نوید
احمد (درجہ سادسہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
سنت کی دو
قسمیں ہیں سنّتِ مؤ کَّدہ اور سنّتِ غیر
مؤکَّدہ ان دونوں کی الگ الگ احکام ہیں۔
سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اﷲ
تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا
ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی
ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر
استحقاقِ عذاب ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)
سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی
مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے
عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا
نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں۔ (بہار شریعت
جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)
ترک سنت
کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجئے :۔
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منیحضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں ۔(مسلم حدیث نمبر 3403)
ایک اور
حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت کو
ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(بہار شریعت جلد 1 حصہ ب صفحہ 662 )
ان احادیث
کو پڑھ کر ایک مومن مسلمان کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت پر پابند ہو جائے اور اخلاص
و اچھی نیت کے ساتھ اس پر عمل کرے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت
کو ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی تو جسے شفاعت نہ ملی تو پھر اس کا بیڑا
پار کیسے ہوگا کہ جس کی حضور شفاعت نہ کریں تو ہمیں چاہیے کہ ہم سنت کے پابند بن
جائیں ۔ اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے
نہیں تو جس کے حضور نہیں تو اس کا کوئی نہیں ایک عاشق کا اپنے محبوب کی اداؤں کو
اپنانا ایک بہت کار خیر ہوتا ہے اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے تو لہذا مومن مسلمان
کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت کا پابند بن جائے اور سچے دل سے حضور کی سنت پر عمل
کرے ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب تعالی ہمیں اپنے محبوب کی اداؤں کو
اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami