آصف
شوکت علی( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی ،لاہور،پاکستان)
(1)
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ
یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں
پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین
میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ ( پارہ 2،سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر
27)
(2) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ ( پارہ 2 ،سورۃ
البقرۃ ، آیت نمبر 11،12)
(3) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمہ کنز
الایمان: اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے
شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔( پارہ 7،سورۃالاعر اف ، آیت نمبر
56 )
(4) وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ
الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور
جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا
حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (پارہ 13 ، سورۃالرعد، آیت نمبر 25
)
(5) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے
ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (پارہ 20
،سورۃ القصص، آیت نمبر 83 )
عبد
الباسط عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
پرامن دین ہے جو تمام مسلمانوں کو بھلائی عدل انصاف اور اخوت اور بھائی چارے کا
درس دیتا ہے اور فساد فی الارض سے منع کرتا ہے ۔فساد فی الارض سے مراد زمین میں
فساد یعنی بگاڑ پیدا کرنا ،ظلم، قتل و غارت کرنا ،ناانصافی، دھوکہ بازی اور دیگر
خرابیوں کو پھیلانا ہے جسے قرآن مجید میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ عزوجل نے
قرآن پاک میں کئی مقامات پر آیات نازل فرما کر اس سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا
ہے۔
اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ ،آیت نمبر 11 ، 12 )
لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ
سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ
حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ (صراط الجنان جلداول،ص76،77)
فساد فی الارض کے بارے میں مزید اللہ
تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ
اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ
لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنز العرفان:اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے
کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر
اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔اور جب پیٹھ پھیرکر
جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور
اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃالبقرۃ:آیت نمبر 204،205)
مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ: جس کی گفتگو تجھے اچھی لگتی ہے۔
شانِ نزول: یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید
المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو
کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا
اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک
کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی
گئی ہیں وہ یہ ہیں :
(1)ظاہری
طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا (2)اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا (3)جھگڑالو
ہونا (4) فساد پھیلانا، (5)لوگوں کے اموال برباد کرنا (6)نصیحت کی بات سن کر قبول
کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔
یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا
تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں
بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی
عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں
میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ (تفسیرِ صراط
الجنان،جلداول،ص322،323)
فساد فی
الارض کی مذمت کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ
بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ
یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷) ترجمۂ
کنزالعرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز
کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو
یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت نمبر 27)
اس آیت سے
بھی فساد فی الارض کی مذمت ثابت ہوتی کہ وہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں اس طرح کہ
اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے گے اوران اللّہ تعالیٰ کی رحمت ان لوگوں سے دور
ہو جائے گی اور اللّہ تعالیٰ کےفضل سے محرومی کا بھی سبب بنے گے اور آخرت میں انکا
انجام کیا ہوگا ۔
ایک اور
جگہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ
کنز العرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو
ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (سورۃ
الاعراف:آیت نمبر 56)
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم
کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (تفسیرِ صراط الجنان،
جلد،3،ص،343۔344)
اللہ پاک
ارشاد فرمایا:وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک
دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ
الانفال،آیت نمبر73 )
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ:اور کافر
ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت
میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان
آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ
بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ
اور بڑا فساد برپا ہو گا۔اس آیت کی حقانیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں
کو آپس کے عدمِ اتحاد پر فرمایا گیا تھا کہ اس سے فتنہ اورفسادِ کبیر ہوگا اور اب
ہر کو ئی دیکھ سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کے خلاف فتنہ اورفسادِ کبیر ہے یا نہیں اور
اس کی وجہ بھی مسلمانوں کا عدمِ اتحاد ہے یا نہیں ؟
مسلمانوں میں باہمی تعاون اور مدد کی
ضرورت: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کی دوستی اور
ان کاوارث بننے سے منع کیا ہے، ان سے جدا رہنے، مسلمانوں کو آپس میں میل جول
رکھنے اور ایک دوسرے کامعاون و مددگار بن کر مضبوط طاقت بننے کا حکم دیا ہے ۔ لیکن
افسوس! فی زمانہ ایک گھر سے لے کر عالمی سطح تک ا س معاملے میں مسلمانوں کا حال اس
کے الٹ ہی نظر آ رہا ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں اپنے ہی بہن بھائیوں کے ساتھ میل
جول رکھنے، مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک
ہونے سے بیزار ہو چکے ہیں اور یہی حال پڑوسیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ہے، اسی
طرح ایک علاقے کے مسلمان دوسرے علاقے کے مسلمانوں سے ، ایک شہر کے مسلمان دوسرے
شہر کے مسلمانوں سے، ایک ملک کے مسلمان دوسرے ملک کے مسلمانوں سے باہمی الفت و
محبت اور تعاون و مدد کو تیار نہیں بلکہ عمومی طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ
مسلمانوں کی بجائے کفار سے بہر صورت دوستی کرنا چاہتے ہیں اور ہر طرح کی قربانی دے
کر ان سے بنائی ہوئی دوستی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی کافر ملک کی کسی
مسلم ملک کے ساتھ جنگ شروع ہوجائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ تعاون کرنے اورکفار
کے خلاف ان کی مدد کرنے کی بجائے کافروں کا ساتھ دیتے ہیں اور مسلمان بھائیوں کو
تباہ وبرباد کرنے میں کافروں کو ہر طرح کی مدد دیتے اور ان کی تھپکیاں حاصل کرنے کی
کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی اپنی حکمرانی قائم رہے اور ان کی عیش و مستی میں کوئی کمی
نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور اپنے دین و مذہب
کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اوران کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین۔(تفسیرِ صراط الجنان،جلد4،ص،52،53)
زمین پر
فساد مچانا یعنی ایسے کام یا بات کرنا جو لوگوں کے عقائد معاملات اور دین کی خرابی
کا سبب بنے ایسے لوگ خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔زمین
میں فساد مچانا پچھلی امتوں کا طرز عمل تھا جن کے سبب الله تعالیٰ کا ان پر غضب
ہوا اور وہ ہلاکت میں پڑے جیساکہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے بارے میں الله
کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی
الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ
فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:مدین کی طرف اُن کے ہم قوم
شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید
رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔تو انھوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنھیں زلزلے
نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔(العنکبوت:36،37)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِلٰى
مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا: مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو
بھیجا۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو یاد کریں جنہیں ہم نے ان کے ہم قوم مَدیَن والوں
کی طرف رسول بناکر بھیجا تو انہوں نے دین کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری
قوم! صرف الله تعالیٰ کی بندگی کرو اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہوئے ایسے افعال بجا
لاؤ جو آخرت میں ثواب ملنے اور عذاب سے نجات حاصل ہونے کا باعث ہوں اور تم
ناپ تول میں کمی کر کے مدین کی سر زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،تو
ان لوگوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے
فساد سے باز نہ آئے تو انہیں زلزلے کی صورت میں الله تعالیٰ کے عذاب
نے آلیا یہاں تک کہ ان کے گھر ان کے اوپر گر گئے اور صبح تک ان کا حال یہ ہو
گیا کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردے بے جان پڑے رہ
گئے۔( روح البیان،العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶۳۷، ۶ / ۴۶۸، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶۳۷، ص۳۳۸،
ملتقطاً)
فساد کو
اصلاح کا نام دینا منافقین کا طرز عمل ہے جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)
تفسیر صراط الجنان:لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
ہمارے زمانےکے فساد مچانے والے لوگ: منافقوں
کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں
اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے
نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی
کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب
و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا
انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔الله
کریم سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے جو فساد کا
سبب بنے آمین۔
اسلام ایک
پُرامن اور متوازن معاشرے کی تعلیم دیتا ہے، جہاں عدل، انصاف اور بھائی چارہ قائم
ہو اس کے برعکس فساد فی الارض(زمین میں فساد کرنے سے ) بگاڑ، ظلم، ناانصافی اور
بدامنی پھیلتی ہے فساد کے جہاں بہت سے نقصان ہیں وہاں یہ بھی ہے کہ فسادکی وجہ سے
بندہ اللہ کی محبت و رضا سے محروم ہو جاتا ہے چنانچہ فرمایا :
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ قصص
آیت نمبر 77)
فساد کی
مذمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے فساد کرنا تو دور
فساد کے ارادے سے منع فرمایا اور آخرت کا گھر بھی اسی کے لئے رکھا جو فساد کے
ارادے سےبھی باز رہا چنانچہ فرمایا :
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں
چاہتے۔ (سورۃ قصص ،آیت نمبر 83)
اسی طرح
اللہ تعالی فساد کرنے والے کے اعمال کی اصلاح نہیں فرماتا جبکہ ایک سچا مسلمان
اللہ تعالی سے اعمال کی اصلاح کا سوال لازمی کرتا ہے تاکہ وہ آخرت میں کامیاب ہو
اللہ تعالی نے کلام پاک میں فرمایا:
-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ
الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)
ترجمہ
کنزالایمان : اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔ (سورۃ یونس
،آیت نمبر 81)
محترم
قارئین کرام فساد کرنے والا اللہ تعالی کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت کے ابدی
گھر سے بھی محروم ہو جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالی نے کلام پاک میں فرمایا:
وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ
اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ
کنزالعرفان: اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی
ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃ رعد آیت نمبر 25)
جو لوگ
سوچی سمجھی سازش کے تحت زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، معاشرے کا امن تباہ کرتے ہیں اور
دہشت پھیلاتے ہیں، اسلام نے ان کے لیے سخت ترین دنیاوی سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ
معاشرہ ان کے شر سے محفوظ رہے حتی کہ ان کو جلا وطن کرنے کا حکم بھی فرمایا ۔
چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا :
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول
سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں
خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف
کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔
(سورۃا لمائدۃآیت نمبر 33)
فساد سے
جہاں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے وہیں بندہ ساری انسانیت کا گناہ بھی اپنے ذمے
لے لیتا ہے چنانچہ جو فساد کرنے کے لیے کسی انسان کو قتل کر دے تو گویا کہ اس نے
ساری انسانیت کا قتل کیا اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا
قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ
کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین
میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔ (سورۃالمائدۃ:32)
محترم
قارئین کرام المختصر یہ کہ فساد کے دنیا و آخرت میں بہت نقصانات ہیں اللہ تعالی ہمیں
فساد فی الارض سے بچا کر اپنی رضاوالی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
محمد
حسان عطاری(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ نيو سول لائن ،فیصل آباد،پاکستان)
اللہ عزوجل نے انسانوں کو زمین میں
عدل و انصاف پھیلانے اور فساد نہ کرنے کا حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلانے کو
قرآن کریم میں ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے بار بار اس کی وعیدیں بیان کی ہیں۔
فساد فی الارض سے مراد صرف لڑائی جھگڑا کرنا یا قتل کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد ہر
وہ چیز ہے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے چاہے وہ بگاڑ ظلم و زیادتی کے ذریعے ہو یا
دھوکہ، خیانت، جھوٹ اور رشوت کے ذریعے ہو۔ فساد فی الارض اس قدر مذموم ہے کہ جب
اللہ عزوجل نے زمین میں انسان کو اپنا خلیفہ بنانے کی بات فرشتوں کو بتائی تو
فرشتوں نے سب سے پہلے انسانوں کے زمین میں فساد پھیلانے کا خدشہ ظاہر کیا چنانچہ ارشاد
فرمایا:
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ
جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ
فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین
میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد
پھیلائے اور خونریزیاں کرے ۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 30)
اس کے
علاوہ زمین میں فساد پھیلانے کی مذمت کے بارے میں اور کئی آیات آئی ہیں ان میں سے
چند ملاحظہ کیجئے:
(1) فساد نہ پھیلانے کا حکم: اللہ
عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ ( سورۃ البقرۃ، آیت 11)
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ :منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
(2) اللہ عزوجل کی ناراضگی کا سبب: اللہ
عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ
فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ
آیت نمبر 205 )
یہاں آیت
مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے
کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی
ہے، گفتگو بڑی نرم ہے لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں فساد برپا کرتے
ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
(3)اصلاح کے بعد فساد کی ممانعت: اللہ
تعالیٰ نےارشاد فرمایا:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا .... الآیۃ
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃ الاعراف
آیت نمبر 56)
یعنی اے
لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم
و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
(4)فساد پھیلانے کی سزا: زمین میں
فساد پھیلانے کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز
الایمان: وہ کہ اللہ
اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن
گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف
کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے
اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 33 )
ہمیں چاہیے
کہ ہم ہر اس کام سے بچیں جس سے ہمیں منع کیا گیا اور اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ
اللہ عزوجل ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔
قرآن کریم
میں "فساد فی الارض" (زمین میں بگاڑ پیدا کرنا) کو انسانیت کے خلاف بدترین
عمل قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو عدل، توازن اور امن قائم کرنے کا حکم
دیا گیا ہے، اور جو لوگ خلاف ورزی کرتے ہیں، قرآن ان کی سخت مذمت کرتا ہے۔
ذیل میں قرآن مجید کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت کے چند اہم پہلو بیان
کیے گئے ہیں:
(1) فساد کی تعریف اور ممانعت:اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر اصلاح کے بعد بگاڑ پیدا کرنے سے منع
فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ
خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(الاعراف:56)
(2)مفسدین کا جھوٹا دعویٰ (اصلاح کا
لبادہ):قرآن کریم منافقین اور
مفسدین کی ایک بڑی نشانی یہ بتاتا ہے کہ وہ فساد پھیلاتے ہوئے خود کو
"مصلح" (اصلاح کرنے والا) ظاہر کرتے ہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ ( البقرۃ:
11،12)
(3)فساد فی الارض کی مختلف صورتیں:قرآن نے کئی اعمال کو فساد سے تعبیر کیا ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی
الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا
فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا
بِالْبَیِّنٰتِ٘-ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ
لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ
دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے
سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا
اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے
بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ: 32)
قرآن کریم
کی رو سے "فساد" صرف لڑائی جھگڑے کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ عمل جو عدل و
انصاف، امن، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے خلاف ہو، وہ فساد ہے۔ ایک مومن کی ذمہ
داری ہے کہ وہ زمین پر "مصلح" بن کر رہے اور ہر قسم کے بگاڑ کو روکنے کی
کوشش کرے۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ ۔
دنیا میں
امن، سکون اور بھلائی کا قیام اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے جبکہ ظلم، فساد اور
بگاڑ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں بار بار (زمین میں
فساد پھیلانے) کی سخت مذمت بیان فرمائی گئی ہے تاکہ انسان اس سنگین گناہ سے بچ
سکے۔
فساد فی الارض کیا ہے:فساد سے
مراد ہر وہ عمل ہے جو معاشرے کے امن کو تباہ کرے، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت،
جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی اور دین سے دوری۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔ (پارہ 8،
سورۃ الاعراف: 56)
ایک اور
مقام پر ارشاد فرمایا: ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (پارہ 1،
سورۃ البقرۃ: 11،12)
اسی طرح
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان:
اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 64)
ان آیات
سے واضح ہوتا ہے کہ فساد کرنا نہ صرف ایک برا عمل ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی
کا سبب بھی ہے۔
حضور نبی
کریم ﷺ نے بھی فساد اور ظلم سے سختی کے ساتھ منع فرمایا:
ظلم اور فساد سے بچنے کی تاکید:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔(صحیح بخاری،
کتاب المظالم، حدیث: 2447)(صحیح مسلم، کتاب البر، حدیث: 2578)
مسلمان کو نقصان پہنچانا فساد ہے:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح
بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 10)(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 40)
فساد کے نقصانات:فساد فی
الارض کے کئی نقصانات ہیں:معاشرے میں بدامنی اور خوف پیدا ہوتا ہے،لوگوں کے حقوق
پامال ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہوتی ہے،آخرت میں سخت عذاب کا خطرہ
ہوتا ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کا اسلامی طریقہ:اسلام ہمیں
فساد سے بچنے اور اصلاح کرنے کی تعلیم دیتا ہے:عدل و انصاف قائم کریں،سچائی اور
امانت داری اختیار کریں لوگوں کے حقوق ادا کریں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں
۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور امن و بھلائی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو ایسا بنائیں کہ معاشرہ ہمارے ذریعے سنورے نہ کہ بگڑے۔اللہ
ہمیں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
فساد فی
الارض ایک ایسا موضوع ہے جو بہت زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ جو چیز زمین کے نظام کو حد
اعتدال سے خارج کر دے یعنی معتدل نہ رہنے دے وہ فساد فی الارض کا سبب ہے اور نظام
کا اس سبب سے خراب ہونا فساد فی الارض کہلاتا ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ اللہ
تبارک و تعالی کی وحدانیت، اس کی عبادت، اس کی اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم کی فرمانبرداری، اور ان کے احکامات کی بجا آوری ہی میں اپنا اور دوسروں کا
فائدہ ہے۔ جب کہ اس کے برعکس وحدانیت کا انکار اور اللہ اور رسول کے احکامات سے
روگردانی زمین میں فساد کا منبع ہے۔ فساد فی الارض کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جیسے
مثال کے طور پر کفر ، گناہ ، عقیدے اور اعمال میں بگاڑ ، لڑائی جھگڑے ، اسراف ،
جادو وغیرہ۔ قرآن کریم میں اس تعبیر کا استعمال جا بجا متعدد اسالیب کے ساتھ ہوا
ہے۔ اور ہر مقام پر مفسرین نے سیاق و سباق کے لحاظ سے اس کے الگ الگ معنی بیان کیے
ہیں۔ چلیے اب فساد فی الارض کی کچھ مثالیں ہم قرآن پاک سے ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1) مسلمانوں کا آپس میں تعاون نہ
کرنا فساد ہے:
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ(۷۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے
وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ
انفال، آیت نمبر 73)
اس آیت
کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور
ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں
اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور
ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔
) 2)منافقت کرنا فساد ہے:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا
نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں
فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد
پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر
11،12)
(3)جادو کرنا فساد ہے:وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ
عَلِیْمٍ(۷۹) فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ
اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ(۸۰) فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ
بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ
الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱) وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ
الْمُجْرِمُوْنَ۠(۸۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور فرعو ن نے کہا: ہر علم والے
جادوگر کو میرے پاس لے آؤ۔پھر جب جادوگر آگئے توان سے موسیٰ نے کہا: ڈال دو جو تم
ڈالنے والے ہو ۔پھر جب انہوں نے ڈال دیا توموسیٰ نے کہا: جو تم لائے ہو یہ جادو
ہے۔ بیشک اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ فساد والوں کے کام کو نہیں سنوارتا۔اور
اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو حق کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔ (سورۃ یونس،
آیت79تا82)
(4)عقیدے کی خرابی فساد ہے:عقیدے کی
خرابی فساد کی سب سے بدترین قسم ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ
سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (سورۃ
نحل،آیت نمبر 88)
من جملہ یہ
کہ اسلام نے نہ صرف فسادات کی تعیین کی بلکہ ان کے سد باب کے لیے حدود و قیود بھی
نافذ کر دیں۔ اور ان حدود و قیود کو عبور کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر کیں تاکہ
زمین میں فساد سے بچا جا سکے۔ جیسے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، قتل کی سزا قصاص، زنا
کی سزا کوڑے اور رجم مقرر کی۔ اور یہ بھی اسلام کے کامل و اکمل دین ہونے کی دلیل
ہے۔
قرآن کریم
نے "فساد فی الارض" کو انسانیت کے خلاف سب سے بڑے جرائم میں شمار کیا
ہے۔ یہ صرف قتل و غارت نہیں بلکہ ہر وہ عمل ہے جو اللہ کے قائم کردہ توازن کو بگاڑ
دے۔قرآن میں فساد کی مذمت کے چند واضح مقامات:
اصلاح کے بعد بگاڑ سے منع :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو۔ (الاعراف 56)
اللہ نے انبیاء اور شریعت کے ذریعے زمین کی
اصلاح کی۔ اب اس نظام کو توڑنا دوہرا جرم ہے۔
اللہ کی ناپسندیدگی :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان : بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ۔(القصص 77)
یہ جملہ قرآن میں بار بار آیا ہے۔
فساد کی سزا :اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ
یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں۔ (المائدۃ:
33)
یہ آیت ڈاکہ، دہشت گردی، اور ریاستی نظام تباہ
کرنے والوں کے لیے نازل ہوئی۔
فرعون بطور مثال :اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا
یَّسْتَضْعِفُ طَآىٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۴)
ترجمہ کنز الایمان : بےشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا اور اس(زمین) کے
لوگوں کو اپنا تابع بنا لیا ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا اُن کے بیٹوں کو ذبح
کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتابےشک وہ فسادی تھا ۔ (القصص: 4)
آپ نے
بالکل درست کہا: فساد روکنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ
اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (اٰل عمران:110)
اصلاح کا
آغاز "اپنے" سے ہوتا ہے۔ جب ہر شخص اپنے دائرے میں عدل، امانت اور توازن
قائم کر لے تو پوری زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ یعنی خشکی اور تری میں فساد لوگوں
کے اپنے اعمال سے پھیلا ہے۔
اسلام میں
فساد فی الارض کا مفہوم اخلاقی بگاڑ تک محدودنہیں بلکہ یہ سماجی، اقتصادی، سیاسی
اور ماحولیاتی سطح پر برائی اور ظلم کے تمام ابواب کو شامل ہے۔ قرآن مجید میں فساد
کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں
سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
قرآن میں
فساد فی الارض کی مذمت کئی مقامات پر آئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ
لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا
جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی
ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ:11،12)
یہاں قرآن
نے واضح کیا کہ بعض لوگ اپنی نیت کو درست ظاہر کرتے ہیں، مگر عمل میں فساد کرتے ہیں۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے بیشک اللہ کی رحمت نیکوں
سے قریب ہے۔(الاعراف:56)
فساد کا
ارتکاب اللہ کی ناراضی کا سبب ہے، چاہے وہ معاشرتی یا ذاتی سطح پر ہو۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ (۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں
ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ
چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔(سورۃ الروم :41)
فساد
انسانی کردار اور معاشرتی برائیوں کا نتیجہ ہے اور اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ کے
طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
فساد کی اقسام اور مثالیں:معاشرتی
فساد: جھوٹ، دھوکہ، زیادتی، ظلم،معاشی فساد: رشوت، جعلسازی، احتکار، سیاسی فساد: ناانصافی،
حکومتی ظلم، بدانتظامی،ماحولیاتی
فساد: درخت کا بے جا کاٹنا، آلودگی،قرآن اور حدیث میں ان سب کی مذمت کی گئی ہے اور
اصلاح کی ہدایت دی گئی ہے۔اسلام میں زمین میں فساد کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے
نہ صرف ایک اخلاقی جرم بلکہ سماجی برائی اور انسانی فلاح کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث اور علماء کی آراء کے مطابق:فساد کو
چھوٹا نہیں لینا چاہیے، چاہے وہ ذاتی یا اجتماعی ہو۔اصلاح کرنا ہر مسلمان کی ذمہ
داری ہے۔اللہ کی زمین میں فساد کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
محمد
عفان عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃالمدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی، پاکستان)
قرآنِ مجید
انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں نیکی، عدل اور اصلاح کا حکم دیا گیا
ہے، وہیں فساد فی الارض کی سخت مذمت بھی کی گئی ہے۔"فساد فی الارض" سے
مراد زمین میں بگاڑ پیدا کرنا، ظلم، ناانصافی، بدامنی، قتل و غارت، اور معاشرتی
نظام کو خراب کرنا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ
وہ زمین میں فساد نہ پھیلائے، کیونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ کنز
الایمان: اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے
شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃ الاعراف، 56)
اس آیت میں واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ جب اللہ نے زمین کو ایک متوازن
نظام کے تحت بنایا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اس نظام کو خراب نہ کرے۔ مگر افسوس
کہ انسان اپنی خواہشات، لالچ اور خود غرضی کی وجہ سے فساد کا سبب بنتا ہے۔
قرآن میں
فساد کرنے والوں کی ایک اور پہچان بیان کی گئی ہے: ترجمہ
کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، 11،12)
یہ آیت منافقین کے کردار کو ظاہر کرتی ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھا ظاہر
کرتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ظلم، دھوکہ دہی اور ناانصافی
کو ترقی یا اصلاح کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ معاشرے کو تباہ کر رہے
ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فساد کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ کنزالایمان
: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین
میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس
نے گویا سب لوگوں کو جلالیا ۔(سورۃ المائدۃ،32)
یہ آیت انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ فساد فی
الارض کتنا بڑا جرم ہے۔ ناحق قتل، دہشت گردی، اور ظلم سب اسی فساد کی شکلیں ہیں جن
سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔
اسی طرح قرآن میں آیا ہے: ترجمۂ
کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں
تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 205)
یہاں فساد کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے، جیسے ماحول کو نقصان
پہنچانا، معیشت کو تباہ کرنا، اور نسلوں کو خراب کرنا۔ آج کے دور میں ماحولیاتی
آلودگی، کرپشن، اور اخلاقی بگاڑ بھی اسی فساد کی جدید شکلیں ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فساد کرنے والوں کے انجام سے بھی آگاہ کیا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو
دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص 77)
یہ ایک واضح تنبیہ ہے کہ فساد کرنے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دنیا میں بھی وہ بدنامی اور بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں سخت عذاب کے
مستحق بنتے ہیں۔
اسلام ہمیں امن، عدل اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری
ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم
اپنے معاشرے میں سچائی، انصاف، اور محبت کو فروغ دیں تاکہ زمین پر امن قائم ہو
سکے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ فساد فی الارض صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری
انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے اعمال کو درست
کریں تو ہم ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد
سے بچنے اور اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قرآنِ مجید انسانیت کی رہنمائی کے
لیے نازل کیا گیا ہے اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو امن، عدل اور بھلائی کی تعلیم
دیتا ہے۔ انہی تعلیمات میں ایک اہم پہلو"فساد فی الارض" کی سخت مذمت ہے،
کیونکہ فساد معاشرتی تباہی، ناانصافی اور بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے
ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ
الاعراف: 56)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین
کو ایک متوازن نظام کے ساتھ پیدا کیا ہے اور انسان کو اس کا محافظ بنایا ہے۔
قرآنِ کریم
میں فساد پھیلانے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی چنانچہ:
اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ
لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنزالعرفان: سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے
والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ: 12)
اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اعمال کو درست سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سراسر بگاڑ ہوتے
ہیں۔
مزید
ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ
القصص: 77)
قرآن میں
فساد کی ایک سنگین شکل "قتل ناحق" کو قرار دیا گیا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ
فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-
ترجمہ کنز
العرفان: جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص
کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(سورۃ المائدۃ: 32)
اسی طرح
معاشی بدعنوانی، ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا بھی فساد کی صورتیں ہیں۔
لہذا حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ اس کی واضح مثال ہےجوسورۃ ہود کی آیت نمبر 84،85
میں موجود ہے۔قرآنِ مجید نہ صرف فساد کی مذمت کرتا ہے بلکہ اصلاح کی ترغیب بھی دیتا
ہے۔ ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں امن، انصاف اور بھلائی کو فروغ دے اور ہر
اس عمل سے بچے جو بگاڑ اور فتنہ کا سبب بنے۔"فساد فی الارض" قرآن کی نظر
میں ایک سنگین جرم ہے جس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ
انسان اللہ کے احکامات پر عمل کرے اور ایک پرامن و صالح معاشرے کے قیام میں اپنا
کردار ادا کرے۔
Dawateislami