتقل کرے، تاکہ دینِ
اسلام کی اصل روح برقرار رہے اور ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
اسلام ایک
مکمل دین ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں "عقیدہ"
بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار درست عقیدے پر ہے۔
اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتے۔ اسی لیے
"مطالعۂ عقائد" یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا، سمجھنا اور ان پر یقین
رکھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے ۔
عقیدہ کا
مفہوم:"عقیدہ” عربی لفظ “عقد” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "گرہ باندھنا"۔
اصطلاح میں عقیدہ سے مراد وہ پختہ ایمان اور یقین ہے جو دل میں راسخ ہو جائے، جیسے:
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، فرشتوں، کتابوں اور یومِ
آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان یہ تمام عقائد ایمان کی بنیاد ہیں۔
خود قرآن
کریم ایمان کی بنیاد بیان کرنے پر ناطق ہے چنانچہ ارشاد ہوا ۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ
رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ
كُتُبِهٖ وَ رُسُلِه۔
ترجمۂ کنز العرفان:رسول اس پر ایمان لایا جو اس
کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ (البقرۃ:۲۸۵)
كسی چیز کی
اصل ہی اُسکی بقا کا ضامن ہوتا ہے یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان (عقیدہ) دین کی
اصل بنیاد ہے۔
عقیدہ کے بغیر اعمال بے فائدہ:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ
لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۶۵)
ترجمۂ کنز العرفان: اگر تو نے شرک کیا تو ضرور
تیراہر عمل برباد ہوجائے گا اور ضرور توخسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔(الزمر:۶۵)
یہ آیت
بتاتی ہے کہ غلط عقیدہ (شرک) تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔بندہ جتنی بھی ریاضتیں
کر لے بندگی بجا لائے اگر ذرہ برابر بھی شرک کا مادہ پایا جائے تو تمام اعمال
اکارت میں پڑھ جائینگے ۔
علمِ دین حاصل کرنے کا حکم:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمۂ
کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔(محمد:۱۹)
ایمان کی تعریف:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ
آخرت اور تقدیر پر ایمان لاؤ…۔(صحیح مسلم: 8)
یہ حدیث
عقائدِ اسلام کی مکمل بنیاد بیان کرتی ہے۔
مطالعۂ عقائد کی ضرورت:صحیح عقیدہ
انسان کو کفر، شرک اور بدعت سے محفوظ رکھتا ہےآج کے دور میں مختلف فتنوں اور نظریات
کے باعث عقیدہ کا سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ درست عقیدہ ہی اعمال کی قبولیت کی
بنیاد ہے۔بغیر اسکے آدمی لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُك کا مصداق
ٹھہرتا ہے۔عقیدہ کی درستگی ہی انسان کو سکون اور یقین عطا کرتا ہے۔
مطالعۂ عقائد کی اہمیت: دین کی
صحیح سمجھ پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، عبادات میں اخلاص پیدا
ہوتا ہے، معاشرے میں اتحاد پیدا ہوتا ہے، بدعات اور خرافات کا خاتمہ ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں عقیدہ کی اہمیت:آج کے دور
میں الحاد، دہریت، اور مختلف گمراہ کن نظریات عام ہو چکے ہیں۔ ایسے میں صحیح عقیدہ
کا علم حاصل کرنا اور اس پر قائم رہنا نہایت ضروری ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی
حفاظت کر سکے۔مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہی ایمان کی
بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ صحیح عقیدہ
کے بغیر نہ اعمال مقبول ہوتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کامیابی ممکن ہے۔ لہٰذا اگر
ہم فلاح دارین کی حصول کا کڑھن رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم عقائدِ اسلامیہ کو سیکھیں،
سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔خدائے رب الانام ہمارے اعمال کے ساتھ عقائد
کو درست کرنے کی سعی کرتے رہنے کی توفیق عمل عطا فرمائے آمین یارب الکریم۔
عبدالرافع
(درجہ سادسہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
تمام کے
تمام اعمال کا دارومدار عقائد پر ہوتا ہے عقیدہ یہ بنیاد ہوتا ہے اگر کسی شخص کے
عقائد میں خرابی ہے تو چاہےوہ ہزاروں نیکیاں کرلے تو وہ قابل قبول نہیں کیونکہ اگر
عقیدہ صحیح نہیں تو وہ مومن کیسے ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن نہیں تو اسکا ہر عمل
برباد ہے چاہے وہ ایمان لاۓ بغیر حج
بھی کیوں نہ کرلے اس کا حج بھی قابل قبول نہیں اسی وجہ سے ہمیں پتہ ہونا چاہیے کے
ہمارے عقائد کیا ہیں تاکہ ہم شرک بدعت وغیرہ جیسے گناہوں سے بچے۔اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ترجمہ کنز
الایمان: اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا
دھرا اَکارت جائے گا ۔(پارہ 24 آیت 65)
اس آیت میں خطاب اگرچہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن مراد سننے والے ہیں کیونکہ اللہ
تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو (اور
تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو) شرک سے معصوم فرمایا
ہے۔(خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ۴ / ۶۲، جلالین، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۳۹۰،
ملتقطاً)
وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے
تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ ( پارہ 6 انعام 88)
أَي: لبطل عَنْهُم، والحبوط: البطولاس تفسیر سے یہ بات سمجھ آئی وہ یہ
ہے کے "شرک کرنے سے عمل اکارت ہو جاتے ہیں اور ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔"(مسار
الصفحۃ الحاليۃ:فهرس الكتاب الأنعام ٨٨)
وَ لَوْ اَشْرَكُوْا: اور اگر وہ(بھی بالفرض) شرک کرتے۔اس
آیت میں عوام و خواص سب لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر
سے بے خوف نہ ہوں کیونکہ جب فضیلت اور بلند مقام رکھنے والے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر وہ (بھی
بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ تو ان کے مقابلے میں اور
لوگوں کا حال کیا ہو گا ۔(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۶۲)
تمام
گفتگو سے یہ بات سمجھ آتی ہے کے اگر خواہ بندہ کتنے ہی مقام کتنےہی مرتبے والا ہو
اگر اس کا عقیدہ رب تعالی اور جناب رحمت للعمین ﷺ کی بارگاہ کے بارے میں درست نہ
ہو تو اسکے عمل کا کوئی فائدہ نہیں اسی وجہ سے ہمیں ہمارے عقائد کی حفاظت کرنی چاہیے
اور انہیں بغور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ کہیں ہم خدا نخواستہ اپنے اعمال اور ایمان
سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
محمد
عثمان رضا عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ،کراچی،پاکستان)
تمام تعریفیں
اس اللہ پاک کے لیے جس نے ہماری رہنمائی کے لیے قرآن نازل فرمایا اور درود اس ذات
پر جس پر اللہ پاک نے قرآن کو نازل فرمایا اور جن کے فرمامین و تعلیمات کو اور ان
کی مقدس ذات کو ہمارے لیے مثل نمونہ بنایاحمد و صلاۃ کے بعدہمارے لیے اس بات کی
معلومات حاصل کرنا بہت اہم ہے کہ ہمیں اس پاک ذات یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کے
محبوب نبی ﷺ اور ان کی بتائی ہوئی شریعت میں کن باتوں پہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔تو
سب سے پہلے عقائد کی تعریف کو جانتے ہیں ۔
عقیدہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:عقائد عربی
زبان کے لفظ عقیدہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں:ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے
والوں کے لیے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہواصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی
امور کا نام ہے جن پہ دل بغیر شک و شبہ کے پختہ ہوجائے ۔(دس اسلامی عقیدے صفحہ7)
جیسے ذات
و صفات باری تعالیٰ، نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، جنت
دوزخ، بعثت (مرنے کے بعد زندہ ہونا) وغیرہ کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے۔
عقیدہ کی ضرورت:بحیثیت
مسلمان ہونے کے ایک مسلمان کو مذکورہ عقائد کے متعلق اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے
جس سے وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے بدمذہبوں اور بدعقیدہ لوگوں کی پہچان کرسکے
ورنہ کس طرح اس کا عقیدہ بگڑے اس کو بھی معلوم نا ہوپائے گابالخصوص آج کے اس جدید
ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور دور میں جس طرح ایک سیدھے سادھے مسلمان کے عقیدہ
کو قرآن و حدیث بیان کرتے ہوئے خراب کیا جارہا ہے۔ الامان و الحفیظ اللہ پاک تمام
