ہر انسان کے کچھ نہ کچھ بنیادی حقوق ہیں جو اسکی عزت و وقار اور ترقی کے لئے نا گزیر ہیں۔ ان حقوق کا پامال کیا جاناحق تلفی  کہلاتا ہے۔

حق تلفی کی کئی اقسام ہیں مثلا:

معاشی حق تلفی: کسی کو اس کی محنت کا صلہ دینے کے بجائےاجرت کم دیا جانا،غریبوں کا استحصال، مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ اور وراثت میں بیٹیوں کا حصہ نہ دینا، یہ سب معاشی حق تلفی کی صورتیں ہیں۔

سماجی حق تلفی: کسی کو صحت،تعلیم، روزگار یا رہائش جیسےبنیادی سماجی حق سےمحرون کرنا۔ ذات پات، رنگ و نسل یا جنس کی بنیاد پر تعصب اورامتیازی سلوک،اسکی مثالیں ہیں۔

قانونی حق تلفی: کسی کو انصاف کے بنیادی حق سے محروم کر کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانا یا اس پر تشدد کرنا قانونی حق تلفی ہے۔ صرف اس کے لئے بلکہ آس پاس کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

معاشرتی عدم مساوات: حق تلفی معاشرے میں امیرو غریب، طاقتور و کمزور کے درمیان خلش کا باعث بنتی ہےجس سے معاشرہ عدم مساوات،انتشار اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

انصاف کا فقدان: جب لوگوں کو انکے حقوق سے محروم رکھا جائے اور انصاف نہ دیا جائے تو وہ قانون سے بدظن ہو کر قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ترقی میں رکاوٹ: جس معاشرے میں حقوق کی پامالی عام ہو،وہ ترقی کیسے کرے گا؟جب افراد کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع نہ ملیں تو ترقی رک جاتی ہے اور قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

ہماری ذمہ داری: حق تلفی کے خاتمے کیلئے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اردگرد ہونے والی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائیں، اپنے حقوق سے آگاہی حاصل کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔

گھر میں اور معاشرتی سطح پر تعلیم، پرورش، جائیداد و وراثت کے معاملات میں انصاف سے کام لیا جائے۔

حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ سخت قوانین بناکران پر سختی سے عمل درآمد کا اہتمام کریں۔

انصاف کا نظام خصوصاغریب کے لئے سستا اور آسان ہو۔

ہمارے مذہب نے حقوق العباد اور اخلاقی تعلیمات پر بہت زور دیا ہے۔ دوسروں کے حقوق کی پاسداری میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی مضمر ہے۔

اگر ہم ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو معاشرے سے حق تلفی کا ناسور جڑ سے ختم ہو جائے۔

والدین کا اولاد کی تعلیم و تربیت میں غفلت برتنا، شوہر کا بیوی کے حقوق پامال کرنا یا بھائیوں کا بہنوں کے حصوں پر قابض ہو بیٹھنا۔

یہ سب حق تلفی ہی کی مثالیں ہیں۔ قرآن کریم میں حق تلفی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور اس پر سخت وعیدات سنائی گئی ہیں۔