حسن
رضا عطّاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ عطار منزل آفندی ٹاون ،حیدرآباد،پاکستان)
خود پسندی نیک اعمال کو برباد کرنے والی اور عبادت کو
خراب کرنے والی ایک باطنی بیماری ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں خود پسندی
اور خود پسندی کرنے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔پہلے خود پسندی کی تعریف
ملاحظہ ہو پھر اس کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔
خود پسندی کی تعریف: اپنے
نیک عمل کو بڑا سمجھنا خود پسندی ہے۔اِسے یوں بھی تعبیر کیا جاتا ہے کہ بندے کا
نیک عمل کے حصول کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بجائے کسی اور شے کی طرف منسوب کرنا۔ (
مختصر منہاج العابدین:صفحہ :۲۰۷ )
(1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ اگر تم کوئی گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز ’’
خود پسندی ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،باب
الترغیب فی التواضع،الحدیث: ۴۴۹۰،ج۳،ص۴۴۲)
(2) حضورِ اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی
شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب
اللام، ۲ / ۱۹۳،
الحدیث: ۵۰۶۴)
(3) حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
سے مروی ہے، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی
ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)
(4) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) بخل جس
کی پیروی کی جائے (۲) نفسانی
خواہش جس کی اطاعت کی جائے اور (۳) انسان
کا خود کو اچھا جاننا۔( شعب الايمان، باب فی الخوف من الله، ۱ / ۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵)
(5) نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے
: جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اِترا کر چلے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں
ملے گا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر ناراض ہوگا۔ (المسندللامام احمد بن حنبل،
مسند عبداللہ بن عمر، الحدیث: ۶۰۰۲،ج۲،ص۴۶۲)
(6) حضور سید عالم ﷺ نے اس امت کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے
حضرت سید نا ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت
کی جائے، خواہش نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے
تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔( سنن ابی داود، اول کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴/ ۱۶۴، الحدیث: ۴۳۴۱)
(7) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب ﷺ کا
فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا
مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی
کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔ (شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج۵، ص۴۳۶،
حدیث: ۷۱۷۸۔)
Dawateislami