محمد
حسان (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
الحمدللہ
ہم انسان ہیں جنہیں زندگی کو جینے کے لیے کچھ معاملات کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا ہے
جن میں اگر دیکھا جائے تو کھانا پینا، رہنا سہنا اور سونا وغیرہ اور بہت سے
معاملات ہیں جن کی طرف ہمیں محتاجی ہوتی ہے۔ ان معاملات میں سے ایک اہم امر لوگوں
سے میل جول رکھنا، ہم مجلس ہونا بھی ہے۔ ہمارا دین اسلام ہر شے کے حقوق کے بارے میں
ہمیں بیان کرتا ہے، تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق کیا ہیں۔
جب ہم اس کے حقوق کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان شاءاللہ ہماری مجلسوں میں حسن اور
دوستوں کی تعداد میں اضافہ نظر آئے گا کیونکہ ہر بندہ حق کی طلب میں بے تاب ہے۔
اگر آپ اسے اس کا حق دے دیں گے تو ان شاءاللہ وہ آپ کے ساتھ تا دمِ حیات مربوط رہے
گا۔
ہم
مجلس کے حقوق:
1۔
سلام کرنا:جب ہم مجلس میں آئے تو سلام کرنا چاہیے جیسے کہ حدیث میں آیا؛رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا انتهى أحدُكم إلى مجلسٍ فليسلِّمْ، فإن بدا له أن
يجلسَ فليجلسْ، ثم إذا قامَ فليسلِّمْ، فليستِ الأولى بأحقَّ من الآخرةِ۔(ابوداؤد،
حدیث 5208) ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، پھر اگر
بیٹھنا چاہے تو بیٹھے، اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے۔ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق
دار نہیں۔"
2۔
مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ بنانا:اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی خوبصورت
کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا ۔
یہ
آیت مبارکہ جہاں حقوقِ مجلس کا بیان ہے وہیں اتباعِ مصطفی ﷺ پر واضح اشارہ ہے۔ اس
کی تفصیل آپ صراط الجنان سے پڑھ سکتے ہیں، لیکن میرا اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد
اس مجلس کے حق کو بیان کرنا ہے جسے قرآن نے بیان کیا کہ آنے والے کو جگہ دو۔ کیونکہ
جب بندہ کسی کے لیے تعظیماً سرک جاتا ہے، اس کے لیے جگہ بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس فعل
کے سبب جگہ بنانے والا شخص آنے والے کے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یہ معمولی فعل محبت
کے رشتے کو تقویت دینے کے لیے پہلا زینہ ہوتا ہے۔
3۔
قائل کی بات کو غور سے سننا:الحمدللہ ہمارا دین ہماری تربیت
فرماتا ہے کہ ہمیں مقابل کی بات غور سے سننی چاہیے۔ جب وہ بات کر رہا ہو تو اسی کی
طرف متوجہ ہونا چاہیے، ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے یا ایسے اظہار سے بھی
بچنا چاہیے جو اسے ایسا تاثر دے کہ یہ شخص میری بات کو سننا نہیں چاہ رہا۔
حضور
ﷺ کا قائل سے سننے کا انداز ملاحظہ کیجیے:حدیث میں آیا ہے:
كانَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ إذَا
استقبلَهُ الرجلُ صافحَهُ لا ينزِعُ يدَهُ حتَّى يكونَ هو الذِي نزعَ ولا يصرفُ
وجهَهُ عَنْ وجهِهِ حتَّى يكونَ الرجلُ هو الذي يصرفُه.(ترمذی:
2490، ابن ماجہ: 3716)
یعنی
رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کے سامنے آتے تو اس سے مصافحہ فرماتے، اور اپنا ہاتھ اس
وقت تک نہ کھینچتے جب تک دوسرا شخص خود نہ کھینچ لیتا، اور اپنا چہرہ بھی اس کے
چہرے سے نہ پھیرتے جب تک وہ شخص خود اپنا چہرہ نہ پھیر لیتا۔ سبحان اللہ! ہمارے
حضور ﷺ کیسے عظیم اخلاق والے ہیں۔ تو ہمیں بھی انہی کے راستے پر چلنا چاہیے۔
4۔
قائل کی بات نہ کاٹنا:الحمدللہ ہمارا دین دینِ فطرت ہے اور ہماری فطرت و جبلت
میں یہ بات شامل ہے کہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں
سے ایک دوسرے کی بات کاٹنا بھی ہے۔ جب بندہ دوسرے کی بات کاٹتا ہے تو وہ اس کے
کلام کو اپنے کلام سے افضل بتاتا ہے، اور جب یہ مجلس میں لوگوں کے سامنے ہو تو اس
عمل سے وہ بے عزتی محسوس کرتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔
حدیث
میں آیا ہے:مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ
اٰذَانِیْ، وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰهَ ترجمہ: جس نے مسلمان کو تکلیف دی
اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(معجم
الاوسط، باب السین، من اسمہ: سعید، ۲/۳۸۶،
الحدیث: ۳۶۰۷)
لہٰذا
ہمیں اس عمل سے بچتے ہوئے لوگوں کے کلام کو مکمل ہونے تک غور سے سننا چاہیے، کیونکہ
ممکن ہے اس کے کلام سے ہماری سوچ کا زاویہ بدل جائے۔ جو ہم سطحی طور پر سوچ رہے
تھے، گہرائی میں سوچنے والے ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے یہی ہماری مشکل کا حل ہو۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں مجلس کے حقوق سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ملک دلبر (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اللہ
تعالیٰ نے انسان کو عزت و شرف سے نوازا اور اسے ایک سماجی مخلوق بنایا ہے۔ انسان
کا دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنا ضروری ہے، لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ میل
جول کے دوران کچھ آداب ملحوظِ خاطر رکھے جائیں۔ انہی کو مجلس کے آداب کہا جاتا ہے۔
1. مجلس میں
کشادگی کرنا:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے
مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔ (سورۃ المجادلہ: آیت 11)
2.
گفتگو میں نرمی اور اچھے الفاظ کا استعمال:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمہ کنزالایمان:"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔"(سورۃ البقرہ: آیت 83)
3. سلام کا
اہتمام :نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے
ہوئے کو، اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں کو سلام کرے۔" (صحیح بخاری،
کتاب الاستئذان، جلد 8، صفحہ 14، حدیث نمبر 6234)
اسلام
نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مجلس کا مقصد صرف بیٹھنا اور وقت گزارنا نہیں بلکہ ایک
دوسرے کے ساتھ محبت، عزت اور نیکی پھیلانا ہے۔ اگر ہم قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے یہ
آداب اپنائیں تو ہماری محفلیں خیر و برکت سے معمور ہوں گی اور ہمیں دنیا و آخرت میں
کامیابی نصیب ہو گی۔
حافظ
حمزہ قادری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
اسلام
نے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کی ہے، چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات،
انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ اسی سلسلے میں "مجلس" یعنی مل بیٹھنے کے
آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس
کی گفت و شنید، رویہ اور اخلاق اس کی شخصیت کی اصل پہچان بن جاتے ہیں۔ اگر مجلس میں
ادب، محبت اور خیر ہو تو وہ دلوں کو جوڑتی ہے، ورنہ وہ نفرت اور اختلاف کا سبب بن
جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں مجالس کے حقوق کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ثُمَّ
قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا
أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ
ذَلِكَ ۔ ترجمہ: "جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں فضول
باتیں زیادہ کرے، پھر اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے: 'سبحانک اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك'
تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا معاف کر دیا جاتا ہے۔"
مفہوم:
مجلس کے آخر میں دعا پڑھنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ ( سنن ترمذی، کتاب
الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسہ، حدیث 3433)
إذا كنتُم ثَلاثةً فلا يَتَناجَى اثنانِ دونَ الآخَرِ ترجمہ: "جب تین آدمی ہوں
تو دو آدمی دوسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔"( صحیح مسلم، کتاب السلام، باب النهي عن تناجي
اثنين دون الثالث، حدیث 2184)
مفہوم:
مجلس میں کسی کو الگ کر دینا دل آزاری ہے۔
اسلام
نے مجالس کو خیر، محبت اور علم کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کو قابو میں
رکھیں، دوسروں کی عزت کریں اور ہر مجلس کو ذکر اور دعا کے ساتھ ختم کریں تو یہ
محفلیں ہمارے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا سبب بنیں گی۔ جو لوگ ان
اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں وہ نہ صرف دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں بلکہ اپنی آخرت
بھی برباد کر لیتے ہیں۔ اس لیے آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہماری ہر مجلس قرآن و سنت
کے نور سے منور ہوگی۔
اسد
علی (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زا ر لاہور
، پاکستان)
مجالس
مجلس کی جمع ہے جس کے معنی بیٹھنے کی جگہ ہے یہ ہر زمانے میں ہر قسم کے لوگوں کا شیوہ
رہا ہے کہ اپنے کسی کام کو مضبوط کرنے کے لیے اسے پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے
افراد کو اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ اس پر عمل کر کے ایک مثالی معاشرہ قائم کیا جائے
اسی طرح اسلام میں بھی مسلمانوں کو ان کی پہچان ،وقار اور اپنے اس دنیا میں آنے کا
مقصد بتانے کے لیے ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ایمان اور علم کی روشنی
سے سرفراز کیا جا سکے آئیے ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں مجلس کے حقوق کا کیا پس
منظر بیان ہوا ہے ۔
چنانچہ
پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک مجلسِ آداب تمام
اقوام میں پائے جاتے ہیں لیکن اسلام نے مجالس کے جو آداب بیان کیے ہیں وہ مکمل اور
بہترین ہیں جن پر عمل کرنے سے مجالس جنت کا نمونہ بن سکتی ہیں ۔
قرآن
پاک میں اللہ پاک عزوجل نے ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمعہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے
مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(المجادلۃ،11)
معلم
اخلاق حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بہترین مجالس وہ ہیں جو
سادہ اور فراخ ہوں اور لوگ کھل کر بیٹھ سکیں اور بوقت ضرورت آنے والے کو جگہ دیں ۔
مجلس
کے کچھ آداب ملاحظہ ہوں ۔
1
۔ مجلس میں کھل کر بیٹھا چاہیئے ۔
2
۔ مجلس میں کسی شخص کو چلے جانے کا کہا جائے تو اسے چلے جانا چاہیے ۔
3
۔ مجلس میں داخل ہوتے ہوئے مسلمانوں کو سلام کہنا چاہیے ۔
4
۔ مجلس میں کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہیے ۔
5
۔ جو شخص کسی ضرورت کے تحت اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو وہ واپس آ کر زیادہ حق
رکھتا ہے اپنی جگہ پر بیٹھنے کا ۔
6
۔ مجلس میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے لوگوں کے کندھے پھلانگ کر آگے جگہ
نہیں لینی چاہیے اور نا ہی دو بندوں کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھنا چاہیے ۔
دعا
ہے کہ اللہ پاک عزوجل ہمیں مجلس میں بیٹھنے کے حقوق اور اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین
معاذ ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
مجلس
انسان کی شخصیت اور اخلاق کا عکس ہوتی ہے۔ ایک باشعور اور باکردار انسان اپنی
گفتگو، بیٹھنے کے انداز اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے اپنی تربیت کا اظہار کرتا ہے۔
اسلام نے ہر پہلو میں رہنمائی کی ہے، حتیٰ کہ یہ بھی بتایا کہ کس طرح بیٹھنا، بات
کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ مجلس کے حقوق بیان کرنا دراصل انسان کو
باہمی عزت، محبت اور اتحاد کی طرف مائل کرنا ہے۔
وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ
بَیْنَهُمْؕ
ترجمہ:
اور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بےشک
شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے (سورۃ بنی اسرائیل: آیت 53)
مختصر
مفہوم:مجلس میں ہمیشہ اچھی اور مثبت گفتگو کرنی چاہیے تاکہ شیطان
کو اختلاف کا موقع نہ ملے۔
إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ
لَغَطُهُ فَلْيَقُلْ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
الخ
ترجمہ:
جب کوئی شخص مجلس میں بیٹھے اور وہاں لغو باتیں زیادہ ہو جائیں تو وہ اٹھنے سے
پہلے یہ دعا پڑھ لے: "سبحانک
اللہم وبحمدک"(سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا قام من
مجلسہ، حدیث: 3433)
مفہوم:
مجلس میں ذکرِ الٰہی گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِترجمہ:
دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ ( صحیح مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن
تناجی اثنین دون الثالث، حدیث: 2184)
مفہوم:
مجلس میں سب کی عزت برابر ہے، کسی کو تنہا چھوڑنا منع ہے۔
اسلام
نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ مجلس کو محض دنیاوی باتوں کا مرکز نہ بنایا جائے بلکہ اسے
خیر، علم اور ذکرِ الٰہی سے آراستہ کیا جائے۔ اگر مسلمان قرآن و حدیث کی ان ہدایات
پر عمل کریں تو ان کی مجالس برکت، سکون اور اخوت کا ذریعہ بنیں گی، ورنہ وہ محض
وقت ضائع کرنے کا مقام رہ جائیں گی۔
اسد علی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسان
کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو اس کا اندازِ گفتگو اور مجلس کا طرز عمل ہے۔ جو شخص
دوسروں کا احترام کرتا ہے، ان کے لیے جگہ بناتا ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے،
وہ اللہ اور بندوں دونوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ مجلس وہ
مقام ہے جہاں دل جُڑتے ہیں اور تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے اس کے اصولوں پر عمل
کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا
ترجمہ:
اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(سورۃ البقرۃ: آیت 83)
مفہوم:
مجلس میں گفتگو ہمیشہ شائستہ اور خوش اخلاقی پر مبنی ہونی چاہیے۔
إِذَا دَخَلْتُمْ فِي مَجْلِسٍ فَسَلِّمُوا
ترجمہ:
جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کرو۔ (سنن ترمذی، کتاب الاستئذان، حدیث: 2706)
لَا يُحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ
إِلَّا بِإِذْنِهِمَاترجمہ: کسی کے لیے جائز نہیں کہ دو آدمیوں کو جدا کرے
مگر ان کی اجازت سے۔( سنن ابی داود، کتاب الادب، حدیث: 4845)
خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ترجمہ:
بہترین مجلس وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔( سنن ابی
داود، کتاب الادب، حدیث: 4827)
مجالس
میں حسن اخلاق اور نرمی کا رویہ اپنانا ہی اسلام کی اصل روح ہے۔ مسلمان اگر اس پر
عمل کریں تو دلوں میں محبت بڑھے گی اور معاشرہ خوشیوں اور امن سے بھرا ہوگا۔
شیخ
محمد صارم (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
دنیا
میں انسان اپنی بات دوسروں تک پہنچانے اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے مجلس کا سہارا
لیتا ہے۔ مجلس وہ جگہ ہے جہاں عدل، اخلاق اور تہذیب کے اصول سامنے آتے ہیں۔ اسلام
نے اس کے آداب اور حقوق مقرر کر دیے ہیں تاکہ کوئی بھی فرد اپنے آپ کو محروم یا
کمتر نہ سمجھے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ:"اے
ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو، اللہ
تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔"(المجادلہ: 11)
مفہوم:مجلس
میں دوسروں کے لیے جگہ چھوڑ دینا باعثِ برکت ہے۔
ِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيَجْلِسْ
فِيهِ
ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔ ( صحیح مسلم،
کتاب السلام، باب تحريم اقامۃ الانسان من مجلسہ، حدیث: 2178 )
مفہوم:
مجلس میں برابری کا خیال رکھا جائے۔
إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ
فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ترجمہ: جب کوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر واپس آئے تو وہ اسی
جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحريم اقامۃ الانسان من مجلسہ،
حدیث: 2179)
مفہوم:
مجلس میں کسی کی جگہ ہڑپ نہ کی جائے۔
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا
إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ:
جو شخص مجلس میں بیٹھ کر فضول باتیں کرے پھر یہ دعا پڑھے… تو اللہ اس کے گناہ معاف
فرما دیتا ہے۔ ( سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسہ، حدیث:
3433)
مفہوم:
مجلس میں فضول بات کا کفارہ ذکر اللہ ہے۔
اسلام
نے مجلس کو محض بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ اخوت و محبت کا ذریعہ بنایا ہے۔ جو مسلمان
ان اصولوں پر عمل کرے گا وہ دنیا میں عزت پائے گا اور آخرت میں اجرِ عظیم کا مستحق
ہوگا۔
محمد
انیس (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلام
میں مجلس (نشست یا محفل) کے مخصوص آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں ۔ تاکہ معاشرے میں
حسنِ سلوک کو فروغ ملے۔
(1)
: مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ داخل ہوتے وقت سلام کیا جائے، کیونکہ سلام امن و محبت
کی نشانی ہے۔
روایت
ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ
سمجھ لیا جائے اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار
سلام کرتے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:208 )
2
: مجلس میں بیٹھنے والے افراد کے درمیان چپکے سے کان لگا کر سننا یا کسی کی بات کو
بغیر اجازت سنانا ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔
3
: اسی طرح مجلس میں بیٹھنے کے بعد دوسرے کو جگہ دینا۔حدیث شریف : عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ
الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا. ترجمہ : حضرت سَیِّدُناابو سعید
خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی
کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ
فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“
تشریح
:مذکورہ حدیث پاک میں کُشادہ مجلس کو بہترین مجلس کہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے
ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”کشادہ مجلس کو بہترین مجلس اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں
بیٹھنے والے کو راحت ملتی ہے اور مجلس کی تنگی کی وجہ سے آپس میں بُعض و کینہ پیدا
نہیں ہوتا۔“ مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار
خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:’’یعنی جب جلسہ مجلس وغیرہ کرو تو وسیع
زمین میں کرو تاکہ لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو آرام سے کُھلے ہوئے بیٹھیں ایسی
مجلس بہت مبارک ہے۔‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831)
4
: بات چیت میں نرمی اختیار کرنا، اور مذاق یا جھوٹ سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔
5
: اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو بیچ میں مداخلت نہ کی جائے۔
6
: مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے
خلاف ہے ۔
7
:مجلس کے آخر دعا کر کے مجلس ختم کرنی چاہئے ۔
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ
يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ:سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا
إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ
اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ
لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.
ترجمہ
:حضرت سَیِّدُناابو برزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر
کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ
لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی
اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور
میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری
طرف توبہ کرتا ہوں۔“ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ
الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 ,
حدیث نمبر:833 )
احمد
مرتضیٰ عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلام
ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال
بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی
کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت
بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے
متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا
بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک
دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق
کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق
ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے
اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا
اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔
اسی
طرح اسلام نے مجلس کے حقوق بھی سکھائیں ہیں۔ حضور علیہ الصلوة والسلام صحابہ کو
مجلس کے آداب بھی بتاتے رہتے ۔ لہذا مجلس کے چند حقوق و آداب جو اسلام نے اپنے
متبعین کو سکھائے ہیں بیان کیے جاتے ہیں:
ذکر
اللہ اور درود پاک پڑھنا:پیارے
اسلامی بھائیو! مجلس کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ اس میں ذکراللہ اور
درود ضرور کیا جائے زبان پر ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر جاری
رکھنا یہ اللہ والوں کی صفت ہے کہ وہ کسی بھی حال میں ذِکرُ
اللہ سے غافل نہیں رہتے،درود شریف ذِکْرُاﷲ
کی بہترین قسم ہے ۔احادیث میں بھی اپنی مجلسوں میں ذکر اللہ کرنے اور درود پاک
پڑھنے کی ترغیب اور نہ پڑھنے کی وعیدیں بھی آئی ہیں ۔
چنانچہ
ایک حدیث شریف میں ہے کہ:مجھ پر درود شریف پڑھ کر اپنی مجالس کو آراستہ کرو کہ
تمہارا درود پاک پڑھنا بروز قیامت تمہارے لیے نور ہوگا۔(فردوس الاخبار ج1 ص 422 حدیث
3149)
اور
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی
ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(فیضان ریاض
الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:836)
لہذا
ہمیں ہر وقت ہر جگہ ذکراللہ کرنے اور درود پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے کوئی مجلس ایسی
نہیں ہونی چاہئے جس میں اس سے محروم رہ جائیں۔
فضول
گوئی سے بچنا:مجلس کا حق یہ بھی ہے کہ فضول باتوں سے بچا جائے کامل
مومنین کی شان میں قرآن میں بھی ہے کہ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور جب کسی بیہودہ
بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (الفرقان72)
تفسیر
صراط الجنان میں ہے کہ جب وہ کسی لغو اور باطل کام میں مصروف لوگوں کے پاس سے
گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔ اپنے آپ کو لہو و
باطل سے مُلَوَّث نہیں ہونے دیتے اور ایسی مجالس سے اِعراض کرتے ہیں ۔( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: 72، ص811)
بے
فائدہ باتوں سے بچنا اسلام کی اہم ترین خوبی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:حضرتِ
سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا
آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم
بالکلمۃ لیضحک الناس،142 /2 حدیث:2334)
فضول
گوئی کے بہت نقصان ہیں:فضول گَوئی کرنے والے کا گناہوں بھری گفتگو سے بچنا مشکل
ہے، فضول گوئی اکثر گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔فضول گوئی کرنے والا لوگوں کے سامنے
بے وُقعت ہو جاتا ہے۔
فضول
گوئی کرنے والے کو بروز قیامت مخلوق کے سامنے شرمندگی و مَلامت کا سامنا کرنا پڑے
گا۔
مجلس
میں سرگوشی نہ کرنا:روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم تین ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ
کرو حتی کہ تم لوگوں سے خلط ملط ہو جاؤ اس لیے کہ یہ بات اسے غمگین کرے گی۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4965)
خواہ
کسی مجلس میں تین مسلمان ہوں یا کسی راستہ پرجاتے ہوئے تین شخص ہمراہ ہوں تو اگر تین
ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے
خلاف طے کی جائے گی،میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں، جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی
کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں
ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ
عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے
گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان
سے کچھ سرگوشی فرمائی۔
جہاں
جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے:مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی
ہو۔مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا بُرا ہے۔حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ
فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو
مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے
چنانچہ:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم
جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں
جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث
نمبر:827)
دو
کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھے:دو آدمی بیٹھے ہوں تو تیسرا شخص
بغیر اجازت ان کے درمیان آکر نہ بیٹھے۔جب دو اسلامی بھائی پہلے سے قریب قریب بیٹھے
ہوں تو تیسرا آنے والا یوں نہ کرے کہ آتے ہی ان کی رضا مندی کے بغیر دونوں کے بیچ
میں گھس کر بیٹھ جائے، اس طرح ہوسکتا ہے کہ ان کو ناگوار گزرے، یہ بھی تو ہوسکتا
ہے کہ وہ دونوں کسی اہم موضوع پر گفتگو کررہے ہوں اور دو آدمی سرگوشی کررہے ہوں تو
تیسرے شخص کو اُن کی سرگوشی سننے کی اجازت نہیں اور ہو سکتا ہے تیسرے کا بیچ میں
گھس جانا ان کےلیے باعثِ تکلیف ہوجائے، لہٰذا دو اسلامی بھائی پہلے سے بیٹھے ہوں
تو نو آنے والے کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ وہ ان کے درمیان میں گھس کر دونوں کی
علیحدگی کا سبب بنے جیسا کہ حدیث پاک ہے:
حضرت
سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد
سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں
کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔(فیضان ریاض الصالحین
جلد:6 , حدیث نمبر:829)
مجلس
کے اختتام کی دعا پڑھنا:مجلس کے اختتام پر ایک دعا پڑھنے کی بھی حضور علیہ
الصلوة والسلام نے ترغیب ارشاد فرمائی ہے روایت میں ہے کہ: حضرت سَیِّدُناابو برزہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی عمر
کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ
لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ
یعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں
اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پہلے
آپ ﷺ یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھےآپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:یہ
الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 ,
حدیث نمبر:833)
پیارے
اسلامی بھائیو! اگر کسی ایسی مجلس میں شرکت ہو کہ جس میں ایسی باتیں زیادہ ہوں جو
آخرت کے لحاظ سے بے فائدہ ہوں تو مجلس کے اختتام پر حدیث پاک میں مذکور دعا پڑھ لینی
چاہیے تاکہ اگر مجلس میں گناہ بھری یا فضول اور بے فائدہ گفتگو ہوئی ہو تو یہ دُعا
اس کا کفارہ بن جائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مجلس کے آداب پر عمل کرنے
اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر چیز کے حقوق ادا کرنےکی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں
کو تکلیف دینے سے بچائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔
کلیم
اللہ چشتی عطاری (دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
مجلس
اسلامی معاشرے کا ایک اہم جز ہے جو افراد کے باہمی روابط، علم و حکمت کی ترویج، دینی
شعور کی بیداری اور روحانی تربیت کا ذریعہ بنتی ہےآیات وروایات سے یہ بھی معلوم
ہوتا کہ ہمارا دین ہمیں عقیدے اور عبادات کے ساتھ معاشرتی زندگی اور مجالس
کے آداب بھی سکھاتا ہےمجلس کے ذریعے نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کو عام کیا جاتا ہے بلکہ
اُمت کے مسائل پر غور و فکر بھی کیا جاتا ہے۔ ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کے کچھ آداب
اور شرعی و اخلاقی حقوق ہوتے ہیں جن کا لحاظ رکھنا ہر شریکِ مجلس پر لازم ہے۔
(1)گمراہی والی مجلس سے کنارہ کشی: ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک اللہ تم پر
کتاب میں
اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکا رکیا جاتا اور ان کی ہنسی
بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ
تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہ کافروں اورمنافقوں
سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔ (سورۃ النساء آیت140)
(3)کسی کو نہ اٹھانا:حضرت
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص
اپنے بھائی کو اس جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔“ (سالم نے کہا)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ طریقہ تھا کہ کوئی شخص ان کے لیے (خود بھی) اپنی
جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/ باب
تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه:حدیث: 5686]
(4)سرگوشی نہ کرنا:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم تین لوگ (ایک ساتھ) ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی باہم
سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ
(دو کی سرگوشی) اسے غم زدہ کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5696]
(5)اختتام مجلس کی دعا:حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللَّهُ تَعَالَى
عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے کثیر
گفتگو کی ، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے کہے : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ
إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ (سنن أبی داود، جلد 7 صفحہ 224-223، مطبوعه دار الرسالہ العالیہ)
یقیناً مجلس صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم
امانت ہے۔ اس کے حقوق میں رازداری، سچائی، ادب، دینی لحاظ، دوسروں کے وقت کی قدر
اور فتنہ انگیزی سے اجتناب شامل ہے۔ جو لوگ ان حقوق کا پاس رکھتے ہیں، وہ اخوت،
شعور، اور دین کی سربلندی میں حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ مجلس کے
تقدس کو پہچانے، اس کے آداب کا خیال رکھے اور اسے اصلاحِ نفس اور فلاحِ امت کا ذریعہ
بنائے۔
محمد
صائم قریشی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابوعطار، ملیر کراچی ، پاکستان)
اسلام
ایک کامل، اکمل اور ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں جہاں افراد کے حقوق بیان کیے گئے، وہیں اجتماعی زندگی، خاص طور
پر مجالس و محافل کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ آداب محض ظاہری
نہیں بلکہ انسان کے اخلاق، فہم و شعور، اور تعلقات کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں۔ مجلس
کے حقوق میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:
1.
سلام سے مجلس کی ابتدا اور اختتام کرنا: اسلامی معاشرے میں سلام
کو رواج دینا محبت، امن اور اخلاص پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ مجلس میں آنے اور جانے
دونوں وقت سلام کرنا سنت ہے چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: " إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم، فإذا أراد أن يقوم
فليسلم، فليست الأولى بأحق من الآخرة" ترجمہ:جب تم میں سے کوئی
مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام
دوسرے سلام سے زیادہ حق دار نہیں۔(سنن ابی داؤد:ج 5،رقم: 5208)
2. مجلس میں وسعت پیدا کرنا: اسلام
نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ جب کوئی دوسرا شخص مجلس میں آئے تو اُسے بیٹھنے
کے
لیے جگہ دینا نہ صرف اخلاقی رویہ ہے بلکہ باعثِ برکت بھی ہے ۔اللہ پاک نے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔(پ28، المجادلہ: 11)
سلام
کرنا اور مجلس میں جگہ کشادہ کرنا محبت بڑھانے کا بھی ذریعہ ہے چنانچہ مفتی احمد یار
خان نعیمی نے مرقات کے حوالے سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا
:"کہ تین چیزیں محبت پیدا کردیتی ہیں: ان میں سے سلام کرنا ، اپنے مسلمان
بھائی کو مجلس میں جگہ دے دینا۔(ملخصاً مرآۃ المناجیح،ج 6، تحت الحدیث:4646)
3.
مجلس میں بیٹھنے کا ادب:مجلس کے حقوق میں سے یہ ہے کہ جو جہاں بیٹھا ہے، اُسے
وہاں سے نہ ہٹایا جائے۔ دوسروں کے وقار اور احساسات کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا
ہے۔
حضرت
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :لا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ
يَجْلِسُ فِيهِ۔ ترجمہ:کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود
نہ بیٹھے۔(صحیح بخاری:ج8، رقم 6269)
4.
اچھی بات کہنے یا خاموش رہے:مجالس میں شرکت کرنے والا شخص یا
تو علم، خیر یا نصیحت کی بات کرے، ورنہ خاموشی اختیار کرے، تاکہ مجلس کا ماحول
خراب نہ ہو۔چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرًا أو ليصمت"
ترجمہ: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا
خاموش رہے۔(صحیح بخاری: ج8، رقم 6475)
5.
مجلس کی بات کو امانت سمجھنا:ایک حق یہ بھی ہے کہ بندہ جس
مجلس میں شریک ہوئے، وہاں ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت آگے پہنچانا خیانت ہے،
خاص طور پر اگر وہ بات ذاتی نوعیت کی ہو.چنانچہ فرمانِ خاتم النبیین ﷺ ہے : "
المجلس بالأمانة "ترجمہ:مجلس (کی
بات) ایک امانت ہے۔(سنن ابی داؤد:ج5، رقم: 4869)
اور
اس میں مسلمان کی دل آزاری بھی ہو سکتی جوکہ گناہ ہے لہذا ہر بندے کو احتیاط کرنا
چاہیے ۔
اس
کے علاؤہ جھوٹ ، چغلی اور غیبت سے بچا جائے ، لغو و بیہودہ باتوں سے پرہیز ہو، دو آدمیوں کے
درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھا جائے اور مجلس
میں کسی کو تکلیف نہ دی جائے . وغیرهم
دینِ
اسلام نے انسان کو باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔ مجالس کے آداب
اور ان کے حقوق بیان کرکے ہمیں سکھایا ہے کہ معاشرتی زندگی محبت، ادب، وقار اور خیر
خواہی کے ساتھ گزاری جائے، اگر ہر مسلمان ان آداب و حقوق کا لحاظ رکھے تو ہماری
مجلسیں علمی، روحانی اور اخلاقی ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔
اللہ پاک ہمیں مجالس کے حقوق اور شریعت کی پاسداری
کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
مصباح الدین (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان ابو عطار ملیر کالونی کراچی
، پاکستان)
انسان
کی زندگی مختلف تعلقات اور اجتماعی معاملات پر قائم ہے۔ جب لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
تو وہ محفل یا مجلس کہلاتی ہے۔ اسلام نے نہ صرف انفرادی زندگی کے لیے اصول دیے ہیں
بلکہ اجتماعی زندگی کے بھی مکمل آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ مجلس ان مقامات میں
سے ہے جہاں انسان کے اخلاق، تربیت اور شرافت کا امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے
ہمیں یہ سکھایا کہ مجلس میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور اٹھنے کے بھی کچھ حقوق اور
آداب ہیں جن کی پاسداری سے مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور جنہیں پامال
کرنے سے یہ مجلس وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔قران مجید میں بھی مجلس کے حقوق کے
متعلق آیت مبارکہ نازل ہوئی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ
(کنز الایمان): اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ
تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے
جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ
المجادلہ 11)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ
حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ
ترجمہ
(کنز الایمان): اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت
نہ لے لو اور اُن کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو۔ سورۃ النور (27)
تفسیر
(صراط الجنان):یہ آیت بتاتی ہے کہ مجلس یا کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا
جائز نہیں۔ اسلام نے ادب و تہذیب کی تعلیم دی ہے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ
ترجمہ
(کنز الایمان):بیشک سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سورۃ الحجرات (10)
تفسیر
(صراط الجنان):مجالس کے آداب اور حقوق اسی اخوت و بھائی چارے پر قائم ہیں۔ ہر ایک
دوسرے کی عزت کرے اور خیرخواہی کرے۔
جیسا
کہ حضور پاک صلی اللہ تعال علیہ وسلم کی زندگی تمام امت مسلمہ کے لیے ایک بہترین
نمونہ ہے تو حضور پاک ﷺ نے اپنی زندگی مبارکہ میں مجلس کے حقوق کے
متعلق بھی احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین آدمی بیٹھیں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ
کریں، کیونکہ اس سے اسے تکلیف ہوگی۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6290)
آپ
ﷺ نے فرمایا:"کسی مجلس میں جب کوئی بیٹھے تو سلام کرے، اور جب اٹھے تو بھی
سلام کرے۔"(ترمذی، حدیث: 2706)
حضرت
محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کی مجلسں امانت ہیں، سوائے اس مجلس کے جس میں
گناہ یا ظلم کی بات ہو۔"(ابوداؤد، حدیث: 4869)
حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:ایک مرتبہ مجلس میں داخل ہونے والے کو جگہ دینے کے لیے
خود آگے بڑھے اور فرمایا: "یہی قرآن کا حکم ہے کہ دوسروں کے لیے جگہ کشادہ
کرو۔"(تفسیر ابن کثیر، سورۃ المجادلہ، 11)
حضرت
سفیان ثوری رحمہ اللہ:فرماتے ہیں: "اچھی مجلس وہ ہے جس میں اللہ کا ذکر ہو
اور برے کلمات نہ ہوں۔" (حلیۃ الاولیاء، ج7، ص16)
مجلس
کے حقوق:
سلام
کے ساتھ آغاز کرنا: جب مجلس میں داخل ہو
تو سب سے پہلے سلام کہنا چاہیے، کیونکہ سلام امن و محبت کا پیغام ہے۔
بیٹھنے
کی اجازت لینا: بلااجازت کسی کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، بلکہ جہاں جگہ ملے ادب کے
ساتھ بیٹھ جائے۔
بیچ
میں سے نہ گزرنا: اگر لوگ بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان سے گزرنے سے اجتناب کرنا چاہیے،
یہ خلافِ ادب ہے۔
خاموشی
اور توجہ: مجلس میں غیرضروری باتیں یا شور شرابہ نہ کرے، بلکہ موضوع پر توجہ رکھے۔
کسی
کو تنگ نہ کرنا: بیٹھنے، بولنے یا کسی حرکت سے دوسروں کو اذیت دینا سخت منع ہے۔
کسی
کی غیبت نہ کرنا: مجلس کو گناہوں سے پاک رکھنے کے لیے غیبت، بہتان یا دل آزاری سے
بچنا ضروری ہے۔
علم
یا نصیحت کو قبول کرنا: اگر مجلس علمی یا دینی ہو تو سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ
سننا چاہیے۔
کسی
کو حقیر نہ سمجھنا: ہر شریکِ مجلس کو عزت دینا، اس کی بات کو توجہ سے سننا اور اسے
کمتر نہ سمجھنا مجلس کا حق ہے۔
مجلس
کو ذکر و خیر سے مزین کرنا: مجلس میں قرآن و حدیث یا اچھی باتوں کا تذکرہ ہونا چاہیے
تاکہ وہ رحمت کی مجلس بن جائے۔
اُٹھتے
وقت دعا کرنا: مجلس کے اختتام پر استغفار اور دعا پڑھنا مسنون ہے، تاکہ کوتاہی
معاف ہو اور برکت حاصل ہو۔
حدیثِ
پاک میں ہے:"جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں
کرتے تو وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت و ندامت کا باعث ہوگی۔"(سنن
ابوداؤد، حدیث: 4214)
خلاصہ
:اسلام نے مجلس کو بھی ایک تربیت گاہ بنایا ہے۔ مجلس میں ادب، سلام، دوسروں کو جگہ
دینا، سرگوشی سے بچنا اور اللہ کا ذکر کرنا یہ سب حقوق ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنائیں
تو ہماری محفلیں محبت، سکون اور برکت کا ذریعہ بنیں گی۔
Dawateislami