انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا اور باہمی محبت و اخوت کے ذریعے معاشرتی زندگی کو حسین بنایا۔ دین اسلام نے امن، سکون اور بھائی چارے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بارہا تاکید فرمائی گئی ہے کہ مسلمان آپس میں محبت، خیرخواہی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہیں۔ اس کے برعکس جھگڑا کروانا یا فساد کو ہوا دینا ایسا عمل ہے جو معاشرے کو بگاڑتا، دلوں میں کدورت پیدا کرتا اور اخوت کے رشتے کو توڑ دیتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

جب صلح کروانے کو اتنی فضیلت حاصل ہے تو جھگڑا کروانے کی قباحت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حسد سے بچو کیونکہ یہ نیکیوں کو کھا جاتاہے۔ (ابو داود، 4/360، حدیث: 4903)

جو شخص دو افراد یا دو خاندانوں کے درمیان اختلاف کو بڑھاتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

1۔ اللہ کی ناراضی: جھگڑا کروانے والا اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق بنتا ہے کیونکہ وہ فساد کو فروغ دیتا ہے۔

2۔ معاشرتی بگاڑ: جھگڑوں سے خاندان ٹوٹتے ہیں، رشتے ناطے ختم ہو جاتے ہیں اور محلے یا بستی میں نفرت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

3۔ دلوں میں کینہ و بغض: ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی اور دشمنی بڑھتی ہے جو نسلوں تک چلتی ہے۔

4۔ وقت اور وسائل کا ضیاع: جھگڑوں میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، مال برباد ہوتا ہے اور بعض اوقات انسانی جانیں تک تلف ہو جاتی ہیں۔

5۔ قیامت کے دن پکڑ: حضور ﷺ نے فرمایا: سب سے برے لوگ وہ ہیں جو دو دوستوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں۔

یہ وعید جھگڑا کروانے کے انجام کو واضح کرتی ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں جھگڑا کروانے کے بجائے صلح کرانے کا حکم دیتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے صلح صفائی کو نفل عبادتوں سے بہتر قرار دیا۔ مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی دو افراد یا خاندانوں میں اختلاف دیکھے تو آگ بجھانے والا بنے نہ کہ اس میں تیل ڈالنے والا۔

ہمیشہ نرم کلام اور خوش اخلاقی کو اپنائیں۔ دوسروں کی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے یا غیبت کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی جھگڑا ہو تو ثالث بن کر انصاف کے ساتھ حل نکالنے کی کوشش کریں۔ اپنی مجالس اور محفلوں میں صلح و خیر کی باتیں کریں تاکہ معاشرہ محبت کا گہوارہ بن سکے۔

جھگڑا کروانا ایک بڑا گناہ اور انتہائی نقصان دہ عمل ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے بلکہ دنیاوی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیتا ہے۔ اسلام کا پیغام امن و محبت ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے قول و فعل سے صلح و آشتی کو فروغ دیں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔ اللہ کریم ہمیں جھگڑے سے بچنے اور اخوت و محبت پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے