انسان کی
زندگی کا دارومدار اس کے عقیدے پر ہے۔ عقیدہ دل کا یقین ہے جو انسان کے تمام اعمال
کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو عمل بھی درست ہوتا ہے، اور اگر عقیدہ بگڑ
جائے تو پوری زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں عقیدے کی درستگی کو سب
سے پہلے رکھا گیا ہے۔
عقیدہ کیا
ہے؟ عقیدہ عربی لفظ "عقد" سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے گرہ لگانا، باندھنا۔
اصطلاح میں وہ پختہ یقین جو دل میں راسخ ہو جائے اور جس میں شک کا شائبہ تک نہ ہو،
اسے عقیدہ کہتے ہیں۔ مسلمان کے بنیادی عقائد ہیں: اللہ کی ذات و صفات پر ایمان،
فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، قیامت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان۔
مطالعہ
عقائد کی ضرورت کیوں؟
(1)نجات کا انحصار عقیدے پر ہے: رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ
أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "جو اس حال میں مرا
کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح
مسلم: 26)
صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، اس کے معنی اور
تقاضوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہ علم مطالعے سے ہی آئے گا۔
(2)باطل فرقوں سے حفاظت: آج امت
73 فرقوں میں بٹ چکی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہے
جو نبی ﷺ اور صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔ مَا أَنَا
عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ۔ (ترمذی: 2641)
جب تک ہم صحیح عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے، ہم
پہچان نہیں سکیں گے کہ حق پر کون ہے۔ بدعتی، خارجی، معتزلہ، قادیانی، منکرین حدیث
جیسے گمراہ فرقے عام مسلمان کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔
(3) عمل کی قبولیت عقیدے سے مشروط
ہے: قرآن کہتا ہے: وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ٘
ترجمہ کنز
الایمان: اور جو
مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) گیا ۔(المائدۃ: 5)
اگر کوئی شخص ساری زندگی نماز پڑھتا رہے لیکن اس
کا عقیدہ شرکیہ ہو، یا وہ ختم نبوت کا منکر ہو، تو اس کی نمازیں کسی کام کی نہیں۔
(4)شک و شبہ کا ازالہ: موجودہ
دور سوشل میڈیا اور یوٹیوب کا دور ہے۔ ہر شخص دین پر بات کر رہا ہے۔ ملحدین،
مستشرقین اور اسلام دشمن قوتیں سادہ لوح مسلمانوں کے دل میں وسوسے ڈالتی ہیں۔
"تقدیر کا مسئلہ کیا ہے؟"، "عذاب قبر حق ہے یا نہیں؟"،
"اللہ کہاں ہے؟" جیسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کا جواب صرف وہی دے
سکتا ہے جس نے علماء اہلسنت کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ کیا ہو۔
مطالعہ
عقائد کی اہمیت:(1) دل کو اطمینان ملتا ہے : جب انسان کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو
جائے، اس کی صفات کا علم ہو جائے، تو دل سے بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔
(2) اولاد کی تربیت ممکن ہوتی ہے: بچہ سب
سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین کو خود ہی توحید، رسالت، آخرت کا صحیح علم
نہیں ہوگا تو وہ اپنی اولاد کو کیا سکھائیں گے؟ اسی وجہ سے آج کی نسل ملحد ہو رہی
ہے۔
(3)دعوت کا کام مؤثر ہوتا ہے: غیر مسلم
سے بات کرتے وقت سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہمیں خود دلائل
نہیں آتے تو ہم کسی کو کیا دعوت دیں گے؟
کن کتابوں کا مطالعہ کریں؟عوام کے لیے
آسان کتابیں: بہار شریعت جلد 1، عقائد اہلسنت از صدر الشریعہ، شرح عقائد نسفی،
اسلامی عقائد از مفتی احمد یار خان نعیمی۔ علماء سے رہنمائی لے کر پڑھیں تاکہ غلط
فہمی نہ ہو۔
یاد رکھیں،
اعمال کی عمارت عقیدے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ بنیاد کمزور ہو تو عمارت گر جاتی ہے۔
لہٰذا نماز، روزے سے پہلے اپنے عقائد درست کریں۔ روزانہ 10 منٹ ہی سہی، مگر مستند
علماء کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ ضرور کریں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی
ہے۔
محمد
حنظلہ (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
ایک
مسلمان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہو جائے اور آخرت کی
کامیابی کا دارومدار انسان کے عقیدہ کا درست ہونا اور درست عمل ہونے پر ہے۔ عقیدے
اور عمل میں سے عقیدہ سب سے مقدم ہے سب سے پہلا درجہ عقیدے کا ہے اگر ایک مسلمان
عقیدہ درست رکھنے والا ہوگا تو اس کے عمل بھی مقبول ہوں گے اور اگر اس کا عقیدہ
درست نہ ہوا تو اس کے عمر بھر کے کیے جانے والے نیک اعمال عبادات نماز روزہ اور دیے
جانے والے نیک اعمال میں سے زکوۃ صدقات یہ اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ تو یاد
رکھیے کہ عقیدہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے ہم اپنے مضمون میں عقیدہ کیا ہونا
چاہیے اور عقیدے کے لیے کیے جانے والے مطالعے کی کتنی اہمیت ضروری ہے اس کے بارے میں
ہم اس مضمون میں بحث کریں گے ۔
ایک مومن
کی زندگی میں درست عقیدے کی اہمیت ایسے ہی ہے جیسا کہ درخت سے اس کے پھلوں کا حاصل
کرنا اور درخت سے پھلوں کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب درخت کا وجود ہوگا تو اسی طرح
ایک کامل مومن کے اعمال ، نیکیوں کا ثواب آخرت میں بھی درست عقیدہ رکھنے والوں کو
اللہ تبارک و تعالی اجر عطا فرمائے گا۔"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے، جس
کے معنی ہیں: ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کیلئے اس میں شک و شبہ کی
گنجائش نہ ہو۔ اصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی
شک و شبہ کے پختہ ہو جائے۔(حدیقہ ندیہ، 1 / 96)
مسلمان
ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی
ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی
عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و
مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 23 / 623 ماخوذاً)
عقیدہ عمل
پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستی پر
موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت
ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ
یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى
بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)
ترجمہ
کنزالایمان: بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے، پھر اور کفر میں بڑھے، ان کی توبہ
ہرگز قبول نہ ہو گی اور وہی ہیں بہکے ہوئے، وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں
کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے
دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پ 3، آل عمران: 90، 91)
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! زمانۂ
جاہلیت میں ابن جدعان (بنو تیم کا مشہور سخی) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا
کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ اعمال اسے (آخرت میں) نفع دیں گے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے، کیونکہ
اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ!
آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (مسلم، ص 111، حدیث: 518)
ایک
مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالیٰ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اور دیگر
انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، مرنے کے بعد زندہ ہونے، جنت و دوزخ، منکر نکیر کے
سوالات، حوض کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا
حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہونے وغیرہ عقائد کا اتنا علم
ضروری ہے کہ جس سے صحیح اور غلط عقیدے کی پہچان ہو جائے ۔ عقیدے کی مضبوطی کے لیے
آپ اعلیٰ حضرت کے کتب و رسائل سے فائدہ اٹھا سکتے کیونکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ
نے اپنی مایہ ناز کتب و رسائل میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل
نظریات کا رد فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت
فرمائے بلکہ انہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھرپور ذہن بھی دیا ہے۔
اگر ہم
خود مختلف کتابوں سے عقیدے کا مطالعہ کریں گے تو اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا
کہ ہمارے عقیدے میں پختگی آئے گی اور ہم دوسرے مذاہب کہ لوگوں کی باتیں سن کر confusion کا شکار نہیں ہوں گے اور اسی طرح ہم اپنے ساتھ رہنے والے خاندان
دوست احباب کو بھی جب قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے معاملات عقیدے کے متعلق بتائیں
گے تو اس سے ان کا بھی عقیدہ اور مضبوط ہو جائے گا اور ان کو اللہ تعالی کا قرب
حاصل ہوگا اللہ پاک ہمیں اپنے اس عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
اسلامی
زندگی کی عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے 'عقیدہ' کہا جاتا ہے۔ عقیدہ انسانی وجود
میں اس روح کی مانند ہے جس کے بغیر جسم محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ مطالعہ
عقائد کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور کائنات کے اصل حقائق کو دل
کی گہرائیوں سے پہچان لے اور اپنی زندگی کو ان نظریات کے سانچے میں ڈھال لے۔ جب تک
انسان کا نظریہ اور سوچ درست نہیں ہوتی، اس کے اعمال میں پختگی اور اخلاص پیدا نہیں
ہو سکتا۔ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ درحقیقت وہی روشن راستہ ہے جو صحابہ کرام، تابعین
اور بزرگانِ دین سے تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ دورِ حاضر میں، جہاں طرح طرح کے
نئے نظریات جنم لے رہے ہیں، ان کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے جو