مسلمانوں کو دینِ اسلام کے باغیوں سے محفوظ فرمائے۔
عقیدہ کی اہمیت:عقائد کا
علم سیکھنا اور درست عقیدہ رکھنا ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اعلیٰ حضرت امام
احمد رضا خان کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض بنیادی عقائد
کا علم حاصل کرنا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 23(623ماخوذا)
جی ہاں پیارے
اسلامی بھائیوں عمل پر عقیدہ مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پہ اجر و ثواب کا
ملنا اور ان کا شرف قبولیت پانا عقیدے کی درستی پہ موقوف ہے جس کے عقیدے میں بگاڑ
ہو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت ہوکر آخرت میں بے فائدہ و بے کار
ہوجائیں گے۔اپنی اس بات کی تصدیق میں کلام الہی عز وجل کو ملحوظ خاطر رکھتا چلوں۔اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الضَّآلُّوْنَ(۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے
شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی
اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت 90)
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ
كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ
افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ
نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں کسی سے زمین
بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب
ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت91)
تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس سے معلوم ہوا کہ
نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمہ ہونے پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام عمر مومن رہا
اورمرتے وقت کافر ہو گیا تو اس آیت میں شامل ہےاسی لئے صالحین سب سے زیادہ فکر ایمان
پر خاتمے ہی کی کرتے تھےچنانچہ حضرتِ یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ حضرتِ سفیان ثَوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے
پاس حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ساری رات روتے رہے ۔ میں نے دریافت
کیا : کیا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں ؟ تو
آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ گناہ
تواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِس تنکے سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں ، مجھے تو اس بات
کا خوف ہے کہ کہیں ایمان کی دولت نہ چھن جائے۔ (منہاج العابدین، العقبۃ الخامسۃ،
اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۹)
مذکورہ آیات
کریمہ اورواقعات اسلاف سے ہمیں یہ بات سیکھنےکو ملتی ہے کہ ہم نے اس دنیا سے اپنے
ایمان کو سلامت لے جانا ہے اور ایمان سلامت اس وقت ہی جائے گا جب ہمارا عقیدہ درست
ہوگا اور جس کے عقیدے میں ہی بگاڑ ہو تو وہ کیسے ایمان سلامت لے جائے گایوں سمجھیے
کہ لا الہ الا الله محمد الرسول اللہ ﷺ
کو پڑھ لینا ایمان ہے اور اس کے تقاضے کو پورا کرنا ہمارا عقیدہ تو ذرا
اپنے دل سے پوچھیے جو بندہ فقط زبان سے یہ کلمات ادا کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا
نا کرے یعنی دل سے اقرار ہی نا کرے تو کیا وہ مسلمان کہلائے گا۔۔۔؟ ہر گز نہیں
چونکہ دل سے اقرار کرنا اور اس بات پہ ایسا پختہ فیصلہ کرلینا ضروری ہے جس کے بعد
کوئی شک و شبہ باقی ہی نہ رہے اور یہی تو عقیدہ کہلاتا ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم
اپنی صحبت کو ان لوگوں تک ہی منحصر رکھیں جن کے عقائد درست ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم
صحیح العقیدہ سنی عالم دین کی صحبت میں رہیں تاکہ وقتاً فوقتاً عقیدے کی اصلاح کے
لیے کچھ نا کچھ سیکھتے رہیں بالخصوص آج کے دور میں ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال سے
جتنی قدر ممکن ہو بچنا چاہیےکیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پہ ہر بندہ اپنی
بات کو با آسانی تمام لوگوں تک پہنچا سکتا ہے چاہے وہ درست ہو یا غلط اور یہ سوشل
میڈیا دشمنانِ اسلام کا بہت بڑا پروپیگنڈہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو تعلیمات
محمدیہ ﷺ سے بیزار کرتے ہوئے ان کے دلوں میں اپنی بیہودہ تعلیمات کو راسخ کرنے کی
بھرپور کوشش کررہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے عقیدے و تعلیم سے ہٹ جائے تو ہم اسے نیست
ونابود کردیں حالانکہ مسلمان گناہگار ہوسکتا ہے نبی ﷺ کا غدار نہیں تو اگر ہمیں
دشمنانِ اسلام کا منہ کالا کرنا ہے تو سب سے پہلے عقائد و تعلیمات اسلام کو مضبوطی
سے تھامنا ہوگااللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ امت محمدیہ ﷺ کو اپنے حفظ و امان میں
رکھے اور انہیں دشمنانِ اسلام پہ غلبہ و فتوحات نصیب فرمائےآمین بجاہ خاتم النبیین
ﷺ۔
مطالعۂ
عقائد اسلام کی بنیاد ہے، کیونکہ عقیدہ درست ہوگا تو ایمان مضبوط ہوگا اور اعمال
بھی درست ہوں گے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بنیادی عقائد، جیسے توحید،
رسالت اور آخرت پر پختہ یقین رکھے اور ان کو صحیح طور پر سمجھے۔آج کے دور میں
مختلف گمراہ کن نظریات اور شکوک و شبہات عام ہو چکے ہیں، اس لیے عقائد کا علم حاصل
کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے اور باطل افکار سے بچ
سکے۔مطالعۂ عقائد انسان کے دل میں یقین، سکون اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ پیدا
کرتا ہے، جو اس کی عملی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ یہی علم اسے حق و باطل میں فرق
کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عقائد کا علم حاصل
کرے، کیونکہ یہی اس کے ایمان کی مضبوطی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
مسلمان
ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی
ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی
رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی
عقائد کا علم حاصل کریں جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و
مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔( فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 623)
عقیدہ عمل
پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستگی پر
موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت
ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا :
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الضَّآلُّوْنَ(۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے
شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی
اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔(سورۃآل عمران:90)
تفسیر صراط الجنان:اِنَّ
الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد
کافر ہوگئے۔ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اور انجیل کے ساتھ کفر کیا ،پھر کفر میں اور بڑھے اور سیدُ الانبیاء
محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن کے ساتھ
کفر کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی
جورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے
تو اپنی کتابوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و
صفت دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے
تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور کے بعد کافر
ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱
/ ۲۷۰)
ایمان و
کفر میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قرآن پاک میں بکثرت
ایمان میں اضافہ ہونے کی آیات ہیں ، اسی طرح کفر میں شدت کی آیات بھی ہیں۔ یہ آیات
اس معنیٰ میں ہے کہ کسی کا ایمان زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے جبکہ کسی کا ایمان
کمزور ہوتا ہے یونہی کسی کا کفرزیادہ شدید ہوتا ہے اورکسی کا کم شدت والا ہوتا ہے۔
آیت میں فرمایا کہ’’جو کفر کرے اور اس میں بڑھتا جائے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ
ہوگی‘‘ اس کا یاتو یہ معنیٰ ہے کہ ’’ان کی معافی نہیں ،کیونکہ یہ توبہ ہی نہیں
کرتے یا یہ معنیٰ ہے کہ’’ان کی توبہ مقبول نہیں ، کیونکہ ان کی توبہ دل سے نہیں
بلکہ منافقانہ ہوتی ہے ، دل میں کفر بھرا ہوتا ہے اور زبان سے توبہ کررہے ہوتے ہیں
ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں۔ البتہ جو توبہ دل سے کی جائے وہ ضرور مقبول ہے۔
حدیث پاک
میں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان یعنی بنو تمیم کا مشہور
سخی رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ
اعمال اسے آخرت میں نفع دیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ
اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے کیونکہ اس نے اللہ پاک پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے
ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم شریف
صفحہ 111 حدیث نمبر 518)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم مطالعۂ عقائد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ ہمارا ایمان
مضبوط ہو اور ہم صحیح اسلامی راستے پر قائم رہ سکیں۔ یہی علم ہمیں دنیا و آخرت میں
کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
احمد
رضا ہاشمی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں
عقیدہ (ایمانیات) بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے تمام اعمال کی درستگی کا دار و
مدار اس کے صحیح عقیدے پر ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال بھی صحیح سمت میں
رہتے ہیں، اور اگر عقیدہ میں خرابی ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔
اسی لیے"مطالعۂ عقائد" یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا ہر
مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمہ کنز
الایمان: تو جان لو
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔(سورۃ محمد: 19)
مطالعۂ عقائد کی ضرورت:ایمان کی
حفاظت کے لیے:آج کے دور میں مختلف گمراہ کن نظریات پھیل رہے ہیں۔ اگر انسان اپنے
عقائد سے واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔
صحیح اور غلط میں فرق کے لیے:مطالعۂ
عقائد انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کون سا نظریہ درست ہے اور کون سا غلط۔
عبادات کی قبولیت کے لیے:درست عقیدہ
عبادات کی قبولیت کی شرط ہے۔ غلط عقیدہ انسان کے اعمال کو ضائع کر سکتا ہے۔
مطالعۂ عقائد کی اہمیت:مطالعۂ
عقائد صرف علماء کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ایک مسلمان کو کم از
کم اپنے بنیادی عقائد (اللہ پر ایمان، رسول ﷺ پر ایمان، آخرت پر ایمان وغیرہ) کا
علم ہونا چاہیے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ
الْمُؤْمِنُوْنَؕ
ترجمہ کنز
الایمان: رسول ایمان
لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔ (سورۃ
البقرۃ: 285)
یہ آیت ہمیں
یہ درس دیتی ہے کہ ایمان مکمل طور پر اللہ اور اس کے احکامات کو ماننے کا نام ہے،
اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان عقائد کو صحیح طور پر سمجھے۔
مطالعۂ عقائد کے فوائد:ایمان میں
مضبوطی پیدا ہوتی ہے،دل میں یقین اور اطمینان آتا ہے،گمراہی سے حفاظت ہوتی ہے،دین
پر عمل آسان ہو جاتا ہے،
محمد
منعام العطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدينہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
انسان کی
زندگی محض سانس لینے اور دنیاوی مصروفیات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقصد کے تحت دی
گئی امانت ہے۔ اس مقصد کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت
ہے۔وہ"درست عقیدہ" ہے۔ کیونکہ عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری
زندگی، اس کے اعمال اور اس کی آخرت کا دارومدار ہوتا ہے۔عقیدہ دراصل دل کے اس یقین
کا نام ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرتا ہے۔ جب یہ یقین درست اور
مضبوط ہو تو انسان کا ہر عمل سنور جاتا ہے، لیکن اگر عقیدہ کمزور یا غلط ہو جائے
تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے معنی اور قابل ترک ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے سب سے
پہلے عقائد کی درستگی پر زور دیا، پھر عبادات اور معاملات کی تعلیم دی۔
مطالعۂ عقائد کی ضرورت :مطالعۂ
عقائد کی سب سے بڑی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ایمان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آج کا دور
فتنوں، شکوک و شبہات اور مختلف گمراہ کن نظریات سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر
انسان کے پاس عقائد کا علم نہ ہو تو وہ بہت آسانی سے غلط راستوں پر جا سکتا ہے۔ لیکن
جو شخص عقائد کا مطالعہ کرتا ہے، وہ حق اور باطل میں فرق کرنا سیکھ لیتا ہے اور اس
کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔مزید یہ کہ مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے رب کی پہچان عطا
کرتا ہے۔ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ کون ہے، اس کی صفات کیا ہیں، اور وہ ہر چیز
پر قادر ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت، خوف اور یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت
انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔عقائد کا علم نہ صرف
انفرادی زندگی کو سنوارتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔
ایک ایسا
معاشرہ جہاں لوگوں کے عقائد درست ہوں، وہاں اتحاد، اخلاص اور بھائی چارہ پیدا ہوتا
ہے۔ اس کے برعکس جب عقائد میں بگاڑ آ جائے تو اختلافات، بدعات اور انتشار جنم لیتے
ہیں۔
ایک اور
اہم پہلو یہ ہے کہ آخرت کی کامیابی کا دارومدار بھی صحیح عقیدہ پر ہے۔ دنیا کی
تمام کامیابیاں عارضی ہیں، اصل کامیابی وہ ہے جو مرنے کے بعد حاصل ہو۔ اور یہ اسی
وقت ممکن ہے جب انسان کا ایمان درست اور مضبوط ہو۔ اسی لیے کہا گیا کہ اعمال کا
دارومدار عقیدہ پر ہے۔
اگر ہم
غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عقائد کا مطالعہ محض ایک علمی ضرورت نہیں بلکہ ایک
عملی ضرورت بھی ہے۔ یہ انسان کے سوچنے کا انداز بدل دیتا ہے، اس کے فیصلوں کو درست
کرتا ہے اور اسے زندگی کے ہر موڑ پر سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔آخر میں یہ بات واضح ہو
جاتی ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ ایمان کی حفاظت کرتا
ہے، دل کو یقین کی روشنی سے منور کرتا ہے، اور انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی
کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو سیکھیں، سمجھیں
اور ان پر مضبوطی سے قائم رہیں، کیونکہ یہی ہماری اصل کامیابی کی کنجی ہے۔
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ عقیدہ دراصل ان بنیادی ایمانوں
کا نام ہے جن پر مسلمان کا ایمان ہونا ضروری ہے، جیسے توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں
اور کتابوں پر ایمان۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو عبادات اور اعمال کی کوئی وقعت باقی
نہیں رہتی۔ اسی لیے ہمارے جید اور اکابر علماء نے ہمیشہ عقائد کے صحیح فہم اور ان
کے مطالعہ پر زور دیا ہے۔مطالعۂ عقائد کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان
کو مضبوط اور محفوظ بنا سکے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" ترجمہ
کنز الایمان: تو جان لو
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔(سورۃ محمد: 19)
اہلسنت کی
معتبر کتب میں بھی عقائد کے مطالعہ پر خاص زور دیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ کی
مشہور کتاب “الفقہ الاکبر” میں بنیادی اسلامی عقائد کو واضح انداز میں بیان کیا گیا
ہے۔ اسی طرح امام طحاوی کی “العقیدہ الطحاویہ” اہلِ سنت کے عقائد کا ایک جامع
خلاصہ ہے، جسے تمام مکاتب فکر میں قبولیت حاصل ہے۔ ان کتب کا مطالعہ انسان کو
گمراہی سے بچاتا اور صحیح راستہ دکھاتا ہے۔
مطالعۂ
عقائد کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ انسان باطل نظریات اور گمراہ کن افکار سے
محفوظ رہ سکے۔ آج کے دور میں مختلف فتنوں، الحاد، اور غلط نظریات کا پھیلاؤ عام
ہے۔ اگر مسلمان کے پاس اپنے عقائد کا صحیح علم نہ ہو تو وہ آسانی سے ان فتنوں کا
شکار ہو سکتا ہے۔ امام احمد رضا خان نے اپنی تصنیفات میں بارہا اس بات پر زور دیا
کہ عقائد کی درستگی ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
یہ قول اس
بات کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ بنیاد ہے اور اعمال اس پر قائم عمارت۔
مطالعۂ
عقائد کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی
محبت کو بڑھاتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی صفات، اس کی قدرت، اور نبی کریم ﷺ کی
شان و عظمت کو جانتا ہے تو اس کا ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ یہی مضبوط ایمان
انسان کو نیکیوں کی طرف راغب کرتا اور برائیوں سے دور رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہنا
بجا ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ نہ صرف ایمان کی
حفاظت کرتا ہے بلکہ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم اہلِ سنت کی مستند کتب کا مطالعہ کریں، علماء سے رہنمائی حاصل کریں،
اور اپنے عقائد کو مضبوط بنائیں تاکہ ہم ایک سچے اور پکے مسلمان بن سکیں۔اللہ تعالیٰ
ہمیں صحیح عقائد کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami