اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کو دینی اور دنیاوی طور پر زندگی گزارنے کا علم دیتا ہے حقوق و فرائض سے اگاہ کرتا ہے ماں باپ کے حقوق، استاذوں کے حقوق ،پیر مرشد کے حقوق وغیرہ آج ہم مجلس کے حقوق کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَمُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ،‏‏‏‏ فَلْيُسَلِّمْ،‏‏‏‏ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ،‏‏‏‏ فَلْيُسَلِّمْ،‏‏‏‏ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ.

ترجمہ:ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے) ۔( سنن ابوداؤد،کتاب: ادب کا بیان،باب: مجلس سے اٹھتے وقت سلام کرنا چاہیے،حدیث نمبر: 5208)

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ . وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ترجمہ:ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہوجائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك» پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کردی جاتی ہیں ۔( جامع ترمذی،کتاب: دعاؤں کا بیان،باب: اس متعلق کہ مجلس سے کھڑا ہو تو کیا کہے،حدیث نمبر: 3433)

ظالموں کے پاس نہ بیٹھو:

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(الانعام،68 )

مذکور احادیث اور قرآنی آیت میں مجلس کے حقوق اداب بیان ہوئے ہیں کہ جب مجلس میں جائیں تو سلام کریں مجلس سے جائیں تو اسلام کریں اور اگر بیہودہ باتیں ہو جائیں تو اٹھنے سے پہلے دعا پڑھیں اور اور قرآن پاک میں ظالموں کے پاس نہ بیٹھنےکا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں مجلس کے حقوق و آداب سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی مجلس کے حقوق اور دیگر دینی دنیاوی حقوق دینے کی توفیق عطا فرمائے۔