اسلام انسانوں کے درمیان عدل، انصاف اور حقوق کی ادائیگی پر زور دیتا ہے۔ کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا یا ظلم کے ذریعے اس کا حصہ چھین لینا نہ صرف بڑا گناہ ہے بلکہ آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنے گا۔

احادیث مبارکہ:

1:حق چھیننے پر وعید: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی ایک بالشت زمین بھی ظلماً لی، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ (بخاری، 2/376، حدیث:3196)

2:ظلم اور محرومی کی سزا: آپ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)

3:ناجائز طریقے سے مال کھانے کی مذمت: نبی ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی مسلمان کا حق قسم کھا کر غصب کرے، اللہ اس پر جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اگر وہ چیز معمولی ہو (جیسے لکڑی کی ٹہنی)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خواہ وہ اراک کی چھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم، ص 82، حدیث: 137)

4:خیانت و محرومی کا انجام: آپ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کو مزدور رکھے اور اس کی اجرت پوری نہ دے تو قیامت کے دن اس کا خصم اللہ ہوگا۔ (مسند امام احمد، 3/278، حدیث: 8700 ماخوذاً)

5:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کا حق ناحق طور پر روکا، وہ اللہ کی ناراضگی میں آئے گا، خواہ وہ چیز معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

یعنی اگر کوئی معمولی چیز بھی ہو جیسے سوئی یا تنکا، پھر بھی حق دار کو محروم کرنا اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔

حکم: کسی بھی مسلمان یا غیر مسلم کو اس کا حق نہ دینا یا چھین لینا ظلم ہے، اور ظلم اسلام میں سختی سے حرام ہے۔ زمین، مال، وراثت، اجرت یا کسی بھی چیز میں محروم کرنا کبیرہ گناہ ہے اور قیامت کے دن سخت عذاب کا باعث بنے گا۔

ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بد دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

یا اللہ! ہمیں کسی کا حق کھانے والا نہ بنا، یا اللہ! ہمیں دوسروں کا مال اور حصہ دینے والا بنا، یااللہ! ہمیں ظالموں میں شامل نہ کر اور قیامت کے دن ہمیں مظلوموں کے ساتھ اٹھا۔ آمین