اسلام ایک پُرامن اور متوازن معاشرے کی تعلیم دیتا ہے، جہاں عدل، انصاف اور بھائی چارہ قائم ہو اس کے برعکس فساد فی الارض(زمین میں فساد کرنے سے ) بگاڑ، ظلم، ناانصافی اور بدامنی پھیلتی ہے فساد کے جہاں بہت سے نقصان ہیں وہاں یہ بھی ہے کہ فسادکی وجہ سے بندہ اللہ کی محبت و رضا سے محروم ہو جاتا ہے چنانچہ فرمایا :

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ قصص آیت نمبر 77)

فساد کی مذمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے فساد کرنا تو دور فساد کے ارادے سے منع فرمایا اور آخرت کا گھر بھی اسی کے لئے رکھا جو فساد کے ارادے سےبھی باز رہا چنانچہ فرمایا :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے۔ (سورۃ قصص ،آیت نمبر 83)

اسی طرح اللہ تعالی فساد کرنے والے کے اعمال کی اصلاح نہیں فرماتا جبکہ ایک سچا مسلمان اللہ تعالی سے اعمال کی اصلاح کا سوال لازمی کرتا ہے تاکہ وہ آخرت میں کامیاب ہو اللہ تعالی نے کلام پاک میں فرمایا:

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)

ترجمہ کنزالایمان : اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔ (سورۃ یونس ،آیت نمبر 81)

محترم قارئین کرام فساد کرنے والا اللہ تعالی کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت کے ابدی گھر سے بھی محروم ہو جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالی نے کلام پاک میں فرمایا:

وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنزالعرفان: اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃ رعد آیت نمبر 25)

جو لوگ سوچی سمجھی سازش کے تحت زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، معاشرے کا امن تباہ کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں، اسلام نے ان کے لیے سخت ترین دنیاوی سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ معاشرہ ان کے شر سے محفوظ رہے حتی کہ ان کو جلا وطن کرنے کا حکم بھی فرمایا ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ (سورۃا لمائدۃآیت نمبر 33)

فساد سے جہاں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے وہیں بندہ ساری انسانیت کا گناہ بھی اپنے ذمے لے لیتا ہے چنانچہ جو فساد کرنے کے لیے کسی انسان کو قتل کر دے تو گویا کہ اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔ (سورۃالمائدۃ:32)

محترم قارئین کرام المختصر یہ کہ فساد کے دنیا و آخرت میں بہت نقصانات ہیں اللہ تعالی ہمیں فساد فی الارض سے بچا کر اپنی رضاوالی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