حق تلفی کا مطلب ہے کسی کا جائز حق دبانا، چھیننا یا نہ دینا۔ یہ حق مالی ہو سکتا ہے، جانی ہو سکتا ہے، عزت کا ہو سکتا ہے یا کسی کی میراث، مزدوری، یا عدالت میں گواہی وغیرہ کا حق۔ دینِ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اسے ظلم قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔

یہ آیت اس بات کی صریح ممانعت کرتی ہے کہ کسی کا حق مارا جائے یا اس میں کمی کی جائے۔ اہلِ سنت والجماعت اس آیت کی روشنی میں اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کا حق دبانا یا نہ دینا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۲) (پ 13، ابراہیم: 22) ترجمہ: بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 2447)

حق تلفی بھی ظلم کی ایک قسم ہے۔ جب کوئی شخص کسی کا حق دباتا ہے تو وہ اللہ کی نگاہ میں ظالم شمار ہوتا ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا حق قسم کھا کر دبا لیا، اللہ نے اس کے لیے جہنم لازم کر دی اور جنت حرام کر دی۔ مسلم، ص 701، حدیث:353

اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اس بات پر متفق ہیں کہ: حق تلفی حرام ہے۔ یہ ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر کسی نے کسی کا حق دبایا تو اس پر دنیا میں توبہ لازم ہے، اور آخرت میں مواخذہ ہو گا۔

حق دار کو اس کا حق دینا واجب ہے، ورنہ بندہ اللہ اور بندے دونوں کا مجرم ہے۔

حق تلفی کی مثالیں: یتیموں کا مال کھانا،میراث میں خواتین کو حق نہ دینا،مزدور کی اجرت نہ دینا،کسی کی زمین پر قبضہ کرنا،جھوٹی گواہی سے کسی کا حق مارنا

اسلام میں ہر گناہ سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے، بشرطیکہ:

1۔ حق تلفی کرنے والا سچے دل سے توبہ کرے۔

2۔ متاثرہ شخص سے معافی مانگے۔

3۔ اس کا حق لوٹائے یا اس کے ورثاء کو دے۔

ورنہ قیامت کے دن حقوق العباد کا سخت حساب ہو گا۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ حق تلفی نہ صرف ظلم ہے بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا تعلق بندے کے ساتھ ساتھ خدا سے بھی ہے۔ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ جب تک کسی مظلوم کا حق واپس نہ کیا جائے، اللہ کی مغفرت ممکن نہیں۔