ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہر انسان کو کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ان حقوق کا تحفظ کرنا ہر فردِ معاشرہ کی ذمے داری ہے، لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس ناسور میں مبتلا ہے جسے حق تلفی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی خرابی نہیں، بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔

انسان جب دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، ان کا مال یا زمین غصب کرتا ہے، انصاف کے بجائے دھوکہ دہی اور خود غرضی کو ترجیح دیتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے۔ نہ وہ ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ ہی قیامت کے دن کے انجام کا خیال کرتا ہے۔ اسی ظلم کو حق تلفی کہتے ہیں۔

اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

تفسیر صراط الجنان جلد 2 سورۃ النساء میں آیت نمبر 29 کی تفسیر میں لکھا ہے: چوری، غصب، خیانت، دھوکہ دہی، رشوت، ناپ تول میں کمی، زبردستی وراثت دبانا، زمین پر ناجائز قبضہ اور دیگر تمام ایسے ناجائز طریقے جن سے دوسروں کا حق مارا جائے، وہ سب حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی بالشت بھر زمین بھی ظلماً لے لی، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری، 2/129، حدیث: 2453)

یہ حدیثِ مبارکہ ان تمام لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرتے ہیں۔

رشوتوں کے ذریعے زمین ہتھیانے والے، کسانوں کی زمین دبا لینے والے، سڑک یا سرکاری زمین پر قبضہ کر کے پلازے تعمیر کرنے والے، سب کو فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔

حق تلفی کی اقسام: حق تلفی کی کئی اقسام ہیں، مثلاً: زمین یا جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا، کسی کا مال، تنخواہ یا قرض روک لینا، وراثت میں حق نہ دینا، جھوٹ، فریب یا دغا سے نفع لینا، نوکری یا امتحان میں سفارش یا دھوکہ دہی کے ذریعے دوسرے کا حق مارنا، علما و مشائخ، والدین، اساتذہ یا محنت کش افراد کی بے قدری کرنا وغیرہ۔

حق تلفی پیدا ہونے کی وجوہات: دنیا کی محبت اور لالچ، ایمان کی کمزوری، احساسِ جوابدہی کا فقدان، ظلم کو گناہ نہ سمجھنا، قانونی کمزوریاں یا خاموشی اختیار کرنا۔

حق تلفی سے بچاؤ کے طریقے: قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا، اپنے ضمیر کو زندہ رکھنا، ایمان مضبوط کرنا اور آخرت کا یقین رکھنا، لوگوں کو ان کا حق خوش دلی سے دینا، دعوتِ اسلامی جیسے دینی ماحول سے وابستہ ہونا، اپنے عمل کا محاسبہ کرنا اور عاجز رہنا۔

حق تلفی بظاہر دنیاوی فائدہ دیتی ہے لیکن درحقیقت یہ آخرت کا بڑا خسارہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ انصاف، عدل اور محبت سے بھر جائے تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ دوسروں کا حق دینا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہمارا دینی، اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے۔

اللہ پاک ہمیں ہر قسم کی حق تلفی سے بچائے اور دوسروں کو ان کا حق خوش دلی سے دینے والا بنائے۔ آمین بجاہِ النبیِّ الامین ﷺ