عبدالرحیم
(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
ہر مسلمان
کو اپنے عقائد سے آشنا ہونا ضروری ہے اسے معلوم ہو کہ کونسے عقائد اختیار کرنے سے
دائمی عذاب سے نجات ملے گی اور وہ کون سے عقائد ہیں جن کو اگر اختیار کیا جائے تو
اللہ تعالی اپنے فضل سے جنت نصیب کرے گا۔علم الکلام ایسا علم ہے جس کا مقصد اسلامی
عقائد و نظریات کی حقانیت کو از روئے عقل محکم و مضبوط دلائل سے ثابت کرنا اور ان
میں پیش آنے والی خرابیوں اور توہمات کو دور کرنا ہے تاکہ اسلامی عقائد کی اصل شکل
برقرار رہے جو حضور نبی کریم (ﷺ) اور صحابہ کرام و تابعین کے دور میں تھی ۔اپنے
عقائد کا صحیح علم سیکھنا کہ برے عقائد سے بچ سکے ہر مسلمان پر لازم ہے۔
اولاً یہ
بات جاننا لازم ہے عقیدہ کہتے کسے ہیں؟
هُوَ عِلْمٌ يَتَضَمَّنُ الحِجَجَ عَنِ الْعَقَائِدِ الْإِيْمَانِيَّةِ
بِالْأَدِلَّةِ الْعَقلِيَّةِ وَالرَدُّ عَلى الْمُبْتَدِعَةِ الْمُنْحَرِفيْن
فِيْ الْاِعْتِقَادَاتِ عَن مَذَاهِبِ السَّلَفِ وَ أَهْلِ السنَةِ’’وہ علم
جس میں عقائد ایمانیہ کا دلائل عقلیہ کے ذریعے دفاع کیا جاتا ہے نیز بدعتیوں اور
اہل سنت و سلف کے عقیدہ سے انحراف کرنے والوں کا رد کیا جاتا ہے‘‘۔( تاریخ ابن
خلدون ، ج:1، ص:485 )
ھُوَ عِلْمٌ التَّوْحِيْدِ وَالصَّفَاتِ الْمَوْسُوْمُ بِالْكَلَامِ
الْمُنْجِىْ عَنْ غَياهبِ الشُّكُوْكِ وَ ظُلُمَاتِ الْاَوْهَامِ
’’وہ علم
توحید والصفات جس کا نام کلام رکھا گیا ہے (وہ علم الکلام) جو شکوک کے اندھیروں
اور وہموں کی تاریکیوں سے نجات دلانے والا ہے‘‘۔(غراض شرح عقائد مفتی محمد یوسف
القادری، شبیر برادرز ،ص:33 )
اسلام کے
اولین دور میں اہلِ حق کو علم الکلام کی ضرورت نہ ہوئی کیونکہ ابتدائی وقتوں میں
رسولِ کریم (ﷺ) کی صحبت اور تربیت کے سبب صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)اور بعد ازیں
صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)کی تربیت کی بدولت تابعین(رضی اللہ عنھم) کو اس علم کی
حاجت نہ تھی ۔
جس کی بنیادی
وجہ صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) کے عقائد و نظریات کی پختگی کا ہونا اور رسولِ کریم
(ﷺ)کے اسوۂ کا عملی مشاہدہ تھااسلام کے اس ابتدائی زمانے میں علم الکلام کی ضرورت
کے متعلق امام سعد الدین تقازانی لکھتے ہیں:’’متقدمین یعنی صحابہ کرام اور تابعین
عظام (رضی اللہ عنھم) آقائے دو جہاں (ﷺ) کی صحبت کی برکت اور آپ (ﷺ) (کی ظاہری حیات
)کے زمانے کے قریب ہونے کی وجہ سے اور نئے مسائل اور اختلافات کم و بیش آنے کی وجہ
سے اور قابل اعتماد شخصیات سے رجوع اور ان سے دریافت کرنے پر قادر ہونے کی وجہ سے
ان دونوں علموں ’’علم الشرائع والاحکام‘‘ اور ’’علم التوحید والصفات‘‘ کو مدون
کرنے اور باب وار، فعل وار مرتب کرنے اور ان کے مسائل کو جزئیات اور کلیات کی شکل
میں بیان کرنے سے مستغنی اور بے نیاز تھے‘‘۔(اغراض شرح عقائد علامہ مفتی یوسف
القادری شبیر برادرز لاہور، ص: 4243)
اسلام کے
ابتدائی زمانہ میں علم الکلام کی حاجت نہ ہونے کے درج ذیل اسباب تھے:رسولِ کریم (ﷺ)کی
صحبت کی برکت،صحابہ کرام اور تابعین کے عقائد کا پختہ ہونا،رسولِ کریم (ﷺ)کے زمانے
سے قریب ہونا
، اختلافات
کا کم ہونا۔کیونکہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے قریب عقیدہ صرف اسی بات کا نام
تھا کہ قرآنِ کریم نے ایک بات کہہ دی ہے یا حضور نبی کریم (ﷺ)نے ایک بات ارشاد
فرما دی ہے ان کو اس بات سے کوئی غرض نہ ہوتی تھی کہ وہ بات ہماری عقل و فہم کے
دائرے میں آتی ہے یا نہیں یا ہمارے محسوسات و مشاہدات اس کو قبول کرتے ہیں یا نہیں
لیکن جیسے جیسے وقت عہدِ رسالت (ﷺ) سے دور جاتا گیا اور مختلف گمراہ فرقے اور ان کی
گمراہ کن تاویلات زور پکڑنے لگیں تو علمائے حق نے ان کی بیخ کنی منطق و استدلالِ
عقلیّہ سے کی جس سے علم الکلام تشکیل پاتا گیا۔
Dawateislami