دین اسلام
کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔ قرآن کریم وہ
سرچشمہ ہدایت ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کے اصول بتاتا ہے، جبکہ سنتِ رسول ﷺ ان
اصولوں کی عملی تشریح اور بہترین نمونہ ہے۔ سنت کو چھوڑنا محض ایک عمل کو ترک کرنا
نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کی روح سے دوری اور گمراہی کے راستے پر پہلا قدم ہے۔ جب کوئی
انسان سنت سے منہ موڑتا ہے تو وہ درحقیقت اس رہنمائی کا انکار کرتا ہے جسے اللہ
تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا۔ قرآن پاک میں جابجا اس بات کی وضاحت
کی گئی ہے کہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کا واحد راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں
پوشیدہ ہے۔
قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ کسی کے
دل میں یہ وہم نہ رہے کہ وہ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن پر عمل کر کے کامیاب ہو سکتا
ہے۔ سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: جس نے میری سنت
سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔ (صحیح بخاری، حدیث
نمبر: 5063)
اس حدیث
مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کی اہمیت کیا ہے۔ سنت کو ترک کرنے والا درحقیقت
اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے دور کر رہا ہوتا ہے۔ عام فہم انداز میں یوں
سمجھیں کہ جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر اپنی مرضی
کرے تو وہ استاد کی نسبت کا حقدار نہیں رہتا، بالکل اسی طرح جو شخص سنت کو نظر
انداز کرتا ہے، وہ اس فیضان سے محروم ہو جاتا ہے جو صرف اتباعِ رسول ﷺ میں پوشیدہ
ہے۔سنت کی مخالفت اور اسے چھوڑنے والوں کے لیے دین میں سخت تنبیہ آئی ہے۔ جو لوگ دین
میں اپنی طرف سے نئی چیزیں نکالتے ہیں اور سنتِ نبوی ﷺ کے قائم کردہ طریقے کو ترجیح
نہیں دیتے، ان کے اعمال رد کر دیے جاتے ہیں۔
رسول اللہ
ﷺ کا ارشاد ہے:مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا
مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی
ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر:
2697)
آج کے دور
میں جب ہم معاشرے میں بگاڑ اور فکری گمراہی دیکھتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ سنتِ
نبوی ﷺ کے بجائے من مانی کرنا ہے۔ سنت کو چھوڑنے سے دین کی اصل شکل مسخ ہو جاتی ہے
اور انسان صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کو
آہستہ آہستہ اسلام کی اصل روح سے ہٹا کر گمراہی کی وادیوں میں پھینک دیتی ہے، کیونکہ
سنت ہی ہے جو دین کی حفاظت کرتی ہے۔
دین کی
اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی نجات سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ سنت کو ترک
کرنا گویا ہدایت کے راستے سے اتر جانے کے مترادف ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سنت کی پیروی کی تاکید کرتے ہوئے
فرمایا:فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ
الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا
عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے ہدایت
یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے ڈاڑھوں سے
(مضبوط) تھامے رکھو۔(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4607)
اس حدیث میں
"ڈاڑھوں سے پکڑنے" کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کتنا ہی مشکل وقت کیوں نہ ہو،
سنت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے فیصلوں میں، اپنی خوشی
اور غمی میں سنت کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ہدایت کے اس قلعے سے باہر نکل جاتے ہیں جو
ہماری حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔ سنت کو ترک کرنا درحقیقت اپنی عقل کو وحی اور
نبوی بصیرت پر فوقیت دینا ہے، جو کہ سراسر خسارہ ہے۔سنت کی پیروی ہی وہ واحد راستہ
ہے جس سے تفرقے اور گمراہی سے بچا جا سکتا ہے۔ جب امت سنت کو چھوڑ دیتی ہے تو وہ
مختلف گروہوں میں بٹ کر اپنی طاقت کھو دیتی ہے۔
آپ ﷺ نے
ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ
تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِترجمہ: میں
تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے
کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔(مؤطا امام مالک، حدیث
نمبر: 1661)
ترکِ سنت
کی سب سے بڑی مذمت یہی ہے کہ اسے چھوڑنے والا ہدایت کے یقینی راستے سے بھٹک جاتا
ہے۔ جب انسان سنت کو بوجھ سمجھنے لگے یا اسے محض ایک اختیاری عمل سمجھ کر نظر
انداز کر دے، تو وہ درحقیقت اس ضمانت کو کھو دیتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے گمراہی
سے بچنے کے لیے دی تھی۔ سنتِ رسول ﷺ وہ روشن شاہراہ ہے جس پر چلنے والے کے لیے
منزل کا حصول یقینی ہے۔سنتِ نبوی ﷺ سے منہ موڑنا دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور
محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل قیامت تک کے
انسانوں کے لیے فلاح کا ذریعہ ہے۔ سنت کو ترک کرنا محض ایک عمل کا چھوٹنا نہیں
بلکہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے راستے سے انحراف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی
کے ہر شعبے میں سنت کو اپنائیں اور اسے کےچھوڑنے سے خود کو بچائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں
کہ ہمیں حقیقی ہدایت نصیب ہو اور ہم فتنوں کے دور میں ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو
ہمیں اپنی زندگیوں کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ سنت سے
وابستگی ہی دین کی بقا اور کامیابی کی واحد کنجی ہے۔
محمد
انیس عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ کو بھی بنیادی حیثیت
حاصل ہے۔ سنت دراصل حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ ہے،
اور یہی سنت دین کی عملی تصویر ہے۔ لہٰذا سنت کو چھوڑنا (ترکِ سنت) نہایت خطرناک
اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
ترکِ سنت کا مفہوم:ترکِ سنت
سے مراد یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کے طریقوں کو چھوڑ دے، ان کی پیروی
نہ کرے یا انہیں غیر اہم سمجھے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت
کو اپنی اطاعت قرار دیا:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ
ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم
مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)
ایک اور
مقام پر ارشاد ہے:وَ مَاۤ
اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر: 7)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا دراصل
اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے ترکِ سنت پر سخت تنبیہ فرمائی:مَنْ رَغِبَ عَنْ
سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
ترجمہ: جو
میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)
ایک اور
حدیث میں فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ
الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ
ترجمہ: تم
پر میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔(سنن ابی داود، حدیث: 4607)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا ایمان
و محبتِ رسول ﷺ کے خلاف ہے۔
ترکِ سنت کے نقصانات:
دین میں
کمزوری:سنت چھوڑنے سے دین کا عملی حسن ختم ہو جاتا ہے۔
بدعات کا
فروغ:جب سنت چھوڑ دی جاتی ہے تو اس کی جگہ بدعات آ جاتی ہیں۔
رسول اللہ
ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری، نبی کریم ﷺ کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے۔
آخرت میں
خسارہ:سنت پر عمل نہ کرنے والا اجرِ عظیم سے محروم رہتا ہے۔
سنت پر
عمل کی اہمیت:سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔ جیسا کہ قرآن
میں ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب
تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃ آل عمران: 31)
ترکِ سنت
ایک سنگین غلطی اور دین سے دوری کا سبب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ
نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین و ﷺ
نوید
احمد (درجہ سادسہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
سنت کی دو
قسمیں ہیں سنّتِ مؤ کَّدہ اور سنّتِ غیر
مؤکَّدہ ان دونوں کی الگ الگ احکام ہیں۔
سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اﷲ
تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا
ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی
ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر
استحقاقِ عذاب ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)
سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی
مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے
عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا
نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں۔ (بہار شریعت
جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)
ترک سنت
کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجئے :۔
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منیحضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں ۔(مسلم حدیث نمبر 3403)
ایک اور
حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت کو
ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(بہار شریعت جلد 1 حصہ ب صفحہ 662 )
ان احادیث
کو پڑھ کر ایک مومن مسلمان کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت پر پابند ہو جائے اور اخلاص
و اچھی نیت کے ساتھ اس پر عمل کرے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت
کو ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی تو جسے شفاعت نہ ملی تو پھر اس کا بیڑا
پار کیسے ہوگا کہ جس کی حضور شفاعت نہ کریں تو ہمیں چاہیے کہ ہم سنت کے پابند بن
جائیں ۔ اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے
نہیں تو جس کے حضور نہیں تو اس کا کوئی نہیں ایک عاشق کا اپنے محبوب کی اداؤں کو
اپنانا ایک بہت کار خیر ہوتا ہے اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے تو لہذا مومن مسلمان
کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت کا پابند بن جائے اور سچے دل سے حضور کی سنت پر عمل
کرے ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب تعالی ہمیں اپنے محبوب کی اداؤں کو
اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد
فضیل ساگر (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ،کراچی ،پاکستان)
اسلام میں
سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ رسول ﷺ ہی وہ
ذریعہ ہے جس کے ذریعے دینِ اسلام کی مکمل رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ سنت کو اختیار
کرنا ایمان کی علامت ہے جبکہ اس کا ترک کرنا سخت مذمت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ سنت کو چھوڑنے والوں کے بارے میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ
مِنِّيترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔"(
صحیح بخاری ،5063)
ایک اور
حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي
وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا
وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: "تم پر لازم ہے میری
سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو اور اسے دانتوں سے تھام
لو۔(سنن ابی داؤد، 4607)
احادیث میں
سنت کو مضبوطی سے تھامنےاور سنت سے اعراض نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت
اور اس کے ترک کی قباحت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور
مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ
الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَى قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي
دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ:"میری امت کے
سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو انکار کرے۔"صحابہ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! کون انکار کرے گا؟"آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میری
اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔"
(صحیح بخاری،7280)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت (یعنی سنت کی پیروی) جنت کا راستہ ہے جبکہ اس
سے روگردانی نقصان کا باعث ہے۔
احادیثِ
مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا نہایت خطرناک
عمل ہے جو انسان کو گمراہی اور اللہ و رسول کی ناراضگی کی طرف لے جاتا ہے۔ لہٰذا
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اس کی پیروی
میں کامیابی تلاش کرے۔
سجاد
علی (درجہ سابعہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
حضور ﷺ کی
سنت ہمارے لیے ایک انمول نمونہ ہے ، اسی لیے احادیث میں سنت پر عمل پیرا ہونے ،
سنت کو مضبوطی سے تھامنے کے حوالے سے بہت تاکید فرمائی گئی ہے ، جبکہ اس کے برعکس
سنت کو ترک کرنے ، سنت سے اعراض کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ لہذا ہمیں ایک
مسلمان ہونے اور حضور نبی کریم ﷺ کا امتی ہونے کی حیثیت سے سنتوں پر عمل پیرا ہونا
چاہیے ۔ ترکِ سنت پر احادیث ملاحظہ کیجئے ۔
(1) حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو ہمارے دین
میں وہ طریقہ ایجاد کرے جو اس دین سے نہیں وہ مردود ہے ۔
مفتی احمد
یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن و سنت کے
مخالف کوئی بھی عمل ہو ، جس سے سنت اٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود اور
ایسے عمل بھی باطل ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 ، حدیث 140 )
(2) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے میری امت
کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے ۔( مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 176)
(3) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا یقیناً
بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد مصطفی کا طریقہ ہے اور بدترین چیز
دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد 1 حدیث نمبر 141)
(4) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا منکر کے سوا میری
ساری امت جنت میں جائے گئی عرض کی گئی منکر کون ہے ؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری
کی بہشت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 143)
(5) حضرت
انس سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑی جب تک انہیں
مضبوط تھامے رہو گئے گمراہ نہ ہو گئے ۔(1) اللہ کی کتاب(2) اس کے پیغمبر کی سنت ۔(
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 186)
احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ بات سیکھنے کو ملی کہ
حضور ﷺ کی کوئی بھی چھوٹی بڑی سنت ہو عمل کرنا چاہیے اور ترکِ سنت سے ہر دم بچتے
رہنا چاہیے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مالک کریم ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی سنت کے
مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اللہ تعالیٰ
کا احسان عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا اور اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت
میں پیدا فرمایا اور ایک مضبوط دین ،دین اسلام عطاء فرمایا اور قرآن مجید جیسی عظیم
کتاب عطاء فرمائی۔جان لیں کہ دین اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے(1) قرآن مجید(2)
سنت مصطفیٰ ﷺ
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کا کلام اور مکمل ضابطہ حیات ہے اور سنت رسول ﷺ کا فرمان ،طریقہ اور
عمل ہےاور ضابطہ حیات کی عملی تفسیر ہے ۔قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا
سنت کے بغیر ممکن نہیں اور نماز، روزے، زکوٰۃ ،حج ،معاملات اور اخلاقیات الغرض
زندگی کا کوئی شعبہ بھی سنت کے بغیر مکمل نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت سے
حصہ حاصل کرنے کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ
اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا
اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پارہ 3،سورۃ آل عمران، آیت 31)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو
عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے والاہو اور
حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کرےاور
بتایا گیا کہ محبت ِالہٰی کا دعویٰ حضورسید ِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ جو اس
دعوے کا ثبوت دینا چاہتا ہے وہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غلامی اختیار کرےاور اس کو ترک کرنا دین کے بڑے حصے کو ترک
کرنے کے برابر ہے ۔اور جنت کو حاصل کرنا رسول اللہ ﷺ اتباع پر بھی موقوف ہے جیسا
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے
ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی
گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون
ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری
نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘(ریاض الصالحین،جلد 2، حدیث 158)
اور رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا :جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔(صحیح البخاری حدیث
5063)
اس سے
معلوم ہوا کہ سنت کو حقیر جاننا یا ترک کرنا گمراہی بدعت اور رسول اللہ ﷺ کی
ناراضگی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی
سنت پر بھی عمل کرتے تھے ۔
اللہ
عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر زندگی گزارنے کی
توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔ آمین
محمد
شیراز رضا عطاری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے لیے
کامل رہنمائی موجود ہے۔ اس رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حضور
نبی اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ سنت دراصل نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات
کا مجموعہ ہے جو امتِ مسلمہ کے لیے بہترین نمونہ اور کامل رہبر کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں بارہا اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے، جس سے یہ بات
واضح ہو جاتی ہے کہ سنت کی پیروی دینِ اسلام کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے:
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا
نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(الحشر:7)
اس آیتِ
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت واجب ہے اور آپ ﷺ کی
نافرمانی سخت عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں بھی سنت پر عمل کرنے اور اسے مضبوطی سے تھامنے کی بڑی تاکید آئی ہے،
جبکہ ترکِ سنت کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ:
(1) رسولِ
اکرم ﷺ نے فرمایا:من رغب عن سنتی فلیس منییعنی جس
نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)
(2) حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی
اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع
نہ ہو جائے۔ (شرح السنۃ للبغوی، حدیث: 110)
ان دلائل
سے واضح ہوتا ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ
سنت انسان کو گمراہی اور محرومی کی طرف لے جاتا ہے۔
آخرکار ہمیں
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی
کے لیے رہنمائی ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے وہ درحقیقت حضور ﷺ کی محبت اور اطاعت
کا ثبوت دیتا ہے، اور جو سنت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک عظیم نعمت سے
محروم کر لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو زندہ
کریں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اسے عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
محمد
حنظلہ حنیف (درجہ عالیہ جامعۃالمدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی، پاکستان)
اسلام دینِ
کامل ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو
اپنی اطاعت قرار دیا اور سنت سے روگردانی کو گمراہی سے تعبیر کیا۔ سنتِ نبوی ﷺ دین
کا عملی نمونہ ہے جسے چھوڑنا ایمان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
سنت کی اہمیت
قرآن و حدیث میں:
ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم
مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے
کو نہ بھجا۔(سورۃالنساء:80)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا
فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا عذاب
سخت ہے۔ (الحشر: 7)
ان آیات سے واضح ہوا کہ سنت کی پیروی لازم ہے۔
ترکِ سنت پر سخت
وعیدیں:نبی کریم ﷺ نے سنت چھوڑنے والوں کی مذمت فرمائی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ تین
آدمی نبی ﷺ کے گھر آئے اور آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں بتایا گیا
تو انہوں نے اسے کم سمجھا۔ ایک نے کہا میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے
کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا۔ جب نبی ﷺ کو
خبر ہوئی تو فرمایا: "تمہارا کیا حال ہے جو ایسی ایسی باتیں کرتے ہو؟ سنو!
اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور متقی ہوں، لیکن میں روزہ بھی
رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور
عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں"۔
(بخاری: 5063)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں بھی غلو کرکے سنت کا طریقہ چھوڑنا ناپسندیدہ
ہے۔ سنت کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
بدعت اور ترکِ
سنت کا تعلق:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے
ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود
ہے"۔ (بخاری: 2697، مسلم: 1718)
ترکِ سنت
ہی بدعت کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب لوگ سنت چھوڑ دیتے ہیں تو اس کی جگہ من گھڑت رسم
و رواج لے لیتے ہیں۔
آپ ﷺ نے خطبہ میں فرمایا : "سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور سب
سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور نئے ایجاد کردہ امور ہیں،
اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ (مسلم: 867)
صحابہ کا طرزِ
عمل:صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا: "میں جانتا ہوں تو ایک پتھر
ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا
ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا"۔ (بخاری: 1597)
یہ سنت کی
اتباع کی اعلیٰ مثال ہے کہ وجہ سمجھ نہ بھی آئے تب بھی عمل کرنا ہے۔
ترکِ سنت کے
نقصانات
(1) گمراہی کا خطرہ: نبی ﷺ نے
فرمایا: "میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک
کے"۔ پوچھا گیا وہ کون ہے؟ فرمایا: "جو اس طریقے پر ہو جس پر آج میں اور
میرے صحابہ ہیں"۔ (ترمذی: 2641)
(2) محبتِ رسول میں کمی: آپ ﷺ نے
فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد
اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں"۔ (بخاری: 15) اور محبت کا تقاضا
اتباع ہے۔
(3) شفاعت سے محرومی: حوضِ
کوثر پر کچھ لوگوں کو فرشتے ہٹائیں گے۔ نبی ﷺ فرمائیں گے: "یہ تو میرے امتی ہیں"۔
کہا جائے گا: "آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں"۔
(بخاری: 6584)
ترکِ سنت دنیا و آخرت میں خسارے کا باعث ہے۔ سنتِ رسول ﷺ چراغِ ہدایت ہے
جسے چھوڑ کر انسان اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زندگی کے
ہر شعبے میں سنت کو اپنائے، خواہ وہ عبادات ہوں، معاملات ہوں، یا اخلاقیات۔ اللہ
ہمیں سنت پر چلنے اور اسے مضبوطی سے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
احمد
رضا ہاشمی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ
رسول ﷺ دراصل قرآنِ پاک کی عملی تفسیر ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے، وہ درحقیقت دینِ
اسلام کو مکمل طور پر اختیار کرتا ہے، جبکہ سنت کو چھوڑ دینا (ترکِ سنت) گمراہی
اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔
رسول اللہ
ﷺ نے سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ترجمہ: "جس نے میری
سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔"( صحیح مسلم: 1401)
یہ حدیث
مبارکہ نہایت سخت تنبیہ پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت
کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کے
لیے یہ بہت بڑا نقصان ہے ۔
ایک اور
حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:كُلُّ
أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى ۔۔مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ: میری
ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ عرض کیا گیا: کون انکار کرے
گا؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو میری نافرمانی کرے گا
اس نے انکار کیا۔(صحیح بخاری: 7280)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ کی اطاعت ہے، اور اطاعت جنت کا
راستہ ہے، جبکہ نافرمانی (یعنی سنت کو چھوڑ دینا) ہلاکت کا سبب ہے۔
یہ حدیث
اس بات پر زور دیتی ہے کہ دین میں اپنی طرف سے نئی چیزیں شامل کرنا (بدعت) اور سنت
کو چھوڑ دینا دونوں ہی قابلِ مذمت ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ صرف وہی راستہ
اختیار کرے جو نبی کریم ﷺ نے دکھایا۔
ترکِ سنت کے نقصانات
دین میں
کمی واقع ہونا:سنت کے بغیر دین مکمل نہیں رہتا، کیونکہ سنت قرآن کی عملی شکل ہے۔
گمراہی کا
خطرہ:سنت کو چھوڑنے والا آہستہ آہستہ دین کے اصل راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
اللہ اور
رسول ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری دراصل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری ہے۔
معاشرتی
بگاڑ:جب سنتیں ختم ہوتی ہیں تو بدعات اور برائیاں عام ہو جاتی ہیں۔
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس کامل دین
میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ قرآنِ مجید کے عملی مفہوم کو دنیا
کے سامنے نبیِ کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا۔ لہٰذا سنت پر عمل کرنا
درحقیقت قرآن پر ہی عمل ہے، اور اس کو ترک کرنا دین کے ایک عظیم حصے سے محرومی ہے۔
آج کے دور میں جہاں نت نئی رسمیں اور خودساختہ طریقے عام ہو رہے ہیں، وہیں سنتوں
سے دوری ایک بڑا فتنہ بنتی جا رہی ہے، جس کی مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان
کی گئی ہے۔قرآنِ کریم میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم
مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃ النساء، آیت 80)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے، اور جو شخص سنت کو
چھوڑتا ہے وہ درحقیقت اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے۔
ایک اور
مقام پر فرمایا:ترجمہ کنزالایمان:اور جو
رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا
راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا
ہی بُری جگہ پلٹنے کی ۔ (سورۃ النساء، آیت 115)
یہ آیت ان
لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو جان بوجھ کر سنتِ رسول ﷺ کو ترک کرتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ترکِ
سنت کی مذمت:
سنت سے روگردانی پر تنبیہ:جس نے میری
سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی
النکاح، حدیث: 5063،صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1401)
یہ حدیث
نہایت سخت ہے، جس میں سنت سے دوری کو نبی ﷺ سے نسبت ختم ہونے کے برابر قرار دیا گیا
ہے۔
سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم:تم پر
لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت، اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ (سنن ابی
داؤد، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، حدیث: 4607،جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث:
2676)
یہ حدیث
اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ نجات کا راستہ سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔
بدعت اور سنت چھوڑنے کا انجام:جو ہمارے
اس دین میں نئی بات نکالے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح،
حدیث: 2697،صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث: 1718)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا اللہ کے نزدیک مردود ہے۔
ترکِ سنت
دراصل دین میں کمزوری، غفلت اور دنیاوی رغبت کا نتیجہ ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے
جو نبی کریم ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، چاہے وہ کھانے پینے کے آداب
ہوں، عبادات ہوں یا معاملات۔
آج ہمیں
ضرورت ہے کہ ہم سنتوں کو سیکھیں،ان پر عمل کریں،دوسروں تک پہنچائیں،کیونکہ نبی کریم
ﷺ کی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ کی سنت کو زندہ کریں۔
آخر میں ایک
فکر انگیز جملہ:جو سنت کو چھوڑتا ہے، وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہو جاتا ہے اور جو
سنت کو اپناتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب ہو جاتا ہے۔
شیخ
محمد کریم رضا عطاری ( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ،کراچی
،پاکستان)
دینِ
اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ عزوجل کی کتاب اور سنتِ رسول اللہ ﷺ۔سنتِ
رسول ﷺ محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے اور ایسی
راہِ ہدایت ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ دور
میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہاں سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے معمولی
سمجھ کر ترک کر دینے کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ جان بوجھ کر سنت کو
ترک کرنا یا اسے حقیر سمجھنا محرومی اور گمراہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ
کے اسوہ کو "اسوۂ حسنہ" یعنی بہترین نمونہ قرار دے دیا، تو اس کا تقاضا
یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر سنتِ رسول ﷺ کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔
ترکِ سنت پر وعیدیں:احادیثِ
مبارکہ میں سنت کو چھوڑنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ ذیل میں چند
حدیث پیش کیے جاتے ہیں:
حضورِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ پھیرا)، وہ مجھ سے نہیں
ہے۔
(صحیح
بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5063)
علمائے
کرام اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ سنت رسول ﷺ سے اعراض کرنے کا مطلب اسے
ناپسند کرنا یا اسے بوجھ سمجھنا ہے۔ جو شخص دانستہ طور پر سنتِ رسول ﷺ کو پسِ پشت
ڈال دیتا ہے، وہ کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی خصوصی توجہ اور شفاعت سے محروم ہو سکتا
ہے۔
وَعَن مَالك بن أنس مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ
بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ ۔ رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأحضرت مالک
بن انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا
رہا ہوں ،پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اللہ
کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، حدیث نمبر 186)
آج کل بہت
سے لوگ یہ کہہ کر سنت کو چھوڑ دیتے ہیں کہ "یہ کون سا فرض ہے، سنت ہی تو
ہے۔" یہ جملہ انتہائی خطرناک ہے۔
سنت کو حقیر
سمجھنا ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب انسان چھوٹی چھوٹی سنتوں (جیسے کھانے پینے
کے آداب، لباس کی سنتیں، داڑھی وغیرہ) کو معمولی سمجھ کر چھوڑتا ہے، تو رفتہ رفتہ
اس کا دل فرائض و واجبات کے معاملے میں بھی سست ہو جاتا ہے۔
آج ہمارے
معاشرے میں بے سکونی، بے برکتی اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے
شادی بیاہ سے لے کر غمی تک، اور تجارت سے لے کر سیاست تک ہر جگہ سنتِ نبوی کو ترک
کر کے غیروں کے طریقے اپنا لیے ہیں۔ جب سنت رخصت ہوتی ہے تو وہاں بدعت اور نفسانی
خواہشات ڈیرہ جما لیتی ہیں۔
ترکِ سنت
محض ایک عمل کا چھوٹ جانا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم رشتے کی کمزوری کی علامت ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ تب ہی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب انسان کی زندگی سنت کے سانچے
میں ڈھلی ہوئی ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور جہاں جہاں ہم
سے سنتیں چھوٹ رہی ہیں، وہاں توبہ کریں اور اتباعِ سنت کا عزم کریں۔
اللہ پاک
ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جنہیں کل
قیامت کے دن حضور ﷺ کی زیارت اور رفاقت نصیب ہوگی۔ (آمین)
محمد
آصف رضا(درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سنت دراصل
وہ طریقہ ہے جو حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں اختیار فرمایا اور امت کو اس پر
چلنے کی تعلیم دی۔ سنت پر عمل کرنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت
انسان کو گمراہی اور دین سے دوری کی طرف لے جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت کو
مضبوطی سے تھامنے اور اس کے ترک سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
(1) سنت کی اہمیت:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت
کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔(ترمذی: 2678)
اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ سنت سے محبت دراصل حضور ﷺ سے محبت ہے، اور یہی محبت جنت کا
راستہ ہے۔
(2) سنت سے روگردانی کی مذمت:ایک اور
حدیث میں آتا ہے:جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ میں سے نہیں۔(بخاری: 5063،
مسلم: 1401)
یہ حدیث
ترکِ سنت کی شدید مذمت بیان کرتی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ دیتا ہے،
وہ نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ جاتا ہے۔
(3) بدعت اور ترکِ سنت کا تعلق:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:ہر نئی چیز (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(مسلم: 867)
جب انسان
سنت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ بدعات کی طرف مائل ہوتا ہے، جو اسے سیدھے راستے سے دور
کر دیتی ہیں۔
(4) سنت پر عمل کی تاکید:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا:تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے
تھام لو۔(ابو داؤد: 4607، ترمذی: 2676)
یہ حدیث
اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کامیابی صرف سنت پر عمل کرنے میں ہے۔
(5) قیامت کے دن ندامت:ایک حدیث
میں آیا ہے کہ کچھ لوگ حوضِ کوثر سے دور کر دیے جائیں گے، تو نبی ﷺ فرمائیں گے:
"یہ میرے امتی ہیں"مگر جواب ملے گا"آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے
بعد کیا بدعتیں نکالیں۔"(بخاری: 6582)
یہ ان
لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو سنت کو چھوڑ کر نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔
(6) سنت چھوڑنے کے نقصانات:ترکِ سنت
سے دل سخت ہو جاتا ہے، ایمان کمزور پڑ جاتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دین سے دور
ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد دنیا میں بھی بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی
خسارے میں رہتے ہیں۔سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف
دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات کا بھی راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو اپنائیں اور ترکِ سنت سے بچیں۔ کیونکہ حقیقی
کامیابی اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلیں اور اپنی زندگی کو اسی کے
مطابق ڈھالیں۔
Dawateislami