اسے فکری انتشار سے بچا کر ایمانِ کامل کی مٹھاس عطا کرتا ہے۔
اہل سنت و
جماعت کے بنیادی عقائد کا محور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی بے مثال
عظمت و محبت ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہ ذہن دیا ہے کہ
محض اللہ کو مان لینا کافی نہیں جب تک کہ اس کے رسول ﷺ کی کماحقہ تعظیم نہ کی
جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ
ترجمہ کنز
الایمان: تاکہ اے
لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو ۔ (سورۃ الفتح،
آیت: 9)
اس آیتِ
مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم
و توقیر کرنا ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اہل سنت کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ شانِ
رسالت میں معمولی ادنیٰ سی گستاخی کو بھی ایمان کی بربادی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح
اللہ تعالیٰ کے ولیوں اور پیاروں کی شان و عظمت کو پہچاننا بھی عقائدِ اہل سنت کا
اہم حصہ ہے۔
عقائد کا
صحیح مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اولیاء اللہ سے محبت کرنا دراصل اللہ ہی سے محبت
کرنا ہے، کیونکہ یہ حضرات اللہ کی رضا کے مظہر ہوتے ہیں۔ اہل سنت کا یہ نظریہ کہ
اللہ کے پیارے بندے اس کی عطا سے مخلوق کی فریاد رسی کرتے ہیں، اسی قرآنی تصور کی
عملی تشریح ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس جماعت کی پیروی کی سخت تاکید کی گئی ہے
جو حق پر قائم ہو اور جس کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:عَلَیْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ترجمہ:"تم پر بڑی
جماعت (سوادِ اعظم) کی پیروی لازم ہے"۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3950)
تاریخِ
اسلام گواہ ہے کہ سوادِ اعظم سے مراد ہمیشہ اہل سنت و جماعت ہی رہے ہیں۔ اسی طرح
اہل سنت کے اس عقیدے کی اصل کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو خاص قوتیں عطا
فرماتا ہے، جس کی دلیل اس حدیثِ قدسی میں ملتی ہے:فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ
الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ترجمہ:"پھر جب میں اس (بندے) سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن
جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے"۔(صحیح
بخاری، حدیث نمبر: 6502)
یہ حدیثِ
مبارکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی سماعت اور بصارت عام
انسانوں جیسی نہیں رہتی بلکہ وہ اللہ کی عطا کردہ نورانی طاقت سے کائنات کے اسرار
و رموز کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ مطالعہ عقائد سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ
انبیاء و اولیاء کو اللہ کی عطا سے صاحبِ اختیار ماننا عین توحید ہے اور یہی وہ عقیدہ
ہے جو دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی تڑپ پیدا کرتا ہے۔
عقیدہ اہل
سنت و جماعت درحقیقت اسلام کی روح اور بندگی کا جوہر ہے۔ اس کے مطالعے کی ضرورت اس
لیے ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بنیادوں کو ٹھوس دلائل پر استوار کر سکیں اور کسی بھی
گمراہ کن نظریے کا شکار نہ ہوں۔ یہ عقیدہ ہمیں اعتدال سکھاتا ہے، یعنی نہ تو ہم
اللہ کی توحید میں کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیاروں کی شان میں
تنقیص کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام عوام کے لیے ان عقائد کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے
تاکہ وہ اولیاء و صالحین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دنیا میں بھی فلاح پائیں اور
آخرت میں بھی حضورِ اکرم ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ کے حقدار ٹھہریں۔ یہی وہ صراطِ مستقیم
ہے جس پر چلنے کی دعا ہم ہر نماز میں مانگتے ہیں۔ اپنے ایمان کی حفاظت اور نسلوں کی
صحیح فکری تربیت کے لیے ان بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا وقت کی اہم ترین پکار
ہے۔
علمِ
عقائد ایک اہم علم ہے جس میں یہ بیان ہوتا ہے کہ ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے
میں مسلمانوں کو کیا عقیدہ رکھنا چاہئے، انبیاءِکرام علیہم الصلاۃ والسلام، حضراتِ
صحابہ اور اولیاء رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے متعلق کیا عقیدہ ہونا
چاہئے، قیامت و احوالِ قیامت کیا ہیں، جنّت و دوزخ کسے کہتے ہیں اور ان کے متعلق کیا
عقیدہ رکھنا چاہئے، کن کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور کن چیزوں کا انکار آدمی
کو کفر و گمراہی کے گھڑے میں پھینک دیتا ہے اور کون سے ایسے افعال ہیں جن کے
کرنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا
جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی
طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجائز ہے اور کیا واجب اور کیا محال،
کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی
سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ہلاک ہو جائے۔
مطالعۂ عقائد (یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا) کی بہت زیادہ
ضرورت اور اہمیت ہے، کیونکہ یہ انسان کے ایمان اور زندگی کی بنیاد ہے۔ اس کی اہمیت
کو مختصر نکات میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
(1) ایمان کی درستگی:مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان سکھاتا ہے اور غلط عقائد سے بچاتا ہے۔
(2) اللہ کی پہچان:اس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی وحدانیت کو بہتر طریقے سے
سمجھتا ہے۔
(3) اعمال کی درستگی:جب عقیدہ درست ہو تو عبادات اور اعمال بھی صحیح ہوتے ہیں۔
(4) شکوک و شبہات کا ازالہ:عقائد کا علم انسان کو دین کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات کا
جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔
(5) آخرت کی تیاری:یہ انسان کو آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرتا ہے اور نجات کا راستہ دکھاتا
ہے۔
(6) دین پر استقامت:صحیح عقیدہ انسان کو دین پر مضبوطی سے قائم رکھتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی
ہوں۔
مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ایمان کو مضبوط، زندگی
کو درست اور آخرت کو کامیاب بناتا ہے۔مطالعۂ عقائد کی مزید وضاحت اس طرح کی جا
سکتی ہے کہ یہ صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان کو مضبوط بنیادوں پر
قائم کرنا ہے۔
(1) عقیدہ کیا ہے؟عقیدہ ان بنیادی باتوں کو کہتے ہیں جن پر ایک مسلمان کا ایمان ہوتا ہے، جیسے:اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (ایک ہونا)،فرشتوں پر ایمان،آسمانی کتابوں پر ایمان،انبیاء علیہم السلام پر
ایمان،قیامت کے دن پر ایمان،تقدیر پر ایمان،یہی چیزیں دین کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
(2) مطالعۂ عقائد کیوں ضروری ہے؟ ایمان کو مضبوط بناتا ہے:جب انسان دلائل کے
ساتھ اپنے عقائد کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط اور پختہ ہو جاتا ہے، وہ
دوسروں کے اثر میں نہیں آتا۔
گمراہی سے بچاؤ:دنیا میں بہت سے غلط نظریات
اور فرقے موجود ہیں۔ صحیح عقائد کا علم انسان کو ان سے بچاتا ہے۔
صحیح اور غلط میں فرق:مطالعۂ عقائد سے انسان
کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور کون سی نہیں۔
دین پر اعتماد پیدا ہوتا ہے:جب عقائد کو سمجھ لیا
جائے تو انسان کو اپنے دین پر مکمل یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
دعوتِ دین میں مدد:جو شخص عقائد کو اچھی
طرح سمجھتا ہے، وہ دوسروں کو بھی دین کی صحیح بات سمجھا سکتا ہے۔
(3) عملی زندگی میں اہمیت:مطالعۂ عقائد کا اثر صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی پر بھی پڑتا
ہے:
انسان اللہ سے ڈرنے اور اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے،مشکل حالات میں صبر آتا
ہے،نیکی کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے،برائی سے بچنے کی قوت پیدا
ہوتی ہے۔
(4) آخرت کے لحاظ سے اہمیت:اسلام میں نجات کا دارومدار سب سے پہلے درست عقیدے پر ہے۔ اگر عقیدہ درست
نہ ہو تو اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔
مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان، مضبوط یقین، اور درست طرزِ زندگی عطا
کرتا ہے۔ یہ دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا بنیادی ذریعہ ہے۔
محمد
حسن رضا (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
عقائد کی
ضرورت و اہمیت دین کی اولین ترجیح ہے، قرآن مجید اور احادیث میں اس کی اہمیت بہت زیادہ
بیان ہوئی ہے، عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا ہم سب پر فرض عین ہے جب
ہمارے عقائد ہی درست نہیں ہوں گے تو ہماری عبادات بھی قبول نہیں ہوں گی۔ نماز،
روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اعمال اسی وقت مقبول ہوتے ہیں جب انسان کے عقائد
درست ہوگے۔ اگر عقیدہ میں شرک یا بدعت شامل ہو جائے تو نیک اعمال بھی ضائع ہو سکتے
ہیں۔
اسلامی عقائد ونظریات:اسلامی
عقائد خود ساختہ نہیں ہیں بلکہ قرآن و حدیث میں واضح کئے گئے ہیں جن پر ایمان لانا
ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اسلام میں اللہ عز و جل ، انبیاء علیہم السلام ، آخرت، جنت
و دوزخ وغیرہ کے بارے میں عقائد و نظریات بیان کر دیئے گئے ہیں جن پر مسلمان یقین
رکھتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔
ایمان کی شاخیں : ایمان کی
شاخوں سے مراد وہ عقائد ہوتے ہیں جن پر کامل اعتقاد، اسلام میں ایمان کی تکمیل کے
لیے ضروری ہوتا ہے، عام طورپر ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے۔ اللہ پر ایمان،
فرشتوں پر ایمان، الہامی کتب پر ایمان ، رسولوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، تقدیر
پر ایمان۔مختصر چند عقائد پیش کئے جاتے ہیں:
اللہ عز و جل پر ایمان :اللہ
عزوجل کے متعلق اسلامی تعلیمات یہ ہیں عقیدہ: اللہ عز و جل ایک ہے ، اس کا کوئی شریک
نہیں، نہ ذات میں ، نہ صفات میں ، وہی اس کا مستحق ہے کہ اُس کی عبادت و پرستش کی
جائے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود
ضروری اور عدم (نہ ہونا محال ہے ، وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ، ازلی کے بھی یہی
معنی ہیں، وہ باقی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا اور اس کو ابدی بھی کہتے ہیں ، وہ بے پر
واہ ہے بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج ہے، جس طرح اس کی
ذات قدیم ، ازلی ابدی ہے ، صفات بھی قدیم ، ازلی ابدی ہیں۔ اُس کی ذات وصفات کے
سوا سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں، وہ نہ کسی کا باپ ہے،
نہ بیٹا اور نہ اُس کے لیے بیوی، جو اُسے باپ یا بیٹا بتائے یا اُس کے لیے بیوی
ثابت کرے کا فر ہے ، وہی ہر شے کا خالق ہے ، ذوات ہوں خواہ افعال ، سب اُسی کے پیدا
کیے ہوئے ہیں، حقیقتاً روزی پہنچانے والا وہی ہے ، ملائکہ وغیرہ ہم سب وسیلہ ہیں،
اللہ تعالی جسم، جہت ، مکان، شکل وصورت اور حرکت و سکون سب سے پاک ہے، وہ ہر کمال
و خوبی کا جامع ہے اور ہر اس چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے، مثلاً جھوٹ ،
دغا، خیانت، ظلم ، جہل، بے حیائی وغیر ہا عیوب اُس پر قطعاً محال ہیں۔
انبیاء علیہم السلام پر ایمان:عقیدہ:
اسلامی تعلیمات کے نزدیک نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے
وحی بھیجی ہو۔
آسمانی کتابوں پر ایمان :عقیدہ:
بہت سے نبیوں پر اللہ تعالی نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں، اُن میں سے چار
کتابیں بہت مشہور ہیں:(1) تورات، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ۔(2) زبور ، حضرت داؤد
علیہ السلام پر۔
(3) انجیل،
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر۔(4) قرآن عظیم کہ سب سے افضل کتاب ہے ، سب سے افضل رسول
حضور پر نور احمد مجتبیٰ محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر۔
فرشتوں پر ایمان :عقیدہ:
فرشتے اجسام نوری ہیں، یہ نہ مرد ہیں، نہ عورت، اللہ تعالی نے اُن کو یہ طاقت دی
ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی
دوسری شکل میں۔ وہی کرتے ہیں جو حکم الہی ہے، خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے،
نہ قصداً، نہ سہوا، نہ خطاً، وہ اللہ عزوجل کے معصوم بندے ہیں، ہر قسم کے صغائر و
کبائر سے پاک ہیں۔
عالم برزخ اور موت کا بیان عقیدہ:دنیا اور
آخرت کے درمیان ایک اور عالم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں، مرنے کے بعد اور قیامت سے
پہلے تمام انس و جن کو حسب مراتب اُس میں رہنا ہوتا ہے ، اور یہ عالم اس دنیا سے
بہت بڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو ،
برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔
حشر کا بیان:عقیدہ: قیامت بیشک قائم
ہو گی ، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: " فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ "ترجمہ کنز العرفان: جان لو کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(پ26،محمد:19)
عقائد کی اہمیت:عقائد کی
اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کو گمراہی سے،باطل نظریات سے،آج کے دور میں مختلف فتنوں
اور غلط نظریات سے بچاتا ہے، ایسے میں اگر انسان کے عقائد مضبوط نہ ہوں تو وہ آسانی
سے گمراہ ہو سکتا ہے۔
عقائد سیکھنے کے فوائد:(1)سب سے
پہلے تو ہمارے دل میں اللہ پاک کی محبت پیدا ہوتی ہیں اور ہمارا ایمان مضبوط ہوتا
ہے۔(2)شرک و بدعت سے بچاتا ہے۔(3)ہمارے اعمال درست ہوتے ہیں۔(4)حق و باطل میں
پہچان نصیب ہوتی ہے۔(5)آخرت میں کامیابی کا پختہ یقین ہوتا ہے۔
آخر میں،
میں یہی کہنا چاہوں گا کہ آج کے اس فتنوں کے دور میں عقائد کا علم حاصل کرنا ہر
مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عقائد کے مطابق مستند کتب اور صحیح
العقیدہ علماءِ کرام سے صحیح عقائد کا علم حاصل کریں۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح عقائد کا علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین۔
محمد
طلال عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
انسان ایک
ایسی دنیا میں رہتا ہے جس کے عجائبات انسانی عقل کو غور و خوض کرنے پر ابھارتے ہیں
اور اس کی ذہنیت اور باطن پر ایک گہرا اثر ڈالتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شئی عجیب
نہ بھی ہو مگر عام انسانی سوچ اس چیز سے فقط متاثر ہونے کی بنا پر اسے قبول کرلیتی
ہے اور اس کے مطابق اپنا نظریہ بنا لیتی ہے اور اس کی بنیاد پر کاموں کو تدبیر دیتی
ہے، اب چاہے وہ بنایا گیا نظریہ حقیقت میں درست ہو یا صرف سچ کے لبادہ میں پوشیدہ
جھوٹ۔ اگر تحقیق کی جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مسلمانوں کی اپنے مسلّم
عقائد میں پختگی اور مضبوطی، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے کہ
انکا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن آج کے اس پر فتن دور میں جہان مسلمانوں کو اپنے
دین پر عمل کرنے سے روکنے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں، کہیں مسلمان مردوں کو
باجماعت نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے، تو کہیں مسلمان خواتین کو شرعی پردہ کرنے پر
سختی کی جاتی ہے، وہیں مسلمانوں کی جماعت کو توڑنے کیلئے ان کے بنیادی عقائد کو بھی
ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے عقائد کی جو مضبوط دیوار ہے، اسے ڈھایا جا سکے۔
لہذا آج
کے دور میں رہنے والے ہر ذی شعور مسلمان پر اپنے بنیادی عقائد کا علم حاصل کر
انتہائی ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے جہاں دیگر ذرائع ہیں، وہاں ایک اچھا اور مؤثر
طریقہ 'الأخذ من الكتب' یعنی کتابوں سے علم حاصل کرنا بھی ہے۔ عقائد کے بارے میں
مستند کتب کا مطالعہ کرنا لازمی ہے حتی کہ دین اسلام نے ضروری عقائد کے علم کو فرض
قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کے رہنما، امام اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ امام
احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اوّلین و اہم ترین
فرض یہ کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنّی بنتا ہے اور
جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (کتاب دس اسلامی عقیدے، مکتبۃ
المدینۃ صفحہ 7)
عقیدہ عمل
پر مقدّم ہے جب تک عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال کچھ فائدہ نہ دیں گے ۔ قرآن شریف میں
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا
لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ
یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى
بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد
کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور
یہی لوگ گمراہ ہیں۔ وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا
ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور
ان کا کوئی یار نہیں۔ ( سورۃآل عمران،90،91 )
اس کے
علاوہ، عقائد کا جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کہیں کسی ضروری عقیدہ کا جہالت کی
بنا پر انکار کرنے کے سبب کافر نہ ہو جائے مثلاً اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جنات کا
وجود ثابت ہے، اگر کوئی اس بات کا انکار کرے تو یہ کفر ہے۔جس طرح عقائد کا مطالعہ
اور اس کا علم سیکھنا ضروری ہے اسی طرح یہ بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ کس سے عقائد
کے علم کا حصول کیا جا رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ علمِ عقائد کسی ایسے سے حاصل کیا جس
کے عقائد میں خود فساد ہو۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ
الله علیہ کی تحقیقات اور آپ سے محبت رکھنے والوں کی تقاریر و تحریرات سے استفادہ
کیا جائے کیونکہ آپ اپنے دور کے بہت بڑے عالم اور دینی اعتبار سے مستند شخصیت کی حیثیت
رکھتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عقائد کا علم سیکھنا اور مستند ذرائع سے حاصل کرنا بہت
ضروری و اہم ہے ورنہ صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہی کی راہ پر قدم پڑ سکتا ہے ۔
ابو
الحسن سید علی حیدر عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ شیرانوالہ گیٹ، لاہور،پاکستان)
انسان
خواہ تقویٰ و پرہیزگاری کی اعلیٰ ترین منازل پر فائز ہو اور اس کی پیشانی ہمہ وقت
سجدہ ریز رہے، لیکن اگر اس کے عقائد کی دیوار میں معمولی سی دراڑ بھی پیدا ہو جائے
تو اس کے اعمال خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے عقائدِ اسلامیہ کا درست علم اور ان
کا باقاعدہ مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی پوری
عمارت قائم ہے، اور بنیاد میں کمزوری پوری عمارت کو غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
بدقسمتی
سے ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں لوگ دنیا کی عارضی مشکلات اور وقتی
نقصان سے بچنے کی فکر میں تو سرگرداں ہیں، لیکن یومِ جزا کی ابدی جواب دہی سے اکثر
غافل دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جلّ شانہ نے اپنی لاریب کتاب میں ایمان کو
مضبوط کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ
الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! اللہ اور اس کے
رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے
نازل کی (ان سب پرہمیشہ)ایمان رکھو ۔(سورۃ النساء: 136)
مفسرینِ
کرام نے اس آیت سے ایمان کی تجدید، اس کی مضبوطی اور اس پر استقامت مراد لی ہے۔
چنانچہ حافظ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے
مراد ایمان کو کامل کرنا، اسے مزید مضبوط بنانا اور اس پر مسلسل قائم رہنا ہے۔(تفسیر
ابن کثیر، ج 2، ص 361 )
اسی طرح
امام عبد اللہ النسفی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے
مراد ایمان پر ثابت قدمی اور اس پر دوام اختیار کرنا ہے۔(مدارک التنزیل و حقائق
التأویل، ج 1، ص 398 )
اب سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ بندۂ مؤمن اس پُرفتن اور پُرآشوب دور میں ایمان پر ثابت قدم کیسے
رہ سکتا ہے؟ تو میرے معزز قارئین کرام اس کا ایک بنیادی اور مؤثر ذریعہ عقائدِ
اسلامیہ کا بنظرِ عمیق مطالعہ ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی حقیقت کو سمجھ کر اس
پر مضبوطی سے قائم رہ سکے۔
مطالعۂ
عقائد کیوں ضروری ہے؟موجودہ دور میں ہر طرف سے فکری یلغار، بدعقیدگی اور نظریاتی
انتشار عام ہے۔ عوام تو ایک طرف، خواص کے لیے بھی ایمان کی حفاظت کرنا اتنا مشکل
ہوگیا ہے جیسے مٹھی میں انگارا پکڑنا۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایسے ہی
دور کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:يَأْتِي عَلَى النَّاسِ
زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِترجمہ:
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہوگا جیسے
ہاتھ میں انگارا پکڑنے والا۔(جامع ترمذی، حدیث 2260)
لہٰذا ایسے
دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے عقائدِ دینیہ کا مطالعہ ہر مومن کے لیے نہایت ضروری
ہے، کیونکہ بغیر صحیح علم کے انسان کے لیے راہِ حق پر ثابت قدم رہنا نہایت دشوار
ہو جاتا ہے۔
عمل کی
درستگی اصلاحِ عقیدہ پر موقوف ہےنماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اعمالِ صالحہ اسی
وقت قابلِ قبول اور مفید ہوتے ہیں جب عقیدہ درست ہو۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو اس
پر اعمال کی عمارت قائم کرنا غیر دانش مندانہ عمل ہے، کیونکہ ایسی عمارت دیرپا نہیں
رہ سکتی۔اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ اصلاحِ عقیدہ، اصلاحِ عمل پر مقدم ہے۔ عقیدہ
درست ہوگا تو عمل بھی درست سمت اختیار کرے گا۔
مطالعۂ عقائد کے لیے اہم ماخذ:عقائد کے
استحکام کے لیے متعدد معتبر کتب تصنیف کی گئی ہیں جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ
علیہ کی "الفقہ الاکبر"بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مختصر ہونے کے باوجود
عقائد کے دقیق مباحث پر مشتمل ہے۔اسی طرح امام نسفی رحمہ اللہ کی "عقائد
النسفیہ"اور اس کی مشہور شرح علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کی "شرح
العقائد"اہم کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ کتب طالبِ علم کے لیے ایمان و عقیدہ کی
بنیادوں کو مضبوط کرنے میں نہایت مفید ہیں۔
مطالعۂ
عقائد مسلمان کی فکری بلندی، قلبی اطمینان اور مضبوط ایمان کے لیے ایک لازمی تقاضا
ہے۔ عقائد کی درستگی کے بغیر نہ عمل محفوظ رہتا ہے اور نہ ایمان کی حفاظت ممکن ہے۔
لہٰذا ہر طالبِ حق کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقائدِ اسلامیہ کا باقاعدہ مطالعہ کرے
تاکہ اسے دین پر ثابت قدمی نصیب ہو۔اللہ جلّ شانہ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
امریکہ کی ریاست الینوائے کے شہر بلومنگٹن میں کشتیوں پر یادگار جلوسِ میلاد کا انعقاد
امریکہ کی ریاست الینوائے کے شہر بلومنگٹن (Bloomington) میں دعوتِ اسلامی USA کے
زیرِ اہتمام استقبالِ ربیع الاول اور ولادتِ با سعادت کے سلسلے میں کشتیوں (Boats) پر ایک پروقار
اور یادگار جلوسِ میلاد کا انعقاد کیا گیا۔
مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس
منفرد اور تاریخی کشتیوں کے جلوسِ میلاد میں مقامی مسلم کمیونٹی، عاشقانِ رسول،
بچوں اور بزرگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکت کرنے والے عاشقانِ رسول نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی
ولادتِ با سعادت کی خوشی میں ذکر و اذکار، صلوٰۃ و سلام اور نعت خوانی کا اہتمام کیا
جس سے پورا ماحول عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے
نعروں سے گونج اٹھا۔
جلوس میں بچوں سے لے کر بزرگوں تک نے یکساں جوش
و جذبے کے ساتھ شرکت کی اور اس دن کو ایک یادگار و پرمسرت موقع بنا دیا۔
اس واٹر پروسیشن (Water Procession) کا بنیادی مقصد دیارِ غیر میں بھی آنے والی نسلوں کو
سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے
جوڑنا نیز امن و محبت کا پیغام عام کرنا تھا۔
دعوتِ اسلامی کی دینی ایکٹیویٹیز کے سلسلے میں مرکزی
مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی عبدالحبیب عطاری نے Gujrat Chamber of Commerce & Industry (گجرات چیمبر آف کامرس
اینڈ انڈسٹری، پنجاب) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیمبر کے عہدیداروں
اور کاروباری شخصیات سے اہم ملاقات کی۔
دورے کے دوران گجرات چیمبر آف کامرس کے اراکین
اور دیگر عاشقانِ رسول نے رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبدالحبیب عطاری کا استقبال کیا
اور چیمبر کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی وزٹ کروایا ۔
ملاقات میں دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سطح پر
قائم دینی و فلاحی پروجیکٹس اور سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا
گیا۔چیمبر کے اراکین نے بین الاقوامی سطح پر دعوتِ اسلامی کے عالمی، اصلاحی اور
رفاہی کاموں کی تعریف کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
نوویل ایونٹس، اسلام آباد کے استقبالِ ربیع الاول اجتماع میں اسپیشل پرسنز
کی شرکت
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مقامی ہال نوویل
ایونٹس میں 17 اگست 2026ء کو استقبالِ ربیع الاول کے سلسلے میں ایک پروقار اور
سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں
شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تلاوت و نعت سے اجتماع کا آغاز کرنے کے بعد
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی عبدالحبیب عطاری نے ”سیرتِ
النبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو اپنانے اور نمازی بن کر میلاد منانے“ کے اہم موضوع پر خصوصی بیان کیا۔
اس موقع پر حاضرین کی ذہن سازی کی گئی کہ آمدِ
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی
خوشیاں منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسوہٴ حسنہ کے مطابق
ڈھالیں اور نمازوں کی پابندی کو اپنا معمول بنائیں۔
خاص افراد کی شرکت: اجتماع میں صوبائی ذمہ داران کامران عطاری اور بدر شفیق
عطاری کے ہمراہ اسپیشل پرسنز (گونگے، بہرے اور نابینا افراد) نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
خصوصی انتظام:اسپیشل پرسنز کی سہولت اور اُن تربیت و رہنمائی کے
لیے اجتماع میں علیحدہ حلقہ قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ باآسانی پروگرام میں شریک ہو
سکیں۔
خصوصی ملاقات و لنگر: اجتماع کے اختتام پر رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبدالحبیب
عطاری نے خاص طور پر اسپیشل پرسنز سے فرداً فرداً ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی
کی نیز اُن کے لیے لنگرِ رضویہ کا بالخصوص اہتمام کیا گیا۔ ( رپورٹ: کامران عطاری صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ
اسلام آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت
21 اگست 2026ء کو راولپنڈی ڈیف ایسوسی ایشن میں اسپیشل پرسنز (گونگے اور
بہرے افراد) کے لیے سیکھنے سکھانے
کا حلقہ منعقد کیا گیا۔
اس حلقے میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی
ذمہ دار کامران عطاری، صوبائی ذمہ دار بدر شفیق عطاری اور ڈسٹرکٹ ذمہ دار نعیم
عطاری نے اسپیشل پرسنز (گونگے اور بہرے افراد) کی رہنمائی کی ۔
حلقے کے دوران صوبائی ذمہ دار بدر شفیق عطاری نے
اشاروں کی زبان (Sign Language) میں سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے موضوع پر اسپیشل پرسنز کی دینی و اخلاقی رہنمائی کی۔
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد و راولپنڈی
کے ذمہ داران کا اہم میٹ اپ
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ جی الیون (G-11)، اسلام آباد میں 7
اگست 2026ء کو اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ذمہ داران کا ایک
اہم میٹ اپ منعقد ہوا۔
اس میٹ اپ میں نگرانِ شعبہ عمیر ہاشمی عطاری،
صوبائی ذمہ دار بدر شفیق عطاری، صوبائی ذمہ دار (نابینا
افراد) کامران عطاری سمیت اسلام
آباد اور راولپنڈی کے دیگر اہم ذمہ داران نے شرکت کی۔
اس موقع پر دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ
کے رکن حاجی وقار المدینہ عطاری نے ذمہ داران کی تربیت کرتے ہوئے اسلام میں خصوصی
افراد کی اہمیت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے جذبے پر تفصیلی گفتگو کی نیز رکنِ شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کو خصوصی افراد
کے لیے دینی و فلاحی خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا ذہن دیا۔
علاوہ ازیں رکنِ شوریٰ نے بالخصوص اسپیشل پرسنز (گونگے، بہرے، نابینا اور
جسمانی معذور افراد) تک دینِ اسلام
کی دعوت پہنچانے، انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ کرنے اور ان کی شرعی
و فلاحی رہنمائی کے کاموں کو مزید مؤثر و منظم انداز میں آگے بڑھانے کی تاکید کی
جس پر وہاں موجود ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔( رپورٹ: کامران عطاری صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ
اسلام آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
Dawateislami