دین اسلام انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے اسلام انسان کو اچھی عادتیں اپنانے اور بری عادتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور انہی بری عادتوں میں ایک فساد فی الارض بھی ہے قرآن پاک میں مختلف مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت بیان کی گئی ہے اور قرآن پاک اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ان میں سے

کچھ درج ذیل ہیں‏:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ ( پارہ1، سورۃالبقرۃ، آیت نمبر 11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (پارہ نمبر 6 ،سورۃالمائدۃ، آیت نمبر 33)

اسلامی سزاؤں کی حکمت: اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔


فساد فی الارض ایک ایسا جرم ہے جس کی مذمت قرآن مجید میں بہت زیادہ کی گئی ہے یہ جرم نہ صرف انسانوں کے لیے تباہی کا باعث ہے بلکہ یہ اللہ کی نظر میں بھی بہت بڑا گناہ ہے اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کو ایک بڑا جرم قرار دیا ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت بتائی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فساد فی الارض کرنے والے لوگ دنیا اور آخرت میں خسارہ اٹھائیں گے۔ یہ جرم انسانوں کے لیے تباہی کا باعث ہے اور اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچائے اور ہمیں صالحین میں شامل فرمائے  اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔(القصص:83)

تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں  کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں  امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں  کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں  گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔ حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں  تم لوگوں  کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتّٰی کہ تم میں  سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث: ۶۴)


اللہ نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تاکہ وہ عدل و امن قائم کرے۔ جب انسان اللہ کے نظام کو چھوڑ کر ظلم، قتل، اور گناہوں کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ فساد فی الارض کہلاتا ہے۔قرآن نے اسے اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا ہے اور اس کی سزا دنیا و آخرت میں سخت رکھی ہے۔ تمام انبیاء نے اپنی قوموں کو حکم دیا: وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۷۴)

ترجمہ کنز لایمان: اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔(الاعراف:74)

آج قتل و غارت، رشوت، اور ظلم کی شکل میں یہ فساد عام ہے۔ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم مفسد بننے کے بجائے مصلح بنیں اور اللہ کے حکم :وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا پر عمل کریں۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(المائدۃ:33)

جو لوگ اللہ رسول سے جنگ کرتے ہیں ، اللہ تعالی کے بندوں اور اس کے دوستوں کو ستاتے ڈراتے ہیں ،اسی طرح اللہ کی زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں راستے بند کرتے ہیں ڈکیتی پر کمربستہ رہتے ہیں۔ ان کی سزا یہ ہے کہ اگر وہ صرف قتل کریں مال نہ لوٹیں تو ان سب کوضرور قتل کر دیا جائے کسی طرح معافی نہ دی جائے اور اگر قتل بھی کریں مال بھی لوٹیں تو ان کو سولی پر لٹکا دیا جاوے ۔اس طرح کہ ان زندہ کو اونچے درخت اونچی میخ پر بازار میں لٹکایا جائے ان کا پیٹ پھاڑ دیا جائے۔ پھر یونہی لٹکا رکھا جائے حتی کہ سوکھ جائے یا بگڑنے کا اندیشہ ہو جائے اور اگر صرف مال ہی لوٹیں کسی کو قتل نہ کریں تو ان کے دو طرفہ ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں کہ داہنا ہاتھ بایاں پاؤں کاٹا جائے اور اگر انہوں نے مسافروں کو صرف ڈرایا دھمکایا تو ہے مگر نہ کسی کوقتل کیا نہ کسی کا مال لوٹا تو انہیں ان کے گھر بار سے نکال دیا جائے اس طرح کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے حتی کہ صحیح تو بہ کریں ۔ یہ تو ان کی دنیاوی سزائیں ہیں ، اخروی سزا اس کے علاوہ ہے ۔ ان کے لئے سخت عذاب اور ذلت خواری ہے ۔ ہاں جو ڈا کو گرفتار ہونے سے پہلے ہی از خودتو بہ کرلیں گزشتہ پر نادم آئندہ کے لئے عہد کر لیں تو وہ اخروی سزا سے بھی بچ جائے گے اور دنیاوی مذکورہ سزا سے بھی بچ جائیں گے۔ ہاں قتل ناحق کاقصاص ، لوٹا ہوا مال واپس کرنا ان پر لازم ہوگا کہ یہ سزا شرعی نہیں بلکہ حق عباد ہے۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ حق خواہ اللہ تعالیٰ کا ہو یا شریعت کا یا بندے کا ، بہر حال اس کے لئے ضروری ہے کہ مارا ہوا حق ادا کرے۔ جو سزا یا کفارہ ہو وہ اسے پورا کرے۔ ساتھ میں تو بہ بھی کرے ورنہ آخرت کی سزا سے بچنا مشکل ہے۔ نمازیں رہ گئی ہیں تو قضا بھی کرے توبہ بھی ۔ روزہ توڑا ہے تو قضا و کفارہ بھی دے توبہ بھی کرے۔ چوری کی ہے تو ہاتھ بھی کٹیں اورتو بہ بھی کرے۔ زنا میں پکڑا گیا ہے تو رجم بھی ہو تو بہ بھی کرے۔ ڈکیتی کی ہے تو یہ سزا میں بھی بھگتے تو یہ بھی کرے۔ ہاں اگر زانی چور ڈا کو خود ہی عدالت میں حاضر ہو کر سزا لے لیں تو ان کی یہ حاضری ہی تو بہ میں شمار ہے۔ حضرت ماعز کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ پر تقسیم ہو توسب بخشے جاویں۔ جناب ماعز کی حاضری عدالت اور اقرار زنا کو تو بہ قرار دیا۔(تفسیر نعیمی پارہ نمبر 6 آیت نمبر 33 صفحہ نمبر 387)


فساد فی الارض سے مراد زمین میں ہر وہ عمل ہے جو انسانی زندگی کے توازن، اور امن و عدل کو متاثر کرے اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو ہر انسان کو امن، اور عدل و انصاف کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسان زمین میں فساد نہ پھیلائے، کیونکہ فساد پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔فساد فی الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو نظامِ زندگی میں بگاڑ پیدا کرے، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل، جھوٹ ، رشوت، دھوکہ دہی اور حقوق العباد کی پامالی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

((1 وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنزالایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: آیت نمبر 56)

(2) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ: آیت نمبر11)

((3 وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فساد سے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 205)

(4)وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص:77)

(5)ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ۔

ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔(سورۃ الروم: 41)

(6) مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ: 32)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ فساد نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ ایک سنگین جرم ہے جس سے اللہ تعالیٰ سخت ناراضگی فرماتا ہے۔

زمین میں فساد کیسے ختم ہوگا :((1رجوع الی اللہ((2عدل و انصاف((3 اصلاحِ نفس((4 تعلیم و تربیت

(5) امر بالمعروف ونہی عن المنکر ((6قانون کا نفاز((7 اتحاد و رواداری((8 امانت و دیانت۔

آج کے دور میں فساد کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے کرپشن، جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت اور ناانصافی۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو معاشرے کو تباہ کرتے ہیں۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں تو ایک پرامن اور مثالی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔اسلام فساد کی سخت مذمت کرتا ہے اور اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنے کردار کو بہتر بنائے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو زمین امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ یہی قرآن و سنت کا حقیقی پیغام ہے۔


اسلام امن، سلامتی اور انسانیت کا دین ہے۔ اس کی تعلیمات عدل، رواداری اور اخوت پر مبنی ہیں۔ قرآنِ کریم نہ صرف فساد فی الارض کی سخت مذمت کرتا ہے بلکہ امن و سلامتی کو فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت پیش کی جائے گی۔

فساد کا لغوی معنی: اس کا مادہ ہے ( ف ،س، د ) جس کے معنی ہیں :بگاڑ، خلل، خرابی، تباہی بلوا، جھگڑا وغیرہ ۔

فساد کی اصطلاحی تعریف: کسی چیز کی صورت کو بگاڑ دینا۔(التوقیف علی مھمات التعریف ، ص / 259)

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حدِ اعتدال سے کسی چیز کا نکل جانا ، چاہے وہ نکلنا تھوڑا ہو یا زیادہ۔ ( التوقیف علی مھمات التعریف ، ص/259، المفردات، ص/379)

فساد فی الارض کی مثالیں:ایمان قبول نہ کرنا ، دوسروں کو ایمان قبول کرنے سے روکنا ، کفر و شرک کرنا، جان بوجھ کر حق ماننے سے سرکشی کرنا ، مال اور عزت کی طمع میں بری رسمیں پھیلانا ، قتلِ ناحق، مار پیٹ، گالی گلوچ کرنا ، کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنا ، ڈاکے ڈالنا ، غیبت و چغلی و تہمت وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے باہمی تعلقات خراب کرنا، قطعِ رحمی کرنا وغیرہ۔

قرآن پاک میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک مقام پر اسے فاسقین کی صفت شمار کیا گیا اور فساد مچانے والوں کو نقصان اٹھانے والوں میں شامل فرمایا۔چنانچہ الله تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)ترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (البقرۃ،27)

جب فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کر کے ، ان کے بیٹوں کو قتل کر کے زمین میں فساد پھیلایا:اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۴) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ فسادیوں میں سے تھا۔(القصص،4)

تو اس کا ہونے والا عبرتناک انجام بھی قرآن نے بیان کیا فرمایا:فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّۚ

ترجمہ کنز العرفان:تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔(القصص،40)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ عز و جل نے مفسدین سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا:

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز العرفان: اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(المائدۃ:64)

فساد پھیلانے والوں کو قرآن میں ملعون قرار دیا گیا اور ان کیلئے برے گھر کی وعید ارشاد فرمائی ۔ چنانچہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنز العرفان: زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(الرعد،25)

الله پاک نے مفسدین کیلئے ان کے فساد کے بدلے میں عام عذاب سے زیادہ عذاب تیار کر رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنز العرفان: ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (النحل،88)

غرض یہ کہ دینِ اسلام نے فساد فی الارض کی شدید مذمت فرمائی اور اپنے ماننے والوں کو اس سے بچنے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ خالقِ کائنات قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز العرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔(الاعراف،56)

قرآن پاک میں فساد فی الارض سے بچنے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی چنانچہ ارشاد ہوا:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (القصص،83)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھا ہے : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔( تفسیر صراط الجنان ، ج،7 ،ص، 332)

اسی طرح رسول کریم ﷺ نے بھی فساد فی الارض کے حوالے سے ہماری تربیت فرمائی اور چند جملوں میں فساد فی الارض کا سدِ باب فرمایا چنانچہ صاحبِ جوامع الکلم کا فرمان ہے :كُلُّ الْمـُسْلِمِ عَلٰى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُه وَ مَالُه وَ عِرْضُهترجمہ: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔(مسلم ، کتاب البر و الصلۃ، باب تحريم ظلم المسلم الخ ، ص ٣٨٦، حديث ٢٥٦٤)

پیارے اسلامی بھائیو! ہم بھی اپنے اعمال پر غور کریں کہ آیا ہم تو فساد فی الارض میں مبتلا نہیں ہیں کسی کا مال دبا کر ، سودی لین دین کے ذریعے ، حرام کمانے ، کھانے کے ذریعے ،اسلامی احکام و شرائع کی کھلم کھلا مخالفت کرنے کے ذریعے غرض کسی بھی طرح ہم اگر اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہیں تو سچے دل سے توبہ کریں اور اس کے تقاضے پورے کریں اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں شامل فرمائے اور ہر طرح کے گناہ و فساد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل، بھائی چارے اور انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ زمین میں فساد پھیلانے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور اسے ایک بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد زمین میں ظلم، قتل و غارت، بدامنی، چوری، ڈاکہ، شرک، اخلاقی برائیاں اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ اسلام ایسے تمام اعمال کو سخت ناپسند کرتا ہے جو معاشرے کے امن کو خراب کریں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 205)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو ناپسند فرماتا ہے اور ان کے اعمال کو انسانیت کے لیے تباہ کن قرار دیتا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ: 33)

یہ آیت فساد فی الارض کی سنگینی کو واضح کرتی ہے کہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ اس کی سزا بھی سخت رکھی گئی ہے۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرمایا گیا:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ حکم انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ نے زمین کو نظام اور توازن کے ساتھ بنایا ہے، لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اس میں بگاڑ نہ پیدا کرے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں:نبی کریم ﷺ نے بھی فساد اور ظلم سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 10)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایمان کے منافی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2578)

یہ حدیث معاشرتی فساد، لڑائی جھگڑے اور نقصان پہنچانے کی سخت مذمت کرتی ہے۔

فساد فی الارض کے نقصانات:فساد فی الارض کے نتیجے میں معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے، لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں رہتا، انصاف ختم ہو جاتا ہے اور معاشی و اخلاقی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ اس سے نسلیں برباد ہوتی ہیں اور ملک ترقی کی بجائے زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسلام کا پیغام امن:اسلام کا بنیادی مقصد امن قائم کرنا ہے۔ قرآن نے بار بار اصلاح، صلح اور عدل کا حکم دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو حقوق حاصل تھے۔ 


فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو زمین میں امن، عدل اور نظامِ حیات کو بگاڑ دیں۔ یہ ایک جامع اصطلاح ہے جس میں ہر وہ عمل شامل ہے جو انسانی زندگی کے توازن کو خراب کرے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے۔ قرآنِ مجید نے بار بار انسان کو فساد پھیلانے سے روکا اور اصلاح و بھلائی کی تلقین فرمائی ہے، کیونکہ ایک پرامن معاشرہ ہی انسان کی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، قتل، دھوکہ اور بدامنی سب فساد کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایسے اعمال نہ صرف معاشرے کو تباہ کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی بنتے ہیں۔

اسلام ایک پرامن اور منصفانہ نظامِ زندگی سکھاتا ہے جس میں ہر طرح کے فساد کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ دین انسان کو ذاتی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اصلاح کا حکم دیتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خود بھی فساد سے بچے اور معاشرے میں بھلائی کو فروغ دے۔ قرآن و حدیث میں مفسدین کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو اس کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت کی گئی ہے۔

منافقوں کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 11)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین اپنے فساد کو بھی اصلاح کا نام دیتے ہیں۔ وہ اپنے اعمال کو اچھے الفاظ میں پیش کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام کام، اور جدیدیت کے نام پر دینی اصولوں پر اعتراض کرنایہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔

ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ۔(الاعراف، 56)

یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہدایت اور عدل کا نظام قائم کر دیا تو اس کے بعد اسے بگاڑنا بہت بڑا جرم ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس نظام کی حفاظت کرے اور اس میں بہتری لانے کی کوشش کرے، نہ کہ اسے خراب کرے۔

اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (القصص: 77)

اسی طرح فرمایا :وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)

ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ (الشعراء: 183)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ فساد ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے۔ فساد صرف بڑے جرائم تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے اعمال بھی اگر معاشرتی بگاڑ کا سبب بنیں تو وہ بھی فساد میں شامل ہو سکتے ہیں، جیسے جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا۔ان تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو امن، عدل اور بھلائی کے اصولوں پر قائم رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی برائیوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں۔ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں اصلاح، محبت اور انصاف کو فروغ دے اور ہر قسم کے فساد سے دور رہے۔


میں آپ کے سامنے کچھ قرآنی آیات مختصر تفسیر کے ساتھ رکھتا ہوں جو کہ فساد کی مذمت پر مشتمل ہیں۔تا کہ ان وعیدات کو پڑھ سن کر ہم دنیا میں فساد کرنے سے بچیں اور فساد کرنے والوں کو پہچان کر ان کے فساد کا مقابلہ کر سکیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ:11،12)

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

پھر ارشاد فرمایا: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے ۔(الاعراف،آیت، 56)

یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

تو پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں ان آیات کو سامنے رکھ کر اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور فساد اور فسادیوں دونوں سے پچنا ہے۔اللہ وحدہ لاشریک سے دعا ہے کہ وہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


اللہ تبارک و تعالی نے عالم نظام کو صحیح طریقے سے چلانے کے لیے اصول و قوانین نافذ کیے اپنی کتاب قرآن مجید کے ذریعے اور اپنے رسول ﷺ کو بھیجنے کے ذریعے تاکہ نظام دنیا صحیح طریقے سے چل سکے اور جو ان قوانین کی خلاف ورزی کرے تو وہ نظام دنیا میں بگاڑ یعنی فساد پیدا کرتا ہے اور یہ فساد کئی طریقوں سے ہوتا ہے جس کو آیت کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔(الروم:41)

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا۔ یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔( مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۹۱۰، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۳۴۴، ملتقطاً)

پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہونے کا سبب:اس آیت سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی وجہ سے لوگ ہزاروں قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور صحیح اَحادیث سے بھی ثابت ہے کہ کسی قوم میں اِعلانیہ بے حیائی پھیل جانے کی وجہ سے ان میں طاعون اور مختلف اَمراض عام ہو جاتے ہیں ۔ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے قحط آتا اور ظالم حاکم مقرر ہوتے ہیں ۔زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے بارش رکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عہد توڑنے کی وجہ سے دشمن مُسَلَّط ہو جاتا ہے۔لوگوں کے مالوں پر جَبری قبضہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق حکمرانوں کے فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان قتل و غارت گری ہوتی ہے اور سود خوری کی وجہ سے زلزلے آتے اور شکلیں بگڑ جاتی ہیں ۔( روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۷ / ۴۶۴۷، ملخصاً)

آیت اور اَحادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ موجودہ صورتِ حال پر غور کر لے کہ فی زمانہ بے حیائی عام ہونا،ناپ تول میں کمی کرنا ، لوگوں کے اَموال پر جبری قبضے کرنا،زکوٰۃ نہ دینا،جوا اورسود خوری وغیرہ، الغرض وہ کونسا گناہ ہے جو ہم میں عام نہیں اور شائد انہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ آج کل لوگ ایڈز، کینسر اور دیگر جان لیوا اَمراض میں مبتلا ہیں ،ظالم حکمران ان پرمقرر ہیں ،بارش رک جانے یا حد سے زیادہ آنے کی آفت کا یہ شکار ہیں ، دشمن ان پر مُسَلَّط ہوتے جارہے ہیں ، قتل و غارت گری ان میں عام ہو چکی ہے، زلزلوں ، طوفانوں اور سیلاب کی مصیبتوں میں یہ پھنسے ہوئے ہیں،تجارتی خسارے اور ہر چیز میں بے برکتی کا رونا یہ رو رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل ِسلیم عطا کرے اور اپنی بگڑی عملی حالت سدھارنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین


فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔(سورۃمحمد :22)

تفسیر : صراط الجنان :فَهَلْ عَسَیْتُمْ: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو۔ جب منافقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کے خلاف جہاد کریں تو انہوں نے جہاد میں شرکت نہ کرنے سے متعلق یہ عذر پیش کیا کہ ہم مشرکوں کے خلاف جہاد کیسے کریں کیونکہ اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ انسانوں کو قتل کرنا زمین میں فساد پھیلانا ہے اور دوسری خرابی یہ ہے کہ عرب والے ہمارے رشتہ دار ہیں اور ہمارے قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں تو ان سے جنگ کرکے انہیں قتل کرنارشتے داری کو توڑ دینا ہے اور یہ کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ ان کے رد میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے منافقو! تم سے یہ بعید نہیں کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے والے کو قتل کر کے زمین میں فساد پھیلاؤ اور رشتے داری توڑ دو۔کیادورِ جاہلیت میں تم آپس میں لڑائی نہیں کرتے تھے ؟اورکیا ا س دوران ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے تھے؟ اور تم اپنی بیٹیو ں کو زندہ دفن نہیں کرتے تھے؟ کیا تمہاری یہ لڑائیاں ، قتل اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے جیسا گھناؤنا فعل زمین میں فساد پھیلانا اور رشتے داری توڑ دینا نہیں تھا؟ تو اب تم کس منہ سے یہ کہتے ہو کہ جہاد کرنا زمین میں فساد پھیلانے اور رشتہ داری توڑ دینے جیسی خرابیوں کا حامِل ہے اوران سب شواہد کے ہوتے ہوئے تمہارا جہاد میں شریک نہ ہونے کے لئے یہ عذر پیش کرناکسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

اسلامی جہاد رحمت ہے یا فساد؟اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں فساد اور خرابیوں کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں کااسلامی جہاد کے بارے میں یہ نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں جانے سے بچنا اور دوسروں کو جہاد میں شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح کے اعتراض کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے اسلام کی محبت اور اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں انسانیت پر بے انتہا ظلم و ستم کی تعلیم دی گئی ہے،اسی طرح اسلام دشمنوں کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات سے مرعوب کچھ نام نہاد مسلمان بھی اسلامی جہادسے متعلق ایسا کلام کرتے ہیں جو اس کی حقیقت اوراس کے اصل مقاصد کے بالکل بر خلاف ہوتا ہے، حالانکہ ان میں بہت سے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے حتّٰی کہ تاریخ سے ادنیٰ سی واقِفِیَّت رکھنے والا شخص بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ دینِ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے انسانوں کا حال کیا تھا اور وہ ظلم و ستم کی کس چَکِّی میں پِس رہے تھے اور لوگ کس طرح غلامی کی زنجیروں میں قید اور اپنے آقاؤں کے ظلم و ستم کا شکار تھے ،بچے، جوان،بوڑھے،مرداور عورت الغرض ہر سطح کے انسان جس ظلم و زیادتی اور بے رحمی کا شکار تھے وہ تاریخ کے واقِف کار سے ڈَھکی چُھپی نہیں اور ا س کے مقابلے میں دینِ اسلام کے تاریخی کارناموں پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ دینِ اسلام نے ہی انسانیت کو ظلم و ستم کے گہرے اندھیرے سے نکالا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں کو سر اُٹھا کر جینا سکھایا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں میں انسانیت کی قدر اور عظمت پیدا کی ،دینِ اسلام نے ہی زمین میں فساد کوختم کر کے پُر سکون معاشرہ اور امن کی فضا قائم کی ،انسانوں کو ان کے حقوق دلائے اور ان کے حقوق پر دست اندازی کرنے والوں کو شکنجے میں جکڑا اور بڑے فسادیوں کے فساد سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کے ذریعے ہونے والے فساد سے دوسرے انسانوں کی حفاظت ہو اور یہ دوسروں کے لئے عبرت کا مقام بنیں اور وہ فساد برپا کرنے سے باز رہیں ،اسی تناظُر میں اسلامی جہا د کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے اور ا س کے بنیادی مقاصد پر سچے دل سے غور کیا جائے تو ہر عقلِ سلیم رکھنے والے شخص پر واضح ہو جائے گاکہ اسلامی جہاد سراپا رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے فساد کا خاتمہ ہو تا اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔

اور ارشاد فرماتا ہے : وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (الرعد:25)


قرآنِ مجید میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) ایک نہایت سنگین جرم کے طور پر بیان ہوا ہے، اور اس کی مذمت مختلف مقامات پر نہایت مؤثر اور واضح انداز میں کی گئی ہے۔فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی معاشرے کے امن، عدل اور توازن کو خراب کریں، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، اور اخلاقی بگاڑ۔ ارشاد باری تعالیٰ :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

زمین میں فساد کرنے والوں کے بارے میں دوسری آیت مبارکہ:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(الاعراف:56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد فی الارض کے بارے میں قرآنِ مجید کی ان آیات اور تفاسیر کا مجموعی نتیجہ نہایت واضح ہے:

زمین میں فساد پھیلانا (چاہے وہ ظلم، ناانصافی، قتل، فتنہ یا اخلاقی بگاڑ کی صورت میں ہو) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اور سنگین جرم ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے امن اور توازن کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ اس کے برعکس "فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا، ظلم و زیادتی، قتل و غارت، بدامنی اور معاشرتی خرابیوں کو فروغ دینا، قرآنِ مجید میں نہایت سختی سے مذمت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم بار بار انسان کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ زمین میں فساد نہ پھیلائے بلکہ اصلاح اور امن کا راستہ اختیار کرے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: 56)

اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا کہ اللہ نے زمین کو ایک متوازن نظام کے ساتھ بنایا ہے، اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اس نظام کو بگاڑنے کے بجائے اسے برقرار رکھے۔ مفسرینِ اہلسنت کے نزدیک "فساد" میں ہر وہ عمل شامل ہے جو شریعت کے خلاف ہو اور معاشرے میں خرابی پیدا کرے۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں فساد سے مراد "گناہ، ظلم، قتل، اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا"ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الاعراف، آیت 56)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃ المائدۃ: 64)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فساد نہ صرف ایک بڑا گناہ ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بھی بنتا ہے۔ جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد کی انتہائی سخت سزا بھی بیان کی گئی ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں (سورۃ المائدۃ: 33)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں فساد کی کتنی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے سدباب کے لیے سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