قرآن پاک اللہ پاک کا کلام ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے بس اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا چاہیئے ۔ قرآن پاک کا موضوع انسان ہے ۔ اس میں انسان کے ظاہری و باطنی ، افعال و اقوال ، انفرادی و اجتماعی ، معاشی و معاشرتی ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی موجود ہے ۔ مندرجہ ذیل وہ آیات ہیں جن میں دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات والے اعمال بتائیں ہیں ۔

(1) ہدایت کے پیروکار: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرۃ :112)

(2) اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنا: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ :112)

(3) راہ خدا میں خرچ کرنا:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262) اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :274)

(4، 5، 6، 7)ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ :277)

(8) شہادت: فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ-وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور اپنے پیچھے(رہ جانے والے) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ4، آل عمران :177)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے بعد والے مسلمان بھی شہید ہوکر ان کے ساتھ ملیں گے تو وہ بھی یہ نعمتیں پائیں گے اور قیامت کے دن امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ۔

(9، 10 ) تقویٰ اور پرہیز گاری اوراپنی اصلاح کرنا: فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ8، الاعراف :35)

(11) ایمان پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف :13)

(12) اللہ کے اولیاء: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

یہ خوف و غم سے نجات دلانے والے وہ اعمال ہیں جو ہمیں قرآن پاک نے ہمیں سکھائے ہیں اور ان کے فائدہ مند ہونے میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں اور ہم خود غم سے نجات بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ جبکہ ہم بیمار ہو جائیں تو ہم صحت مند ہونا صرف چاہتے نہیں ہیں بلکہ ہم کڑوی اور مہنگی دوائی کھاتے ہیں ۔ لیکن قرآن ہمیں مفت میں دنیا اور آخرت میں خوف و غم سے نجات کا راستہ بتا رہا ہے ہماری بھاری اکثریت قرآن پڑھتی سمجھتی نہیں ہے ۔ کیا ہم تفسیر سننے سنانے کے حلقے میں شرکت کرتے ہیں؟ ؟ اگر جواب نہ ہے تو یہ ہماری قرآن پاک سے محبت ہے ! جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم بھی قرآن سے محبت کرتے تھے لیکن وہ تو ساری رات قرآن پڑھتے اور سمجھتے تھے اور دنیا کی پرواہ کئے بغیر اس کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے ! تبھی تو انہوں نے عروج پایا اور ہم پستی کے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !