اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے، جنہوں نے اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا اور اپنی ذات کو اللہ تعالی کے سامنے جھکا دیا، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور یہی لوگ بارگاہ الہی میں سرخرو ہوں گے۔ قیامت کے دن جب لوگ خوف و غم کی کیفیت میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہوں گے تو یہ لوگ نہ ہی خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی یہ لوگ غمگین ہوں گے قرآن کریم میں متعدد آیات ایسی ہیں جس کے اندر یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون لوگ قیامت کے دن خوف و غم سے امن میں ہوں گے اسی سے متعلق چند آیات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

بذریعہ اقرار توحید، خوف و غم سے امن میں ہونا : اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اللہ کی توحید پر اور سید المرسلین ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے تو قیامت کے دن نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔(روح البیان، سورة الاحقاف، جلد نمبر 8 ، صفحہ نمبر 472)

بذریعہ انفاق فی سبیل اللہ، خوف و غم سے امن میں ہونا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو ہر حال میں یعنی دن اور رات میں خفیہ یا اعلانیہ خرچ کرتے ہیں آیت کریمہ میں رات کے خرچ کو دن کے خرچ سے اور خفیہ خرچ کو اعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے ان سب خرچ کرنے والوں کے لیے بارگاہ الہی سے اجر و ثواب اور قیامت کے دن خوف و غم سے نجات کی بشارت ہے ۔

بذریعہ نیک لوگوں سے محبت، خوف و غم سے امن میں ہونا : اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ (ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اور تمہیں خوش کیا جائے گا۔(پ25، الزخرف:67تا70)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا ،نعمتیں دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے۔(ابو سعود، سورت الزخرف جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 550، دارالکفر بیروت)

جو لوگ اللہ تعالی کے احکامات پر عمل پیرا ہوں گے اور شریعت محمدی کے تابع ہوں گے یقینا وہی لوگ قیامت کے دن خوف و غم سے امن میں ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی بروز قیامت خوف و غم سے امن نصیب فرمائے۔ آمین

دنیا کی زندگی ایک آزمائش ہے اور اہلِ ایمان کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی ہے کہ ان کا ایمان سلامت رہے، اور وہ قیامت کی ہولناکیوں، پل صراط کی دشواریوں، اور حساب و کتاب کی سختیوں سے بچ جائیں۔ قرآنِ حکیم ایسے خوش نصیب اہلِ ایمان کا ذکر کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوف و غم سے آزادی کی بشارت دی ہے جیسا کہ آیات قرآن میں موجود ہے:

(1) استقامت والوں کے لیے امن: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

تفسیرِ کبیر میں ہے: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر ، الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ، ۱۰ / ۱۳-۱۴ )

(2) اللہ کے ولیوں پر نہ خوف ہے نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت قربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ مشغول رہنے کا نام ہے،جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتااور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے۔ (صراط الجنان ، یونس، تحت الآیت 62-63)

(3) ایمان کے ساتھ ظلم نہ ہو: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام: 82)

اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: ۳۴۲۹)

قرآن کریم کی مذکورہ و دیگر آیات ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں کہ حقیقی امن و سکون صرف ایمان، استقامت، تقویٰ اور شرک سے اجتناب میں پوشیدہ ہے۔ وہ بندے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، جن کی زندگی تقویٰ سے مزین اور شرک سے پاک ہوتی ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ابدی بشارت سنائی ہے کہ نہ دنیا میں انہیں کسی خوف کا سامنا ہوگا اور نہ آخرت میں کسی غم کا۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے ایمان کو مضبوط کرے، نیک اعمال کو اختیار کرے اور گناہوں سے بچے تاکہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ بھی اس بشارت کا حق دار بن سکے جس میں خوف و غم کا نام و نشان تک نہیں۔

اے اللہ! ہمیں ایمان و تقویٰ کی دولت عطا فرما، اپنے مقرب بندوں کے زمرے میں شامل کر اور ہمیں دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات دے کر جنت کے دائمی امن اور سکون سے بہرہ مند فرما۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


 اللہ تبارک وتعالیٰ نے پوری کائنات کو انسانوں کے لیے پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور یہی ان کی تخلیق کا مقصد ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) ترجمہ کنز العرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔ (پ27، الذٰریٰت: 56)

قیامت میں ہر کسی کے ساتھ عدل ہوگا، جس نے جو اعمال کیے ہوں گے اسی کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۵۴) ترجمہ کنز العرفان: تو آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔ (پ23، یٰسٓ: 54)

قیامت کا دن بہت سخت ہوگا۔ ہر کسی کی یہی خواہش ہوگی کہ وہ اس دن کی سختیوں اور پریشانیوں سے بچ جائے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَاُمِّهٖ وَاَبِیْهِۙ(۳۵) وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(پ30، عبس:33تا 37)

اس دن ہر کسی کو اپنی فکر ہوگی لیکن اس افرا تفریح کے وقت کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ان تمام مشکلات، پریشانیوں اور غموں سے امن میں ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی اپنے رب کی فرمانبرداری کر کے نیکیوں میں زندگی گزاری ہوگی۔ ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

(1) اللہ تعالیٰ کے ولی امن میں ہوں گے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں، ان میں سے 3 معنی درج ذیل ہیں:

(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔ (البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: 38، 1/ 323۔جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: 62، 3 / 880)

(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔

(2) آخرت میں جو لوگ خوش بخت ہوں گے اور اللہ تعالی کی رحمت میں ہوں گے، ان کے بارے میں قرآن پاک میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ٘-لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ کے ذریعے بچائے گا۔ نہ انہیں عذاب چھوئے گااور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ 24، الزمر: 61)

اس آیت میں پرہیزگار مسلمانوں کا اُخروی حال بیان کیا جا رہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شرک اور گناہوں سے بچنے والوں کو نجات کی جگہ جنت میں بھیج کر تکبر کرنے والوں کے ٹھکانے جہنم سے بچا لے گا اور ان کا حال یہ ہو گا کہ نہ ان کے جسموں کو عذاب چھوئے گا اور نہ ان کے دلوں کو غم پہنچے گا۔(روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: 61، 8 / 130-131، ملتقطاً)

(3) جہنم کے عذاب سے نجات کا سبب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں پرہیز گاری اختیار کرنا یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے بچناقیامت کے دن جہنم کے عذاب سے نجات پانے کا بہت بڑاسبب ہے۔ اسی سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠(۱۰۳) ترجمۂ کنزالعرفان:اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیارکرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے،اگر یہ جانتے۔ (پ1، البقرۃ: 103)


بعض اللہ کے محبوب بندے ایسے ہیں جنہیں بروز قیامت اللہ نے خوف اور غم سے آزادی کی بشارت دی ہے جن لوگوں کو نہ خوف ہوگا نہ غم ہوگا وہ لوگ مندرجہ ذیل ہیں :

(1) اللہ کے اولیا

(2) شہدا

(3) غریب مسلمان

(4) اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے

(5) ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے

خوف اور غم کے نہ ہونے کا دارومدار ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا ہے ۔

(1) اللہ تعالی کا فرمان اپنے اولیا کے بارے : اللہ عزوجل قرآن پاک میں سور ۂ یونس کی آیت نمبر 62، 63 میں ارشاد فرماتا ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔ (پ11، یونس:62، 63)

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:

(۱)مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(۲) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔ (البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱ / ۳۲۳۔جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۸۸۰)

(۳) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان)

(2) شہدا کے بارے میں اللہ کا فرمان: اللہ پاک سورہ آل عمران کی آیت نمبر 170 میں ارشاد فرماتا ہے:

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰)ترجمۂ کنز الایمان: شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم۔(پ4، آل عمران: 170)

یہ آیت مبارکہ شہدا کے بارے میں ہے ۔

(3) غریب مسلمانوں کے بارے میں جن کا مزاق اڑایا جاتا تھا : اللہ پاک سورۂ اعراف کی آیت نمبر 49 میں ارشاد فرماتا ہے:اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:49)

(کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے:) اعراف والے غریب جنتی مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا ہو۔ (تفسیر صراط الجنان)

(4) اللہ پاک کا فرمان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے بارے میں، اللہ پاک سورۂ بقرۃ کی آیت نمبر 262 میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ:262)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو بھی نہ خوف ہوگا نہ ہی غم۔

(5) ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کرنے کےلیے ، اللہ پاک سورۂ بقرۃ کی آیت نمبر 277 میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ(اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)

اس آیت مبارکہ سے پتا چلا کہ ایمان والے اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بروز قیامت الله کا خوف ہوگا نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے ۔

ذرا سوچئے! ہم سب یہی چاہتے ہے کہ ہمیں دنیا میں بھی امن اور آخرت میں بھی امن نصیب ہو۔ ولی اللہ ، شہید ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا وغیرہ کوئی بھی نیکی ہو اس کا دارومدار ایمان پر ہے ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے بھر پور کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جنت میں وہی جائے گا جو ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔

اللہ عزوجل ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کا ذہن نصیب فرمائے اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


قرآن کریم میں  روز قیامت کے خوف و غم سے نجات کےبارے میں کئی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ، ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)

اس آیت میں بھی اللہ پاک نے ہدایت کی اتباع کرنے والوں کو خوف وغم سے امن کی بشارت عطا فرمائی ہے ۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

اس آیت میں اللہ پاک نے صدقہ و خیرات کرنے والوں کو بھی خوف و غم سے امن کی خوشخبری عطا فرمائی

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنز الایمان: شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم۔(پ4، آل عمران: 170)

قارئین کرام! آج کے اس پر فتن دور میں ایمان کی حفاظت ایک مشکل عمل ہے۔ لیکن جتنا بھی مشکل ہو ایمان کی حفاظت کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں کہ انسان کی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اسی وصف سے ہی ممکن ہے اوپر جو ہم نے آیتیں تحریر کی ان کے مجموعہ سے چند ایسے اوصاف ملتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی اور قیامت کے دن خوف و غم سے نجات ملے گی۔

(1) ایمان پر استقامت اختیار کرنا

(2) اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کی پیروی کرنا

(3) راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرنا

(4) جو کچھ اللہ پاک نے عطا فرمایا اس پر خوش رہنا

جب ہم ان اوصاف کو اپنائیں گے ان شاءاللہ الکریم ہمیں ایمان کی سلامتی اور خوف و غم سے امن نصیب ہوگا ، اللہ پاک ہم کو ایمان پر استقامت عطا فرمائے اور سلب ایمان سے محفوظ فرمائے۔ آمین


قیامت کے دن جب ہر طرف نفسی نفسی کا سما ہوگا، ہر طرف خوف و دہشت چھائی ہوئی ہوگی، ہر ایک گھبراہٹ کا شکار ہوگا، الغرض ایسے میں اللہ پاک کے کچھ خوش نصیب بندے وہ بھی ہوں گے، جو سکون و اطمینان میں ہوں گے، ان کو کسی طرح کا کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا بلکہ وہ بے خوف اور پُرامن حالت میں ہوں گے، قارئین کرام! اللہ پاک کے وہ بندے کون ہوں گے؟ آئیے ! پڑھیے:

(1) اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی کرنے والے: اللہ پاک کے جو بندے دنیا میں رہتے ہوئے اس کی دی ہوئی ہد آیات پر عمل کرنے والے ہوں گے، وہ ہر طرح کے خوف و غم سے امن میں ہوں گے، چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

(2) اللہ پاک کے لیے چہرہ جھکانے والے اور نیکی کرنے والے: ایک انسان کے اعلی ایمان کا معیار یہ ہے کہ وہ اللہ پاک کے احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم کرے (یعنی سر جھکا دے) ، تاکہ قیامت کے دن خوف غم نہ ہو، اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)

(3) اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرکے،احسان نہ جتانے والے: اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرنا، سعادت مندی کے کاموں میں سے ہے، لیکن اس سے بڑھ کر خوش بختی کی علامت یہ ہے کہ بندہ خرچ کرکے، اللہ پاک کا اپنے اوپر احسان سمجھے، نہ کہ دینے والوں پر احسان جتائے،اللہ پاک ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)

(4) اللہ پاک کی راہ میں ہر حال میں خرچ کرنے والے : اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرنا، کسی صورت نفع سے خالی نہیں ہے اور دن ہو یا رات ، لوگ دیکھ رہیں ہو یا نہ دیکھ رہیں ہوں ہر حال میں اس کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگ اللہ کی بارگاہ میں زیادہ قرب اور انعام کے لائق ہیں چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

(5) ایمان لاکر ثابت قدم رہنے والے : اللہ پاک کے ایک ہونے اور اس کے آخری نبی ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا اور اس پر ثابت قدم رہنا سب سے بڑی کامیابی ہے اور ایسے خوش نصیبوں کے لیے جہاں کئی انعامات ہیں، انہی میں سے قیامت کے دن ان کا بے خوف اور پر امن ہونا بھی ہے ،جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

(6) ایمان والے اور اصلاح کرنے والے : اللہ پاک نے اپنے بندوں کو کامیابی کی ضمانت جن چیزوں کے ساتھ دی ہے،وہ اس کی ذات و صفات پر کامل طریقے سے ایمان لانا اور اس کے ساتھ اپنے نفس کی اصلاح کرنا، تاکہ بندہ اپنی اصلاح کرنے کر کے ایک با اخلاق اور باکردار مومن ہو، جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: -فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ7، الانعام:48)

(7) اللہ پاک کے اولیا: یوں تو سارے ہی بندے اللہ پاک کے ہیں، لیکن کچھ خاص ہیں، جنہیں وَلِیُّ اللہ کہاجاتا ہے، اللہ پاک انہی بھی قیامت کے دن بے خوف اور پُرامن حالت میں رکھے گا، نہ یہ کسی چیز سے خوفزدہ ہوں گے اور نہ کسی طرح کے غم میں ہوں گے،جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

قارئین کرام!یہ قرآنی آیات کی روشنی میں ان لوگوں کا بیان تھا، جن پر قیامت کے دن نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ہمیں بھی ان آیات پر غور وفکر کرکے، اِن صفات اور اِن اعمال پر عمل کریں تاکہ ہم بھی قیامت کے دن اللہ پاک کے ان بندوں میں شامل ہوں، جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اللہ پاک ہم سب کو قرآنی آیات و احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا فرمایا اور رسول پاکﷺ کے عاشقوں میں شامل فرمایا۔ یقیناً یہ ہمارے لئے سعادت دارین میں سے ہوگا کہ ہم اللہ پاک کے ان بندوں میں سے بن جائیں جن کو اللہ پاک نے خوف اور غم سے امن کی خوشخبری دی اور ان بندگان خدا کی پیروی کریں جن کے متعلق اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں سورۃ الاعراف کی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول تشریف لائیں جو تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت کریں تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ8، الاعراف:35)

اور اسی طرح دینی دوستی اور اللہ پاک کیلئے محبت رکھنے والوں کی تعظیم کے لیے روز محشر کہا جائے گا جس کا ذکر اللہ پاک سُورۃ الزخرف کی آیت 68 تا 70 میں یوں فرماتا ہے: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اور تمہیں خوش کیا جائے گا۔(پ25، الزخرف:68تا70)

اہل ایمان میں سے نیک لوگوں کے لیے ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)

توحید ورسالت پر ایمان لانے اور اس پر ثابت رہنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

یہاں تک کہ اللہ پاک کی راہ میں اپنی اموال خرچ کرنے والوں کے بارے میں سورۃ البقرہ کی آیت 274 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

غم و خوف سے نجات و امن کی بات ہوتو اللہ پاک اپنے اولیا کے بارے میں سورۃ یونس آیت 62 میں فرماتا ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

وہ لوگ جو ایمان لاکر اللہ پاک کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہوئے ثابت قدم رہے ان کے بارے میں سورۃ حٰم السجدۃ کی آیت 30 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کو قیامت کے خوف و غم سے امن اور نجات کے بارے میں بہت واضح طور پر بیان فرمایا کہ اللہ پر ایمان لاؤ اسکے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نیک عمل کرو ایمان کے ساتھ اور راہ خدا میں خرچ کرو تو تمہارے لئے خوف و غم سے امن ہے نجات ہے۔ ہم قرآن مجید میں غور وفکر کریں اور صحیح العقیدہ علمائے کرام سے رہنمائی لیں تو تو یقیناً ہمارے لئے رب نے قیامت کے خوف و غم سے نجات کے بہت سے طریقے بتائے ہیں مگر افسوس ہم میں اکثر لوگ غفلت و لاپرواہی اور دین سے دوری کے سبب گناہوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں ایمان پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور قیامت کے خوف و غم سے امن عطا فرمائے۔ آمین 


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ مکمل ہدایت دیتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے، اس کا طرزِ عمل کیا ہو اور ہم کن افعال و عادات کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ذیل میں قرآن کریم کی روشنی میں چند وہ اعمال ذکر کیے جا رہے ہیں جن کے سبب قیامت میں خوف و غم سے امن نجات ملے گی۔ ان شاءاللہ

(1)اللہ تعالی پر ایمان لانا: اللہ تعالی، قیامت کے دن پر ایمان لانا، اس پر قائم رہنا اور اچھے عمل کرنے کےسبب قیامت کے خوف غم سے امن کی بشارت قرآن کریم نے یوں دی ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرة:62) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

(2)اللہ تعالی کے رسولوں پر ایمان لانا: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (پ7، الانعام:48، 49)

(3) نماذ اور زکوة کی ادا کی: ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کرنے ہیں ۔جن اعمال کا دین اسلام تقاضا کرتا ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ:277)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


خوف و غم سے امن کے متعلق قرآنی آیات پڑھیے:

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:68تا70)

تفسیر: اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا : اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا نعمتیں دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے ۔

حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن منادی اعلان فرمائے گا: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) تو تمام لوگ اپنے سروں کو اٹھا لیں گے اور کہیں گے ہم اللہ کے بندے ہیں پھر دوسری بار منادی فرمائے گا: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) تو تمام کفار اپنے سروں کو جھکا لیں گے جبکہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں گے پھر تیسری بار منادی فرمائے گا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) کبیرہ گناہ کرنے والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے جبکہ متقی لوگ اسی طرح اپنے سر اٹھائے رکھیں گے اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق ان سے خوف اور غم دور کر دے گا کیونکہ وہ اکرم الاکرمین ہے وہ اپنے اولیاء کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ (صراط الجنان)

آیت مبارکہ:

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ(۵۲) یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ(۵۳) كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ(۵۴) یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ(۵۵) لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ-وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ(۵۶) فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۵۷)ترجمہ کنزالایمان: بے شک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں باغوں اور چشموں میں پہنیں گے کریب اور قنادیز آمنے سامنے یونہی ہے اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچا لیا تمہارے رب کے فضل سے یہی بڑی کامیابی ہے۔(پ25، الدخان:51تا57)

تفسیر: بے شک کفر اور گناہ کرنے میں اللہ تعالی سے ڈرنے والے ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں انہیں آفات سے امن نصیب ہوگا اور انہیں اس امن والی جگہ کے چھوٹ جانے کا کوئی خوف نہ ہوگا بلکہ یقین ہوگا کہ وہ وہیں رہیں گے وہ اس جگہ ہوں گے جہاں باغ اور بہنے والے چشمے ہوں گے وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے اور وہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس طرح ہوں گے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہوگی جنتی اسی طرح ہمیشہ دل پسند نعمتوں میں رہیں گے اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتوں سے ہم ان کی شادی کریں گے وہ جنت میں اس طرح بے خوف ہو کر اپنے جنتی خادموں کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں گے کہ انہیں کسی قسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا ، نہ میوے کم ہونے کا ، نہ ختم ہو جانے کا ، نہ نقصان پہنچانے گا نہ اور کوئی اندیشہ ہوگا۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد9)

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کا دن بڑی ہولناکیوں کا دن ہے اس دن نفسی نفسی کا عالم ہوگا ہر کوئی صرف اسی فکر میں ہوگا کہ بس کسی طرح وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ حالت یہ ہوگی کہ بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے دور بھاگے گا۔ اس قدر خوف طاری ہوگا لیکن انہی میں بعض خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز العرفان: انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

انہی خوش نصیبوں میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت کے دن بھی بے خوف اور اللہ کی طرف سے امن میں ہوں گے۔

( 1) ہدایت الٰہی کے پیروکار : اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا : قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان:ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

اس آیت مبارکہ میں بتایا گیا کہ جو لوگ ہدایت الہی کی پیروی کریں گے اور اللہ کے فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے تو ان کے لیے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بغیر غم جنت میں داخل ہوں گے۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 109 ملخصاً)

( 2) بغیر احسان جتلائے صدقہ کرنے والے : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بغیر احسان جتلائے اور بغیر تکلیف دئیے جو صدقہ کیا جائے تو اس کے سبب قیامت کے دن خوف سے امن نصیب ہوگا۔

یاد رکھیں! صدقہ دینے کے بعداحسان جتلانا اور جسے صدقہ دیا اسے تکلیف دینا ناجائز و ممنوع ہے اور اس سے صدقے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ احسان جتلانا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسرے کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور یوں اس کا دل میلا کریں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا، مفلِس تھا، مجبور تھا، نکما تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح اُس پر دباؤ ڈالیں۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 397)

( 3) اللہ کے اولیاء : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

قیامت کے دن ان ( اولیاء اللہ ) پرنہ کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ پاک نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 345)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کے ولیوں کی شان بہت بلند ہے کیونکہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرے اور اللہ پاک کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل ہر وقت اللہ پاک کی یاد میں ہو ، یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔ ( صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 344 ملخصاً)

اللہ تعالی ہم تمام کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہم تمام کو ان افراد میں شامل فرمائے کہ جو قیامت کے دن بھی خوف سے امن میں ہوں گے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔


قرآن پاک اللہ پاک کا کلام ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے بس اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا چاہیئے ۔ قرآن پاک کا موضوع انسان ہے ۔ اس میں انسان کے ظاہری و باطنی ، افعال و اقوال ، انفرادی و اجتماعی ، معاشی و معاشرتی ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی موجود ہے ۔ مندرجہ ذیل وہ آیات ہیں جن میں دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات والے اعمال بتائیں ہیں ۔

(1) ہدایت کے پیروکار: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرۃ :112)

(2) اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنا: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ :112)

(3) راہ خدا میں خرچ کرنا:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262) اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :274)

(4، 5، 6، 7)ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ :277)

(8) شہادت: فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ-وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور اپنے پیچھے(رہ جانے والے) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ4، آل عمران :177)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے بعد والے مسلمان بھی شہید ہوکر ان کے ساتھ ملیں گے تو وہ بھی یہ نعمتیں پائیں گے اور قیامت کے دن امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ۔

(9، 10 ) تقویٰ اور پرہیز گاری اوراپنی اصلاح کرنا: فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ8، الاعراف :35)

(11) ایمان پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف :13)

(12) اللہ کے اولیاء: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

یہ خوف و غم سے نجات دلانے والے وہ اعمال ہیں جو ہمیں قرآن پاک نے ہمیں سکھائے ہیں اور ان کے فائدہ مند ہونے میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں اور ہم خود غم سے نجات بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ جبکہ ہم بیمار ہو جائیں تو ہم صحت مند ہونا صرف چاہتے نہیں ہیں بلکہ ہم کڑوی اور مہنگی دوائی کھاتے ہیں ۔ لیکن قرآن ہمیں مفت میں دنیا اور آخرت میں خوف و غم سے نجات کا راستہ بتا رہا ہے ہماری بھاری اکثریت قرآن پڑھتی سمجھتی نہیں ہے ۔ کیا ہم تفسیر سننے سنانے کے حلقے میں شرکت کرتے ہیں؟ ؟ اگر جواب نہ ہے تو یہ ہماری قرآن پاک سے محبت ہے ! جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم بھی قرآن سے محبت کرتے تھے لیکن وہ تو ساری رات قرآن پڑھتے اور سمجھتے تھے اور دنیا کی پرواہ کئے بغیر اس کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے ! تبھی تو انہوں نے عروج پایا اور ہم پستی کے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !


قرآن   ہدایت کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دلوں کے زخموں پر مرہم اور روح کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ ربِّ کریم نے قرآن میں جا بجا ایسی تعلیمات عطا فرمائی ہیں جو انسان کے دلوں کو خوف و غم سے نکال کر امن، اطمینان اور یقین کی طرف لے جاتیں ہیں۔ ان شاء اللہ اسی قرآن کی روشنی میں آج ہم جائزہ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں خوف و غم سے نجات اور امن و سکون حاصل کرنے کے کون سے راستے بتائے ہیں۔

(1): اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

تفسیر صراط الجنان: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ: بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے۔ ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اور اس کی وحدانیّت کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے،پھر وہ اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں اور انہیں یہ بشارت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم آخرت میں پیش آنے والے حالات سے نہ ڈرو اوراہل و عیال وغیرہ میں سے جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے اس کا نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مُقَدّس زبان سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔( روح البیان، حم السجدۃ، تحت الآیۃ: 30، 8 / 254-255)

(2): وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تَهِنُوْا : اور سستی نہ کرو۔ غزوۂ احد میں نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف مائل تھے۔ ان کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس کی وجہ سے غم نہ کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان کافروں نے ہمت نہ ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی اور کم ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالآخر تم ہی کامیاب ہوگے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔

(3): قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)

تفسیر صراط الجنان: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔

(4): اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)

تفسیر صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: وہ جو ایمان لائے۔اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ البتہ معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے اس لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، 2 / 451، الحدیث: 3429)