اللہ پاک کی طرف سے بنی آدم کی طرف اتاری جانی والی کتابوں میں سے ایک کتاب قرآن مجید بھی ہے جس میں اولین و آخرین کا علم رکھا گیا اور سیدھے راہ کی ہدایت کا مکمل سامان کیا گیا مگر ایک عام آدمی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ  خود سے اس کتاب ہدایت سے درست راہنمائی لے سکے اس صورت میں ہمیں حکم ہے کہ اہل ذکر سے راہنمائی لیں کہ جنہوں نے  علم کی روشنی میں قرآن کو درست سمجھا  ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ ترجمۂ کنز الایمان: تو اے لوگوعلم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔ (پ14 النحل آیت 43)

اور اس بارے میں ان سے علم حاصل کرنے کا ذریعہ تفسیر کا مطالعہ کرنا بھی ہےتو  ہمیں تفسیر پڑھنا یوں بھی لازم ہوا ۔ آپ نے جو یہ پڑھا کہ ایک عام آدمی قرآن کوخود سے نہیں سمجھ سکتا اسکو مزید واضح کیا جاتا ہے جس سے تفسیر کی ضرورت و اہمیت اور زیادہ معلوم ہو گی تفسیر قرآن کے ہم محتاج ہیں ۔

(1)مراد الٰہی کو  سمجھنے کے لئے :ہر چیز صرف ترجمے سے سمجھ نہیں آسکتی  یا جو ہم نے سمجھا مراد الہی بھی وہی ہو یہ ضروری نہیں  بلکہ کئی بار ہم ظاہر لفظوں سے کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کا مقصود کچھ اور ہوتا ہے لہذا ہمیں تفسیر  دیکھنی ہوگی جہاں یا تو خود قرآن مجید سے یا حدیث مبارکہ سے یا اقوال صحابہ سے یا دیگر علوم کی مدد سے مراد الہی وحکم الہی کو بیان کیا گیا ہوگا ۔

(2)کسی مجمل بات کو سمجھنے کے لیے :یعنی کچھ باتیں مکمل بیان نہیں ہوتیں جیسے کسی واقعہ کو مختصر بیان کیا جاتا ہے اور  پوری بات سمجھنے کے لیے پورا واقعہ سمجھنا ہوتا ہے تو اسکو جاننے کے لیے کتب تفاسیر کو پڑھنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

(3)مشکل مقام کی وضاحت دیکھنے کے لیے :بعض جگہ آیات کے ربط اور کلمات کے ربط کو سمجھنا بہت دشوار ہوتا ہے 'جیسا کہ  مطالعہ قرآن کرنے والوں پر مخفی نہیں' لیکن اسے تفسیر سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے

اور اسی طرح بعض الفاظ قرآنی ایسے ہیں جو عام بول چال میں استعمال نہیں کیے جاتے تھے جس کی وجہ سے ان کے معنی ذہنوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں  مگر کتب تفاسیر میں ان تمام مشکل الفاظ کے معنی کو بیان کر دیا گیا ہے  تو ان مشکلات کے حل کے لیے ہم تفسیر کے محتاج ہوئے

(4)سبب نزول کی معرفت كئ لیے :قرآن پاک کی آیات دو طرح کی ہیں نمبر ایک کہ جو بغیر کسی سبب کے یا بغیر کسی واقعے کے، ابتداً نازل ہوئیں دوسری قسم کی وہ آیات ہیں جو کسی واقعہ کے بعد نازل ہوئیں اس دوسری قسم کی آیات کو سمجھنے کے لیے سبب نزول کو سمجھنا بہت ضروری  ہوتا ہے کہ اس سے ہمیں آیت کا مقصد معلوم ہو جاتا ہے اور اس کو نہ جاننے کی صورت میں کچھ کا کچھ سمجھ جانے کا بہت امکان رہتا ہے ۔

اسکی ایک مثال وہ آیات ہیں جو بتوں کے متعلق نازل ہوئیں تو اگر کوئی ان کو  مسلمانوں اور اولیاء اللہ پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ قرآن کا درست فھم نہیں رکھتا تو پیارے قارئین تفسیر کو پڑھے بغیر قرآن کو درست طریقے سے سمجھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن سا ہے ۔

(5)آیات سےحاصل ہونے والی معلومات کو جاننے کے لیے :جیسا کہ آپ نے شروع میں پڑھا کہ قرآن پاک میں اولین و اخرین کا علم ہے یہاں تک کہ ابن عبّاس رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛

کہ اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو قرآن عظیم میں اسے پالوں( الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس جلد 4 صفحہ  30 ناشر الھیئۃ المصریہ العامہ للکتب)

لیکن کیا ہر شئ کا ذکر قرآن پاک میں صراحت سے ہے ؟

نہیں بلکہ کچھ معانی، الفاظ کے پردوں میں پوشیدہ ہیں تو کچھ  اسرار، عبارات کے اشاروں میں مخفی اور کچھ احکام، نصوص کی گہرائیوں میں رکھے تو کچھ حقائق،کلام کے سیاق و سباق کے تقاضوں میں چھپے  جن کو تفسیر کے جانے بغیر جاننا ہر ایک کے بس کی بات نہیں لہذا انکو جاننے کے لیے  تفسیر کو پڑھنا ،سمجھنا لازم ہے

اللہ پاک ہمیں علم قرآن عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم