اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو فرد کی نجی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان کی فطرت میں سماجی تعلقات یعنی میل جول، صحبت اور ہم نشینی شامل ہے۔ چونکہ انسان کا دوسرے انسانوں سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے، اس لیے اسلام نے "مصاحبت" اور "ہم نشینی" کے بھی خاص آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرے میں امن، محبت، اور باہمی احترام قائم رہے۔

(1) حسنِ اخلاق اور خوش زبانی: اسلام نے مصاحبت کے وقت”حسنِ اخلاق“ کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(پ1، البقرۃ: 83)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَن كانَ يُؤْمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ، فليَقُلْ خَيْرًا أو لِيَصْمُتْ "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے" (صحیح بخاری: 6136)

یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نشینی میں زبان کا نرم استعمال لازم ہے۔

(2) سلام اور خیرمقدم کا حق: اسلامی معاشرت میں سلام کو رواج دینے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ دلوں کو جوڑتا ہے۔أفشوا السلام بينكم "آپس میں سلام کو عام کرو" (صحیح مسلم: 54)

ہم نشینی کی ابتدا سلام سے ہو اور دوسروں کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا جائے، یہ محبت کو بڑھاتا ہے۔

(3) مجلس کے آداب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا يُقيمُ الرَّجلُ الرَّجلَ مِن مجلسِه، ثمَّ يجلسُ فيه "کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے" (صحیح بخاری: 6270)

مجلس میں سب کو برابری کا حق حاصل ہے۔ کسی کو نیچا دکھانا، طنز کرنا یا مذاق اڑانا سخت منع ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔ (پ26،الحجرات: 11)

(4) غیبت اور عیب جوئی سے گریز: مصاحبت اور ہم نشینی کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے عیب چھپائے جائیں، ان کی غیر موجودگی میں ان کی عزت کی حفاظت کی جائے۔ وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- ترجمہ کنزالایمان:ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔(پ26، الحجرات:12)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:من ستر مسلمًا ستره الله في الدنيا والآخرة "جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا" (صحیح مسلم: 2580)

(5) امانت داری: ہم نشینی میں کی گئی گفتگو کو دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:المجالس بالأمانة "مجالس امانت ہوتی ہیں" (سنن أبو داود: 4868)

کسی کی بات کو اس کی اجازت کے بغیر دوسروں تک پہنچانا گناہ ہے۔

(6) سچائی، اخلاص اور خیر خواہی: اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نشینی میں دھوکا، فریب، جھوٹ یا دوغلا پن نہ ہو بلکہ سچائی اور خیر خواہی ہو۔الدِّينُ النَّصِيحَةُ "دین تو خیر خواہی کا نام ہے" (صحیح مسلم: 55)

سچے مسلمان کی صحبت دوسروں کے لیے باعثِ رحمت اور خیر کا ذریعہ ہوتی ہے۔

(7) مشکلات میں ساتھ دینا: مصاحبت کا ایک اہم حق یہ ہے کہ خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ دیا جائے۔ حدیث شریف میں ہے:المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً "مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتا ہے" (صحیح بخاری: 2446)

مصاحبت اور ہم نشینی محض وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باہمی ذمہ داری اور تعلق ہے، جسے اسلامی آداب کے مطابق نبھایا جائے تو معاشرہ امن، محبت، بھائی چارے اور خلوص کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخلاق، گفتگو، رویے اور طرزِ نشست سے دوسروں کو راحت پہنچائیں اور ان کے حقوق کا مکمل خیال رکھیں۔