ہر شخص کے اپنے اپنے رائٹس ہوتے ہیں، مثلاً رائٹس آفCitizen،رائٹس آف animal، رائٹس آفParent،رائٹس آف Children الغرض ہر کسی کے رائٹس پر بات ہوتی ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جس نبیِ کریم ﷺکا ہم نے کلمہ پڑھا ہے اور ہم جن کی غلامی کا دعویٰ کرتی ہیں،جن کے صدقے ہماری ان شاء الله شفاعت ہونی ہے اور ہم جنت میں جائیں گی وہ آقا ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو ان کے لبوں پر تھا: رب ھب لی امتی۔

ہر امتی پر حقوقِ رسول اللہ ہیں۔ان پر ایمان لایا جائے، نبی کریم ﷺ کی اتباع کی جائے۔ سر کار ﷺکی اطاعت کی جائے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت کی جائے۔ عشق کیا جائے۔ درود شریف پڑھا جائے۔نبی کریم ﷺ کے روضے کی زیارت کو جائیں۔

یہ شعر تو ہم بڑی محبت سے پڑھتی ہیں!

وہ ہمارےنبی ان کے ہم امتی امتی تیری قسمت پہ لاکھوں سلام

یقیناً ہماری قسمت بہت بڑی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اپنا امتی بنا لیا۔

1۔ایمان و اتباع:آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا فرض ہے۔ آپ ﷺ جو کچھ اللہ پاک کی طرف سےلائے ہیں اس کی تصدیق فرض ہے۔ایمان بالرسول کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔

آیتِ مبارکہ: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ26، الفتح:13)ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آ گ تیار کر رکھی ہے۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص ایمان باللہ اور ایمان بالر سول کا جامع نہ ہو وہ کافر ہے۔

2۔ حضور ﷺکی اطاعت واجب ہے: آپ ﷺ کےاوامر کا امتثال (احکام کی پیروی) اور آپ کے نواہی (منع کردہ چیزوں) سے اجتناب لازم ہے۔

آیت مبارکہ: وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷) (پ 28، الحشر: 7) ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک جماعت پر ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی، انہوں نے آپ کو بلایا، آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: نبی کریم ﷺ دنیا سے رحلت فرماگئے اور جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔(مشکوۃ، بخاری)

3۔محبت و عشق: رسول کی محبت واجب ہے چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ 10، التوبۃ: 24) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

وضاحت:اس آیت سے ثابت ہے کہ ہر مسلمان پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت واجب ہے۔ کیونکہ اس میں بتادیا گیا ہے کہ تم کو اللہ اور رسول کی محبت کا دعویٰ ہے اس لیے کہ تم ایمان لائے ہو پس اگر تم غیر کی محبت کو اللہ پاک اور رسول اکرم ﷺکی محبت پر ترجیح دیتے ہو تو تم اپنے دعویٰ میں صادق نہیں ہو اگر تم اس طرح محبتِ غیر سے اپنے دعویٰ کی تکذیب کرتے رہو گے تو خدا کے قہر سے ڈرو اور آیت کے اخیر حصے سے ظاہر ہے کہ جس کو اللہ اور رسول کی محبت نہیں وہ فاسق ہے۔

حدیث:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ تم میں سے کوئی مومن ( کامل)نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں کی نسبت زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری شریف)

4۔تعظیم و توقیر:ذیل میں وہ آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کا ذکر ہے:

(1)آیت مبارکہ: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) (پ 26، الفتح: 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔

(2)آیت مبارکہ: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ 26، الحجرات: 1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سُنتا جانتا ہے۔

آیت نمبر1 میں بتایا گیا کہ تم کسی قول یا فعل یا حکم میں آنحضرت ﷺ سے پیش دستی نہ کرو مثلاً جب حضور اقدسﷺ کی مجلس میں کوئی سوال کرے تو تم حضور ﷺ سے پہلے اس کا جواب نہ دو۔ جب کھانا حا ضر ہو تو حضور ﷺ سے پہلے شروع نہ کرو۔ جب حضور ﷺ کسی جگہ تشریف لے جائیں تو تم بغیر کسی مصلحت کے حضور اقدس ﷺکے آگے نہ چلو۔

امام سہل بن عبدالله تستری اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اللہ پاک نے اپنے مومن بندوں کو یہ ادب سکھایا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلےتم بات نہ کرو۔ جب آپﷺ فرمائیں تو تم آپ ﷺکےارشاد کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔آپ کے حق کی فیر د گزاشت اور آپ کے احترام و توقیر کے ضائع کرنے میں خدا سے ڈرو خدا تمہارے قول کو سنتا اور تمہارے عمل کو جانتا ہے۔

حقوقِ رسول:آنحضرت ﷺکے روضہ شریف کی زیارت بالاجماع سنت اور فضیلت عظیمہ ہے۔ اس بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں جن میں سے چند وفاء الوفاء سے یہاں پیش کی جاتی ہیں:

حدیث مبارکہ:من زار قبری و جبت له شفاعتی۔ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے واسطے میری شفاعت ثابت ہوگئی۔ (دار قطنی و بیہقی وغیرہ)

حدیث مبارکہ:من زارنی متعمداً كان فی جواری یوم القیمة جس نے بالقصد میری زیارت کی وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہو گا۔(ابوجعفر عقیل)

مسند ِامام ابی حنیفہ میں بروایت امام منقول ہے کہ حضرت ایوب سختیانی تابعی رحمۃ اللہ علیہ آئے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے نزدیک پہنچے تو اپنی پیٹھ قبلہ کی طرف اور منہ حضور اقدس ﷺکے چہرے مبارک کی طرف کر لیا اور روئے۔(وفاء الوفاء، 2/ 424)

5۔درود شریف:مومنوں پر واجب ہے کہ رسول ﷺ پر درود پاک بھیجا کریں چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ22،الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ واضح رہے کہ خدا کے درود بھیجنے سے مراد رحمت کا نازل کرنا اور فرشتوں اور مومنوں کے درود سے مراد ان کا بارگاہِ رب العزت میں تضرع و دعا کرنا ہے کہ وہ اپنے حبیب پاک ﷺ پر رحمت و برکت نازل فرمائےچنانچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے تو الله پاک اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔(صحیح حدیث)

درس: اے عاشقانِ رسول !نبی ِکریم ﷺکے جوحقوق بیان ہوئے ہیں ان کو دیکھیے، پڑھیے اور سمجھیے کہ کیا ہماری زندگی ایسی ہی گزر رہی ہے؟کیاہم ان حقوق کو مدِّنظر رکھ کر اپنی زندگی گزار رہی ہیں کہ نہیں؟ امتی تو ہیں، کلمہ تو پڑھا ہے، غلامیِ رسول کا دعویٰ بھی کرتی ہیں مگر حقوقِ مصطفٰے پر کوئی توجہ نہیں۔ زندگی گزارنے پر توجہ ہے۔ اپنے حقوق حاصل کرنے کی بڑی جنگ ہے۔ ہر کوئی اپنے رائٹس کے بارے میں سوال کرتی ہے مگر کبھی ہم نے یہ سوچا ہے جن کا ہم نے کلمہ پڑھا ہے کیا ہم ان کے حقوق بجالاتی ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کس چیز کا انتظار ہے؟ یہ دنیا فانی ہے اور اس میں ہر چیز فانی ہے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺپر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجا جائے اور بار بار ان کے روضہ مبارک کی زیارت کو جایا جائے اور ان کی تعظیم و توقیر اور عزت و احترام کیا جائے۔اللہ پاک نبی کریم ﷺ کے حقوق ادا کرنے اور آپ ﷺ کے نقش ِقدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بار بار میٹھے مدینے کی حاضری نصیب فرمائے۔ ( آمین )


ہمارا ایمان اور قرآن کا فرمان ہے کہ ا للہ پاک نے ہمیں سب سے عظیم رسول عطا فرما کر ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ (پ 4، اٰل عمران: 164) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔

ہمارا تو وجود بھی سیددو عالمﷺ کے صدقے سے ہے۔ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کائنات ہی نہ ہوتی۔آپ اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہاتے رہے اور بہار ہے ہیں۔ پیدائش کے وقت، معراج کی رات اور وصال شریف کے بعد قبر انور میں اتارتے ہوئے بھی حضور پرنور ﷺکے لبہائے مبارکہ پر امت کی یاد تھی۔ آپ میدانِ محشر میں کہیں نیکیوں کے پلڑے بھاری کروائیں گے،کہیں پل صراط سے آسانی سے گزاریں گے، کہیں حوض ِکوثر سے سیراب کریں گے اور کسی کے درجات بلند کروائیں گے۔

قرآن، ایمان،خدا کا عرفان اور بے شمار نعمتیں ہمیں آپ ﷺکے صدقے ہی نصیب ہوئیں۔ یقیناً آپﷺ کے احسانات اس قدر کثیر ہیں کہ انہیں شمار کرنا ممکن ہی نہیں۔ انہی بیش بہا احسانات کے کچھ تقاضے ہیں جنہیں امت پر حقوقِ مصطفٰےکے نام سے ذکر کیا جاتا ہے جن کی ادائیگی تقاضائے ایمان اور مطالبہ احسان ہے۔چند حقوق ملاحظہ ہوں:

1۔ رسول اللہ پر ایمان:پہلاحق یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان رکھا جائے اور جو کچھ آپ الله کی طرف سے لائے ہیں اسے صدقِ دل سے تسلیم کیا جائے۔ یہ حق صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ تمام انسانوں پر لازم ہے کیونکہ آپ کی رحمت تمام جہانوں کے لیے ہے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے۔ جو ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں۔ارشاد باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ 26، الفتح: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آ گ تیار کر رکھی ہے۔

2۔ رسول الله کی پیروی: نبی کر یم ﷺکی سیرت مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضہ ہے۔حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائے۔

3۔ رسول اللہ کی اطاعت: رسول الله کا یہ حق ہے کہ آپ کا ہر حکم مان کر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔جس بات کا حکم ہوا سے بجالائیں اور جس چیز سے روکیں اس سے رکا جائے۔ارشاد باری ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ 5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔

4۔ رسول اللہ کی محبت: امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا ومولا ﷺ سے سچی محبت کرے کہ آپ ﷺکی محبت روح ایمان، جان ایمان اور اصل ایمان ہے۔ نبی کر یم ﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک میں اُسے اُس کے باپ، اُس کی اولاد اور عام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

5۔ رسول اللہ کی تعظیم: ایک انتہائی اہم حق یہ بھی ہے کہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبی مکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے بلکہ آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام کیا جائے۔ ارشاد باری ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

اگر کسی کو بارگاہِ نبوی میں ادنی سی گستاخی کا مرتکب دیکھے تو اگرچہ وہ باپ یایا استاد یا پیر یا عالم ہو یا دنیاوی وجاہت والا کوئی شخص، اُسے اپنے دل و دماغ سے ایسے نکال باہر پھینکے جیسے مکھن سے بال اور دودھ سے مکھی کو باہر پھینکا جاتا ہے۔

رسول اللہ کاذکرِ مبارک اور نعت:ہم پر حق ہے کہ فخر موجودات، باعثِ تخلیقِ کائنات ﷺ کی مدح و ثنا، تعریف و توصیف، نعت و منقبت، نیز فضائل و کمالات،ذکرِ سیرت و سنن و شمائلِ مصطفٰے اور بیانِ حسن و جمال کو دل و جان سے پسند کریں اور ان اذکار مبار کہ سے اپنی مجلسوں کو آراستہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا معمول بھی بنالیں۔ اعلیٰ حضرت کیا خوب فرماتے ہیں:

تیرے تو وصف عیبِ تناہی سے ہیں بری حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

رسول اللہ پر درود ِپاک پڑھنا:حضور پر نورﷺ پر درود پاک پڑھنابھی مقتضائے ایمان ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

رسول اللہ کی قبر ِانور کی زیارت کرنا: حضور اقدس ﷺ کی قبر ِانور کی زیارت کرنا امتی کی محبت کی دلیل ہے اور خصوصاً حج پر جانے والے کے لیے بارگاہِ مصطفٰےکی حاضری ایک اہم حق ہے۔ یہ حاضری سنتِ مؤکَّدہ اور قریب بواجب ہے اور اس کا ترک شقاو جفا ہے۔ اللہ کریم ہمیں پیارے آقاﷺکے حقوق ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ( عشقِ رسول مع امتی پر حقوق ِمصطفٰے)


جس طرح دنیا میں ہر شخص مثلاً والدین، استاد اور پیر وغیرہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اسی طرح امتِ مصطفٰے پر بھی نبی ِکریم ﷺکے کچھ حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ہم پہ فرض و واجب ہے کہ حضورﷺ کو اپنی امت سے اس قدر محبت ہے کہ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کیلئے در بار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گر یہ وزاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبار ک پر ورم آجا تا تھا۔ چنانچہ آپﷺ نے اپنی امت کیلئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کاتقا ضا ہے کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کر نا ہر امتی پر فرض و واجب ہے اور اس پر آپ کی شفقت و رحمت کی اس کیفیت پر خود قرآن بھی شاہد ہے، ہم بھی اپنے نبی ﷺ سے سچی محبت کریں اور ان حقوق کو ادا کریں۔ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ11،التوبۃ:128) ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہرباں مہربان۔

جب نبی کریم ﷺ ہم پر اتنے مہر بان اور شفقت فرمانے والے ہیں تو ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم بھی ان کے تمام حقوق ادا کریں۔ حقوق بیان کرنے سے پہلے بتاتی چلوں کہ حق کہتےکسےہیں؟

حق کسے کہتے ہیں؟حق کے لغوی معنی صحیح، درست، وا جب، سچ، انصاف یا جائز مطالبہ کے ہیں۔ ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور با ضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔

تو اس وضاحت کے بعد حقوق کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیے کہ وہ اصول جو ایک فرد کو دیگر افرا دکی جانب سے اجازت یا واجب الادا ہیں۔

حق کی تعریف کرنے کے بعد امت پر حضورﷺ کے 5حقوق بیان کرتی چلوں جن کا مختصر جائزہ صحابیات کی سیرت کی روشنی میں پیشِ خدمت ہے:

1-ایمان بالرسول: رسولِ خدا ﷺ پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں صدق ِدل سے اس کو سچا ماننا یہ اُمتی پر فرض عین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔اس لئے صرف توحید و رسالت کو مان لینے سے کوئی مسلمان نہیں یا اس کا ایمان کامل نہیں؛ اس کا ایمان تب ہی کامل ہوگا جب وہ حضور ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب جانے۔ اس بارے میں مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک(کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔

2-اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسول اللہﷺ کا حق ہے کہ آپ جس بات کا حکم دیں اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کرے۔ کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر ِتسلیم خم کر دینا امتی پر فرض عین ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ حضور ﷺ کی اطاعت دل و جان سے کریں۔

3-سرکارﷺ کی تکلیف برداشت نہ ہوتی: صحابیات طیبات رضی الله عنہن حضور ﷺ سے جس قدر محبت کرتی تھیں اس کی مثالیں شمار سے باہر ہیں۔ اس کے متعلق ایک روایت ملاحظہ ہو۔ مروی ہے کہ جب امہات المومنین رضی اللہ عنہن مرض الموت کے دوران بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں تو آپ کی تکلیف نہ برداشت کر سکیں تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے بارگاه خد اوندی میں عرض کی: اللہ پاک کی قسم! یا نبی الله!کاش!میں آپ کی جگہ ہوتی۔آپ ﷺ کی بات کی تصدیق کرنے کے بعد حضور ﷺ نے ار شاد فرمایا: اللہ پاک کی قسم ! یہ سچ بولنے والی ہیں۔

4- آداب بار گاہ رسالت کی انوکھی مثال: حضور ﷺ کی اطاعت و فرما نبرداری سے ایمان کامل ہوتا ہے۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور ﷺ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے معذرت کرتے ہو ئے عرض کی:مجھے آپ سے نکاح میں کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ آپ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں مگر میرے بچے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ آپ کیلئے تکلیف کا باعث بنیں۔

5-درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیبﷺ پر درودپاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ اس آیتِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ زندگی میں ایک مرتبہ حضور ﷺ پر درود پڑھنا فرض ہے لہٰذا ہمیں حضور ﷺپر درود کی کثرت کرنی چاہیے۔ اسی لیے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کے مقدس زمانے سے لے کر آج تک تمام مسلمان آپﷺپر درود و سلام کے گجرے نچھاور کرتے رہتے ہیں اور ان شاء اللہ کرتے رہیں گے۔اللہ کریم ہمیں یہ حقوق بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (صحابیات وصالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص 75-76-78-79-81)

کاش! دیدارِ رسول ہو جائے التجا ہے قبول ہو جائے


پیارے آقا ﷺ نےاپنی امت کی ہدایت واصلاح کے لیے بے شمار تکالیف برداشت فرمائیں۔ پیارے آقا ﷺپوری پوری رات جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لیے دربار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ وزاری فرماتے یہاں تک کے آپ کے پاؤں مبارک پر کھڑے رہ رہ کر ورم آجاتا تھا چنانچہ جس طرح ہر انسان پر والدین، استاد، اولاد کے حقوق اُس پر ادا کرنافرض ہوتا ہے اس طرح پیارے آقا ﷺ کے بھی اپنی امت پر بہت زیادہ حقوق ہیں جن کو شمار نہیں کی جا سکتا۔ان میں سے پانچ حقوق درج ذیل ہیں۔لیکن اس سے پہلے حق کی تعریف بتاتی چلوں کہ حق کہتے کسے ہیں؟

حق کی تعریف:حق کے لغوی معنی صحیح، درست،واجب،سچ، انصاف یا جائز مطالبے کے ہیں۔ ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور باضابطہ طور پر ہی اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ اب حقوقِ مصطفٰےکی طرف چلتی ہیں کہ ہم پر کیا کیا حقوق ہیں:

1۔ اتباع ِسنتِ رسول:پیارے آقا ﷺ کی سیرت اور سنت ِمقدسہ پر عمل کرنا ہر مسلمان پر واجب ولازم ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی لیے آسمانِ امت کے چمکتے ہوئے ستارے اللہ یاک اور اس کے محبوب ﷺکے پیارے صحابہ کرام و صحابیات طیبات آپ کی ہرسنت کریمہ کی پیروی کو لازم و ضروری جانتے اوربال برابر بھی کسی معاملے میں اپنے پیارے آقاﷺ کی سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کرتے تھے۔

2۔ اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کرے۔ کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ اس کا حکم الله پاک نے قرآنِ پاک میں بھی کئی دفعہ ارشاردفرمایا ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور اطاعتِ رسول کرنے والوں کیلئے بہت بلند درجات ہیں اس لیے ہم پر ضروری ہے کہ ہر قسم کے قول،فعل میں آپ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لی جائے۔

3۔ محبتِ رسول:ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کردے۔ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کی جان سے بھی سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر دل میں محبتِ رسول نہ ہو تو بنده ایمان والا نہیں ہوتا۔ اللہ کریم ہمیں سچا عاشقِ رسول بنائے۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

4۔ درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیبﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی ہر بار مستحب)ہے۔ حبیبِ خدا، مکی مدنی مصطفٰے کی شانِ محبوبیت کا کیا کہنا!ایک حقیر و ذلیل بندۂ خدا کے پیغمبر جمیل کی بارگاہِ عظمت میں درودِ پاک کا ہدیہ بھیجتا ہے تو خداوندِ جلیل اس کے بدلے میں اس بندے پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں زیادہ درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

5۔ مدح ِرسول:صاحبِ قرآن ﷺ کا ہر امتی پر یہ حق ہے کہ وہ آپ کی مدح وثنا کا ہر طرف چر چا اور اعلان کرتا رہے اور ان کے فضائل کو علی الاعلان بیان کرے۔ آپ کے فضائل و محاسن کا ذکرِ جمیل رب العالمین اور تمام انبیا و مرسلین کا مقدس طریقہ ہے۔ اللہ کریم نے قرآنِ کریم کو اپنے محبوب ﷺ کی مدح و ثنا کے مختلف رنگا رنگ پھولوں کا ایک حسین گلدستہ بناکر نازل فرمایا اور پورے قرآن میں آپ کی نعت وصفات کی آیات بینات اس طرح جگمگا رہی ہیں جیسے آسمان پر تارے جگمگاتے ہیں۔


حبیبِ خدا، مکی مدنی مصطفٰے ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور فلاح کے لیے بے شمار تکالیف برداشت کیں نیز آپ کی اپنی امت کی نجات و مغفرت کی فکر اور شفقت ورحمت کی اس کیفیت پر قرآن بھی شاہد ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ11،التوبۃ:128)ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہرباں مہربان۔

محبوبِ باریﷺ پوری پوری رات جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے اور امت کی مغفرت کے لیے دربار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گر یہ وزاری فرما تے تھے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثرآپ کے پائے مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضہ ہے کہ امت پہ آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا بھی امتی پر فرض و واجب ہے۔

حق کی تعریف: حقوق آزادی یا استحقاق کے قانونی، سماجی یا اخلاقی اصول ہیں یعنی حقوق بنیادی قوانین ہیں جو کسی قانونی نظام، سماجی کنونشن یا اخلاقی اصول کے مطابق افراد کو دیگر افراد کی جانب سے اجازت یا واجب الادا ہیں۔

1-ایمان بالرسول: رسولِ خداﷺ پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائےہیں صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یا درکھئے کہ محض توحید و رسالت کی گواہی کافی نہیں بلکہ کسی کا بھی ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺکو اپنی جان ومال بلکہ سب سے زیادہ محبوب نہ بنا لیا جائے۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے محبوبﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤ ں۔(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص75)

خاک ہوکر عشق میں آرام سے سونا ملا جان کی اکسیر ہے الفت رسول الله کی

2-اتباعِ سنتِ رسول:سرورِ کائنات،فخرِ موجودات ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور سنتِ مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے جیسا کہ فرمانِ باری ہے۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس لیے آسمان امت کے چمکتےہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اللہ پاک اور اس کے پیارے رسولﷺکے پیارے صحابہ کرام و صحابیات طیبات آپﷺ کی ہر سنت کریمہ کی پیروی کو لازم و ضروری جانتے اور بال برابر بھی کسی معاملہ میں اپنے پیارے رسولﷺ کی سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کرتے تھے۔(صحابیات وصالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص76)

3-اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسولِ خداﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہرحال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کرے کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرض ِعین ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ ایک اور مقام پر ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا اور اطاعت کرنے والوں ہی کے بلند درجات ہیں۔ لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہر قسم کے قول و فعل میں آپ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی لی جائے اور آپ کی بیان کردہ شرعی حدود سے تجاوزنہ کریں۔(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص76)

4- تعظیمِ رسول: امت پر ایک بہت بڑایہ بھی حق ہے کہ ہر امتی پر فرض عین ہے کہ آپ اور آپ کی نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام بجا لائے اور ہر گزہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بےادبی نہ کر ے جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

5۔ محبتِ رسول:اسی طرح ہر امتی کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کر دے۔ حضور کی محبت صرف کامل واکمل ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہرامتی پر آپ کا یہ حق بھی ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھےاور ساری دنیا کو آپ کی محبت پہ قربان کردے۔

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہ اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

محمد کی محبت ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آبادہونے کی

(صحابیات وصالحات کے اعلی اوصاف،ص77)


تاریخ    کا مطالعہ کریں تو اس بات کا اندازہ ہوگاکہ اللہ کے پیارے رسول ﷺنے ہم گنہگاروں کے لیے کتنی مشقتیں برداشت کیں ہیں۔ آج ہمیں جو ایمان کی دولت میسر آئی، راہ حق کا پتہ ملا، قرآن ملا،قرآن کے احکام کو سمجھنے کا سلیقہ ملا، حلال و حرام کی تمیز سمجھ میں آئی، ہمیں جو زندگی ملی حتی کہ ہماری ہر ہر سانس پر سرکار دوعالم کا احسان ہے کیونکہ آپ ہی کے صدقے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کی تخلیق ہوئی ہے۔جب اس قدر ہم پر آپ کے احسانات ہیں تو ہم امت پر بھی آپ ﷺ کے حقوق ہیں ان حقوق کومختصر طور پر بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

حق کی تعریف:حق کے لغوی معنی صحیح، درست، واجب، سچ، انصاف یا جائز مطالبہ کے ہیں۔ ایک طرف حق سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناًاور باضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس پر اپنی ملکیت کا دعوی کر سکتی ہیں۔

حضور کے اپنی امت پر کیاکیا حقوق ہیں؟حضور نبی کریم ﷺ کے اپنے امتیوں پر بہت سے حقوق ہیں جن میں سے پانچ (5) درج ذیل ہیں:

1۔ حضور پر ایمان:حضور ﷺکی نبوت و رسالت اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں ان تمام پر ایمان لانا اور دل سے انہیں سچا ماننا ہر اُمتی پر فرضِ عین ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائےبغیر کوئی شخص ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ 26، الفتح: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آ گ تیار کر رکھی ہے اس آیت میں مکمل طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے وہ کافرر ہیں گے اگر چہ وہ اللہ پاک پرایمان لاتے ہوں کیونکہ رسول ﷺپر ایمان لائے بغیر توحید پر ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں ترے نام پر سب کو وارا کروں میں

2۔ اطاعتِ رسول:مسلمان کےلئے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جوشخص نبی کریم ﷺ کے احکام کو مانتا ہے وہ حقیقت میں اللہ پاک کی اطاعت کو ہی اختیار کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

مختصر یہ جان لیجیے کہ جس کو اللہ کا محبوب بننا ہو اور جو یہ چاہتا ہو کہ اُس کے درجات بلند ہوں تو وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو خود پر لازم کرلے۔

3۔ محبتِ رسول: ہر امتی پر رسول اللہ ﷺکا حق ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے کیونکہ تب تک وہ امتی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ سب سے بڑھ کر حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ حضور ﷺ کو محبوب نہ رکھے۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ 10، التوبۃ: 24)ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

محمد کی محبت ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی

4۔ درود شریف:جو شخص نبی کریمﷺ پر درود بھیجتا رہتا ہے اللہ پاک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے غموں کو دور فرما دیتا ہے۔ اللہ پاک قرآن ِمجید میں ارشادفرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

پڑھ لے درود غفلت نہ کر خدا کی قسم! تیرے سلام کا وہ اب بھی جواب دیتے ہیں

5۔ قبرِانور کی زیارت:حضور ﷺکے روضۂ مقدسہ کی زیارت سنتِ مؤکَّدہ قریب بواجب ہے۔ ارشاد باری ہے:ترجمہ:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی سفارش فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔

اس آیت میں صاف طور پربیان کیا گیا ہے کہ جو گناہ گار قبرِ انورکے پاس حاضر ہو جائے اور وہاں خدا سے استغفار کرے ان شاء الله اس کی ضرو ر مغفرت ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ حضور کریم ﷺ نے فرمایا ہے:جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی، لہٰذا ہر امتی کو چاہیے کہ وہ ہو سکے تو روضہ رسول ﷺ کی زیارت ضرور کرے۔دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو نبی کریمﷺ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطافر مائے۔ آمین

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالَم کو وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف)


حبیبِ خدا،مکی مدنی مصطفٰےﷺ نے اپنی امت کی ہد ایت و  اصلاح و فلاح کے لیے بے شمار تکالیف برداشت فرمائیں نیز آپ کی اپنی امت کی نجات و مغفرت کی فکر اور شفقت و رحمت کی اس کیفیت پر قرآن بھی شاہد ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ11،التوبۃ:128)ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہرباں مہربان۔

محبوب باریﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اورامت کی مغفرت کے لیےدر با ر باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک پرورم آجاتا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی امت کے لئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر آپ ﷺ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض و واجب ہے۔

حق کی تعریف:حق کے لغوی معنی صحیح، مناسب، درست، ٹھیک،موزوں، بجا، واجب،سچ، انصاف، جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔ اس طرح حق ایک ذومعنی لفظ ہے۔ ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری جانب اس چیز کی طرف جیسے قانوناً اور با ضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔

مفہوم:حقوق جمع ہے حق کی جس کے معنی ہیں: فرد یا جماعت کا ضروری حصہ۔(المعجم الوسیط،ص 188 )حق کا معنی اصل میں مطابقت اور ہم آہنگی ہے، اس لئے جو چیزوا قعیت سے مطابقت رکھتی ہے اسے حق کہتے ہیں۔

1-اتباعِ سنتِ رسول: سرورِ کائنات،فخرِ موجوداتﷺ کی سیرت مبارکہ اورسنتِ مقدس کی پیروی ہرمسلمان پر واجب و لازم ہے جیسا کہ فرمانِ باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس لیے آسمانِ ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، الله پاک اور اس کے رسول کے پیارے صحابہ کرام رضی الله عنہم وصحابیات طیبات آپ کی ہر سنت کریمہ کی پیروی کو لازم وضروری جانتے ہوئے اور بال برابربھی کسی معاملہ میں اپنے پیارے رسولﷺ کی سنتوں سے انحراف یا ترک گو ارا نہیں کرتے تھے۔(صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف، جلد اول)

2-اطاعتِ رسول:یہ بھی ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کاحق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کریں۔ کیونکہ اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرض ِعین ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے۔ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ ایک اور مقام پر ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

3-محبتِ رسول: اسی طرح ہر امتی پر رسول خداﷺکا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت پر قربان کردے جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی خالہ حضرت فاطمہ بنت عقبہ ایک بار سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ایک وقت میں چاہتی تھی کہ آپ کے علاوہ دنیا بھر میں کسی کا مکان نہ گرے مگر اللہ پاک کے رسول! اب میری خواہش ہے کہ دنیا میں کسی کا مکان رہےیا نہ رہے مگر آپ کا مکان ضرور سلامت رہے۔ ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

اللہ پاک کے پیارے حبیبﷺ کی محبت صرف کامل و اکمل ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر رسول الله ﷺکاحق یہ بھی ہے کہ وہ سارے جہاں سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کو آپ کی محبت پر قربان کردے۔(صحابیات و صالحات کے اعلی اوصاف)

4-تعظیمِ رسول:امت پر ایک نہایت ہی اہم اور بہت بڑا حق یہ ہے کہ امتی پر فرض عین ہے کہ آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم وتوقیر اور ادب و احترام بجالائے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔ (صحابیات و صالحات کے اعلی اوصاف)

5-درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیبﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ بہار شریعت جلد اول،ص 15 پر ہے: جب حضور ﷺکاذکرآئے تو بکمال خشوع و خضوع وانکسار با دب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درود پاک پڑھنا وا جب ہے۔ (صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف)


جس طرح دنیا میں ہر شخص مثلاً والدین، استاد، پیر ومر شد اور رشتہ داروغیرہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اسی طرح اُمت مصطفٰے پر بھی نبی کریم ﷺ کےکچھ حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ہم پر فرض و واجب ہے۔چنانچہ ارشادہوتاہے۔: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ11،التوبۃ:128)ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

محبوبِ باری ﷺ پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور اُمت کی مغفرت کیلئے در بار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ وزاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک پرورم آجاتا تھا چنانچہ آپ ﷺنے اپنی اُمت کیلئے جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر آپ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہم پر فرض و واجب ہے۔ پہلے حقوق کی تعریف ملاحظہ فرمائیے۔

حقوق: حقوق آزادی یا استحقاق کے قانونی، سماجی یا اخلاقی اصول ہیں یعنی حقوق بنیادی معیادی قوانین ہیں جو کسی قانونی نظام، سماجی کنونشن یا اخلاقی اصول کے مطابق افراد کو دیگر افراد کی جانب اجازت یا واجب الادا ہیں۔

حقوقِ مصطفٰے:

1۔ ایمان بالرسول: رسولِ خداﷺپر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں صدق دل سے اس کو سچا ماننا ہر امتی پر فرضِ عین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہرگز ہر گز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذ ا محض توحید و رسالت کی گواہی کافی نہیں بلکہ رسول اللهﷺکو اپنی جان ومال بلکہ سب سے زیادہ محبوب ماننا ضروری ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،نبی پاک ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک ( کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،ص74،حدیث:15)

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا جان کی اکسیر ہے الفت رسول الله کی

(حدائق بخشش،ص 153)

2-اتباعِ سنتِ رسول: سرورِ کائنات، فخر ِموجودات ﷺکی سیرتِ مبارکہ اورسنت مقدسہ کی پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے جیسا کہ فرمانِ باری ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی لیے آسمان امت کے چمکتے ستارے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و صحابیات رضی اللہ عنہن آپ کی ہر سنت کریمہ کی پیروی کو لازم و ضروری جانتے اور کسی بھی معاملہ میں آپ ﷺکی سنتوں سے انحراف یاترک گوارا نہ کرتے تھے۔ (صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص76)

3-اطاعتِ رسول: یہ بھی ہر امتی پر رسول اللہ ﷺکا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور نہ کریں کیونکہ آپ کی اطاعت اور احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا ہر امتی پر فرضِ عین ہے چنانچہ ارشاد باری ہے: ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو الله کا اور حکم مانو رسول کا۔(پ5،النساء:59) ایک اور مقام پر ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

4-تعظیم رسول:امت پر ایک نہایت ہی اہم اور بہت بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرض ہے کہ آپ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم وتوقیر اور ادب و احترام بجالائے اور ہر گزہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

درود شریف: اللہ پاک نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فر مایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

بہارِ شریعت جلد اول صفحہ75 پرہے: جب (ایک ہی مجلس میں بار بار) حضور ﷺ کا ذکر آئے تو بکمال ِخشوع و خضوع و انکسار با اد ب سنے اور نامِ پاک سنتے ہی درودِ رپاک پڑھے کیونکہ یہ پڑھنا (پہلی بار) واجب (اور باقی ہر بار مستحب)ہے۔


حق کا مطلب ایک ایسی ذمہ داری جو اللہ پاک کی طرف سے ایک ذات پر کسی دوسری ذات کے مقابلے میں لازم کی گئی ہو۔اب اگر وہ ذات خود اللہ پاک کی ہے تو اس نے اپنی ذات کے پیشِ نظر کچھ ذمہ داریاں رکھی ہیں،اسے  اللہ کا حق کہتے ہیں اور اگر کسی بندے کو مبعوث رکھتے ہوئے اللہ نے اس کے مقابلے میں ذمہ داریاں دی ہیں تو یہ بندے کا حق کہلائے گا۔اسی طرح پڑوسیوں کا حق، والدین کا حق،رسول اللہ ﷺ کا حق ہوتا ہے۔

ہمارے آقا و مولیٰ، محمد مصطفٰے ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں کہ آپ وجہ تخلیق ِ کائنات ہیں جن کی عظمت و شان سب سے ارفع و اعلیٰ ہے۔یہ ہم پر اللہ پاک کا بہت بڑا احسان ہے کہ بن مانگے اپنے محبوب کی امت میں پیدا کیا جو اپنی امت پر اتنے شفیق و مہربان ہیں کہ امت کا مصیبت اور مشکل میں پڑنا ان پر گراں گزرتا ہے۔جو ہر وقت اپنی امت کی بخشش کے لئے اپنے رب کے حضور روتے رہے، التجا کرتے رہے،یا رب امتی،یا رب امتی کہتے رہے۔اعلیٰ حضرت کیا خوب لکھتے ہیں:

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا یاد اس کی اپنی عادت کیجیے

ہمارے نبی کریم ﷺ ہم پر اتنے مہربان ہیں تو ہم پر بھی ان کے کچھ حقوق ہیں جن میں سے 5 حقوق یہ ہیں:

1-نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا کہ آپ جو کچھ بھی اللہ پاک کی طرف سے لے کر آئے وہ حق اور سچ ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں اور اس پر ہر مومن کا ایمان ہے،بغیر اس کے ایمان کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳) (پ 26، الفتح: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آ گ تیار کر رکھی ہے۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ توحید کے ساتھ نبی کریمﷺ کی رسالت پر ایمان لانا بے حد ضروری ہے۔

2-نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ سے محبت کرنا یعنی آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں جو کام کیے اس کی اتباع کرنا،اس کی پیروی کرنا اور اس پر عمل کرنا۔اللہ پاک قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس لئے تو ہدایت کے چاند ستارے ہمارے پیارے صحابہ کرام قدم بہ قدم نبی کریم ﷺ کی ہر سنت کی اتباع و پیروی کیا کرتے تھے۔

3-یہ بھی امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی نبی کریم ﷺ کے حکم کو مانے، اس کو دل سے تسلیم کرے،آپ ﷺ جس بات کا حکم دیں، اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

اسی طرح قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں آپ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور احادیث میں بھی اس کا تذکرہ ہے،چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ پاک کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی۔(بخاری،2/297،حدیث:2957)

4-ہر امتی پر یہ بھی نبی کریم ﷺ کا حق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مدح و ثنا کرتا رہے،ان کے فضائل و کمالات کا خوب چرچا کرے،ان کی نعت پڑھے،نبی کریمﷺ کے اوصاف،معجزات اور فضائل کا ایسا ذکرِ خیر کریں کہ ہر منکر عاجز آجائے۔اعلیٰ حضرت کیا خوب فرماتے ہیں:

رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے

5-ہر مسلمان پر بھی یہ آقا کریم ﷺ کی حق ہے کہ وہ آپ ﷺ پر کثرت سے درود پاک پڑھتا رہےچنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ اس آیت مبارکہ میں رب کریم خود مومنو کو نبی کریم ﷺ پر درود پاک پڑھنے کا حکم دے دہا ہے۔حدیث پاک میں ہے:حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھ پر ایک مرتبہ ددرود پاک بھیجتا ہے اللہ پاک اس پر دس مرتبہ درود شریف(رحمت) بھیجتا ہے۔

درود شریف پڑھنے کے بہت سے فضائل ہیں۔اللہ پاک ہم سب کو کثرت سے درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مومنو! پڑھتے رہو تم اپنے آقا پر درود ہے فرشتوں کا وظیفہ الصلوۃ و السلام


امت مسلمہ کی یہ فضیلت اور اونچا مقام نبی کریم ﷺ کی رفعتِ شان پر دلالت کرتا ہے۔جب آپ ﷺ اس قدر عظیم و  رفیع شان و منزلت کے حامل ہیں تو اللہ پاک نے آپﷺ کے کچھ حقوق و واجبات بھی رکھے ہیں جن کی ادائیگی مسلمانوں پر فرض ہے۔لہٰذا ہر کلمہ گو پر ان حقوق و واجبات کو پہچاننا،سمجھنا اور پھر ان پر قولی و عملی اعتقاد رکھنا لازم ہے لیکن افسوس! اکثر لوگ اس بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور جن لوگوں کو ان حقوق و واجبات کی معرفت و پہچان ہے وہ بھی ان کی ادائیگی میں کوشاں نظر نہیں آتے۔

حق کی تعریف:حق کے لغوی معنی صحیح،مناسب،درست،ٹھیک،موزوں،بجا،سچ،انصاف،جائز مطالبہ یا استحقاق کے ہیں۔اس طرح حق ایک ذو معنی لفظ ہے۔ایک طرف یہ سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے تو دوسری جانب اس چیز کی طرف جسے قانوناً اور با ضابطہ طور پر ہم اپنا کہہ سکتی ہیں یا اس کی بابت اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔

1۔ حضور ﷺ پر ایمان:لفظ ایمان کے اہلِ لغت کے ہاں کئی معانی ہیں،ان میں سے ایک معنی تصدیق کرنا ہے جیسا کہ امام محمد بن احمد الہروی الازہری فرماتے ہیں:لغت والوں اور ان کے علاوہ اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایمان کا معنی تصدیق ہے۔لیکن علمائے سلف کے ہاں اس کے معنی اکیلے تصدیق کے نہیں،بلکہ تصدیق کے ساتھ ساتھ اقرار اور اس کے مطابق عمل بھی لازمی ہے۔ایمان کا لغوی معنی سکون قلب و تصدیق ہے جس کی ضد تکذیب ہے اور تیسرا معنی امن ہے جس کی ضد خوف ہے، کیونکہ انسان ایمان لے آتا ہے تو وہ امن میں آجاتا ہے اور اللہ پاک اس کو اپنی امان میں لے لیتا ہے،جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) (پ 7، الانعام:82)ترجمہ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تصدیق کی جائے کہ آپ ﷺ اللہ پاک کے بندے اور سچے رسول ہیں جن کو اللہ پاک نے تمام لوگوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں ان کی تصدیق، پیروی و اتباع کرنا واجب ہے۔

2۔اطاعتِ رسول:آپﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے،یہ اللہ کی طرف سے ہم پر لازم ہے۔اللہ نے اپنے فرامین میں ہم پر فرض کیا ہے، جیسا کہ فرمانِ باری ہے:اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کا کہا مانو او ر اپنے اعمال غارت نہ کرو۔(محمد:33)

3۔اتباعِ رسول:نبی کریم ﷺ کا ایک حق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے فرامین کو مانا جائے اور عمل کیا جائے اور اتباع کا مطلب یہ ہے کہ جو کام آپ ﷺ کریں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔فرمانِ باری ہے:کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابع داری کرو خود اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔

4۔ اختلافی امور میں نبی کریم ﷺ کی طرف رجوع:نبی کریمﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اختلافی امور میں رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کیا جائے۔انسان ہونے کے ناطے اختلاف طبع اور اختلاف فہم کی وجہ سے اعمال و افعال میں ایک دوسرے سے اختلاف رائے ہوسکتا ہے اور اس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی محفوظ و مامون نہ تھے، لیکن ایسی صورت حال میں اختلاف کا حل کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے ہاں سمجھتے تھے۔یہی سبیل المومنین ہے۔اگر اختلافی امور میں رجوع الی اللہ اور رجوع الی الرسول نہیں ہوگا تو اختلاف و تنازعات ختم کرنا خام خیالی ہے،جیسا کہ فرمانِ باری ہے: فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ(پ 5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو۔

5۔ رسولِ کریم ﷺ کی کسی معاملہ میں مخالفت نہ کی جائے:آپﷺ کے حقوق میں سے پانچواں حق یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نہ کی جائے،کیونکہ آپ ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ نے فتنہ اور عذاب الیم سے ڈرایا ہے۔فرمانِ باری ہے: فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳) (پ 18، النور: 63) ترجمہ: سنو جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔اور یہاں صرف ڈرایا نہیں بلکہ فی الواقع ایسا ہوا ہے کہ آپ ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کو اسی دنیا میں اللہ پاک نے کسی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا کردیا۔


اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کو ساری مخلوق کی طرف مبعوث فرمایا اور ظاہر و کھلے معجزات کے ذریعے ان کی تائید فرمائی۔آپ ﷺ نے پل صراط،میزان،حوض وغیرہ امور آخرت نیز برزخ،نکیرین کے سوالات اور قبر کے ثوابات و عذابات  وغیرہ کے متعلق جو بھی خبریں دیں وہ ان سب میں سچے ہیں۔قرآنِ پاک اور تمام آسمانی کتب حق ہیں۔تمام انبیا ومرسلین علیہم السلام حق ہیں۔جنت و دوزخ حق ہیں اور ان سے متعلق جو کچھ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے بتایا وہ سب حق ہے۔(مختصر منہاج العابدین،ص17)

حق کی تعریف:حق کا مطلب ہوتاہے کہ ایسی ذمہ داری جو اللہ پاک کی طرف سے ایک ذات پر کسی دوسری ذات کے مقابلے میں لازم کی گئی۔اگر وہ ذات خود اللہ کی ہے، اس نے اپنی ذات کے پیشِ نظر ہم پہ ذمہ داری کچھ رکھی ہے وہ حق اللہ ہے جیسے نماز پڑھے،روزہ رکھے،زکوٰۃ دے،گناہ نہ کرے تو یہ حق اللہ کہلائے گا،اور اگر کسی بندے کو ملحوظ رکھتےہوئے اللہ پاک نے اس کے مقابلے میں ہمیں ذمہ داری دی ہے وہ اس بندے کا حق کہلائے گا۔بندے کے سلسلے میں شوہر کی ذمہ داریاں تو ہیں اس کا حق،اگر شوہر کو پیش نظر رکھ کر بیوی پر ذمہ داری رکھی تو بیوی کا حق ہے۔ایسے ہی پڑوسی کا حق،ایسے ہی افسر و حاکم، ماتحت،عالمِ دین کا حق۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ مجھ پر فلاں شخص کے مقابلے میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے،تبھی میں تعین حق کرسکوں گا اور جب حق کی تعیین ہو اس کو ادا بھی کرسکتا ہے اور اگر میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے پر میرے پیش نظر کچھ چیزیں ذمہ داری کے طور پر لازم کی گئی ہیں تو اس کا مطالبہ بھی کرسکتا ہوں۔

امت پر حقوق ِ مصطفے:حضور اقدسﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور ان کی صلاح و فلاح کے لئے جیسی تکالیف برداشت فرمائیں اور اس راہ میں آپ کو کئی مشکلات درپیش ہوئیں، پھر آپ کو اپنی امت سے جو بے پناہ محبت اور اس کی نجات و مغفرت کی فکر اور ایک ایک امتی پر آپ کی شفقت و محبت کی جو کیفیت ہے اس پر قرآن میں خداوند قدوس کا فرمان گواہ ہے،چنانچہ سورۂ توبہ میں ہے: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ11،التوبۃ:128)ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لئے دربار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ظاہر ہے کہ حضور سرور انبیا ﷺ نے اپنی امت کے لئے جو جو مشقتیں اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر حضور ﷺ کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر فرض ہے۔اس کا خلاصہ تحریر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل پانچ حقوق کا ذکر کرتے ہیں:

1-ایمان بالرسول:حضور اقدسﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ ﷺ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں صدقِ دل سے اس کو سچا ماننا ہر ہر امتی پر فرضِ عین ہے اور ہر مومن کا اس پر ایمان ہے کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہوئے ہرگز ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ قرآنِ پاک کی سورہ فتح میں خداوند عالم کا فرمان ہے: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایاتو یقیناً ہم نے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

اس آیت نے نہایت وضاحت و صفائی کے ساتھ یہ فیصلہ کردیا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگرچہ خدا کی توحید کا عمر بھر ڈنکا بجاتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے،اس لئے اسلام کا بنیادی کلمہ یعنی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے یعنی مسلمان ہونے کے لئے خدا کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔

2-اتباعِ سنتِ رسول:رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور آپ کی سنت مقدسہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔رب کریم کا سورۂ اٰل عمران میں فرمان ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اسی لئے آسمان امت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند ستارے،اللہ اور رسول ﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی ہر سنت کریمہ کی اتباع اور پیروی کو اپنی زندگی کے ہر قدم قدم پر اپنے لئے لازم الایمان اور واجب العمل سمجھتے تھے اور بال برابر بھی کبھی کسی معاملہ میں بھی اپنے پیارے آقا ﷺ کی مقدس سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کرسکتے تھے۔

اطاعتِ رسول اللہﷺ:یہ بھی ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے ہر حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دے دیں بال کے کروڑویں حصے کے برابر بھی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہ کرے کیونکہ آپ کی اطاعت اور آپ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کردینا ہر امتی پر فرضِ عین ہے۔قرآنِ پاک کی سورۂ نساء میں ارشاد خداوندی ہے: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5،النساء:59)ترجمہ کنز الایمان:حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ اسی سورت میں ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ قرآن پاک کی یہ مقدس آیات اعلان کر رہی ہیں کہ اطاعت رسول کے بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور اطاعت رسول کرنے والوں ہی کے لئے ایسے ایسے بلند درجات ہیں کہ وہ حضرات انبیائے کرام،صدیقین،شہدا اور صالحین کے ساتھ رہیں گے۔

4-درود شریف:ہر مسلمان کو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود شریف پڑھتا رہے۔فرمانِ باری ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ 22، الاحزاب: 56) ترجمہ کنز الایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

5-تعظیم رسول:امت پر حضور ﷺ کے حقوق میں سے ایک نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرضِ عین ہے کہ حضور ﷺ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ان کا ادب و احترام کرے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے۔اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔


نبی پاکﷺ کے ہم پر بہت سے حقوق ہیں جن کا ادا کرنا امت مسلمہ پر فرض و واجب ہے۔حضور اقدس ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت و اصلاح اور ان کی صلاح و فلاح کے لئے جیسی تکلیفیں برداشت فرمائیں اور اس راہ میں آپ کو جو جو مشکلات درپیش  ہوئیں آپ ﷺ نے ان کو برداشت کیا ان کا تقاضا ہے کہ ہم پر نبی کریم ﷺ کے حقوق ہیں جن کو پورا کرنا ہم پر لازم ہے، ان میں سے5 درج ذیل ہیں:

اتباعِ سنتِ رسول:حضور اقدسﷺ کی سیرت مبارکہ، آپ کی سنت مقدسہ کی اتباع و پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے،جیسا کہ اتباع سنت کے متعلق اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) (پ 3،اٰل عمران: 31)ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اللہ و رسول ﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی ہر سنت کریمہ کی اتباع اور پیروی کو اپنی زندگی میں ہر دم قدم پر اپنے لئےلازم الایمان اور واجب العمل سمجھتے تھے اور بال برابر بھی کبھی کسی معاملے میں بھی اپنے پیارے رسول ﷺ کی مقدس سنتوں سے انحراف یا ترک گوارانہیں کرسکتے تھے۔

تعظیمِ رسول:امت پر حضور ﷺ کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر فرضِ عین ہے کہ حضور ﷺ اور آپ سے نسبت وتعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور ان کا ادب و احترام کرے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کرے، جیسا کہ تعظیم رسول کے متعلق اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ 26، الفتح: 8- 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

قبرِ انور کی زیارت:حضور اقدسﷺ کے روضہ مقدسہ کی زیارت سنتِ موکدہ قریب بواجب ہے۔اس کے متعلق اللہ پاک کا قول ہے:اور اگر یہ لوگ جس وقت کہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور آپ کے پاس آجاتے اور خدا سے بخشش مانگتے او ررسول ان کے لئے بخشش کی دعا فرماتے تو یہ لوگ خدا کو بہت زیادہ بخشنے والا مہربان پاتے۔

یہ حکم حضور ﷺ کی ظاہری دنیوی حیات ہی تک محدود نہیں بلکہ روضہ اقدس میں حاضری بھی یقیناً دربارِ رسول میں حاضری ہے۔اسی لئے علمائےکرام نے تصریح فرمادی ہے کہ حضور ﷺ کے دربار کا یہ فیض آپ کی وفات اقدس سے منقطع نہیں ہوا۔

محبتِ رسول:اسی طرح ہر امتی پر حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت کے قدموں پر قربان کردے،جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ،اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز سے بڑھ کر نبی ﷺ سے محبت کرنی چاہئے۔

اطاعتِ رسول:ہر امتی پر رسولِ خدا ﷺ کا حق ہے کہ ہر امتی ہر حال میں آپ کے حکم کی اطاعت کرے اور آپ جس بات کا حکم دیں اس کو بجالائے اور جس بات سے منع کریں اس سے رکا رہے۔اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النساء: 80) ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ قرآن کی یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ اطاعتِ رسول کے بغیر اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا،اس لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک کے رسول کا حکم مانیں۔اللہ پاک حقوق الرسول کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین