دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام ” میلاد اجتماع و سالانہ تقسیمِ اسناد کی تقریب 2026ء “کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں علمائے کرام، تعلیمی رہنما، اسٹوڈنٹس، ٹیچرز اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیمی عمدگی کی پذیرائی کے لیے ایک شاندار تقریب میں جمع ہوں گے۔

اس تقریب میں تعلیم کی مختلف سطحوں پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پوزیشن ہولڈرزاور دیگر شاندار کامیابی حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ انہیں علمائے کرام کی رہنمائی سے مستفید ہونے کا موقع بھی میسر آئے گا۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران حاجی عمران عطاری بطورِ مہمانِ خصوصی اس تقریب میں شرکت فرمائیں گے جبکہ شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری مدنی بیان کریں گے۔

یہ اجتماع 9 ستمبر 2026ء کو رات 9:00 بجے جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوگا جہاں علم، کامیابی اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہوں گے۔


بنگلہ دیش کے ڈویژن راجشاہی،ضلع پابرنہ (Pabna) کے علاقے ایشوردی (Ishwardi) میں عظیم الشان اجتماعِ میلاد “کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی خصوصی بیان فرمائیں گے۔

یہ اجتماع آج 28 اگست 2026ء جمعہ کی شب فتح محمد پور لوکو فٹبال گراؤنڈ (Fateh Muhammadpur Loco Football Ground)، ایشوردی، پابرنہ میں منعقد کیا جائے گا جس میں کثیر اسلامی بھائیوں کی شرکت متوقع ہے۔

معلومات کے مطابق اجتماعِ میلاد کا باقاعدہ آغاز رات 9:30 بجےتلاوتِ قراٰنِ مجید و نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوگا جبکہ خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی کا خصوصی بیان رات 10:00 بجے شروع ہوگا۔

قرب و جوار میں رہنے والے تمام عاشقانِ رسول اس اجتماعِ میلاد میں خود بھی شرکت کریں اور دوسروں کو بھی شرکت کرنے کی دعوت دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اجتماعِ پاک میں شرکت کر سکیں۔ 


27 اگست 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام بنگلہ دیش میں پُرخلوص جلوسِ میلاد کا انعقاد کیا گیا  جس میں عاشقانِ رسول اور دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران کی بڑی تعداد اور رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی مبین عطاری نے شرکت کی ۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستان سے دینی دورے پر بنگلہ دیش آئے ہوئے خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی کی خصوصی طور پر شرکت ہوئی۔

جلوسِ میلاد کے دوران عاشقانِ رسول ہاتھوں میں سبز پرچم لہراتے اور بارگاہِ رسالت میں مدحت کے نذرانے (نعت شریف) پیش کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ اس موقع پر فضا مرحبا یا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرجوش نعروں سے گونج رہی تھی۔

جلوسِ میلاد کے اختتام پر ایک پروقار محفل کا منظر دیکھنے میں آیا جہاں خلیفۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے تمام شرکا و امتِ مسلمہ کی سلامتی اور اُن کی دینی و دنیوی فلاح کے لیے خصوصی دعا کروائی۔


26 اگست 2026ء کو بنگلہ دیش کے معروف شہر چٹاگانگ میں ایک عظیم الشان میلاد اجتماع کا انعقاد کیا گیا  جس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی جن میں علمائے کرام، طلبہ، اسکولز و کالجز کے اسٹوڈنٹس اور سیاسی و سماجی شخصیات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شامل تھیں۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا جس کے بعد رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی مبین عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور حاضرین کو سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دلائی۔

بعد ازاں پاکستان سے خصوصی دورے پر بنگلہ دیش آئے ہوئے خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے میلادِ مصطفیٰ کی مناسبت سے سنتوں بھرا بیان کیا۔

خلیفۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے اپنے بیان میں آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑے ایمان افروز واقعات اور میلاد شریف کی برکات بیان فرما کر حاضرین کے قلوب کو منور کیا۔

اجتماع کے اختتام پر نہایت دلکش منظر دیکھنے میں آیا جب تمام عاشقانِ رسول نے مرحبا یا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرجوش نعروں کی گونج میں صبحِ بہاراں کا جشن منایا اور ایک دوسرے کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارکباد پیش کی۔


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (میرپور خاص ڈویژن) کے زیرِ اہتمام ٹیچرز کے لیے Teachers' Grand Congregation کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری خصوصی بیان فرمائیں گے۔

یہ عظیم الشان اجتماع 30 اگست 2026ء بروز اتوار، بعد نمازِ عشا رات 9:00 بجے جے این جے بینکوئٹ (J.N.J Banquet)، مین میرپور خاص روڈ نزد بحریہ کالج میں منعقد کیا جائے گا۔

اس عظیم الشان اجتماع میں ہونے والے بیان کا موضوع Our Responsibilities in Light of the Teachings of the Holy Prophet (سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہماری ذمہ داریاں) رکھا گیا ہے جس میں ٹیچرز کو اُن کی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔


شائقینِ علمِ دین کی معلومات میں اضافہ کرنے اور انہیں امیرِ اہلِ سنت کے فرامین سے مستفید ہونے  کے لیے خلیفۂ امیر اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے اس ہفتے 16 صفحات پر مشتمل رسالہ فرامینِ امیرِ اہلِ سنت “پڑھنے اور سننے کی ترغیب دلائی ہے۔

اس موقع پر خلیفۂ امیر اہلسنت مدظلہ العالی نے اس ہفتہ وار رسالے کو پڑھنے / سننے والوں کے لیے اپنی خصوصی دعاؤں کا بھی اظہار کیا اور ان کی دینی و دنیوی ترقی، ایمان کی سلامتی اور برکات کے لیے پرخلوص دعا فرمائی ہے۔

دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت

یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ فرامینِ امیرِ اہلِ سنت “پڑھ یا سُن لے اُسے ان فرامین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اس کے ظاہر و باطن کو اچھا کر اور اس کو ماں باپ سمیت بےحساب بخش دے۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اس کے ذہن میں کچھ بنیادی سوالات ہمیشہ گردش کرتے رہے ہیں میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انہی سوالات کے جوابات عقائد کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ عقیدہ دراصل وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کا درست ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ انسان کے خیالات، اس کے فیصلے اور اس کے اعمال سب اسی کے تابع ہوتے ہیں۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، لیکن آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج انسان کو مختلف قسم کے نظریات، خیالات اور معلومات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع نے معلومات کو عام تو کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو بھی فروغ دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر انسان اپنے عقائد سے اچھی طرح واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔مطالعۂ عقائد انسان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو محض روایت پر نہیں بلکہ سمجھ اور تحقیق کی بنیاد پر قائم کرے۔ جب انسان اپنے عقائد کو دلائل کے ساتھ سمجھتا ہے تو اس کا یقین مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے شبہات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے عقائد سے ناواقف ہوتا ہے، وہ معمولی باتوں سے بھی متاثر ہو جاتا ہے اور اس کے اندر تذبذب پیدا ہو جاتا ہے۔

آئیے آپ کو چند عقائد کے بارے میں بتاتا ہوں تا کہ آپ کو پتا چلے کہ عقائد سے متعلق مطالعہ کرنے سے کتنی اہم چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے تا کہ آپ کا بھی مطالعہ عقائد پر ذہن بن سکے:

چنانچہ پیارے نبی ﷺ نے اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد یوں بیان فرمائے ہیں:

اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهٖ، وَكُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قِیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچّھی، بُری تقدیر کو مانو۔(مسلم،ص21،حدیث :8)

(1) اللہ پر ایمان:اسلام کےبنیادی عقائد میں سب سے پہلے اللہ پاک پر ایمان لانا ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ عقیدہ دیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ یاد رہے اللہ پاک گنتی اور ہندسے والا ایک نہیں ہے بلکہ وہ واحدِ حقیقی ہے جس کا مطلب واحدو یکتا اور تنہا ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا۔نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی رشتہ دار، وہ قبیلے و خاندان سے پاک اور سب سے بے نیاز ہے، ساری مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے،سب اسی کے محتاج ہیں، وہ سارے عالَم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی تمام جہان کا بنانے والا ہے۔ انسان، جنّات، فرشتے، نباتات، آسمان، زمین، چاند، تارے،جاندار و بے جان سارے کے سارے اُسی ایک ” اللہ “ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ کریم ہر عیب و نَقص اور بُرائی سے پاک ہے۔وہ ظاہر اور چھپی ہرچیز کو جانتا ہے،کوئی بھی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسے اس کی ذات ہمیشہ سے ہے اِسی طرح اُس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔

(2)فرشتوں پر ایمان:فرشتے اللہ پاک کی ایسی مخلوق ہیں کہ جو مذکر و مؤنث ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانا لازمی ہے۔ان کی تعداد کتنی ہے یہ اللہ کریم ہی بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں میں چار اُنگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں فرشتوں نے سجد ے میں پیشانی نہ رکھی ہو۔(ترمذی، 4/141،حدیث: 2319)

فرشتے نُور سے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایاِ:خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ یعنی فرشتوں کو نُور سے پیدا کیا گیا ہے۔(مسلم،صفحہ1221،حدیث:7495)

(3)کتابوں پر ایمان:اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم نے اپنے رسولوں پر جو کتابیں اُتاری ہیں وہ سب حق ہیں۔(فتح الباری،جلد2/صفحہ108،تحت الحدیث:50)

جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہرمُکَلَّف (عاقِل،بالِغ، مسلمان)پر فَرْض ہے اسی طرح اُن کتابوں پر اِیمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ کریم نے حضور ﷺ سے پہلے نبیوں پر نازِل فرمائیں،البتہ اُن کے جو اَحکام ہماری شریعت میں مَنْسُوخ ہو گئے اُن پرعمل دُرُست نہیں مگر اِیمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقدس قِبْلَہ تھا، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضَروری ہے مگر عمل یعنی نَماز میں بیتُ الْمقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم مَنْسُوخ ہو چکا۔(خزائن العرفان، پارہ1، سورہ بقرہ،تحت الآیۃ:4)

(4)رسولوں پر ایمان:اس کامطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں اللہ پاک کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے۔(فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث:50)

(5)آخِرت پر ایمان:آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دین اسلام میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَبْعَد(یعنی بعید و ناممکن) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے۔(عقیدۂ آخرت،صفحہ12)

(6)تقدیر پر ایمان:دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بَدی وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔(کتاب العقائد،ص24)

حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ حضورِ اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ ﷺ ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں اور فرمایا :کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے میں تم پر لازِم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔(ترمذی،4/51،حدیث:2140)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ جس طرح عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد پر موقوف ہوتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان کے اعمال کی قبولیت اس کے درست عقائد پر منحصر ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال میں اخلاص پیدا ہوتا ہے، اور اگر عقیدہ بگڑ جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی ضائع ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علمائے کرام نے عقائد کے علم کو دین کی اصل قرار دیا ہے۔

عقائد کی اہمیت قرآنِ کریم کی روشنی میں:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت اسی وقت درست ہوگی جب عقیدہ صحیح ہو۔

مزید ارشاد ہوتا ہے:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

ترجمہ کنزالایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں ۔(پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 19)

یہاں "جاننے" کا حکم دیا گیا، یعنی توحید کا علم حاصل کرنا ضروری ہے، جو عقائد کی بنیاد ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں عقائد کی اہمیت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"ترجمہ:"جو اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ، حدیث: 26)

ایک اور حدیث میں ہے:"اِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبَلُ عَمَلًا اِلَّا بِمَعْرِفَةٍ"ترجمہ:"اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جو معرفت (صحیح عقیدہ) کے بغیر ہو۔" (شعب الایمان للبیہقی، باب فی الایمان، جلد 1، صفحہ 76، حدیث: 67)

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:

ایمان کی حفاظت کے لیے:آج کے دور میں مختلف باطل نظریات اور گمراہ کن افکار عام ہو رہے ہیں۔ صحیح عقائد کا مطالعہ انسان کو ان فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

عبادات کی قبولیت کے لیے:نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوتی ہیں جب عقیدہ درست ہو۔

شبہات کے ازالے کے لیے:عقائد کا علم انسان کو دین کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔

دعوتِ دین کے لیے:جو شخص خود صحیح عقیدہ رکھتا ہو، وہی دوسروں کو بھی درست راستہ دکھا سکتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد:اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔دل میں خشیتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ایمان مضبوط ہوتا ہے۔بدعقیدگی اور گمراہی سے حفاظت ہوتی ہے۔

بزرگانِ دین کا طرزِ عمل:علمائے اہلِ سنت نے ہمیشہ عقائد کے علم کو مقدم رکھا۔ امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے فتاویٰ اور تصانیف میں عقائد کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی، تاکہ امت کا ایمان محفوظ رہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کے لیے عقائدِ اہلِ سنت کا باقاعدہ مطالعہ کریں۔


 انسانی زندگی میں عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عقیدہ دراصل وہ پختہ یقین ہوتا ہے جو انسان کے خیالات، اعمال اور طرزِ زندگی کو تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے مطالعۂ عقائد نہایت ضروری اور اہم ہے، کیونکہ یہ انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اسے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔

سب سے پہلے، مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے دین اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے عقائد سے ناواقف ہو تو وہ دوسروں کے نظریات سے آسانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دین اور عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ عقائد کا مطالعہ انسان کی اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ درست عقائد انسان کو سچائی، دیانتداری، صبر اور برداشت جیسی اعلیٰ صفات اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ عقیدہ اور اخلاق آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

مزید برآں، موجودہ دور میں مختلف نظریات اور افکار تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے۔ ایسے میں نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کا شعوری مطالعہ کریں تاکہ وہ گمراہ کن نظریات سے محفوظ رہ سکیں۔

اسی حوالے سے ایک حدیث ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما: کتاب الله وسنتي"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(مستدرک حاکم، حدیث نمبر 319)

اس کے علاوہ، مطالعۂ عقائد انسان کو مقصدِ حیات سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکتا ہے۔ اس سے اس کی سوچ میں پختگی آتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کا سامنا ہمت اور حوصلے سے کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مطالعۂ عقائد نہ صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہ انسان کو فکری استحکام، اخلاقی بلندی اور صحیح راستے کی پہچان عطا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے عقائد کا باقاعدہ مطالعہ کرے اور انہیں سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کرے تاکہ وہ ایک کامیاب اور بامقصد زندگی گزار سکے۔


عقائد سے مراد وہ بنیادی اصول اور نظریات ہیں جو کسی دین یا مذہب کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اسلامی عقائد کا مطالعہ کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔

عقائد کی اہمیت:عقائد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت، اور آخرت ہیں۔ اگر کوئی شخص ان عقائد پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

(1) توحید: توحید کا مطلب ہے اللہ کی وحدت اور یکتائی پر ایمان رکھنا۔ یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

(2)رسالت: رسالت کا مطلب ہے اللہ کے پیغمبروں پر ایمان رکھنا، خاص طور پر محمد ﷺ پر جو آخری نبی ہیں۔

(3) آخرت: آخرت کا مطلب ہے قیامت، جنت، اور جہنم پر ایمان رکھنا۔

مطالعہ عقائد کی ضرورت:عقائد کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ:

(1) صحیح ایمان: ہم صحیح ایمان حاصل کر سکیں اور غلط عقائد سے بچ سکیں۔

(2)دین کی سمجھ: ہم دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔

(3) بدعات سے بچاؤ: ہم بدعات اور غلط عقائد سے بچ سکیں۔

(4) دلیل اور استدلال: ہم اپنے عقائد کی دلیل اور استدلال کے ساتھ حفاظت کر سکیں۔

مطالعہ عقائد کے فوائد:عقائد کا مطالعہ کرنے کے بہت سے فوائد ہیں:

(1) ایمان کی تقویت: عقائد کا مطالعہ ایمان کو تقویت دیتا ہے۔

(2) عقلی و ذہنی سکون: یہ ذہنی سکون اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔

(3) دین کی سمجھ: یہ دین کی صحیح سمجھ فراہم کرتا ہے۔

(4) غیر مسلموں سے گفتگو: یہ غیر مسلموں سے گفتگو کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عقائد کا مطالعہ کرنے کے طریقے:عقائد کا مطالعہ کرنے کے لیے چند طریقے ہیں:

(1) قرآن و حدیث: قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنا۔

(2) عقائد کی کتب: عقائد پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ کرنا۔

