محمد
محمود اکرم (درجہ عالیہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
قرآنِ مجید
میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) ایک نہایت سنگین جرم کے طور پر بیان
ہوا ہے، اور اس کی مذمت مختلف مقامات پر نہایت مؤثر اور واضح انداز میں کی گئی ہے۔فساد
فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی معاشرے کے امن، عدل اور توازن کو
خراب کریں، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، اور اخلاقی بگاڑ۔ ارشاد باری تعالیٰ :
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)
تفسیر
صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے
یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے
اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر
فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے
نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا
اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ
رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی
صورتیں ہیں۔
زمین میں
فساد کرنے والوں کے بارے میں دوسری آیت مبارکہ:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس
سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(الاعراف:56)
تفسیر
صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی
اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم
و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
فساد فی
الارض کے بارے میں قرآنِ مجید کی ان آیات اور تفاسیر کا مجموعی نتیجہ نہایت واضح
ہے:
زمین میں
فساد پھیلانا (چاہے وہ ظلم، ناانصافی، قتل، فتنہ یا اخلاقی بگاڑ کی صورت میں ہو)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اور سنگین جرم ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے امن
اور توازن کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
Dawateislami