عقیدہ کے لغوی معنی گرہ لگانے کے ہیں اور اصطلاح میں عقیدہ اس نظریہ کو کہتے ہیں جس پر انسان بلا شک و شبہ یقین رکھے ۔ اسلام میں عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے تمام اعمال کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو عمارت قائم رہتی ہے ، اور اگر بنیاد کھوکلی ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی نیک اعمال کی قبولیت سے پہلے اچھے عقیدے کی شرط لگائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ الْحُسْنٰىۚ

ترجمہ کنز الایمان : اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اُس کا بدلہ بھلائی ہے۔(سورۃ الکہف:88)

اس آیت میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ درست عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔(سورۃالنساء:48)

اس آیت سے عقیدۂ توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اگر اس میں خرابی آ جائے تو انسان کے تمام اعمال ضائع ہو سکتے ہیں۔احادیثِ مبارکہ میں بھی عقائد کی اصلاح پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا"۔ (سنن ابو داؤد، 3116 )

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کی نجات کا ذریعہ ہے۔ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ درست عقائد پر آگاہی حاصل کرے اور دین اور درست عقائد کی معلومات انہی سے حاصل کرے جو علم میں راسخ ہوں یعنی علماء کرام سے۔نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عقائد کی حفاظت نہایت ضروری ہے، ورنہ انسان گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔آج کے دور میں عقائد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے،کیونکہ مختلف نظریات، فتنوں اور گمراہ کن خیالات نے لوگوں کے ایمان کو کمزور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے غلط عقائد عام ہو رہے ہیں، جن سے بچنے کے لیے صحیح علمِ عقیدہ اور اسکا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے عقائد کی اصلاح کریں، ان کے متعلق علم حاصل کریں، مستند علماء سے رہنمائی حاصل کریں، اور اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں۔ صرف ظاہری اعمال پر اکتفا کرنا کافی نہیں، بلکہ ان اعمال کی بنیاد یعنی عقیدہ کا درست ہونا لازمی ہے۔

آخر میں اگر یوں کہا جائے کہ عقیدہ روح کی مانند ہے اور عمل جسم کی طرح۔ اگر روح نہ ہو تو جسم بے جان ہے، اسی طرح صحیح عقیدہ کے بغیر اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو غلط نہ ہو گا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کی حفاظت کریں اور انہیں مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اور علماء کرام کی صحبت وقتا فوقتاً اختیار کرتے رہیں۔