(3) علماء سے استفادہ: علماء سے استفادہ کرنا اور درس لینا۔

(4) مناظرے اور گفتگو: مناظروں اور گفتگو میں شرکت کرنا۔

عقائد کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔ یہ ایمان کی تقویت، ذہنی سکون، اور دین کی صحیح سمجھ کا باعث بنتا ہے۔


انسان کی کامیابی کا اصل دارومدار اس کے عقائد پر ہے۔ اگر عقائد درست ہوں تو اعمال بارگاہِ الٰہی میں قبول

ہوتے ہیں، اور اگر عقائد میں خرابی آ جائے تو بسا اوقات نیک اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دینِ اسلام میں سب سے پہلے عقائد کی درستی پر زور دیا گیا ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمۂ کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ (سورۃ محمد، آیت 19)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ

ترجمہ کنزالايمان: اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر ۔ (سورۃ النساء، آیت 136)

پیارے اسلامی بھائیو!یہ آیات واضح طور پر اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے پہلے اپنے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہی اس کے ایمان کی بنیاد ہیں۔

عقائد کی بنیاد اور اہمیت:عقائد دراصل دین کی جڑ ہیں۔ جیسے ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح ایک مسلمان کا ایمان بھی صحیح عقائد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین، انبیائے کرام علیہم السلام سے سچی محبت، اور آخرت کے دن پر پختہ ایمان یہ سب وہ بنیادی عقائد ہیں جن پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

یہ حدیث ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے بنیادی عقائد کیا ہونے چاہئیں، اور انہی کو سیکھنا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت:پیارے اسلامی بھائیو!آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ ہر طرف مختلف نظریات اور گمراہ کن باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے انسان کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہم نے اپنے عقائد کو مضبوط نہ کیا تو ہم بہت آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔اسی لیے عقائد کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ جب انسان صحیح اسلامی کتب کا مطالعہ کرتا ہے، علماءِ اہلِ سنت کی باتیں سنتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے اور وہ حق و باطل میں فرق کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

پیارے اسلامی بھائی!ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ کچھ وقت نکال کر دینی کتب کا مطالعہ کریں، خاص طور پر عقائد کے بارے میں سیکھیں۔ اپنے بچوں کو بھی صحیح عقائد سکھائیں اور ایسے ماحول سے بچیں جو ایمان کے لیے نقصان دہ ہو۔یاد رکھیں! عقائد کی حفاظت دراصل اپنے ایمان کی حفاظت ہے، اور یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقائد سیکھنے، ان پر عمل کرنے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی پہچان اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔دین اسلام میں کسی بھی عمل کے قبول ہونے کے لیے سب سے ضروری چیز صحیح عقیدہ کا ہونا ہے ۔ اگر عقیدہ صحیح نہ ہو تو اعمال کی کوئی خاص حیثیت نہیں رہتی۔ جیسے ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر نہیں کھڑا رہ سکتا، اسی طرح اعمال بھی عقیدے کے بغیر مضبوط نہیں ہوتے۔ اس لیے عقیدہ ہی اصل ہے اور عمل اس کی شاخیں ہیں۔

عقیدے کی اہمیت قرآن کی روشنی میں:قرآن پاک میں ایمان کی درستی پر بہت زور دیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ

ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔(سورۃالبقرۃ:285)

اس آیت سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور یہی سچے مومن کی پہچان ہے۔

مطالعہ عقائد کیوں ضروری ہے؟آج کل کے دور میں بہت سے نئے نظریات اور غلط باتیں پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں عقائد کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے:

ایمان کی حفاظت: اس سے انسان کے دل میں آنے والے شکوک ختم ہوتے ہیں۔

باطل کی پہچان: جب تک صحیح بات کا علم نہ ہو، غلط کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔

اعمال کی درستگی: اس علم سے پتا چلتا ہے کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط، تاکہ ہم اپنا ایمان بچا سکیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم مستند ذرائع سے عقائد سیکھیں، خاص طور پر "بہارِ شریعت" کا مطالعہ کریں۔ اس سے ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور ہم غلط نظریات سے بچ سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ نصیب فرمائے اور خاتمہ ایمان بالخیر فرمائے۔ آمین۔