محمد
عدیل عطاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
قرآن کریم
وہ آسمانی کتاب ہے جو انسانیت کے لیےہدایت رحمت اور نورِ بصیرت ہےاس کے فہم و تفسیرکامطالعہ
دلوں کو منور کرتا اور بندے کو قربِ الٰہی کے رازوں سے آشنا کرتا ہےصحابہ کرام
تلاوت کے ساتھ ہر آیت پر رک کر اس کے معنی و مقصد پر غور کرتے تھے یہی ان کے ایمان
کی پختگی کا راز تھاائمہ و مفسرین نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کی تفسیر پڑھے بغیر دین
سمجھنے کا دعویٰ کرے وہ دراصل ہدایت کے دروازے سے دور ہےمطالعۂ تفسیر صرف علم نہیں
بلکہ عبادت ہےجو انسان کے ظاہر و باطن کو نُورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے ۔
(1) قرآن
پر غور و فکر کی فضیلت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین عبادت یہ ہے کہ انسان
قرآن کو غور و فکر کے ساتھ پڑھے کیونکہ تدبر و تفسیر سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے
اور دلوں میں معرفتِ الٰہی کی روشنی پیدا ہوتی ہےجو شخص بغیر سمجھ کے قرآن پڑھے وہ
صرف زبان ہلاتا ہے مگر روحانی فیض سے محروم رہتا ہے ۔ (الدر المنثور، جلد 1، صفحہ
22، حدیث نمبر 43، باب: فضلِ تلاوتِ قرآن، فصل: فی التدبر والتفک)
(2)قرآن پر
غور کیے بغیر پڑھنے والے کی مذمت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے قرآن پڑھنے
والے ایسے ہیں کہ قرآن خود ان پر لعنت کرتا ہے وہ تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن کے
معانی اور مقاصد پر غور نہیں کرتےجو شخص قرآن کو صرف تلاوت کے طور پر پڑھے مگر
سمجھنے کی کوشش نہ کرے اس کی تلاوت اس کے خلاف حجت بنے گی ۔ (کنز العمال، جلد 2،
صفحہ 524، حدیث نمبر 24294، باب: فضلُ القرآن، فصل: فی قراءتہ بترتیل وفہم)
(3) قرآن
کو سمجھ کر پڑھنے کی تاکید:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تین دن سے کم وقت میں
قرآن ختم کرے وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتاکیونکہ قرآن غور و تدبر کے لیے نازل ہوا ہے
جو شخص ٹھہر ٹھہر کر معنی کے ساتھ قرآن پڑھےوہی اس کے حقیقی فیض کو حاصل کرتا ہے ۔
(سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 298، حدیث نمبر 1394، باب: فی کم یقرأ القرآن، فصل: فی
التدبر والتفکر)
(4)مومن
قرآن میں غور و فکر کرتا ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب قرآن پڑھتا ہے تو
اس میں غور و فکر کرتا ہےاس کی آیتوں سے نصیحت حاصل کرتا ہےاس کے نور سے ہدایت لیتا
ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہےجو شخص تلاوت کے وقت دل و دماغ حاضر رکھےوہی سچا
قاری ہے ۔ (شعب الایمان، جلد 2، صفحہ 364، حدیث نمبر 1974، باب: فی تلاوة القرآن،
فصل: فی التدبر والتفکر)
(5)قرآن کے
معنی میں تدبر نہ کرنے والا غافل ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو قرآن پڑھے مگر
اس کے معنی و مفہوم پر غور نہ کرےوہ اس اندھے کی طرح ہے جو روشنی میں بھی کچھ نہیں
دیکھتاقرآن ہدایت کی کتاب ہے اور جو شخص اس کی آیات میں تدبر نہیں کرتا وہ ہدآیت
سے محروم رہتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان،
جلد 1، صفحہ 43، باب: تفسیر سورۃ البقرہ، فصل: فی الحث علی تدبر القرآن)
مطالعۂ
تفسیر انسان کو قرآن کریم کے حقیقی مفہوم مقاصدِ الٰہی اور انبیاء کی تعلیمات سے
روشناس کراتا ہےیہ
دل و دماغ
کو نورِ ایمان سے منور کر کے عملِ صالح کی راہ دکھاتا ہےیوں تفسیر کا مطالعہ محض
علم نہیں بلکہ بندگی معرفت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنتا ہے ۔
قرآن کریم کے
معانی و مفاہیم کو سمجھنے کے لیے مطالعہ تفسیر ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ ذیل میں اس سے متعلق تفصیلات بیان کی جارہی ہیں
۔
(1)مطالعہ
تفسیر کی ضرورت و حاجت:قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی ممکن ہے ؛علومِ عربیہ کا ماہر ہوجائے اور قرآن سمجھنے
کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس کے لیے
بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں؛ اصل
علم، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن
قرآن ہے اور یہ علم صرف اور صرف توفیقِ
الٰہی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کِرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے
لیے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتےتھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سُوال کرتے تھے ۔ چنانچہ جب سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 187 (وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ
لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (8 پ 2، البقرۃ: 187) ترجمہ کنز العرفان:”اور
کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر سے سفیدی(صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے
سے ممتاز ہو جائے ۔ “ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان
فرمایا گیا ہے تو صحابیِ رسول حضرت عَدِی
بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی
سے جدا ہوجائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہوئیں؛ وہ صبح رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور رات کی صورتِ حال بیان
کی تو آپ نے اِرشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَض یعنی سفید
ڈورے سے دن کی سفیدی اورخَیْطُ الْاَسْوَدیعنی کالے ڈورے سے رات
کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری،،جلد1/صفحہ 632،کتاب الصوم حدیث:1916 ۔ )
وضاحت:یقیناً
صحابۂ کِرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات
کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیرِ قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیرِ قرآن کے محتاج ہیں ۔
(2)مطالعہ
تفسیر کے فوائد:ویسے تو تفسیر پڑھنے کے بہت سارے فوائد ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل
میں ہے ۔
(1)احکامِ شرعیہ
کا ادراک: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے حلال و حرام، فرائض و
واجبات اور دیگر احکامات بیان فرمائے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تفصیلی وضاحت پیش کرتی ہے، جس سے ان پر صحیح طریقے سے
عمل کرنا آسان ہوتا ہے ۔
(2)شانِ
نزول کا علم:بہت سی آیات مخصوص حالات یا واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئیں ۔ تفسیر ہمیں ان "شانِ نزول" سے آگاہ
کرتی ہے، جس سے آیت کا سیاق و سباق اور اس کا اصل مقصد سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
(3)عقائد و
نظریات کی درستگی: تفسیر کے مطالعہ سے قرآن کے بنیادی عقائد، توحید، رسالت، آخرت
اور دیگر ایمانیات کی صحیح فہم حاصل ہوتی ہے، جو غلط نظریات اور بدعات سے بچنے کے
لیے ضروری ہے ۔
(4)سیرتِ
نبوی سے آگاہی: قرآن کی بہت سی آیات کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی سیرت، غزوات اور دعوت
سے ہے ۔ تفسیر ان واقعات کو واضح کرتی ہے،
جس سے سیرت النبی ﷺ کا گہرا مطالعہ ممکن ہوتا ہے ۔
(5)باہمی
اختلافات کا حل:بعض اوقات قرآنی آیات کو سمجھنے میں مختلف آراء پیدا ہو جاتی ہیں
۔ تفسیر کا گہرا مطالعہ ان اختلافات کو
دلائل کی روشنی میں حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔
(6)روحانیت
اور قربِ الٰہی:جب انسان اللہ کے کلام کے معانی کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے دل میں
اللہ کا خوف اور محبت بڑھتی ہے ۔ یہ روحانیت
حاصل کرنے کا ذریعہ اور اللہ کے قرب کا باعث بنتا ہے ۔
(7)دعوۃ و
تبلیغ: قرآن کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کی صحیح فہم ضروری ہے
۔ مفسرین کے اقوال اور تفسیری نکات دعوۃ و
تبلیغ میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔
اللہ پاک
ہمیں تفسیری مطالعہ کرنے اور اس کے ذریعے قرآن کے درست معانی و مفہوم کو سمجھنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صحیح معنیٰ میں قرآن وسنت کا پابند بنائے آمین ۔
محمد
انیس (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
آجکل
مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو قرآن پاک سے اتنی دور ہے کے درست قرآن پاک نہیں پڑھنا
آتا ۔ ایسے حالات میں تفسیر کا مطالعہ جو کرتے ہوں گے ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ تفسیر کے مطالعہ کی پہلے کے مقابلے میں آجکل
بہت ضرورت ہے ۔ قرآن پاک کا سمجھنا صرف عربی سمجھنے پر موقوف
نہیں ہے جو عام عربی سمجھنے والا بھی
آسانی سے نہیں سمجھ سکتا ہے صحابہ اکرام جو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کو سمجھتے تھے ان کے بھی واقعات ملتے ہیں کے قرآن پاک کے معانی و مطلب
سمجھنے کے لیے حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے ۔
تفسیر کی تعریف : قرآن مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو
عقل سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو ۔ (تفسیر
صراط الجنان ، ، جلد 1 ، صفحہ 30 ) عنوان کے مطابق نہیں
حکم : قرآنِ مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام
ہے اور آپنے علم ومعرفت سے قرآن کی جائز تاویل بیان کرنا اہل علم کے لئے جائز اور
باعث ثواب ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ، ،
جلد 1 ، صفحہ 30) ۔
(1)مطالعہ
تفسیر کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں :
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 82 )
یہاں قرآن
پاک میں لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ قرآن پاک میں غور فکر کرنا عبادت ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 2 صفحہ 258 )
(2) قرآن
پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت :حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی
مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے
پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں
معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی
تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصدچراغ لے کر آیا تو
انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوآپڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں
کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، 1/ 41،
الجزء الاول، خُلاصہ ) ۔
مطالعہ تفسیر
قرآن مجید کی تفسیر اور تشریح کا مطالعہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ یہ علم قرآن کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کے
احکام و ہدایات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لئے نہایت اہم اور بہت ضروری ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت
(1)قرآن کی
سمجھ: قرآن مجید کی تفسیر کرنے سے ہمیں اللہ تعالیٰ کے کلام کی صحیح سمجھ حاصل ہوتی
ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 10)
(2)دینی بصیرت:
مطالعہ تفسیر سے ہمیں دینی بصیرت حاصل ہوتی ہے اور ہم اپنے عقائد و اعمال کو درست
کر سکتے ہیں ۔ (تفسیر قرطبی، جلد 1، صفحہ
5)
(3) زندگی
کے مسائل کا حل: قرآن کی تفسیر سے ہمیں زندگی کے مختلف مسائل کا حل ملتا ہے ۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 20)
مطالعہ تفسیر
کی اہمیت
(1) علم کی
وسعت: مطالعہ تفسیر سے ہمارا علم وسیع ہوتا ہے اور ہم قرآن کی گہرائیوں کو سمجھنے
کے قابل ہوتے ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد
1، صفحہ 15)
(2)ایمان کی
مضبوطی: قرآن کی تفسیر پڑھنے سے ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی
رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 10)
(3)امت
مسلمہ کی رہنمائی: مطالعہ تفسیر سے امت مسلمہ کے رہنماؤں اور علماء کو قرآن و سنت
کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے (تفسیر جلالین، صفحہ 30)
مطالعہ تفسیر
ایک ضروری عمل ہے جو ہمیں قرآن مجید کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا
ہے ۔ ہمیں اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل
کرنا چاہئے ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1،
صفحہ 20)
محمد
ایاز عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
ایک بہترین
اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے انسان کی پدائش
سے لے کر مرنے تک اور اس کے بعد کے تمام احوال جیسے قیامت، حشر و نشر، اعمال پر
جزا و سزا ، جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان قرآن پاک میں کہیں صراحتاً تو کہیں پوشیدہ
الفاظ میں موجود ہے ۔
(1) قرآن
پاک کی صرف تلاوت کرنا ہی کافی نہیں:قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے صرف
قرآن پاک کی تلاوت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنا اس کے
سمجھنے پر موقوف ہے ۔
تفسیر کو
نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:تفسیر ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے قرآن پاک کو بخوبی
سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کرسکتے ۔ قرآن
پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر بہت ضروری اور اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر قرآن پاک کی تفسیر
کو نظرانداز کردیا جائے اور فقط ترجمہ پڑھ کر قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کریں تو
بسااوقات بندہ گمراہی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے یا العیاذ باللہ کفر کے اندھیرے میں
جا پہنچتا ہے۔
قرآن پاک میں
غور و فکر:قرآن پاک کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی آیات میں غور و فکر بھی لازمی ہے
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمہ کنزالعرفان : تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ
دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔ (سورہ محمد آیت نمبر 24)
امام غزالی
رحمۃ اللہ الوَالی فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر
غور و فکر کئے پورا قراٰن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء العلوم،ج5،ص170)
اللہ پاک
سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں قرآن پاک میں غور و فکر کرکے اس کے معنی و مفہوم سمجھنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ
احمد
مرتضیٰ عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ ربّ العزت کا وہ معجزاتی کلام ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانیت کے لیے ہدایت
کا سرچشمہ ہے مگر یہ ایسا کلام جس میں ہر لفظ کے پیچھے حکمت ہے، جس میں ہر آیت کے
اندر ایک جہان پوشیدہ ہے ۔ اللہ پاک سورہ
نحل آیت نمبر 44 میں ارشاد فرماتا ہے ۔ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ
اِلَیْهِمْ ۔
ترجمہ کنز
الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو
جو ان کی طرف اترا ۔
یاد رہے
قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن قرآن میں غوروفکر کرنا اور احکامات وغیرہ
بیان کرنا مفسرین کا ہی کام ہے ۔ لہذا ہم
عوام کو کہ مستند صحیح العقیدہ علماء کی تفاسیر کا مطالعہ کریں ۔ اسی بناء پر مطالعۂ تفسیر کی اہمیت کو سمجھنا،
اس کا ذوق پیدا کرنا اور اس سے استفادہ کرنا ہر مسلمان کی علمی و عملی ضرورت ہے ۔
قرآن میں
غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی تو اس کے پیچھے ہمارے لیے دین و دنیا کے کے بہت فوائد
موجود ہیں جیسے چند بیان کیے جاتے ہیں ۔
(1) خشیت
الٰہی کا ذریعہ:مطالعہ تفسیر انسان کو دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کا ذہن دیتی ہے نیز
عذاب و وعید والی آیات کے معانی کا فہم دیتی ہے ان وجوہات کی بنا پر دل میں خشیت
الٰہی اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اللہ
تعالی تلاوت قرآن کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔
ترجمہ
کنزالعرفان: اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں
پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں ۔ (پارہ 23 سورة الزمر آیت 23)
(2)عقائد کی
درستگی کا ذریعہ:صحیح العقیدہ سنی علماء کی تفاسیر کے مطالعے سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے
۔ اس کے متعلق ابو صالح مفتی محمد قاسم
عطاری تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں ۔ دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء
، فُقہاء،محدثین ومفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ
کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت
جاہل ہی گزر گئی ہے ۔ یہ لوگ یقینا گمراہ
ہیں ۔ (صراط الجنان جلد 2 ص 258،259)
لہذا
مطالعہ تفسیر سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے جیسے علم غیب مصطفیٰ، اختیارات مصطفیٰ،
اور نورانیت مصطفیٰ ﷺ وغیرہ ۔
(3)احکام
شریعت کی وضاحت کا ذریعہ:قرآن مجید شریعت کا اصل ماخذ ہے اور اس کی تفہیم
کے بغیر کئی احکامات پر عمل بظاہر ممکن نہیں نظر آتا جیسے قرآن کریم میں نماز،
روزہ ، زکوة ،حج ، نکاح ، طلاق وغیرہ کئی احکامات اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں ان
کی تفصیل، اور شرائط و قیودات صرف تفسیر وسنت کے مطالعے سے ممکن ہےکیونکہ قرآنِ
پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے ۔
اللہ پاک
سے دعا اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر درست انداز سے چلنے اور تفاسیر کا مطالعہ
کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
سید
وقار الدین شاہ (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
مطالعۂ تفسیر
کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ قرآن پاک کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے،
اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے ۔
امام جلال
الدین سیوطی شافعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جس زمانے میں قرآن مجید عربی
زبان میں نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ، وہ اس کے
ظاہر اور اس کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و
فکر کرنے اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے سوالات کرنے کے
بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں جیسے جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ تو صحابہ کرام رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنْہم
نے رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی
ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا ۔ نبی
کریم صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَالِہ وَسَلَّمَ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہاں
ظلم سے مراد شرک ہے اور اس پر اس آیت ” اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ“ سے استدلال فرمایا
۔ جب میدانِ فصاحت و بلاغت کے شہسواروں کو
قرآن کے معانی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی ) تو ہم تو اُس چیز
کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے
محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار ورموز اور اس کے مراتب معلوم نہیں
ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن النوع
السابع والسبعون، فصل واما وجہ الحاجۃ اليہ الخ، ٢ / ٥٤٦-٥٤٧ ، ملخصاً)
مطالعۂ تفسیر
کی چند اہم پہلو:
(1) قرآن
پاک کو صحیح سمجھنے کے لیے: قرآن پاک کی تلاوت سے ہر آیت کا مکمل مفہوم سمجھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ تفسیر کے مطالعے سے آیات کے چھپے ہوئے معانی ان کا تاریخی پس منظر اور ان کی گہری حکمت
سامنے آتی ہے جس سے قرآن کا حقیقی مفہوم
سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
(2) احکامِ
شرعیہ پر عمل کے لیے: تفسیر کے ذریعے قرآن پاک میں بیان کردہ احکام، فرائض اور واجبات کو درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے
۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکم کس
وقت، کس تناظر میں اور کس مقصد کے لیے نازل ہوا ۔
(3) غلط فہمیوں سے بچاؤ کے لیے:تفسیر کا مطالعہ
قرآن کی آیات کی غلط تشریح اور تاویل سے بچاتا ہے ۔ جب تک قرآن کی گہرائیوں کو نہ سمجھا جائے اس کی
آیات کی غلط تشریح سے گمراہی اور ایمان سے دھو بیٹھنے کا خطرہ رہتا ہے ۔
(3) دینی دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے: دعوتِ اسلامی
کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا ہے ۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ مبلغین قرآن پاک کے پیغام کو مکمل علم کے
ساتھ پیش کریں ۔ تفسیر کا مطالعہ دعوت کے
کام کو زیادہ جامع اور مضبوط بناتا ہے ۔
(4) ایمان کی مضبوطی کے لیے: قرآن کے کلام الٰہی
ہونے کو سمجھنے سے ایمان اور اللہ عزوجل سبحانہ و تعالیٰ سے تعلق مزید گہرا ہوتا
ہے ۔ جب بندہ تفسیر قرآن پاک کے ذریعے
اللہ کے کلام میں غور و فکر کرتا ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف پیدا
ہوتا ہے ۔
(5) دعوتِ اسلامی کے کاموں میں شامل ہونا: دعوتِ
اسلامی اپنے مبلغین اور واعظین کو تفسیر کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کے
لیے وہ مختلف تعلیمی اور تنظیمی طریقۂ کار بھی پیش کرتے ہیں ۔
محمد
انیق خان عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا وہ معجزہ ہے جو تا قیامت انسانیت
کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے:
هُدًى
لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (2)ترجمہ
کنزالعرفان:اس میں ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے ۔ عنوان کے مطابق نہیں
قرآن پاک کے معانی اور مفاہیم کو سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر
نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر تفسیر کے قرآن کے گہرے معانی اور شانِ نزول کو سمجھنا
عام انسان کے لیے ممکن نہیں ۔ اور ویسے بھی تفسیر کی اہمیت کو آپ یوں سمجھیے کے بادشاہ اگر کسی کے ذریعے اپنے وزیر
کو خط بھیجے اور اس خط میں لکھا ہو کہ میں تین ماہ بعد آؤں گا تو مجھے فلاں جگہ پر
ایک مکان بنا ہوا چاہیے تو جب وزیر تک وہ
خط پہنچے اور وہ خط اس کی مادری زبان کے
علاوہ ہو تو بس وزیر اس خط کو پڑھتا رہے
اس خط کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں بس اس کو پڑھتا رہے اور سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرے تو وہ یقیناً بادشاہ کی طرف سے
سزا کا مستحق ہوگا تو اسی طرح قرآن پاک بھی
ہے اس کو پڑھنے کے اگرچہ بے حد فوائد ہیں لیکن صرف پڑھتے رہنا اور اس کو نہ سمجھنا اور
اس پر عمل نہ کرنا تو ہلاکت ہی ہے تو تفسیر قرآن پڑھنے کے بے حد فوائد ہیں:
تفسیر کا مفہوم اور ضرورت:لفظ “تفسیر” عربی زبان کے لفظ
"فَسَّرَ" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “کھولنے” یا “واضح کرنے” کے ہیں ۔
تفسیر سے مراد قرآن پاک کے الفاظ، آیات، احکام اور معانی
کو ان کے اصل مفہوم کے ساتھ واضح کرنا ہے ۔
تفسیر کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ قرآن مجید کے بعض
مقامات ایسے ہیں جن میں شانِ نزول، ناسخ و منسوخ، احکامِ شرعیہ اور لغوی نکات شامل
ہیں ۔ ان سب کو سمجھنے کے لیے مفسرینِ
کرام نے اپنی علمی کاوشوں سے تفسیری ذخیرہ فراہم کیا ۔
علمِ تفسیر کی اقسام:
1، تفسیر بالمأثور:
وہ تفسیر جو قرآن کی آیات کی تشریح قرآن، حدیث، اقوالِ
صحابہ یا تابعین سے کرے ۔
2، تفسیر بالرائے:
وہ تفسیر جو علم، عربی زبان، اصولِ فقہ اور شرعیات کی بنیاد
پر کی جائے، بشرط یہ کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو ۔
مطالعۂ
تفاسیر کی اہمیت:قرآن مجید کا فہم صرف تلاوت سے نہیں بلکہ تفسیر کے مطالعے سے حاصل
ہوتا ہے ۔ مفسرین نے اپنی عمریں صرف کر کے
امت کے لیے قرآن کی تشریح کی،مطالعۂ تفاسیر کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
(1) قرآن
کے معانی کی گہرائی تک رسائی:ہر آیت کے پس منظر، شانِ نزول اور مفہوم کو سمجھنا
آسان ہوتا ہے ۔
(2) احکامِ
شریعت کی معرفت:تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ کن آیات سے فقہی احکام اخذ کیے گئے ۔
(3) عقائد
و اخلاق کی اصلاح:تفاسیر کے ذریعے ایمان مضبوط ہوتا اور عملِ صالح کی رغبت پیدا ہوتی ہے ۔
قرآن مجید
کے فہم کے لیے تفاسیر کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ آج کے دور میں جب قرآن کے مفاہیم کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ مستند مفسرین کی تفاسیر سے رہنمائی حاصل کرے ۔ مثلا ،صراط الجنان ، خزائن العرفان تفسیر نعیمی وغیرہ
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ قرآن کے ساتھ ساتھ اس کی تفاسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں تاکہ ایمان، عمل
اور اخلاق میں پختگی پیدا ہو اور ہم قرآن کے حقیقی پیروکار بن سکیں ۔
محمد
عدنان عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ پاک کی
طرف سے بنی آدم کی طرف اتاری جانی والی کتابوں میں سے ایک کتاب قرآن مجید بھی ہے
جس میں اولین و آخرین کا علم رکھا گیا اور سیدھے راہ کی ہدایت کا مکمل سامان کیا گیا
مگر ایک عام آدمی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ خود سے اس کتاب ہدایت
سے درست راہنمائی لے سکے اس صورت میں ہمیں حکم ہے کہ اہل ذکر سے راہنمائی لیں کہ
جنہوں نے علم کی روشنی میں قرآن کو درست سمجھا ۔ رب
تعالیٰ فرماتا ہے :
فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ
لَا تَعْلَمُوْنَۙ ترجمۂ کنز الایمان: تو اے لوگوعلم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔ (پ14 النحل آیت 43)
اور اس
بارے میں ان سے علم حاصل کرنے کا ذریعہ تفسیر کا مطالعہ کرنا بھی ہےتو ہمیں
تفسیر پڑھنا یوں بھی لازم ہوا ۔ آپ نے جو یہ
پڑھا کہ ایک عام آدمی قرآن کوخود سے نہیں سمجھ سکتا اسکو مزید واضح کیا جاتا ہے جس
سے تفسیر کی ضرورت و اہمیت اور زیادہ معلوم ہو گی تفسیر قرآن کے ہم محتاج ہیں ۔
(1)مراد
الٰہی کو سمجھنے کے لئے :ہر چیز صرف ترجمے سے سمجھ نہیں آسکتی یا
جو ہم نے سمجھا مراد الہی بھی وہی ہو یہ ضروری نہیں بلکہ کئی بار ہم
ظاہر لفظوں سے کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کا مقصود کچھ اور ہوتا ہے لہذا ہمیں
تفسیر دیکھنی ہوگی جہاں یا تو خود قرآن مجید سے یا حدیث مبارکہ سے یا اقوال
صحابہ سے یا دیگر علوم کی مدد سے مراد الہی وحکم الہی کو بیان کیا گیا ہوگا ۔
(2)کسی
مجمل بات کو سمجھنے کے لیے :یعنی کچھ باتیں مکمل بیان نہیں ہوتیں جیسے کسی
واقعہ کو مختصر بیان کیا جاتا ہے اور پوری بات سمجھنے کے لیے پورا
واقعہ سمجھنا ہوتا ہے تو اسکو جاننے کے لیے کتب تفاسیر کو پڑھنے کی ضرورت پیش آتی
ہے ۔
(3)مشکل
مقام کی وضاحت دیکھنے کے لیے :بعض جگہ آیات کے ربط اور کلمات کے ربط کو سمجھنا
بہت دشوار ہوتا ہے 'جیسا کہ مطالعہ قرآن کرنے والوں پر مخفی نہیں' لیکن
اسے تفسیر سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے
اور اسی
طرح بعض الفاظ قرآنی ایسے ہیں جو عام بول چال میں استعمال نہیں کیے جاتے تھے جس کی
وجہ سے ان کے معنی ذہنوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں مگر کتب تفاسیر میں ان
تمام مشکل الفاظ کے معنی کو بیان کر دیا گیا ہے تو ان مشکلات کے حل کے
لیے ہم تفسیر کے محتاج ہوئے
(4)سبب
نزول کی معرفت كئ لیے :قرآن پاک کی
آیات دو طرح کی ہیں نمبر ایک کہ جو بغیر کسی سبب کے یا بغیر کسی واقعے کے، ابتداً
نازل ہوئیں دوسری قسم کی وہ آیات ہیں جو
کسی واقعہ کے بعد نازل ہوئیں اس دوسری قسم کی آیات کو سمجھنے کے لیے سبب نزول کو
سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ اس سے ہمیں آیت کا مقصد معلوم ہو جاتا ہے
اور اس کو نہ جاننے کی صورت میں کچھ کا کچھ سمجھ جانے کا بہت امکان رہتا ہے ۔
اسکی ایک مثال وہ آیات ہیں جو بتوں کے متعلق
نازل ہوئیں تو اگر کوئی ان کو مسلمانوں اور اولیاء اللہ پر چسپاں کرنے
کی کوشش کرتا ہے تو وہ قرآن کا درست فھم نہیں رکھتا تو پیارے قارئین تفسیر کو پڑھے
بغیر قرآن کو درست طریقے سے سمجھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن سا ہے ۔
(5)آیات
سےحاصل ہونے والی معلومات کو جاننے کے لیے :جیسا کہ آپ نے شروع میں
پڑھا کہ قرآن پاک میں اولین و اخرین کا علم ہے یہاں تک کہ ابن عبّاس رضی اللہ عنہ
نے فرمایا؛
کہ اگر میرے
اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو قرآن عظیم میں اسے پالوں( الاتقان فی علوم القرآن النوع
الخامس جلد 4 صفحہ 30 ناشر الھیئۃ المصریہ العامہ للکتب)
لیکن کیا
ہر شئ کا ذکر قرآن پاک میں صراحت سے ہے ؟
نہیں بلکہ کچھ معانی، الفاظ کے پردوں میں پوشیدہ ہیں
تو کچھ اسرار، عبارات کے اشاروں میں مخفی اور کچھ احکام، نصوص کی گہرائیوں
میں رکھے تو کچھ حقائق،کلام کے سیاق و سباق کے تقاضوں میں چھپے جن کو
تفسیر کے جانے بغیر جاننا ہر ایک کے بس کی بات نہیں لہذا انکو جاننے کے لیے تفسیر
کو پڑھنا ،سمجھنا لازم ہے
اللہ پاک
ہمیں علم قرآن عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین بجاہ النبی الامین
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محمد
بلال رضا عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید کو انسانیت کی ہدآیت کے لیے نازل فرمایا ۔ یہ کتابِ ہدایت نہ صرف ایک ضابطۂ حیات ہے بلکہ
روحانی ترقی کا سرچشمہ بھی ہے ۔ مگر قرآن
کا حقیقی فہم اُسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب اسے تفسیر کے ساتھ سمجھا جائے ۔ تفسیر وہ
علم ہے جو قرآن کے الفاظ، معانی، شانِ نزول، اور احکام کی وضاحت کرتا ہے ۔ اگر تفسیر کا مطالعہ نہ ہو تو بندہ قرآن کے
الفاظ تو پڑھ لیتا ہے مگر ان کے معنی و مقصد سے محروم رہ جاتا ہے ۔
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ
لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف
یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔ (النحل:44)
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیمات بیانِ نبوی ﷺ کے ذریعے ہی مکمل طور پر سمجھی جا
سکتی ہیں ۔ چنانچہ قرآن کا فہم رسول اللہ ﷺ
کی وضاحت کے بغیر ممکن نہیں، اور یہی وضاحت علمِ تفسیر کا بنیادی مقصد ہے ۔
قرآن سیکھنے
کا مطلب صرف حروفِ تلاوت جاننا نہیں، بلکہ اس کے معانی، احکام، اور مقاصد کو
سمجھنا ہے ۔ یہ سمجھ تفسیر کے مطالعے سے ہی
حاصل ہوتی ہے ۔ جو شخص تفسیر پڑھتا ہے، وہ
قرآن کے روحانی و عملی پہلوؤں سے روشناس ہوتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق
ڈھالتا ہے ۔ مطالعۂ تفسیر سے بندے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کی آیات
کو عقل و شعور کے ساتھ سمجھتا ہے ۔ تفسیر کا مطالعہ ہمیں غلط فہمیوں سے بچاتا ہے
اور قرآن کے صحیح مفہوم تک پہنچاتا ہے ۔ یہی علم علماء و صالحین کو قرآن کے فہم میں
ممتاز بناتا ہے ۔
ایک عام
مسلمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ کم از کم معتبر تفاسیر (مثلاً تفسیر صراط الجنان،
تفسیر خزائن العرفان وغیرہ) سے قرآن کا مطالعہ کرے ۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں
بلکہ عمل اور تدبر کے لیے نازل ہوا ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید
کی آیات کا تفسیر کے ذریعے مطالعہ کرے،تاکہ وہ صرف پڑھنے والا نہیں بلکہ سمجھنے
اور عمل کرنے والا مومن بن جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن فہمی اور اس پر عمل کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ
قرآن کریم
اللہ پاک کی عظیم کتاب ہے جس میں انسان کی ہدایت ، معاشرتی و اخلاقی تربیت کے لیے
رہنمائی موجود ہے قرآن کریم کے کئ الفاظ ایسے ہیں جن کے ظاہری معنی سے مقصود اصلی
تک پہنچنا مشکل ہوتا کیونکہ کبھی مراد وہاں کچھ اور ہوتی ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں
تفسیر کی حاجت پڑتی ہے اگر کوئی کہے کہ میں صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ کر مراد کو
سمجھ لوں گا تو یہ مشکل ہے لہذا قرآن کریم کی تلاوت کیساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ
بھی ضروری ہے تاکہ ہم صحیح معنوں میں سمجھ سکے کہ اس میں بیان کیا ہے ۔
اللہ پاک
سورۃ طٰہ کی آیت نمبر 4 میں ارشاد فرماتا ہے:تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰى
ترجمہ کنز الایمان:اس کا اتارا ہوا جس نے زمین
اور اونچے آسمان بنائے ۔
اس آیت
مبارکہ میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا کہ اس ذات نے یہ قرآن اتارا جو زمین
و آسمانوں کا خالق ہے جب زمین و آسمان کو بنانے والا رب اتنی عظمت والا تو اس کا نازل کیا ہوا قرآن کتنی عظمت والا
ہوگا
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ: یہاں قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے
کہ لوگ اس کے معانی میں غور و فکر کریں اور اس کے حقائق میں تَدَبُّر کریں کیونکہ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ جس پیغام کو بھیجنے والا انتہائی عظیم ہو تو
اس پیغام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور پوری توجہ سے اسے سنا جاتا ہے اور بھر پور طریقے
سے اس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اور جب قرآن
کریم کو نازل فرمانے والا سب سے بڑا عظیم ہے تو اس کی طرف سے بھیجے ہوئے قرآن عظیم
کو سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہئے اور اس میں انتہائی غور و فکر کرنا اور کامل طریقے سے اس
کے دئیے گئے احکام پر عمل کرنا چاہئے ۔
(صراط الجنان)
ایک عام
شخص کے لیے قرآن کریم میں صحیح معنوں میں غور و فکر بغیر تفسیر کے مشکل ہے اس سے
معلوم ہوا کہ مطالعہ تفسیر کس قدر ضروری ہے لیکن افسوس آج مسلمانوں کی ایک
تعداد ہے جو تفسیر تو کیا قرآن کریم کی
تلاوت کرنے سے ہی محروم نظر آتی ہے اور جو
تلاوت کرتے بھی ہیں تو وہ درست طریقے سے
تلاوت نہیں کرتے اور صحیح طریقے سے تلاوت
کرنے والوں کا بھی حال یہ ہے کہ وہ نہ
قرآن مجید کو سمجھتے ہیں ، نہ اس میں غورو فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے اَحکام پر عمل کرتے ہیں ۔
مطالعہ تفسیر کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ آپ اس بات
سے لگایئے کہ اللہ عزوجل سورۃ البقرۃ آیت
نمبر 167 میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا
كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّاؕ-كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ
اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ
النَّارِ۠(۱۶۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور کہیں گے پَیرو کاش ہمیں لوٹ کر
جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے(جدا ہو جاتے) جیسے انہوں نے ہم سے توڑدی
یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر اور وہ
دوزخ سے نکلنے والے نہیں ۔ (البقرۃ:167)
اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ آیت مبارکہ کن لوگوں کے بارے
میں نازل ہوئی جب ہم تفسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا کہ اس آیت مبارکہ میں
تو کافروں کا ذکر ہے کہ وہ بروز قیامت اپنے پیشواؤں جن کے نقش قدم پر چل کر وہ کفر
پر قائم رہے وہ کہیں گے کاش ہمیں دنیا میں جانے کا موقع مل جاۓ تو ہم تم سے تعلق توڑ دیں جیسے آج تم نے ہم سے تعلق توڑ
دیا اب جو اس آیت مبارکہ کو دلیل بنا کر پیر مرید کے تعلق پر فٹ کرے اسے چاہیے کہ
وہ قرآن کریم کو تفسیر کیساتھ پڑھے معلوم ہوگا کہ اس آیت مبارکہ میں اولیاء اللہ
اور ان کے مریدین کا نہیں بلکہ کفار کا ذکر ہے ۔
حضرت محمد بن
کعب قرظی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جس تک قرآن مجید پہنچ گیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام کیا ۔ جب وہ ا س بات پر قادر ہو جائے تو قرآن مجید
پڑھنے ہی کو اپنا عمل قرار نہ دے بلکہ اس طرح پڑھے جس طرح کوئی غلام اپنے مالک کے
لکھے ہوئے خط کو پڑھتا ہے تاکہ وہ اس میں غور وفکر کر کے اس کے مطابق عمل کرے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب تلاوۃ القرآن)
اللہ اکبر کیا خوب ارشاد فرمایا حضرت محمد بن کعب قرظی
رحمۃ اللہ علیہ نے کہ بندہ قرآن کریم ایسے پڑھے جیسے غلام مالک کا لکھا ہوا خط پڑھتا
جب ہم قرآن کریم کو ایسے پڑھے گے جیسے ایک غلام اپنے آقا کا لکھا ہوا خط پڑھتا تو
ہم اس میں خوب غور و فکر کریں گے تاکہ اس کے احکامات پر عمل کریں اور ظاہر ہے کہ
غور و فکر کے لیے ہمیں تفسیر کے مطالعہ کی بھی حاجت ہوگی لہذا ہمیں اپنے رب کے
کلام قرآن پاک کی تلاوت بھی کرنی ہے اور اس میں غور و فکر کرنے کے لیے تفسیر کا
مطالعہ بھی کرنا اور قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے ۔
اللہ ہمیں
قرآن کریم کو تفسیر کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اللہ تعالیٰ
نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، دنیا میں اپنے رسولوں کو بھیجا اور انہیں نیکی کی
دعوت دینے کا حکم دیا ۔ ان پر اپنی حکمت
بھری کتاب نازل فرمائی جس میں احکامِ الٰہی بیان کیے گئے ۔ ان احکام کو سمجھنے کے لیے ہمیں تفسیر کی ضرورت
پیش آئی ۔ قرآن کریم کو صحیح طور پر
سمجھنے کے لیے ہمارے اکابرین نے مختلف تفاسیر تحریر فرمائیں ۔ ہر مسلمان پر لازم
ہے کہ وہ صرف قرآن پاک کے الفاظ اور ترجمے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس میں غور و فکر
اور تدبر کرے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (محمد:24)
اس آیت
مبارکہ سے تین اہم نکات سامنے آتے ہیں:
(1)قرآن کی
عظمت بیان ہوئی اور اس میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ۔
(2)غور و
فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "پورا قرآن بغیر غور و فکر کے پڑھنے سے
بہتر ہے کہ ایک آیت غور و فکر کے ساتھ پڑھی جائے ۔ "
(3)قرآن کو
دیکھنا، چھونا، پڑھنا اور اس میں تدبر کرنا سب عبادت ہے ، اور ہمیں اس پر عمل کی
دعوت دی گئی ہے ۔
صحیح اور
معتبر تفسیر وہی ہے جو نبی کریم ﷺ کے فرامین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین
کے علوم کی روشنی میں ہو ۔ وہ تفاسیر جو
سنتِ نبوی اور شریعت کے خلاف ہوں، معتبر نہیں ہو سکتیں ۔
جیسا کہ
تفسیر صراط الجنان (پارہ 5، سورۃ النساء) میں بیان کیا گیا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ کنز
العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ
لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک سے نصیحت تو ہر شخص حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس سے شرعی
مسائل کا استخراج ہر ایک کا کام نہیں ۔ یہ
صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو دینی بصیرت اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ عوام کو چاہیے کہ وہ خود مسائل نکالنے کے بجائے
علماء سے سیکھیں ۔
آج کے دور
میں المیہ یہ ہے کہ قرآن پاک گھروں میں موجود تو ہے، مگر اکثر بند الماریوں میں
رکھا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس پر دھول جم جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں قرآن
کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
مطالعۂ تفسیر
کی ضرورت:
(1)قرآن کو
صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ۔
(2)قرآن کے
احکام پر عمل کی حکمت جاننے کے لیے ۔
(3)باطل
عقائد اور گمراہ کن تفاسیر سے بچنے کے لیے ۔
مطالعۂ تفسیر
کی اہمیت:
(1) اللہ
تعالیٰ کی انوکھی تخلیقات کا شعور حاصل ہوتا ہے، جس سے ایمان میں پختگی آتی ہے ۔
(2) اکابرین
کی محنت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے قرآن سے مسائل کے استخراج میں کتنی کوششیں
کیں ۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں قرآن پاک کی تلاوت، اس کے معانی میں تدبر، اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے
۔ آمین ۔
Dawateislami