اسلام ایک کامل دین ہے جو زندگی کےہر شعبے کے لیے اصول و آداب سکھاتاہےانسان کی روزمرہ زندگی میں مجلسیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ میل جول تعلیم اور اصلاحِ احوال کا ذریعہ ہیں اگر مجالس میں شرعی آداب ملحوظ رکھے جائیں تو یہ باعثِ خیر و برکت بنتی ہیں ورنہ فتنے اور گناہوں کا سبب بھی ہو سکتی ہیں اسی لیے شریعت نے ہمیں مجالس کے مخصوص حقوق اور آداب سکھائے تاکہ معاشرت میں محبت عزت اور سکون قائم رہےذیل میں ہم ان بنیادی حقوق کو بیان کریں گے جو ہر مسلمان پر لازم ہیں ۔

حقوق نمبر 1:مجلس میں سلام کرنا:جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کرنا واجب ہے کیونکہ سلام محبت اور الفت کا ذریعہ ہےحدیث شریف میں ارشاد ہے(أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ)ترجمہ:آپس میں سلام کو عام کرو۔یہ تعلیم دینِ اسلام کے ادب اور اتحاد کا مظہر ہے۔(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب السلام عند القدوم، حدیث نمبر 54 ٫جلد 4، صفحہ 1703)

حقوق نمبر 2:کسی کو اپنی جگہ سے نہ اٹھانا:مجلس میں کسی کو ہٹا کر اپنی جگہ پر بیٹھنا منع ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ترجمہ:کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور خود اس میں نہ بیٹھے یہ عدل اور احترام کا اصول ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، باب لا يُقيم الرجل الرجل من مجلسہ، حدیث نمبر 6269، جلد 8، صفحہ نمبر52)

حقوق نمبر 3:دوسروں کی عزت و احترام کرنا:مجلس میں کسی کو حقیر سمجھنا یا اس کی بے ادبی کرنا ناجائز ہےامام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :مسلمان کی تحقیر ہر حال میں حرام ہے اور مجالس میں اس کا احترام فرض ہے۔یہ اصول اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔( فتاویٰ رضویہ، جلد 23، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الغیبۃ، صفحہ 356)

حقوق نمبر4:فضول باتوں سے پرہیز کرنا:مجلس میں بے فائدہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیےکیونکہ فضول گفتگو دل کو سخت کرتی ہے اور گناہ کا سبب بنتی ہےبہتر یہ ہے کہ نیک بات کرے یا خاموش رہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 16، فصل: آدابِ مجلس، صفحہ 106، مکتبۃ المدینہ)

حقوق نمبر 5:مجلس کو ذکر و دعا پر ختم کرنا:مجلس کے آخر میں دعا اور استغفار کرنا مسنون ہےامام غزالی فرماتے ہیں:(مجلس میں اگر لغزش ہو گئی ہو تو اختتام پر دعا کرنا کفارہ ہے)یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ...(احیاء علوم الدین، جلد 2، کتاب آداب الصحبة، فصل فی آداب المجالس، صفحہ 157)

مجالس کے آداب اور حقوق پر عمل کرنا اسلامی معاشرت کی خوبصورتی اور محبت کا ذریعہ ہےجو مسلمان ان اصولوں کو اپناتا ہےاس کی محفل خیر و برکت سے معمور ہوتی ہےہمیں چاہیے کہ ہر مجلس کو ذکرِ الٰہی احترام اور باہمی اخلاق سے مزین کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔


مجلس (بیٹھک یا محفل) انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ انسان اپنی بیشتر زندگی دوسروں کے ساتھ گفتگو اور تعلق میں گزارتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ اس کی مجالس کو بھی ضابطہ عطا فرمایا۔ قرآن و حدیث نے مجالس کے حقوق و آداب بیان کر کے واضح کر دیا کہ کوئی مسلمان صرف عبادات میں نہیں بلکہ اپنی گفتگو، نشست و برخاست میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔

قرآن مجید میں مجالس کے بارے میں رہنمائی:

1. بیہودہ اور گناہ کی مجلس سے اجتناب: وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ ترجمہ: "اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں میں مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ۔"(الأنعام: 68)

3. مجالس میں وسعت دینا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُم ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی کرو تو کشادگی کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی کرے گا۔"(المجادلۃ: 11)

احادیثِ مبارکہ میں مجالس کے حقوق

1. سلام کے ساتھ داخل ہونا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب اُٹھے تو پھر سلام کرے۔"(سنن ابوداؤد: 5208)

2. اچھی بات یا خاموشی: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔"(صحیح بخاری: 6475، صحیح مسلم: 47)

3. کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھانا: "تم میں سے کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور نہ خود اس کی جگہ بیٹھے۔" (صحیح بخاری: 6270، صحیح مسلم: 2177)

4. مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا: "جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کا ذکر نہ کریں تو وہ ان کے لیے حسرت اور ندامت کا سبب بنے گا۔"(سنن ترمذی: 3380)

مجالس کے چند اہم حقوق

1. سلام کے ساتھ آغاز و اختتام کرنا۔

2. کسی کی بات کو توڑنے یا حقارت سے دیکھنے سے اجتناب۔

3. گفتگو میں جھوٹ، غیبت اور فحش گوئی سے پرہیز۔

4. کسی کو اس کی جگہ سے نہ ہٹانا اور سب کے لیے وسعت دینا۔

5. دوسروں کے راز اور باتوں کو امانت سمجھنا۔

6. اچھی بات یا خاموشی اختیار کرنا۔

7. ذکرِ الٰہی اور درود شریف سے مجالس کو منور کرنا۔

سلفِ صالحین کے اقوال

حضرت لقمان حکیم نے فرمایا:"بیٹا! نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ، اللہ کی رحمت تمہیں ڈھانپ لے گی۔" (حلیۃ الاولیاء، ج 1، ص 327)

امام شافعی فرماتے ہیں:"اگر مجھے پتا ہو کہ کوئی مجلسِ ذکر ہے تو میں وہاں جانا اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں بہ نسبت دنیا بھر کی دولت کے۔"

مجالس کا انتخاب اور ان میں بیٹھنے کا انداز مسلمان کی ایمان داری اور تہذیب کی علامت ہے۔ اچھی مجالس انسان کو جنت کے قریب کر دیتی ہیں اور بری مجالس جہنم کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ مجلس کے حقوق ادا کرے، ادب و احترام کو ملحوظ رکھے اور اپنی مجالس کو ذکرِ الٰہی اور نبی کریم ﷺ کی محبت سے منور کرے۔


انسان کی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ بیٹھنے، بات کرنے اور رفاقت نبھانے میں گزرتا ہے۔ یہی نشستیں اس کی سوچ کا عکس اور اس کے باطن کا آئینہ بن جاتی ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے مجالس کے آداب اور ان کے حقوق کو تفصیل سے واضح کیا تاکہ مسلمان کی ہر محفل خیر و برکت کا سرچشمہ بنے، نہ کہ وبالِ جان۔

1. بیہودہ مجلس سے اجتناب:اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کا مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے منہ موڑ لو۔"(الانعام: 68)

نیک لوگوں کی صحبت: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"(التوبہ: 119)

مجلس میں کشادگی: "جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی کرو تو کشادہ ہو جاؤ، اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا۔"(المجادلۃ: 11)

احادیثِ نبویہ میں مجالس کے آداب

1. سلام سے آمد و رخصت:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور جب اُٹھے تو پھر سلام کرے۔"(سنن ابوداؤد: 5208)

2. یا تو خیر کی بات یا خاموشی: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔" (بخاری: 6475، مسلم: 47)

3. کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھانا: "تم میں سے کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ ہٹائے اور نہ اس کی جگہ بیٹھے۔" (بخاری: 6270، مسلم: 2177)

4. مجلس میں ذکرِ الٰہی: "جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں تو وہ مجلس ان کے لیے حسرت کا سبب ہوگی۔"(ترمذی: 3380)

مجالس کے بنیادی حقوق

1. سلام سے آغاز و اختتام کرنا۔

2. بیہودہ کلام، غیبت اور جھوٹ سے اجتناب۔

3. کسی کو اس کی جگہ سے نہ ہٹانا اور وسعت دینا۔

4. راز کو راز رکھنا اور باتوں کو امانت سمجھنا۔

5. ذکرِ الٰہی اور درود سے محفل کو روشن کرنا۔

اقوالِ سلف:

حضرت لقمان حکیم نے فرمایا:"بیٹا! نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ، اللہ اپنی رحمت سے تمہیں ڈھانپ لے گا۔" (حلیۃ الاولیاء، 1/327)

امام شافعی فرمایا کرتے:"اگر مجھے پتا ہو کہ مجلسِ ذکر ہے تو میں وہاں جانا دنیا کی ہر دولت سے بہتر سمجھوں گا۔" مجالس انسان کی شخصیت کا تعارف اور اس کی آخرت کا سرمایہ ہیں۔ نیک محفلیں دل کو سکون، عقل کو جلا اور ایمان کو تقویت دیتی ہیں، جبکہ گناہ کی مجالس انسان کو ہلاکت کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ پس مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنی ہر محفل کو خیر و ذکر کا چراغ بنائے، اور مجلس کے حقوق کو ایمان کا حصہ سمجھے۔


اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کو دینی اور دنیاوی طور پر زندگی گزارنے کا علم دیتا ہے حقوق و فرائض سے اگاہ کرتا ہے ماں باپ کے حقوق، استاذوں کے حقوق ،پیر مرشد کے حقوق وغیرہ آج ہم مجلس کے حقوق کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَمُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ،‏‏‏‏ فَلْيُسَلِّمْ،‏‏‏‏ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ،‏‏‏‏ فَلْيُسَلِّمْ،‏‏‏‏ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ.

ترجمہ:ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے) ۔( سنن ابوداؤد،کتاب: ادب کا بیان،باب: مجلس سے اٹھتے وقت سلام کرنا چاہیے،حدیث نمبر: 5208)

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ . وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ترجمہ:ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہوجائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك» پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کردی جاتی ہیں ۔( جامع ترمذی،کتاب: دعاؤں کا بیان،باب: اس متعلق کہ مجلس سے کھڑا ہو تو کیا کہے،حدیث نمبر: 3433)

ظالموں کے پاس نہ بیٹھو:

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(الانعام،68 )

مذکور احادیث اور قرآنی آیت میں مجلس کے حقوق اداب بیان ہوئے ہیں کہ جب مجلس میں جائیں تو سلام کریں مجلس سے جائیں تو اسلام کریں اور اگر بیہودہ باتیں ہو جائیں تو اٹھنے سے پہلے دعا پڑھیں اور اور قرآن پاک میں ظالموں کے پاس نہ بیٹھنےکا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں مجلس کے حقوق و آداب سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی مجلس کے حقوق اور دیگر دینی دنیاوی حقوق دینے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام ایسا دین ہے ،جس نے  ہر چیز کے اصول و ضوابط سکھائے ہیں۔ جہاں زندگی گزارنے کے آداب بیان کیے گئے ہیں، وہیں مجلس (محفل و بیٹھک) کے بھی حقوق اور آداب بتائے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کی بیٹھکیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں اور کسی کو بھی اذیت یا تکلیف نہ پہنچے۔

1. سلام اور اجازت:جب کوئی شخص مجلس میں آئے تو پہلے سلام کرے اور پھر بیٹھنے کی اجازت لے۔ قرآن و حدیث میں سلام کو پھیلانے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

2. مجلس میں جگہ بنانا:اگر مجلس میں کوئی نیا آنے والا ہو تو اُس کے لیے جگہ بنانا چاہیے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:جب تم سے کہا جائے کہ جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو۔

3. خاموشی اور سننا:مجلس میں بیٹھنے والا شور و غل نہ کرے، فضول گوئی اور بے جا قہقہے نہ لگائے بلکہ دوسروں کی بات غور سے سنے۔

4. کسی کو تکلیف نہ دینا:مجلس میں بیٹھ کر دوسروں پر ہنسنا، اُن کی تذلیل کرنا یا ان کی غیبت کرنا سخت گناہ ہے۔ ہر ایک کی عزت کا خیال رکھنا مجلس کا حق ہے۔

5. اعتدال اور وقار:بیٹھنے کا انداز باوقار ہونا چاہیے، پھیل کر دوسروں کو تنگ کرنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔

6. علم و نیکی کی بات کرنا:مجلس کو غیبت، فضول گوئی یا دنیاوی لغویات میں ضائع کرنے کے بجائے علم دین، ذکرِ الٰہی اور نیکی کی باتوں کے ساتھ آباد رکھنا چاہیے۔

7. مجلس سے اجازت لے کر اٹھنا:جب کوئی شخص مجلس سے جانا چاہے تو اچانک اٹھ کر نہ جائے بلکہ اجازت لے اور جاتے وقت بھی سلام کرے۔

اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مجلس کو باوقار، پر سکون اور نیکی کی باتوں سے معمور رکھا جائے۔ مجلس کے حقوق کی پاسداری نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔


مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بجھتے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا حکم ہے ۔ ہمارے پیارے نبی نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتاتے ہیں ۔ ان میں سے چند ملاحظہ فرماتے ۔

1 ) وسعت پیدا کرنا: حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بھٹے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و سعت پیدا کرو- (مسلم، کتاب اسلام، بار تحریم اقامة الانسان من موقعه الخ ص،924 حديث، 5686)

2)پہلی جگہ کاحقدار:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم صلی علی نے ارشاد فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جاتے پھر واپس آتے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔"

(مسلم، کتاب السلام - باب اذا قام من مجلسہ ثم عاد فھوا حق باهم ،ص،924، حدیث نمبر 56891)

3) جہاں جگہ ملے بیٹھ جانا: حضرت سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "ہم جب نبی کریم صلی علیہ سلام کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوئی وہیں بیٹھ جائے۔( ابوداود کتاب الادب، باب في التحلق جلد ، 4 ص، 379 ،حدیث 4825)

4)گردن نہ پھلانا: مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں جانا چاہیے۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، جلد ، 6،ص،363)

5) ذکر اللہ کرنا :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی سے تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک صلیہ وسلم نے فرمایا : " جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے میں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔(ابوداود کتاب الادب، باب كراهة ان يقوم الرجل من مجلسه ولا بذکر الله جلد ، 4،ص، 347 حدیث - 4855)


دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے دین اسلام میں جس طرح والدین اولاد اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اسی طرح دین اسلام نے مجلس کے حقوق کو بھی بیان فرمایا اور ان پر عمل پیرا ہونے کی تاکید اور ادائیگی کی صورت میں فضائل بھی بیان فرمائے آئیے ہم بھی مجلس کے چند حقوق پڑھتے ہیں اور ان پر عمل کی نیت کرتے ہیں۔

1:اللہ پاک کا ذکر کرنا:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ندامت ہوگی۔“( ابوداود٫کتاب الادب،باب کراھیۃان یقوم الرجل ،من مجلسی ولا یذکر اللہ ،/347٫،حدیث 48526)

2: کسی کی جگہ پر نہ بیٹھنا:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔( مسلم، کتاب السلام ،باب تحریم اقامۃالانسان من موضعہ ــالخ،ص924, حدیث:5686)

3: مجلس کو کشادہ کرنا:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ ( ابوداود، کتاب الادب،باب فی سعۃالمجلس،338،حدیث:482)

4: سلام کرنا :حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ ( ترمذی، کتاب الاسنئذان والاداب،باب ماجاءفی التسلیم عند القیام وعندالقعود،4/324, حدیث:2715)

5:نقصان والی مجلس میں نہ بیٹھنا:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“ (ترمذی ،کتاب الدعوات ،باب فی القوم یجلسون ولا یذکر ون اللہ ،5/247،حدیث:3391)

اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


بے شک ہر وہ چیز جو عزت و احترام کے قابل ہو اس کے حقوق ہوتے ہیں جیسے کہ راستے کے حقوق، بندوں کے حقوق ،اسی طرح مجلس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں کہ ہمیں کیسی مجلس میں بیٹھنا چاہیے اور کیسی مجلس میں نہیں بیٹھنا چاہیے ۔

ذکر اللہ عزوجل کی مجلس میں شرکت کی فضیلت:صحیح مسلم شریف کی ایک طویل حدیث مبارک ہے جس میں ان خوش نصیبوں کے لیے مدہ جانفزا ہے جو ذکر اللہ کے لیے حلقہ بناتے ہیں اور مجتمع ہو کر اپنے معبود برحق کا ذکر کرتے ہیں اس حدیث مبارک کے آخر میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بس فرشتے بارگاہ الوہیت میں عرض کرتے ہیں اے رب عزوجل ان میں فلاں بندہ بڑا گنہگار تھا وہ تو ان یعنی ذکر کرنے والوں پر گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا مدنی سرکار ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اسے بھی بخش دیا وہ ذکر کرنے والی ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بھی بد نصیب نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر الخ باب فضل مجالس ذکر الحدیث 2679 ص 1444 )

رحمت خوا خداوندی لامحدود ہے اور اس کی رحمت سے کوئی فرد خارج نہیں بلکہ ہر ایک کو اس کی رحمت مہیط ہے اور یہی عقیدہ اسلام نے مسلمانوں کو دیا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں رحمت خداوندی کے طلبگار رہیں اور اسی سلسلے میں ہما وقت سعی کرتے رہیں مخبر صادق نبی رحمت ﷺ نے ہمیں خبر دی کہ وہ گنہگار شخص جس نے ذاکرین کے ساتھ تھوڑی سی ہم نشینی اور صحبت اختیار کی تو باری تعالی نے اس کی بخشش فرما دی ۔

ایک حدیث شریف میں ہے:حضرت ابو رزین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پا لو پس وہ اصل چیز یہ ہے کہ تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو ۔ ( شعب الایمان باب فی مقاربہ الخ فصل فلم مصافحہ الخ حدیث 9023ج6ص492)

میٹھے اسلامی بھائیو !جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ایک گنہگار بندے کے نیکوں کی مجلس میں بیٹھ کر اس نے اللہ تعالی سے بخشش حاصل کر لی اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ بدوں کی مجلس چھوڑ کر نیکوں کی مجلس میں بیٹھا کریں۔


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو: مجلسیں ایک بیٹھنے کی جگہ ہیں ، اس کو پاک و صاف رکھنا ہماری خود کی زمہ داری میں شامل ہے اس میں بری باتوں سے اجتناب کرنا اور اچھی اچھی گفتگو کرنا بھی ہمارا حق ہے مجلس کے آداب کو بھی ادا کرنا اور اس کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا یہ بھی ضروری ہے اللہ تعالیٰ ہم کو مجلس کے آداب کا خاص خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

(1) اللہ کا ذکر کرنا:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی مجلس میں بیٹھے جس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی خوابگاہ میں لیٹے کہ اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ بھی اس پر اللہ کی طرف سے ندامت ہوگی۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2272 )

(2) رسول اللہ ﷺ پر درود شریف بھیجنا:روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں بیٹھی کوئی قوم کسی مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرے اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھے مگر یہ مجلس ان پر حسرت ہو گی اگر رب چاہے انہیں اس پر عذاب دے اور اگر چاہے بخش دے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2274 )

(3) سلام کرنا:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرےکیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:4660 )

(4) مجلس کو پاک رکھنا: غیبت ،چغلی ، مزاق اڑانے ، یا فحش باتوں سے اجتناب کرنا ۔

(5) عدل ومساوات:سب کو برابر موقع دینا ، کسی کو کمتر یا برتر نہ سمجھنا ۔


مجلس محض اکٹھے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت، تعلیم کا میدان، اور دلوں کو صاف کرنے والا زخم ہے۔ جس طرح زراعت میں زمین کی تیمارداری ضروری ہے، اسی طرح دینی مجالس کو بھی حقوق و آداب کے مطابق سنبھالنا لازم ہے تاکہ علم کی روشنی پھیلے اور معاشرتی برکت قائم رہے۔ یہ حقائق قرآن و سنت، اَعمالِ سلف اور دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتب میں بارہا واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اس مختصر مگر جامع تحریر میں میں مجلس کے بنیادی حقوق کو قرآن و حدیث کی روشنی اور دعوتِ اسلامی کی رہنمائی کے مطابق پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر شریک مجلس اور منتظم اس کو سمجھ کر عمل میں لا سکے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

سب سے پہلا حق نیتِ خالص ہے:جو شخص مجلس میں آتا ہے وہ پہلے اپنے دل میں پختہ کرے کہ اس کا مقصد دکھاوا، بحثِ بے فائدہ، یا دنیاوی مشغولیت نہیں بلکہ اللہ، سنتِ رسول ﷺ، اور اصلاحِ نفس ہے۔ نبیِ پاک ﷺ نے جہاں علم و عمل کو جوڑ کر پیش کیا وہیں امت کو بار بار نصیحت فرمائی کہ نیت صاف ہو۔ جب نیت پاک ہوگی تو مجلس میں بیٹھنے والے کے ہر کلام اور عمل میں اخلاص جلوہ گر ہوگا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب فیضانِ سنت میں اسی نیتِ صالحہ پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محفلِ ذکر و علم کی برکت کا پہلا دروازہ نیت ہے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65)

دوسرا حق خاموشی، غور و خوض اور باوقار سماعت ہے:قرآنِ مجید نے اجتماعی آداب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ:11)

اس میں باہمی احترام اور نظم کا سبق چھپا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی مجالس میں نامناسب شور، بے ہودہ قہقہے اور بے جا گفتگو سے خبردار فرمایا؛ اور ایسی مجالس میں جو خاموشی اور ادب برقرار رکھے وہی زیادہ فیض پاتے ہیں۔ خاموشی صرف زبان کی بندش نہیں بلکہ دل کی توجہ ہے یہی بات ایک چُپ سو سُکھ میں واضح کی گئی ہے جہاں خاموشی کو مجلس کا زیور قرار دیا گیا ہے۔ (ایک چپ سو سُکھ، صفحہ 27)

تیسرا حق احترامِ اساتذہ و بزرگانِ دین کا ہے:مجلس میں حضورِ علم و عمل، اَکابر اور علماء کی تعظیم و توقیر لازمی ہے کیونکہ وہی علم رواداروں تک پہنچاتے ہیں اور نسل در نسل ہدایت کا سلسلہ قائم رکھتے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے ہمیں بتایا:«الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا دیکھو تم کس سے صحبت کرتے ہو۔ ( سننِ ابی داؤد/ابن ماجہ)

اسی تناظر میں مجلس میں علم والوں کا احترام محض اخلاقی فعل نہیں بلکہ دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب حسنِ اخلاق میں علمائے کرام کی قدر و توقیر اور ان کے ساتھ شائستہ سلوک پر تفصیل دی گئی ہے۔ ( حسنِ اخلاق، صفحہ 34)

چوتھا حق امانتِ مجلس ہے: جو باتیں مجلس میں کہیں گئی ہوں وہ امانت سمجھ کر باہر نہ پھیلائی جائیں۔ امانت داری اعتماد کو بڑھاتی ہے اور لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بات کا وقار ہے۔ جب امانت ختم ہوتی ہے تو مجلس زینہ بگڑ جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس پر دعوتِ اسلامی کے متعدد نصوص واضح رہنمائی دیتے ہیں کہ مجلس میں سیکھا ہوا علم اور باتیں مُصلحت کے مطابق وصول کی جائیں اور اَخلاقی تحفظ برقرار رہے۔ ( آدابِ دین، صفحہ 19؛ فیضانِ سنت، صفحہ 65)

پانچواں حق زبان و گفتار کا ہے: مجلس میں بولنے سے پہلے سوچنا، بے جا لطائف سے پرہیز، غیبت و تلمیح سے بچنا، اور بات کا مقصد سامنے رکھ کر کلام کرنا۔ نبیِ کریم ﷺ نے مثال کے ذریعے بتایا کہ نیک ساتھی اور بد ساتھی کی مثال مشک والے اور لوہار کی مانند ہے؛ جیسے مشک کی خوشبو فائدہ دیتی ہے، لوہار کی آگ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ( صحیح البخاری/صحیح مسلم)

اسی طرح مجلس میں کلام بھی اگر برائے اصلاح ہو تو بھلائی کا سبب بنتا ہے ورنہ بگاڑ کا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب 550 سنتیں اور آداب میں بھی بولنے کے آداب اور مناسب اندازِ تاکید کی مفصل ہدایات ملتی ہیں۔ ( 550 سنتیں اور آداب، صفحہ 10)

چھٹا حق عملی امتثال ہے: مجلس کا حقیقی مقصد صرف سننا نہیں بلکہ سن کر عمل کرنا ہے۔ جو علم عمل میں نہیں آتا وہ بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین نے فرمایا کہ مجلس سے باہر نکل کر کم از کم ایک عمل کر کے دکھاؤیہی مجلس کی اصل کامیابی ہے۔ دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتابوں میں معلمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوالیہ انداز اپناتے ہوئے سامع کو محض معلومات نہیں بلکہ عمل کی تحریک بھی دیں سوال کھڑا کرو، دل ہلاؤ، اور عمل کی طرف بلاؤ۔ ( فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

ساتواں حق نظم و ترتیب اور صفائی ہے: مجلس کا انتظام، بیٹھنے کی ترتیب، صفائی و پاکیزگی اور خوشبو کا خیال رکھنا بھی حقوقِ مجلس میں آتا ہے تاکہ شریکِ مجلس کو جسمانی تکالیف کا سامنا نہ ہو اور ماحول روحانی رہے۔ دعوتِ اسلامی کے عملی ہدایت ناموں میں مجالس کے انتظام کے باریک پہلوؤں اور ضوابط کا ذکر ملتا ہے جسے منتظمین کو بطور ضابطہ اختیار کرنا چاہیے۔ ( کام کے اوراد، آغاز)

آخر میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ مجلس کے حقوق کا اہتمام فردی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ضروری ہے۔ جب ہر بندہ نیت صاف، زبان محتاط، قلب نرم، اور عمل پرکوشا رہے گا تو وہی مجلس زندہ اور بابرکت ہوگی۔ قیامت کی یاد جب اس تربیتی عمل کے پس منظر میں رہے گی تو ہر مجلس ایک موقع بن کر سامنے آئے گی۔ایک موقع جو دل بدل دے، کردار سدھار دے اور امت کو صحیح سمت دکھائے۔ دعوتِ اسلامی کی کتابیں اس فہم کو آج کے دور کے مطابق بیان کرتی ہیں اور عمل پر زور دیتی ہیں؛ اس لئے ہر مدرسہ، مدنی مرکز اور ذاتی محفل میں ہم سب کو چاہئے کہ یہ آداب اپنا کر مجالس کو قرآن و سنت کے مطابق سنواریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مجالس کے حقوق ادا کرنے اور علم و عمل میں ثابت قدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کو انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے ۔انسان چونکہ فطری طور پر سماجی مخلوق ہے اس لیے اسلام نے اجتماعات یعنی مجلسوں کے آ داب اور حقوق بھی  عطاکیے ہیں تاکہ معاشرتی تعلقات میں حسن اخلاق اور محبت قائم رہے ۔

مجلس کے اہم حقوق وآداب یہ ہیں :مجلس کے حقوق میں سے پہلا ہے سلام کرنا یعنی جب بھی کسی مجلس میں داخل ہو تو پہلے سلام کیا کرو۔

مجلس میں جگہ بنانا :مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی مجلس میں آئے اور بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو قریب والے کو جگہ دینی چاہیے جیسے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔(المجادلہ،11)

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس میں بیٹھنے کے بعد بغیر اجازت گفتگو شروع کرنا مناسب نہیں ہے ۔ بلخصوص علم کی مجالس میں یا کسی خاص بات چیت میں مثلاًاگر کوئی اسلامی بھائی بیان یا درس وغیرہ دے رہا ہے اور آپ جو ہے باتیں کر رہے ہوں یا موبائل چلا رہے ہوں ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی بول رہا ہو تو بیچ میں بولنا یا اس کی بات کاٹنا خلاف ادب ہے ۔مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس کا موضوع مفید ہو اسلامی یاا خلاقی ہو تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو اور وقت کا صحیح استعمال ہوا اور مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر کسی مجلس میں کوئی بات اعتماد سے کی گئی ہو تو اسے بغیر اجازت دوسروں تک نہ پہنچا یا جائے ۔

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس کو تسمیہ سے شروع کرنا اور جب ختم ہو جائے تو آ خر میں دعا کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی ختم کرتے تو یہ دعا پڑھتے مجلس کے اختتام پر پڑھی جانے والی دعا درج ذیل ہے: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ترجمہ: اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور میں تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آ مین یاربّ العالمین ۔


اسی طرح مجلس کے حقوق بھی انسان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ وہ اس وجہ سے کہ جو چیز ہم مجلس میں سیکھتے ہیں وہ ہم اکیلے نہیں سیکھ سکتے ۔اور مجلس کے بہت سے فوائد ہیں ۔آیئے ہم مجلس کے چند حقوق بیان کرتے ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان : اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( پارہ 28، سورۃ المجادلہ ،آیت نمبر 11)

(1)اپنے آنے والے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرو: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فعل کمال درجہ کی پرہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ،صفحہ نمبر 45 پواینٹ نمبر 39 )

(2) دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنا : کوئی شخص دو آدمی کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت سے اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لیئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ، صفحہ نمبر 43، پواینٹ نمبر 27)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر چیز کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مجلس کے حقوق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو مجلس کے حقوق کے بارے میں بتاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین