خود پسندی نیک اعمال کو برباد کرنے والی اور عبادت کو خراب کرنے والی ایک باطنی بیماری ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں خود پسندی ‏اور خود پسندی کرنے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔پہلے خود پسندی کی تعریف ملاحظہ ہو پھر اس کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔

خود پسندی کی تعریف: اپنے نیک عمل کو بڑا سمجھنا خود پسندی ہے۔اِسے یوں بھی تعبیر کیا جاتا ہے کہ بندے کا نیک عمل کے حصول کو اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ کے بجائے کسی اور شے کی طرف منسوب کرنا۔ ( مختصر منہاج العابدین:صفحہ :۲۰۷ )‏

(‏1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اگر تم کوئی گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز ’’ خود ‏پسندی ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،باب الترغیب فی التواضع،الحدیث: ۴۴۹۰،ج۳،ص۴۴۲)‏

(‏2) حضورِ اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب ‏اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)‏

(‏3) حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ ‏‏(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)‏

(‏4) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) بخل جس کی پیروی کی جائے (۲) نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائے اور (۳) انسان کا خود کو ‏اچھا جاننا۔( شعب الايمان، باب فی الخوف من الله، ۱ / ۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵)‏‎ ‎

(‏5) نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اِترا کر چلے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ اس پر ناراض ہوگا۔ (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر، الحدیث: ۶۰۰۲،ج۲،ص۴۶۲)‏‎ ‎

(‏6) حضور سید عالم ﷺ نے اس امت کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سید نا ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: جب تم دیکھو کہ بخل کی ‏اطاعت کی جائے، خواہش نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔( سنن ابی داود، اول ‏کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴/ ۱۶۴، الحدیث: ۴۳۴۱)‏

(‏7) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب ﷺ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے ‏جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔ (شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج۵، ص۴۳۶، حدیث: ۷۱۷۸۔)‏

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ خود پسندی ہلاکت میں ڈالنے ، 70 سال کے اعمال کو برباد کرنے اور اللہ عزوجل کو ناراض کرنے کا سبب ‏ہے ۔اور یہ کئی دوسری آفتوں کا سبب ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ ‏آمین